ہمیں اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے چاہئیں؟-انور عباس انور

Print Friendly, PDF & Email

سنجیدہ طبقات میں بحث ہو رہی ہے کہ کیا ہمیں بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کر نے چاہئیں؟ اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے حق میں دلائل دینے والوں کا موقف ہے کہ جب اسرائیل کے اصل حریف اور متحارب فریق اسرائیل سے روابط قائم کر رہے ہیں تو ہمیں بھی ان کی تقلید کرتے ہوئے تل ابیب میں سفارت خانہ کھولنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ہماری اسرائیل سے براہ راست کوئی مخالفت اور دشمنی نہیں ، ہم اسرائیل سے اس لیے بیر رکھتے ہیں کیونکہ اس کی عرب ممالک سے دشمنی ہے اس نے ان کے علاقے ہتھیائے ہوئے ہیں، فلسطینیوں کو بے گھر کر رکھا ہے، اب جب فلسطینی اور عربی خود اسرائیل کی گود میں بیٹھ رہے ہیں یا اسے اپنی گود میں بٹھا رہے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے۔
بقول سابق آمر مطلق جنرل ضیا ء الحق ” دنیا میں دو ملک ایسے ہیں جو نظریاتی طور پر معرض وجود میں آئے ایک پاکستان ہے اور دوسرا اسرائیل” اس کا مزید کہنا تھا کہ” اگر اسرائیل میں سے یہودیت کو دیس نکالا دے دیا جائے اور پاکستان سے اسلام کو نکال باہر کیا جائے تو دونوں دنیا کے نقشے سے حرف غلط کی طرح نابود ہو جائیں گے” لیکن جنرل ضیا الحق کی اس بات سے ملک میں ایک طوفان کھڑا ہوگیا ۔بقول سینیٹر مشاہد حسین سید ،جنرل ضیا الحق اسرائیل کی جانب جھکاؤ رکھتے تھے اور وہ اسے تسلیم کر لینے کے موڈ میں تھے۔
اسرائیل کی تخلیق قیام پاکستان کے 9 ماہ بعد 1948 میں ہوئی، اس سے قبل 19200 میں یورپ میں یہودیوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں، بقول نور ڈاہری "1920 میں لیگ آف نیشنز نے برطانیہ کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ ٹرانس جارڈن اور فلسطین کو کنٹرول کرے ،جس کے نتیجہ میں بعد میں اسرائیل نے جنم لیا،اور 1946 ٹرانس جارڈن اور فلسطین کی جغرافیائی تقسیم کی ،1948 میں فلسطین کی مزید تقسیم کرکے اسرائیل اور فلسطین کی آزاد ریاستوں کی بنیاد رکھی،بعد میں عرب ممالک سے زبردستی دھتکارے 8 لاکھ یہودی بھی یہاں آ گئے اور بہت سے یورپ میں دربدر بھٹکنے والے یہودی بھی نقل مکانی کرکے اسرائیل پہنچ گئے”
اسرائیل سے پاکستان کو سفارتی تعلقات قائم کرنے چاہئیں یا نہیں، جرمنی میں مقیم پیپلز پارٹی کے راہنما مرزا الیاس جرال کہنا ہے کہ ضرور سفارتی روابط استوار کرنے چاہئیں کیونکہ جب سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک اسرائیل سے "جپھیاں” ڈال رہے ہیں اور نہایت گرم جوشی سے اسرائیلیوں کے ساتھ معانقے کیے جا رہے ہیں تو ہم ( پاکستان) کیوں نہ اسرائیل سے بغلگیر ہوں”۔ مرزا صاحب کا کہنا یہ بھی ہے جن علاقوں پر اسرائیل قابض ہے یہ علاقے دراصل ہمیشہ ہی سے بنی اسرائیل کے پاس رہے ہیں، یہ دعوی اسرائیلی برملا کرتے ہیں کہ یہ سرزمین ان کے ابا واجداد کی ہے اور اب ہم نے واپس لے لی ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے ، انکا دعوی یہ بھی ہے کہ قابض ہم نہیں بلکہ عرب ہیں، درمیان میں یہ عربوں کے زیر اثر آئے جسے اسرائیل نے 1948میں پھر واپس لے لیا” مرزا صاحب نے تو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے اپنا موقف بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے جسے آئندہ کبھی ضبط تحریر میں لاؤں گا۔
سرفراز ایف خان کہتے ہیں کہ سعودی عرب اور اسرائیل بھائی بھائی بننے پر ہماری اسلامی و دینی جماعتیں کیوں خاموش ہیں؟ان کا مزید کہنا ہے کہ سعودی اور اسرائیلی کب سے یک جان ہو چکے ہیں اور ہم کب تک پرائی آگ میں جل کر اپنا نقصان کرتے پھریں گے؟محسن حیدر بیرون ملک مقیم ہیں وہ کہتے ہیں کہ If kingdom of Saudi Arabia can do relations with Israel why not we
ملک کے مایہ ناز دانشور ، کالم نگار اور صحافی حیدر جاوید سید بھی اسرائیل سے سیاسی ،سماجی ،تجارتی ، اقتصادی اور سفارتی یعلقات رکھنے کے حق میں ہیں، وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ "جو ان تعلقات کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اٹھا کر سعودی عرب یا ایران پھینک دیا جائے” ملتان سے نعیم سعید ملک جو ملک کے ممتاز بلاگر ،کالم نگار اور تجزیہ نگار ہیں کہتے ہیں کہ "یقیناًاسرائیل سے تعلقات استوار کرنے چاہئیں اور اس میں کیا قباحت نظر آتی ہے؟”
ورلڈ کالمسٹ کلب کے چیئرمین حافظ شفیق الرحمان اسرائیل سے کسی قسم کے تعلقات نہ رکھنے کے حامی ہیں، ان کا موقف ہے کہ یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے،جائیے روح قائد سے پوچھئے ،میرا جواب نفی میں ہے۔برج اٹاری کے نوجوان ندیم اسلم ڈولہ اور محمدطاہر خان،، صحافی ڈاکٹر محمد شہباز، حاجی چوہدری قیصر وڑائچ، غوث محمد ملک ،نبیل بخاری اسرائیل سے کوسوں دور رہنے کے حق میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات بالکل نہیں رکھنے چاہئیں،راشد کلیم لنگاہ، فیصل بشیر بھی اسرائیل کے بائیکاٹ پر مصر ہیں،اور کہتے ہیں کہ اسرائیل سے بغلگیر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔
ذوالفقار علی جعفری کا موقف ہے کہ اسرائیل سے رشتے ناطے جوڑنے میں کوئی حرج نہیں،بحثیت قوم اسرائیل سے ہمارا کیا اختلاف ہے؟وہ جیسے بھی معرض وجود میں آیا یا لایا گیا،یہ باتیں بہت پرانی ہو چکی ہیں اب وہ ایک ملک ہے،اس کو تسلیم کر لینا چاہیے ،اس کو ختم کرنے اور اسے صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی باتیں کرنے والے خوابوں کی دنیا میں بستے ہیں۔اور یہ بات اب عرب دنیا کی سمجھ میں بھی آگئی ہے کچھ برملا اور کچھ اندرون خانہ اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔یہی وہ اسباب ہیں جن کے باعث سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک بھی اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے پر قائل ہوئے ہیں۔
پاکستان میں بھی اس حساس معاملے پر پارلیمنٹ میں کھلی بحث اور مباحثہ ہونا چاہیے، اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ سے باہراور بھی فورم استعمال ہو سکتے ہیں، فوجی اور دیگر ماہرین حب الوطنی پر مشتمل تھنک ٹینک بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ ایسے ہی ہمیں اپنے پڑوسی بھارت سے بھی باہمی جھگڑے نبٹانے چاہئیں اور بھارتی سرکار کو اس نوشتہء دیوار کو پڑھ لینا چاہیے کہ دنیا تبدیل ہو رہی ہے اور نفرت کی دیواریں منہدم کی جا رہی ہیں اور دلوں کو وسیع کرنے کی ضرورت کو فروغ مل رہا ہے ،امریکی صدر ڈونلڈ جے ، ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف دنیا بھر میں(مسلم اور غیر مسلم ممالک کی تمیز کے بغیر)احتجاجی مظاہروں کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے ،دیوار برلن کا گرنا بھی ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی نہیں تو حیرت کا مقام ہے۔ دنیا کے دو ممالک پاکستان اور ایران کے پاسپورٹس ایسے ہیں جن پر تحریر ہوگا کہ اسرائیل کے سوا باقی
تمام ممالک کا سفر کیا جا سکتا ہے، شائد ہی کوئی تیسرا ملک ہو جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل نہ جایا جا سکے،اسرائیل کے بھارت سے بڑھتے پیار محبت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ہماری اسرائیل سے متعلق نفرت کا نتیجہ ہے ورنہ اسرائیل کے تمام حکمران پاکستان سے سیاسی ،سماجی ،اقتصادی ،معاشی تجارتی اور سفارتی تعلقات و روابط استوار کرنے کے لیے بے چین ہیں،اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اسرائیلی حکمران اور عوام دنیا میں اگر کسی سے خوفزدہ ہیں اور ڈرتے ہیں تو وہ پاکستان کے عوام اور افواج پاکستان ہیں، عربوں سے انہیں کسی قسم کا خوف اور خطرہ نہیں۔

Views All Time
Views All Time
549
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   تشددکے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: