خود کش حملوں کی شرعی حیثیت اور مفتیان دین-انور عباس انور

Print Friendly, PDF & Email

مولانا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمن ہمارے ملک بلکہ پوری امت مسلمہ کا قیمتی اثاثہ ہیں، ملک میں جمہوریت کی بحالی اور اس کے استحکام کے لیے ان کا بڑا اہم کردار رہا ہے، اور ان دونوں احباب کے دینی و سماجی مقام ومرتبہ کا احترام ہمارے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے درپے قوتیں بھی کرتی ہیں، طالبان اور ان کی کوکھ سے جنم لینے والی دیگر دہشت گرد تنظیمات انہیں اپنا گارڈ فادر قرار دیتی ہی نہیں بلکہ مانتی بھی ہیں، ان بزرگ ہستیوں کے علاوہ اور بھی دیوبند مکتبہ فکر کے بہت سارے علمائے کرام اور مفتیان دین بھی اس دھرتی پر موجود ہیں جن کا دعوی ہے کہ وہ دہشت گرد وں اور حکومت کے درمیان پل کا رول ادا کر سکتے ہیں۔
خود کش حملوں کے جائز اور ناجائز ہونے کے متعلق بحث ہوتی رہتی ہے، اس مسلے پر مفتیان دین دو گروہوں میں تقسیم ہیں، ایک گروہ حکومت اور ریاست کی ناانصافیوں ،ظلم و زیادتیوں کے خلاف مزاحمتی تحریک چلانے کی حمایت کرتا ہے، اور خود کش دھماکوں کو بھی اس مزا حمتی تحریک کا حصہ سمجھتے ہیں اور جائز بھی۔ جبکہ دوسرا گروہ یہ موقف رکھتا ہے کہ جہاد انفرادی سطح اور حثیت میں نہیں ہو سکتا ،اس کے لیے خالص اسلامی حکومت کا اعلان جہاد کرنا ضروری ہے ،یہ گروہ خود کش دھماکوں کو کسی طور بھی جائز نہیں سمجھتا،امام کعبہ ،و امام مسجد نبوی اور مولانا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمن اسی گروہ سے وابستہ ہیں۔
اخباری اطلاعات کے مطابق 200 دینی جماعتوں کی جانب سے خود کش حملوں کے غیر شرعی ہونے کا فتوی جاری کیا گیاہے، اس سے قبل ماضی قریب میں بھی کئی بار دینی جماعتوں ( جن میں یہ 20 دینی جماعتیں بھی شامل ہیں) اور ملک لے اہم دینی مدارس سے وابستہ علمائے کرام ومفتیان دین کی جانب سے خود کش حملوں کو حرام قرار دیا جا چکا ہے،خود کش بم دھماکوں کو غیر شرعی اور حرام قرار دئیے گئے فتاوی میں امام کعبہ اور امام مسجد نبوی کے فتوؤں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔لیکن یہ فتوے خود کش دھماکے روکنے میں غیر موثر ثابت ہوئے ہیں، اور خود کش بمباروں کی کارروائیاں جوں کی توں جاری ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ خود کش حملے ہونے لگے ہیں۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں سمیت ملک کے دور نزدیک چھوٹے بڑے شہروں میں خوف کی فضا طاری ہے ، پاک فوج کی جانب سے دہشت گردی کواکھاڑ پھینکنے اور اس فساد کو
جڑوں سمیت نیست و نابود کرنے کی غرض سے ” آپریشن ردالفساد” کا آغاز کیا جا چکا ہے، اس” آپریشن ردالفساد” کے تحت پاک فوج نے ملک بھر میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، اسی "آپریشن ردالفساد” کی مہربانی سے وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں نے پنجاب میں رینجرز کو آپریشن کرنے کی اجازت مرحمت فرما دی ہے۔گو وفاقی حکومت نے پنجاب میں رینجرز کو پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کرنے کے اختیارات تفویض کئے ہیں،امید کی جا سکتی ہے کہ اب پولیس اور دیگر اداروں کے حکام و اہلکار اپنی مرضی سے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے عناصر سے نرمی برت سکیں گے اور نہ ہی ان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کرنے کی ہمت و جرآت کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔
پنجاب میں رینجرز کی تعینات کی ہر سطح پر خیر مقدم کیا جا رہا ہے، اور پنجاب کے بعض شہروں میں رینجرز کی آمد پر خیر مقدمی بینرز بھی آویزاں دیکھے گئے ہیں، جن کے ذریعے اس امید کا اظہار کی ہے کہ رینجرز کی آمد سے پنجاب کو سافٹ کارنر سمجھ کر یہاں پناہ گاہیں بنا لینے والے دہشت گردوں کا قلع قمع ہوگا، اور اس سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جائے گی، رینجرز حکام سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہاں سے دہشت گرد بھاگنے نہ پائیں، اور ان کے تمام سہولت کاروں کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
آپریشن ردالفساد کے تحت سرحد کے آر اور پار "خود کش بمبار” تیار کرنے والی فیکٹریوں کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کارروائیاں بھی کی جائیں گی، خود کش بمباروں کو جنت میں حوروں اور غلمان ملنے کے دلفریب اور دل کش نعروں سے مرعوب کرنے والے بد بخت نام نہاد ملاؤں کو بھی واصل جہنم کرنے میں اپنی تمام توانائیاں برؤے کار لائی جائیں گی اور معصوم اور نا پختہ ذہن کے بچوں کو ورغلانے کا سلسلہ بند ہو سکے۔
طالبان ،داعش اور جماعت احرار سمیت تمام دہشت گرد تنظیمات سے وابستہ افراد مولانا سمیع الحق،مولانا فضل الرحمن اور دیگر مفتیان دین و علمائے کرام کو اپنا گارڈ فادر مانتے ہیں تو ان قابل احترام شخصیات کو بھی پاک فوج کے آپریشن ردالفساد میں تعاون کرنے کی ضرورت ہے، ان حضرات کو چاہیے کہ وہ ان تنظیمات کے سربراہان اور پیروکاران پر اپنا اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں ملک دشمن سرگرمیوں سے باز رہنے کی درخواست کریں، اور اگر یہ لوگ ان کی آواز پر کان نہیں دھرتے ،لبیک نہیں کہتے تو انہیں ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے پاک فوج کے شانہ بشانہ چلنا چاہیے۔اور وطن عزیز کو امن کا گہوارابنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے ۔ بصورت دیگر ان کی حب الوطنی کے دعوؤں پر بھی سوالیہ نشان کھڑاہوجائیگا۔ اس کے ساتھ پاک فوج اور حکومت کو اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ مساجد کے خطبا ء اور عوامی نمائندے عوام الناس میں آگہی مہم چلائیں جس میں انہیں خود کشی کے حرام ہونے کے پہلوؤں سے روشناس کروایا جائے۔
"آپریشن ردالفساد” کے فیصلے اور افغانستان کا بارڈر بند اور سرحد پار جا کردہشت گردوں کو مارنے کے اقدامات پر پاک فوج اور آرمی چیف کو لائق تحسین قرار دیا جا رہا ہے ،تو دوسری جانب فوجی عدالتوں کے معاملے میں پارلیمنٹ کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں، حکومت ،اپوزیشن اور میڈیا کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنے کی ضرورت ہے،کیونکہ اکیلی فوج جنگ کی صورتحال سے نہیں نپٹ سکتی۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ دہشت گردی کے ناسور سے چھٹکارے اور خود کش بمباروں سے ملک کو محفوظ رکھنے میں والدین کو بھی اپنا رول پلے کرنا چاہیے اور اپنے بچوں پر کڑی نگرانی کرنی چاہیے اور انہیں دہشتگروں کی دسترس میں جانے سے روکنا ہوگا ۔یہ اس لیے بھی نہایت ضروری ہے کہ خود کش بمبار تیار کرنے والی فیکٹریوں کو خام مال کی فراہمی بند کرنا لازمی امر ہے۔

Views All Time
Views All Time
431
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   آزادی کی مجبوریوں پر کچھ باتیں | شاداب مرتضی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: