اگر ہم برائیوں سے پاک معاشرہ چاہتے ہیں تو – انور عباس انور

Print Friendly, PDF & Email

ایک خبرمیں بتایا گیا ہے کہ رینجرز نے راول پنڈی کے پیر ودائی لاری اڈے پر کاروائی کرتے ہوئے ایک جعل ساز کو گرفتار کیا ہے، یہ جعل ساز سادہ لوح عوام کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رقم منظور ہونے کے پیغامات کرکے رقوم بٹورتا تھا،ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے خواتین کی سمگلنگ کا از خود ٹونس لیکر اسلام آباد پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے ، اس خبر کے مطابق خواتین کو اغواء کرکے افغانستان پہنچایا جاتا ہے اور پھر تاوان کی مد میں بھاری رقم مانگی جاتی ہے،حالیہ دہشتگردی کی نئی لہر سے ہر طرف خوف کی فضا طاری ہے، مارکیٹوں سمیت دیگر کاروباری اداروں میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس طرح کی بہت سی اور بھی خبریں میڈیا کی زینت بن رہی ہیں، مثال کے طور پر”اہم سرکاری دستاویزات” ردی میں فروخت ہورہی ہیں، وزرات داخلہ ، اورنج ٹرین منصوبے، پولیس کے ڈیوٹیو چارٹ کے کاغذات میں بھنے چنے اور مکئی اور دیگر اشیاء بیچی جا رہی ہیں، انتہائی حساس دستاویزات ردی بیچنے والی دوکانوں پر ردی میں بک رہی ہیں۔
ایک خبر کہ حافظ آباد کے قریب شراب کی بھری بوتلوں سے بھرا ٹرک الٹنے شراب کی 6 ہزار بوتلیں سڑک پر ٹوٹ کر بکھر گئیں ،شراب ضائع ہوگئی اور جو بوتلیں ٹوٹنے سے بچ گئیں انہیں لوگ اٹھا کر لے گئے، یہ خبر پڑھ کر میری تو ہنسی نہیں رک رہی تھی،میں حیران تھا کہ جگہ جگہ لگے پولیس ناکوں پر بسوں ، ویگنوں اور دیگر گاڑیوں سے خواتین سمیت سواریوں کو اتار اتار کر چیک کرنے،ان کے منہ سونگھنے والی پولیس کو شراب سے بھرا ٹرک دکھائی کیوں نہیں دیا؟ شراب کی بوتلوں سے بھرا ٹرک راول پنڈی سے فیصل آباد جا رہا تھا، نا جانے کتنی پولیس چیک پوسٹوں سے کلیئر ہوا ہو گیا ؟
گذشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل نے اپنے ایک پروگرام میں پاکستان کے دو بڑے شہروں لاہور اور کراچی میں ہونے والی ترقی اور حکومتوں کی گڈگورنس کے حوالے سے تقابلی جائزہ پیش کیا، لاہور میں میٹرو بس اور سڑکوں کے مقابلے میں دکھایا گیا کہ کراچی میں عوام بسوں کے اوپر بیٹھ کر اور اس کے پیچھے لٹک کر سفر کر تے ہیں، جبکہ لاہور کے زندہ دلان شہریوں کو میٹرو بس جیسی ٹھنڈی اور آرام دہ بسیں دستیاب ہیں، لیکن آج ہی( مورخہ 25 فروری 2017) کے اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق” کراچی سے مدینہ منورہ جانے والی قومی ائیر لائینز پی آئی اے کی پرواز نمبر پی کے 743 میں اس حد تک اوور لوڈنگ کی گئی کہ کئی مسافروں کو کھڑے ہوکر کراچی سے مدینہ سفر کرنا پڑا” کیوں قارئین محترم ہے ناں چونکا دینے والی خبر،باکمال لوگوں نے لاجواب سروس فراہم کرنے والی قومی ایئر لائنز کو لاری اڈوں میں تبدیل کردیا ہے؟
ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ سرکاری محکموں کے حکام کیوں بے خبر ہیں؟ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ دو نمبری ہمارے معاشرے کی رگ و پے میں رچی بسی ہوئی ہے،ہم بحثیت قوم راتوں رات کوٹھی ،بنگلے،کار سمیت دیگر پرتعیش زندگی بسر کرنے کی آرزوؤں کی دلدل میں دھنسے جا رہے ہیں ۔
حکومتی اقدامات اور ملک میں لاکھوں کی تعداد میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کی موجودگی میں ہر شہر قصبے اور دیہات میں ایسے افراد بکثرت دیکھنے کو ملتے ہیں ،جو فٹ پاتھوں پر پڑے ہوتے ہیں،گندگی کے ڈھیروں میں سے اپنے پیٹ کو بھرنے کا سامان کرتے ہیں،ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو ذہنی امراض کے شکار ہیں،اور ان افراد میں نوعمر لڑکیوں سمیت خواتین بھی شامل ہوتی ہیں لاتعداد نشئی بھی ہمارے حکمرانوں اور ملکی خزانے اور بیرون ملک سے ڈالر حاصل کرنے والی این جی اوز کے ضمیر کو جنجھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کے ضمیر کسی قسم کی خلش محسوس نہیں کرتے،
کیونکہ ان پر تالے پڑ چکے ہیں انکا مقصود و مطلوب دکھی لوگوں کی خدمت کرنا نہیں بلکہ مراعات اور مال کا حصول ہے۔
حکومت اور اس کی پولیس اور منشیات کی روک تھام کرنے والی انسداد منشیات فورسز کے دعوؤں کے باوجود ہمارے وطن عزیز کے گلی محلوں میں منشیات سرعام فروخت ہورہی ہے، منشیات فروش یہ منشیات کہاں سے لاتے ہیں،کیا منشیات لانے والوں کو ہمارے پولیس ناکے چیک نہیں کرتے؟ اگر کرتے ہیں تو یہ کیسے وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوتے ہیں؟ کیا ہمارے پولیس تھانوں میں تعینات پولیس افسران اور اہلکاران کو منشیات گروخت کرنے والوں کے اڈوں کا علم نہیں ؟ اگر علم ہے تو پھر یہ ان پر مہربان کیوں ہیں؟ انہیں قانون کے شکنجے میں کیوں نہیں جکڑتے؟
کیا ہمارے آس پاس جسم فروشی کے اڈے قائم نہیں ہیں ؟ کیا ان سے بھی ہماری پولیس لاعلم ہے؟ کیا ہمارے اردگردسود کا کاروبار کرنے والے موجود نہیں ہیں؟ کیا ہمارے عزیز و اقارب ان سے سود پر قرضے حاصل نہیں کرتے؟ کیا ہمارے دور و نزدیک پرچی جوا نہیں ہو رہا ہے؟ کیا ہمارے سامنے کمسن بچے بچیوں کی شادیاں نہیں ہو رہی؟ کیا ہم ان شادیوں میں نکاح کے گواہ نہیں بنتے ؟ کیا ہماری آنکھیں بچوں کو گود لینے والے بے اولاد جوڑے ان کے نسب میں اپنے نام نہیں لکھوا رہے ؟ جو کہ بہت کبیرہ گناہ ہے ،لیکن ہم سب آنکھیں موندے ہوئے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟ ان سب کے خلاف نہ تو ہماری مساجد سے صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے اور نہ ہی سماجی تنظیمیں آواز اٹھاتی ہیں، اس کی وجوہات میں مصلحت پسندی بھی شامل ہے، اور ہم دوسروں کی نگاہوں میں برے نہیں ٹہرناچاہتے ۔
واقعی اگر ہماری حکومت ،اس کے ذیلی ادارے، غیر سیاسی تنظیمیں( این جی اوز) اس ملک سے برائیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں، دکھی انسانیت کی خدمت کرنے میں مخلص ہیں، اگر ہم اس ملک کومنشیات کی لعنت سے پاک کرنے کا عزم رکھتے ہیں،اگر ہم اس ملک کے افراد اور معاشرے کوصحت مند دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں حقیقی معنوں میں بیدار ہونے کی ضرورت ہے، ضمیروں کو زندہ کرنا ہوگا اور مصلحت پسندی کو ترک کرنا ہوگا،
حکومت کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو ،انسداد منشیات فورسز اور پولیس سمیت دیگر اداروں کو صحیح معنوں میں فعال کرنے کی طرف متوجہ ہونا ہوگا۔

Views All Time
Views All Time
251
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   شاباش پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: