مسلمان ممالک حوصلہ ہار رہے ہیں ؟ – انور عباس انور

Print Friendly, PDF & Email

باقی دنیا کا تو مجھے علم نہیں البتہ برصغیر پاک ہند میں مسلمان اپنے بچوں کو گھٹی کے طور پر یہ سبق پڑھایا کرتے تھے کہ اسرائیل مسلمانوں کا دشمن ہے، اس نے ہمارے قبلہ اول پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ ہمارے مسلمان فلسطینی بھائیوں کے سرزمین پر قبضہ کیے ہوئے ہے اور انہیں اپنی ہی سرزمین پر غیروں کی طرح اور قیدیوں کے حال میں رہنا پڑ رہا ہے،جب پاکستان میں” لے کے رہیں گے کشمیر” کا نعرہ بلند ہوتا تب پاکستانیوں کی زبان سے یہ بھی نعرہ بلند ہوتا تھا ” قبلہ اول کی آزادی تک جنگ رہے گی،اسرائیل کی بربادی تک جنگ رہے گی ” اب آہستہ آہستہ صورتحال تبدیل ہو رہی ہے،عرب آرام دہ زندگی گزارنے کے عادی ہوگئے ہیں، اور اپنی زمین اور دین پردنیا کی محبت کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک میں فلسطینی کاز سے محبت ( دل چسپی) دم توڑتی جا رہی ہے،دنیا بھر میں سعودی عرب کی اسرائیل کی محبت میں دیوانہ ہوئے جانے پر بحث و مباحثہ جاری ہے۔ خود سعودی عرب کے اندر سے آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں کہ ”کیا سعودی عرب کو اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے؟سعودی عرب کے ایک شہزادے الولید بن طلال کا کہنا ہے کہ ”ایران کے بڑھتے ہوئے اثر ونفوذ کے پیش نظر سعودی عرب کو اسرائیل سے دوستی کو فروغ دینا چاہیے ،ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ اگر ایران فلسطین کے نام پر اسرائیل کے خلاف حملہ آور ہوتا ہے تو میں اسرائیل کا ساتھ دینا پسند کروں گا، اور اس کے لیے میں اپنا اثر ورسوخ بھی استعمال کروں گا”
سعودی عرب کے ہی ایک ریٹا ئرڈ جنرل انور اشکی نے اسرائیل کا ایک غیر روائتی دورہ بھی کیا ہے، اور ایک ہوٹل میں اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے ملاقات بھی کی ہے، دونوں ممالک میں بڑھتی ہوئے دوستی کی خواہش کے پیچھے ” ایران کا خوف” ہے،بی بی سی کے مطابق اس جنرل کے سعودی عرب کے شاہی خاندان سے قریبی تعلقات ہیں ،اور یہ جنرل انور اشکی جدہ میں ایک تھنک ٹینک کے سربراہ بھی ہیں۔جنرل انور اشکی نے اسرائیلی حکام کو غرب اردن میں زیر تعمیر اسرائیلی بستی کے حوالے سے بھی تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسرائیل اور سعودی عرب ملک کر ایران کی فوجی صلاحیت اور اس کے اسرائیل مخالف ارادوں کے آگے ”سپیڈ بریکر” یا دیوار کھڑی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟
عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے اسرائیل اور سعودی عرب میں بڑھتی ہوئی دوستی کی خبروں پر اظہار تشویش اور اظہار ناپسندیدگی کیا ہے، اور اسرائیل کی اندرونی سلامتی کے سابق مشیر یعقوب عمیدور سے سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل کی ملاقات اور دیگر سرگرمیوں کی شدید مذمت کی جا رہی ہے، عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے کہا ہے کہ اسرائیل سے دوستی کی پینگیں براہ راست آل سعود کی حکومت کی زیر نگرانی چڑھائی جارہی ہیں، محاذ نے عرب اقوام ، سیاسی جماعتوں اور فلسطین کی آزادی کے لیے سرگرم عمل گروپوں سے کہا ہے کہ وہ دشمن صیہونی( اسرائیلی) حکومت سے دوستی کی کوششیں کرنے والوں کا اور دیگر شرمناک سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیرنے بڑے پتے کی بات کی ہے کہ یمن اور شام کا بحران مسئلہ فلسطین سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے، اسرائیل اورسعودی عرب کے درمیان فضائی سروس کا بھی آغاز ہوچکا ہے، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کے مابین پروازیں شروع کرنے کے عمل کی ہدایات سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے براہ راست سعودی وزیر ٹرانسپورٹ کو جاری کی تھیں جس کے نتیجہ میں سعودی عرب اور اسرائیل کی ائیر لائینز کے درمیان معاہدہ طے پایا۔ یہ بھی خبر ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب نے سفارتی تعلقات بھی استوار کرلیے ہیں۔دوسری جانب فلسطین کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے اسرائیل کی جانب سے اویگدر لیبر مین کی بطور وزیر جنگ تقرری کو امن عمل کے لیے خطرے کی گھنٹی سے تعبیر کیا ہے۔
پاکستان بظاہر تو فلسطینی کاز کے اورعربوں کے ساتھ کھڑا ہے ،اس کی بنیاد بانی پاکستان کے وہ بیانات ہیں جو انہوں نے اسرائیل کے قیام کے وقت فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور صیہونی ریاست کے قیام کی مخالفت میں دئیے تھے، لیکن پاکستان میں برسراقتدار آنے والی حکومتیں اندرون خانہ اسرائیل سے میل جول رکھتی رہی ہیں،اندرون ملک اسرائیلی وزرائے اعظم بھارت جاتے وقت یا کسی دیگر ملک جاتے ہوئے کراچی میں شب بسری کرتے رہے ہیں اور بیرون ملک ہمارے سفارتی خانے اہم قومی تقریبات میں اسرائیلی سفیروں کو مدعو کیے جاتے رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پاک اسرائیل تعلقات میں سب سے تلخ دور ذوالفقار علی بھٹو کا دور حکومت شمار کیا جاتا ہے،کیونکہ اس دور میں پاک امریکا تعلقات کشیدگی کی انتہاؤں کو پہنچ گئے تھے۔
عربوں میں سے مصر کے انور سادات مرحوم سب پر سبقت لے گئے ،انہوں نے عوامی خواہشات کے برعکس اسرائیل کو تسلیم کیا اور اس سے سفارتی روابط و تعلقات استوار کیے ، جس پر عرب دنیا میں ان کے لیے نفرت کی ایک لہر پیدا ہوئی ،انور سادات مرحوم کا قتل بھی اسی مصر اسرائیل دوستی کا شاخسانہ تھا،جس سے باقی ممالک کے جذبات پر اوس پڑگئی ،جنرل ایوب خاں اور جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں اسرائیل کے لیے نرم گوشہ پیدا ہوتا رہا اور بہت کوشش کی گئی کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے اور سفارتی روابط استوار کرلیے جائیں لیکن عوامی ردعمل کے خوف سے یہ بیل منڈھے چڑھ نہ سکی۔ 
ایران میں انقلاب اسلامی برپا ہونے سے عرب ممالک میں خوف کی کیفیت طاری ہوئی اور انہیں محسوس ہوا کہ ایران اپنے انقلاب کو دیگر ممالک تک وسعت دینے کی کوشش کر سکتا ہے، جس سے ان ممالک کیں قائم بادشاہتیں منہدم ہو سکتی ہیں، یہی خوف عرب ممالک کے حکمران حوصلہ ہارنے لگے، اور ان کو ایسا لگا کہ ایران کے توسیع پسندانہ عزائم ، یمن اور شام کی صورتحال ان کے لیے درد سر بن جائے گی اور ایران روس کی مدد سے اسرائیل سے کہیں زیادہ خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے، اس لیے سعودی عرب کے آل سعود نے دیگر اتحادی ممالک خصوصاََ بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر اور مصر کی باہمی مشاورت سے اسرائیل سے مخاصمت کی پالیسی پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ کیا، اور اسرائیل سے سفارتی روابط قائم کرلیے، اور دونوں ممالک میں فضائی سروس کا بھی ٓاغاز کر دیا ہے۔
سعودی عرب جیسے ملک کی جانب سے اسرائیل سے سفارتی تعلقات سے بڑھ کر دوستی قائم کرنے کی پالیسی سے فلسطینی عوام کو سخت دھچکا پہنچا ہے، ان کی رائے کے مطابق سعودی عرب کے اس فیصلے سے فلسطین کی آزادی کی تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا، سعودی عرب کے بعد اب دیگر اسلامی ممالک خصوصا پاکستان کو اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے میں کوئی جھجک اور ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔ 

Views All Time
Views All Time
467
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ہو.. | شاہانہ جاوید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: