Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ایک اور احسان کا تازیانہ

by جون 14, 2016 سیاست
ایک اور احسان کا تازیانہ
Print Friendly, PDF & Email

akram sheikhجنرل ضیاءالحق کے اس ملک پر بے شمار سیاسی اور نظریاتی احسانات ہیں بلکہ زمینی حقائق تو یہ شہادت پیش کرتے ہیں کہ جتنے بھی منفی اور گردآلود مناظر ہیں وہ انہی کے سیاسی اقدامات اور حکومتی پالیسیوں کا تازیانہ ہیں جو ارتقائی عمل پر برس رہا ہے اور یہ معاشرت فطری عمل میں سفر کرنے سے گریزاں ہے یا پھر ماضی کے خول میں جکڑی ہوئی ہے۔ جنرل ضیاءالحق نے بھی اپنے اقتدار و اختیار پر گرفت کے لیے روایت کے عین مطابق مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ غیرقانونی حکومتی اقدامات کو تحفظ دینے اور عوام کی حمایت حاصل کرنے کو مذہب سے وابستہ سیاسی جماعتوں، گروہوں اور افراد کو سیاسی اور غیر سیاسی سرپرستی فراہم کی انہیں ریاستی وسائل کے ساتھ ریاستی امور میں بھی شامل کیا۔ انھیں مختلف ادارے بنا کر ریاست کی طرف سے سہولتیں اور مراعات فراہم کیں۔ یہی وہ دور ہے جس میں مساجد کے پیش امام علما کرام کے خطابات کے ساتھ اور علما کرام علامہ اور مفتی کے درجات کے ساتھ نمایاں ہوئے۔ وہ جو پیدل یا پھر سائیکلوں پر سفر کرتے تھے وہ بڑی گاڑیوں میں ’مسلح گارڈز‘ کے ساتھ چلتے اور گھومتے دکھائی دیتے تھے۔ یہ الگ بات کہ وہ غیر محفوظ کیوں ہوئے۔ یا انھیں دشمن کے خوف نے اپنا اسیر کیوں بنایا؟؟ اس سوال کا جواب اجتماعی سوچ کے سفر میں تلاش کیا جانا ایک قرض کی صورت موجود ہے جس کے معروضی حالات میں جوابات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں. لیکن چونکہ ابھی تک باقیات موجود ہیں اور وہ اپنا اثر و رسوخ بھی رکھتی ہیں اس لیے وہ کسی بھی صدائے احتجاج پر کوئی توجہ مرکوز نہیں کرتیں بلکہ اپنے ہونے کا ثبوت دینے کے لیے کبھی کبھار یوں سامنے آتی ہیں کہ سارا فکری سیاسی منظرنامہ بکھر کر رہ جاتا ہے۔
جنرل ضیاءالحق کا بنایا ہوا ایک ایسا ہی ادارہ اسلامی نظریاتی کونسل کا ہے، جس کا بنیادی کام حکومت اور سیاست کو نظریاتی سمت فراہم کرنا یا پھر پھیلی ہوئی گمراہی کو دور کرنے کے لیے سیدھے راہ پر چلانا ہے یہ کوئی تبلیغی ادارہ نہیں بلکہ اس کا کام موجود خرابات کی درستی کے لیے تجاویز پیش کرنا یعنی مذہب کی بنیاد سے ایسا راہِ عمل بتانا ہے جو معروضی صورتِ حالات میں منزل کی واضع نشاندہی کرتا ہو…. یہ ادارہ بذاتِ خود کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ وہ کوئی بھی قانون بنائے یا بل کی شکل میں کوئی تجویز پیش کرے وہ پارلیمینٹ کے سامنے آئے گی جس پر عوام کے منتخب نمائندے اکثریتی اتفاقِ رائے سے فیصلہ کریں گے۔ یہ سوال ماضی کے جوہڑ میں پھینک دیجیے کہ پارلیمینٹ کی موجودگی میں اس ادارے کی کیا ضرورت ہے اور خود پارلیمنٹ نے اپنی موجودگی میں اس ادارے کو کیوں باقی رکھا ہوا ہے؟ بدقسمتی یہی ہے کہ نہ تو پارلیمنٹ بااختیار ہے اور نہ ہی اس تک رسائی حاصل کرنے والے وقت اور حالات کے سفر سے ابھرنے والے شعور کے امین ہیں. انہیں سیاسی، علاقائی اور بین الاقوامی تقاضوں کا فہم ہے اور نہ ہی وہ اپنے مرتبہ و مقام کا ادراک رکھتے ہیں۔ وہ پارلیمنٹ میں انگوٹھا لگانے یا ڈیسک بجانے کا کام کرتے ہیں اور ریاستی مراعات کو انجوائے کرتے اور عوام پر بالادستی قائم رکھنے یا تسلط برقرار رکھنے کو ہی لازم سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل میں بیٹھے ہوئے چند لوگوں نے اکیسویں صدی کے دوسرے عشرہ میں عوامی شعور کے بخیے ادھیڑ کر اہل دانش کو چیلنج کر دیا ہے کہ وہ اس کو سی کر دکھائیں…. مملکت خداداد کی 52 فی صد آبادی کو غیر متحرک اور غیر فعال کرنے کا اپنی نئی تجویز کے ذریعے اقدام کیا ہے۔
دلچسپ بات ہے کہ…. گیارہ لوگوں، جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی پنجاب میں خواتین کے حقوق پر قانون سازی خیبرپختون خوا اسمبلی کے ڈرافٹ بل کو مسترد کرتے ہوئے خواتین کو قبائلی نظام کی کنیز اور لونڈی بنانے کی خواہش کو 163 دفعات میں پیش کیا ہے جسے مذہب کے عین مطابق قرار دیا گیا ہے حال آں کہ یہ ’میل شاونزم‘ کے تسلط اور اسے مزید مستحکم بنانے کی دیرینہ آرزو کو پایہءتکمیل تک پہنچانا تو ہے مگر اسلام میں دیے گئے خواتین کو تحفظ اور حقوق کی واضع نفی اور تردید ہے۔ دو باتیں ہی کافی ہیں ان چند لوگوں کی خواہش اور سوچ کا احاطہ کرنے کو…. اول یہ کہ خواتین نرسیں، ڈاکٹرز مردوں کا علاج نہیں کر سکیں گی، یہ ناجائز اور غیر اسلامی ہے، جب کہ تاریخ میں جن غزوات کی نشاندہی ہوتی ہے اس میں یہ بھی واضع ہے کہ خواتین بھی شامل ہوتی تھیں اور وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کر کے انھیں طبی سہولتیں فراہم کرتی تھیں کیا ان میں ’غیر محرم‘ نہیں ہوتے تھے؟؟ جہاں تک نقاب اور حجاب کی بات ہے ہم نہیں جانتے کہ یہ احکامات کب ہوئے اور ان پر عمل درآمد کب شروع ہوا۔ البتہ یہ واضع ہے کہ اس طریقہ کار کا ثقافتی اور تہذیبی پس منظر میںہے۔ بہرحال تجویز پیش کرنے والوں کو شاید اس معاشرتی حقیقت کا علم نہیں صحت اور تدریس کے شعبہ میں خواتین اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور وہ ان شعبوں میں مردوں سے زیادہ بہتر انداز میں فرائض پورا کر رہی ہیں۔ لیکن شاید طالبانائزیشن کے ہمنوا، جنہیں ملالہ یوسفزئی کو ختم کرنا لازم تھا۔ اور جو اپنے علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے والی انسانیت کی ہمدرد خواتین کا آنا جانا پسند نہیں کرتے۔ اس طرح کے سوچ کا مظاہرہ وہیں سے ابھر کر سامنے آ سکتا ہے۔ یا پھر جس سوشل نظام میں عورت کی حیثیت محض ایک کنیز اور لونڈی کی ہو، جہاں تعلیم کو گمراہی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہو، سکولوں کو بموں سے اڑایا جاتا ہو۔ اعلیٰ تعلیم کا کوئی تصور نہ ہو، وہاں سے مخلوط تعلیم پر پابندی کی تجویز نہ آئے گی تو اور کیا ہو گا؟؟
ایک اور تجویز…. یا پھر ’میل شاونزم‘ کے خاندانی نظام میں موجود تشدد کی سرپرستی کو مذہبی تحفظ دینے کی کوشش بھی دلچسپی سے خالی نہیںِ خاوند اپنی بیویوں پر ہلکا تشدد کر سکتا ہے یعنی مکے، تھپڑ جوتے وغیرہ تو مار سکتا ہے لیکن…. ہڈی پر کوئی ایسی شدید چوٹ نہیں لگنی چاہیے جس سے خون باہر آ جائے۔ گویا وہ تشدد جس میں عورت کے جسم سے خون باہر نہ آئے (نعوذ باللہ) اس کی اسلام اجازت دیتا ہے۔
البتہ…. مرد غیرت کے نام پر جب چاہے عورت کو زندگی سے محروم کر سکتا ہے۔ لیکن اگر تشدد لازم ہو تو وہ ہلکا ہونا چاہیے…. شاید یہی وہ نقطہءنظر ہے جس کے تناظر میں سعودی عرب کے شہر جدہ سے خبر آئی ہے کہ وہاں ایک شخص نے اپنی بیوی کے بحث مباحثہ کرنے کو پسند نہیں کیا اور اسے گولی مار کے موت کے حوالے کر دیا ہے۔ بہرحال دوستو…. اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی تجاویز پیش کر کے مملکت خداداد کی سمت درست کرنے کو 52 فی صد آبادی کے لیے جو راہیں متعین کی ہیں ان کے ذریعے پاکستان کی عزت اور وقار میں دنیا میں کتنا اضافہ ہو گا۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن فی الوقت حقیقت تو یہی ہے کہ عوام کو الجھن میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ وہ یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ
اب کسے راہنما کرے کوئی

Views All Time
Views All Time
537
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ذوالفقار علی بھٹو ایک سامراج دشمن رہنما - حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: