Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

میاں بیوی، رشتہ رفاقت کا

Print Friendly, PDF & Email

ہمارے ایک عزیز جو کے پیشے سے ڈاکٹر ہیں اُن کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ خوب صورت اور سلیقے سے سجا گھر، لذیذ کھانا، ہر بات میں رکھ رکھاؤ جھلک رہا تھا۔ مگر کچھ باتیں عجیب بھی تھیں جیسے کہ اُن صاحب کی والدہ بار بار بیٹے کے پلیٹ میں بوٹیاں ڈال رہی تھیں۔ حالانکہ وہ مہمان نہیں تھے۔ اور بیٹے کو ڈاکٹر صاحب کہہ کر مخاطب کر رہی تھیں۔ ڈاکٹر تو وہ تھے مگر بیٹے کو اس کے پیشے سے مخاطب کرنا عجیب سا لگا۔ شاید یہ فخر کرنے کا انداز تھا۔ اُن کے والد صاحب جو کے ہمارے ساتھ کھانے کی میز پر موجود نہ تھے اُن کا حال پوچھنے پر بتایا گیا کہ انہیں کھانا ان کے کمرے میں ہی دے دیا گیا ہے۔ وہاں سے رخصت لینے سے پہلے میں نے اُن کے والد صاحب کو سلام کرنا چاہا جس پر ڈاکٹر صاحب کی بیگم مجھے اُن کے کمرے میں لے گئیں۔میرا خیال تھا کہ وہ شاید ضعیف یا بیمار ہیں اور اس لیے انہیں ان کی صحت کے پیش نظر گفتگو میں شامل نہ کیا گیا اور کھانا بھی کمرے میں دے دیا گیا۔

وہاں جا کر میرا اندازہ غلط ثابت ہوا وہ ماشاءاللہ بیمار نہیں لگتے تھے اور چل پھر سکتے تھے۔ ان کے ساتھ کچھ دیر بات چیت کر کے اندازہ ہوا کہ خاصے معقول اور پڑھے لکھے انسان ہیں۔ گھر آ کر بھی میں سوچتا رہا کہ آخر ڈاکٹر صاحب کے گھر کا طور طریقہ اتنا عجیب کیوں ہے۔ پھرکچھ عرصے بعد جب ڈاکٹر صاحب کو بمعہ اہل و عیالِ ہم نے اپنے گھر دعوت پر بلایا تو وہ اپنی امی اور دونوں بچوں کے ساتھ تشریف لائے۔ ان کی والدہ یوں بن ٹھن کر آئی تھیں کہ شاید بیس برس پہلے تیار ہوتی تو زیادہ مناسب لگتا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ والد صاحب غسل خانے میں پھسل کر گر گئے اور ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی اس لیے بہو کو ان کے پاس گھر چھوڑ کر آئے ہیں۔ اب معاملہ کچھ کچھ میری سمجھ میں آنے لگا۔

بعض گھروں میں والد صاحب کو بڑھاپے میں جیون ساتھی اور بچوں کے ہوتے ہوئے بھی ایسے تنہا کیوں کر دیا جاتا ہے۔ اُنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد گھر کی ایک بےکار شے بنا دیا جاتا ہے۔ گھر کے معاملات میں مشورہ تو دور ان سے کوئی بات بھی نہیں کرتا۔ آپ نے بھی اکثر گھروں میں دیکھا ہو گا کے مائیں بیٹیوں کی نسبت بیٹوں کے زیادہ قریب ہوتی ہیں۔ آئے گئے کے سامنے بھی بڑے فخر سے میرا بیٹا میرا بیٹا کہہ کر اتراتی ہیں۔ وہ بچپن سے لڑکوں کو ان کی طاقت اور اختیار کا احساس دلاتی ہیں۔کئی دفعہ لڑکوں کو ظالم مرد بنانے میں ماں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا | ام رباب

بیٹیاں لاکھ ماں کی خدمت کریں اور بھاگ بھاگ کر گھر کا کام کریں ماں کے دل پر بیٹوں کا راج رہتا ہے۔ عورت کی محبت دیکھنی ہو تو دیکھو کہ وہ تمہیں کھانا کس انداز میں دیتی ہے۔ ہر معاملے میں بیٹے کو ترجیح دینے والی اکثر مائیں کھانا ڈال کر دیتے ہوئے اپنی اندھی محبت کا اظہار کھل کر کرتی ہے۔ قابل بیٹی کی نسبت نالائق اور کام چور بیٹے پر فخر کیا جاتا ہے۔

حالانکہ جو بیٹی آپ کے گھر مہمان ہے اُس نے دوسرے گھر چلے جانا ہے۔ غیروں میں زندگی گزرانی ہے وہ ماں باپ کی طرف سے اور بھی زیادہ اہمیت اور محبت کی مستحق ہے۔ دراصل خواتین کو بیگم بن کر رہنے کا شوق ہوتا ہے۔ بیگم یعنی بیوی نہیں۔ گھر کی بیگم صاحبہ جس کے پاس گھر کا سارا اختیار ہو۔ خاوند کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد یہ اختیار بیٹے کی بدولت بحال رہتا ہے۔ اسی لیے بوڑھے خاوند سے توجہ ہٹ کر پوری طرح بیٹے اور بہو کی جانب مبذول ہو جاتی ہے۔ بیٹے اور بہو کے معاملات میں بےجا مداخلت اور ضد کی جاتی ہے۔

ایسی خواتین ماں کے مقام سے نیچے اُتر کر ہر چیز میں بہو سے برابری کی کوشش کی کرتی ہیں۔ بیٹے پر بیوی اور ماں کے ساتھ یکساں سلوک کرنے پر دباؤ ڈالا جاتا ہے حالانکہ ساس بہو کا رشتہ آپس میں سوتن کا رشتہ نہیں کہ دونوں کے ساتھ بالکل ایک سا برتاؤ رکھنے کی کوشش کی جائے۔ بیوی اور ماں کا رشتہ دو بالکل مختلف رشتے ہیں۔ ماں کے پاؤں کے نیچے جنت رکھی گئی ہے اور ماں کا رشتہ ایک محبت سے بھرا مگر قابلِ احترام رشتہ ہے اور ہر حال میں ماں کی خدمت کرنے کا حکم ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   بچوں پر جنسی تشدد کا ذمہ دار کون؟ - اسماء مغل

بیوی کو جیون ساتھی کہا جاتا ہے اور میاں بیوی کے درمیان جیسا رفاقت ، راز و نیاز محبت اور جذباتیت کا تعلق ہوتا ہے وہ تعلق کبھی کسی بھی خونی رشتے کے ساتھ استوار نہیں ہو سکتا۔ چونکہ دونوں کا رشتہ بالکل مختلف نوعیت کا ہے اس لیے بالکل ایک جیسا سلوک اور ایک طرح سے معاملات رکھنے کا خیال ہی ایک فضول خیال ہے۔
عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ میاں بیوی کو ایک دوسرے کی محبت رفاقت اور ساتھ کی اور زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں اکثر خواتین شوہروں کے کمرے میں جھانک کر بھی نہیں دیکھنا پسند کرتیں۔ وہ شوہر کی دیکھ بھال ، دلجوئ اور اس سے کسی بھی قسم کی گفتگو کرنے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی۔
یہی وجہ سے کے کئ گھروں میں والد بہت مشکل بڑھاپا گزارتے ہیں۔ اُن کی صحت کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ وہ

بے توجہی کا شکار ہوتے ہیں۔ والدہ تو گھر کے معاملات میں پیش پیش نظر آتی ہیں مگر والد کی حیثیت گھر کا اہم فرد ہوتے ہوئے بھی گھر میں موجود سٹور روم کے بےکار فرنیچر سے زیادہ نہیں رہتی۔ خواتین پوری توجہ بیٹے اور بہو پر مرکوز رکھنے کے باعث شوہر کی طرف توجہ نہیں دے پاتیں۔ ہم لوگ اتنے بےحس اور سخت دل کیوں ہو گئے ہیں۔ ہم دوسروں کا درد سمجھنا تو دور دیکھ بھی نہیں سکتے۔ ہم مرد یا عورت بن کر ہی کیوں سوچتے ہیں۔ دوسروں سے کوئی سلوک روا رکھنا ہو تو ہمیں لڑکا لڑکی مرد یا عورت نظر آتے ہیں۔ انسان کیوں نہیں نظر آتا۔

Views All Time
Views All Time
622
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: