Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

عنیزہ سید

by فروری 13, 2018 حاشیے
عنیزہ سید
Print Friendly, PDF & Email

​میں پچھلے دو دن سے عاصمہ جہانگیر کی گفتگو والی ویڈیوز دیکھ رہی ہوں۔ میں نے کہیں ان کو مشرقی روایات سے الگ لباس پہنے نہیں دیکھا، کہیں ان کو دوپٹے کے بغیر عوام کے درمیان نہیں پایا، ملک کی بعض سرٹیفائیڈ ہیومن رائٹس مسلمان ایکٹیوسٹس کی طرح بلا آستین بغیر ڈوپٹے بیٹھ کر چلا چلا اور ہاتھ نچا نچا کر بے وزن گفتگو کرتے نہیں سنا، کہیں ان کو ناشائستہ زبان میں گفتگو کرتے نہیں پایا۔

ملک کے مستند مسلمان دانشوروں کی طرح اردو میں انگریزی کے ٹانکے لگاتے نہیں سنا۔ ان کی بات میں دلیل کی کمی نظر نہیں آئی میں سمجھ نہیں پائی کہ ان کی ذات پر مذہب اور روایات سے بغاوت کے لیبل لگا کر ان کو انسانی خدمات سے ڈس کریڈٹ کرنے کی کوششیں کرنے والے کیا چاہتے ہیں۔

مذہب ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔ انسانیت مذہب کی حدود میں محدود ہوتی تو مسلمانوں کے علاوہ دنیا میں انسان دوستی کا سہرا کسی دوسرے کے سر پر نہیں باندھا جا سکتا۔ ابھی گذشتہ سال ہی ہمارے ہاں ڈاکٹر روتھ فاؤ کو ان کی انسان دوست خدمات کے اعتراف میں جس عزت و احترام کے لائق سمجھا گیا عاصمہ کو اس سے محروم کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے۔ یقین جانئیے عاصمہ جہانگیر اب ہمارے اس اعتراف سے ماورا ہو چکیں.

یہ بھی پڑھئے:   رشوت کا بازار | سید حسن

ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہو چکا۔

لیکن ان کے بعد بچنے والی دنیا کے باسی ہم زندہ لوگ ان کی موت پر گدھوں کی طرح پنجے گاڑھ کر نہ دین نہ ہی ریاست کی کوئی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ رویہ ہماری آخرت سنوارنے کے کام بھی نہیں آنے والا۔  یاد رکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ ایک دن مرنا ہم سب نے بھی ہے۔ کون جانے کس کے مرنے کے بعد کس کی لاش ہوتی ہے اور کون گدھ بنتا ہے۔ اللہ سوچنے اور یاد رکھنے کی توفیق ہر کسی کو عطا فرمائے۔

نوٹ: یہ تحریر صرف اپنے محسوسات کے اظہار کے لیے ہے اس پر مخصوص فیس بکی بحث ہر گز درکار نہیں ہے۔

Views All Time
Views All Time
265
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: