Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اور پھر ایک فتوٰی آیا

by مئی 24, 2016 بلاگ
اور پھر ایک فتوٰی آیا
Print Friendly, PDF & Email

Sami Khanبچپن میں صرف سنا تھا، اور آج دیکھ رہا ہوں، کہ من حیث القوم ہم مسلمان کہاں تھے اور کہاں آکے ره گیے اور کس قطب جا رہے ہیں؟ میری طرح، بہت سارے اور دوست بھی اس اندازہ لگانے سے قاصر ہیں۔ ہمیں بغداد سے کوئی اور بہترین مثال کہیں نہیں ملتی۔ تقریبا ایک ہزار سال پہلے اسلام سائنس کے سنہری دور سے گزر رہاتھا۔ یہ وہ دور تھا جب بغداد کا نام دارلعلم اور دارلحکمة ہوا کرتا تھا۔ دنیا کے دور دراز علاقوں سے دانشور، اساتذه اور طلباء علم کی پیاس بجھانے بغداد کا رخ کرتے تھے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب یورپ تاریکیوں ( یعنی ڈارک ایجز) میں ڈوبا ہوا تھا۔ مسلمانوں کی پہچان تحقیقی ایجادات اور سائنسی دریافتوں سے ہوتی تھی۔ الجبرا، الگوریتم، زراعت، میڈیسن، نیویگیشن، فلکیات، فزکس، طبیعات، کاسمالوجی، سائیکالوجی، حتی کہ سب کے سب علوم کے ماہر مسلمان ہوا کرتے تھے۔ پھر مسلمانوں کا یہ سائنسی دور اچانک سے رک گیا۔ علمِ فلسفہ، ایجادات اور دانش کا یہ دور اچانک مسلمانوں کے سامنے سے غائب، کیوں؟
نیل ڈیگراس ٹایسن جس کو موجودہ دور کا البرٹ آئنسٹائن بھی مانا جاتا ہے۔ انکے مطابق اسکی بنیادی وجہ امام غزالی کی وہ دینی تفسیر ہے، جس کا خلاصہ کچھ یوں نکلتا ہے کہ نمبرز کے ساتھ کھیلنا (بالفاظ دیگر ریاضی) شیطان کا کام ہے۔ حالانکہ ریاضی کائنات کی زبان سمجھی جاتی ہے اور اس کو سائنس کی ماں بھی کہتے ہیں۔ ریاضی اور سائنس کا تعلق سر اور دھڑ کا ہے اور اس کو جدا کرنا دونوں کو بےمعنی کرنا ہے۔ امام غزالی کے اس خلاصے کے بعد گویا کسی نے مسلمان سائنسدانوں کے جیسے گھٹنے کاٹ دیے۔ اور اس حادثے کے بعد اسلامی سائنسی عروج کو آج تک ریکور نہیں کیا جاسکا۔ چلیں کچھ دور نہیں 1900ء سے 2010ء کے درمیانی دور کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ سائنس کے شعبے میں نوبل پرائز حاصل کرنے والو ں کو دیکھتے ہیں۔ پوری دنیا میں یہودیوں کی آبادی زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ کروڑ ہے، لیکن پچھلے سو سال میں سائنس سے متعلق نوبل پرائزز میں 25٪ فیصد انعامات یہودیوں نے حاصل کئے۔ اسکے مقابلے میں مسلمانوں کی آبادی ڈھیڑ ارب سے بھی تجاوز کرچکی ہے لیکن معذرت کے ساتھ مسلم امه کا محض 3٪ فیصد سائنسی کنڑیبیوشن ہے۔ ماڈرن سائنٹفیک ایج میں تو ہمارا ایک فیصد بھی پراپر کنٹریبیوشن نہیں ہے، چلیں اسکی تو بات ہی نہیں کرتے۔
غرض یہ کہ پچھلے کئی سائنسی ایجادات کو پہلے ھم حرام قرار دیتے ہیں، پھر کچھ سالوں بعد ھم اسکے گن گانے لگ جاتے ہیں۔ پرنٹنگ پریس ان ایجادات میں سے ایک ہے، جس کی وجہ سے یورپ میں ترقی کے نئے باب کھل گئے۔ لوگ کتابیں چھاپنے لگلے، سائنٹفیک آرٹیکل لکھنے لگے، میگزین، اخبارات غرض یہ کہ ھر طرح کا علم دور دور تک پھیلنے لگا۔ اس دوران شیخ الاسلام نے فتوی صادر فرمایا کہ پرینٹگ پریس حرام ہے، اور 230 سال تک اسلامی سلطنت میں پرینٹنگ پریس پر پابندی لگی رہی حتیٰ کے قران بھی پہلے یورپ میں ہی پرنٹنگ پریس کے ذریعے چھاپا گیا۔ اہلِ مغرب سائنس اور سائنسی ایجادات میں کہاں سے کہاں نکل گیے، اور مسلمان سائنسی ترقی سے صرف ایک فتوی کیوجہ سے کم ازکم ڈھائی سو سال پیچھے رہ گیے۔ جب جہاز ایجاد ہوا، تو برصغیر میں فتویٰ سامنے آیا، کہ جہاز میں سفر کرنا حرام ہے، کیونکہ اتنی اونچائی میں جانا قدرت کو للکارنے کے مترادف ہے۔ جب ریڈیو ایجاد ہوا تو یہ فتوی آیا، کہ یہ تو شیطان کی آوازیں ہیں۔
آج کوئی بلڈ ٹرانسمشن کو حرام قرار دے رہے ہیں، کوئی ھیئر ٹرانسپلانٹ کو، کہیں کوئی جینٹک انجنیرنگ کو۔ غرض یہ کہ پوری دنیا میں سائنسدان کائنات کے جائزے میں لگے ہوئے ہیں، اور ہمارے سائنٹفیک میچورٹی کا حال آپ کے سامنے ھے
ان تمام چیزوں کو زیرِ قلم لاکر میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں، کہ ایک طرف ہم اپنے آُپکو ایک ترقی یافتہ ملک دیکھنا چاھتے ہیں اور دوسری طرف سائنس اور مزھب کے تقابلی جائزے سے باز نہیں آتے۔

Views All Time
Views All Time
1472
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   نیکی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: