Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اور علیشہ مرگئی

by مئی 25, 2016 بلاگ
اور علیشہ مرگئی
Print Friendly, PDF & Email

ھم اس alisha 1معاشرے کے باشندے ہیں، جہاں خواجہ سراؤں کے حقوق تو دور کی بات، انہیں کوئی انسان تصور کرنے کو تیار نہیں۔ جس معاشرے کے اقدار اتنے بھیانک روایات پر مبنی ہو، جہاں ایک انسان تھوڑی سے منطقی سوچ کا مالک ہو، تو نتیجہ خرم زکی اور سبین محمود سے جیسا ہوتاہے، تو وہاں علیشہ جیسے لوگ کیسے جئیں گے۔ لیکن پھر بھی ہمارے معاشرے میں بقا کی جنگ خواجہ سراؤں سے اچھا کوئی اور نہیں لڑسکتا۔ یہ ایسے لوگ ہیں، جنہیں صرف گھر میں لعن طعن نہیں کیا جاتا، بلکہ گھر سے باھر کوئی بھی جگہ ہو جہاں بطور انسان ان کو واسطہ پڑتا ہے آفس، تھانہ، ڈاکخانہ،
ہسپتال، پاسپورٹ اور نادرا کے آفس میں بھی برے برے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ یہ تو چھوڑ دیجیئےے سڑک کے چوراہے پہ، جب وہ سوال کرتی رہتی ہیں، تو یہ حواس باختہ معاشرہ انہیں وہاں بھی نہیں چھوڑتا۔
دو دن پہلے فیس بک پہ خبر پڑھی کہ علیشہ جو کہ ٹرانس ایکشن الائینس خیبر پختونخواہ کی ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر تھی، کو کسی نے آٹھ گولیاں مار کر شدید زخمی
کیا۔ یہ خبر میرے لیے کسی قیامت صغریٰ سے کم نہیں تھی۔ اس سے زیادہ اداسی کی بات تو یہ تھی، کہ بیچاری علیشہ جو خون سے لت پت تھی، کو ہسپتال میں اسکی سوشل سٹیٹس کی بنیاد پہ بیڈ اور وراڈ نہیں الاٹ ہورہا تھا، جو ایک وجہ مرگ ہوسکتی ہے۔ تین گھنٹوں کے مسلسل کوشش کے بعد جاکے ایک پرایئویٹ کمرہ ملا، تب تک علیشہ کا خون بہت ضائع چکا تھا۔ علیشہ کے کچھ خواجہ سرا دوست جو سرپرست اور مدد کیلے آئے تھے، ہسپتال کا عملہ انہیں ھراسمنٹ کا نشانہ بناتا رہا۔ انسانی اور اسلامی اقدار کے علمبردار ایک خون میں لتھڑے ہوئے انسان کی موجودگی میں اپنی ہوس کے پجاری بنے لواحقین خواجہ سراوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہے۔ اگلی صبح علیشہ مرگئئ۔
علیشہ کی فیملی افغانستان سے ہجرت کرکے کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں مقیم ہو گئی تھی۔ یہ تب کی بات ہےجب سوویت یونین نے افغانستان پہ حملہ کیا تھا، اور بہت سارے مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دی گئی تھی۔ کچھ ملک بدری، کچھ غربت اور کچھ سماجی ناآگہی کی وجہ سے علیشہ کی فیملی کو بہت سارے چیلینجز کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ علیشہ کی پیدائش اور پرورش سہراب گوٹھ کراچی کی ہے..اردو کی روانگی کے خوب صورت نقوش اور دراز قد علیشہ کو دوسرے خواجہ سراؤں سے نمایاں رکھتا تھا۔
alisha 3غربت کے باعث علیشہ کو سکول بھیجنے کی بجائے درزی کا کام سکھانے کے لیے ایک ٹیلر ماسٹر کے پاس بھیجا گیا جس نے علی شاہ کو علیشہ بننے پر اکسایا اک گورو نے علیشہ کو رقص کے داؤ پیچ سکھائے اور یوں علیشہ شادیوں میں ناچ ناچ کے پیسہ کمانے لگی جب علیشہ کے گھر والوں کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے علیشہ کو علی شاہ بنانے کیلیے سو جتن کر دیکھے مگر علیشہ کو علی شاہ بننا گوارہ نہیں تھا وہ کراچی چھوڑ کے پشاور چلی آئی خواجہ سراؤں سے متعلق اک این جی او میں وہ کوارڈینیٹر کے عہدے پر فائز تھی اس کے خاندان کے دن پھر چکے تھے وہ اپنے آبائی وطن افغانستان شفٹ ہو چکے تھے اس کے دو بھائی جرمنی میں سیٹل تھے
اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں نجی دوستوں میں وہ بارہا اس کا اظہار بھی کر چکی تھی
مستقبل قریب میں اس کا افغانستان لوٹ جانے کا ارادہ تھا
پاکستان میں سول سوسائٹی کے نمائندوں کی آوازوں کا مقابلہ ان کی آواز ہمیشہ کیلیے بند کر کے ہوتا ہے علیشہ کو بھی آٹھ گولیاں مار کر خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے اک بلند آواز کو ہمیشہ کیلیے خاموش کر دیا گیا
علیشہ مر کر بھی اس نام نہاد مہذب معاشرے کے چہرے کا نقاب نوچ گئی جن کا مہذب پن اک مرتے ہوئے انسان کے لواحقین سے دست درازی کرتے وقت بھی قائم رہتا ہے

Views All Time
Views All Time
4356
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   پھر ہم ہی قتل ہو آئیں یارو چلو
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: