Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

شہر خموشاں کا اِک اور باسی ۔۔۔ ؟؟؟

شہر خموشاں کا اِک اور باسی ۔۔۔ ؟؟؟
Print Friendly, PDF & Email

Noor ul Hudaوہ جو کل تلک تھا رونق زندگی
آج شہر خاموشاں کی زینت بنا
’’میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ، مجھے مت مارو‘‘ ، مرحوم قوال امجد فرید صابری کے یہ آخری الفاظ تھے جو اس نے اپنے قاتلوں سے کہے تھے ۔۔۔ دوسری جانب باپ کی میت کے سامنے رکھے ، اپنی دادی کے ساتھ چمٹا ، سہما ننھا عون محمد تعزیت کیلئے آنے والے ہر فرد سے پوچھ رہا تھا کہ ’’آنٹی / انکل ، ابو واپس آئیں گے ناں ؟ یہ لوگ کہتے ہیں اب وہ کبھی نہیں آئیں گے ، آپ بتائیں یہ جھوٹ کہہ رہے ہیں ناں‘‘ ۔۔۔ مرحوم کی بیوی روتے ہوئے تعزیت والوں ہم کلام تھی کہ ’’آپا! ظالم میرے شوہر کی ٹانگ پر ہی گولی ماردیتے ، سینے پر تو نہ مارتے ، ہمیں ویسے ہی کہہ دیتے ، ہم یہ ملک ہی چھوڑ جاتے‘‘ ۔۔۔ وہ اجڑی مانگ ہر کسی سے سوال کررہی تھی کہ اسکے بے ضرر شوہر کا کیا قصور تھا ۔۔۔ لیکن انہیں دلاسہ دینے کیلئے کسی کے پاس الفاظ نہیں تھے ۔
روشنیوں کا شہر کراچی گذشتہ 30 سال سے دہشتگردی کا شکار ہے ۔ اگرچہ رینجرز کی مداخلت کے بعد یہاں کے حالات کچھ عرصہ کیلئے سنبھلے تھے لیکن رینجرز اور حکومت سندھ کے درمیان ہونے والی سرد جنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں دہشتگرد ایک مرتبہ پھر سرگرم ہوگئے ہیں ۔ صوبہ سندھ کے ناکام حکمران اپنے اختیارات رینجرز کو تقسیم کرنے پر تیار نہیں ہیں اور یہی امن دشمنوں کیلئے پلس پوائنٹ ہے ۔ حالانکہ یہ رینجرز ہی تھے جنہوں نے کئی چہروں کی معصومیت سے پردہ اٹھایا ، بے شمار ناسوروں کو بے نقاب کیا ، سینکڑوں کو گرفتار کرکے ان کے جرائم قوم کے سامنے لائے ۔۔۔ اور رینجرز کے انہی اقدامات کے جواب میں مجرموں نے راہ فرار اختیار کی ، کچھ ملک سے بھاگ گئے ، کچھ روپوش ہوگئے اور کچھ نئی پارٹیاں بناکر قوم کو دھوکہ دینے میں مصروف ہوگئے ۔۔۔ کراچی آپریشن ہی کی وجہ سے ’’پی ایس پی‘‘ وجود میں آئی اور ان قاتلوں ، مجرموں ، بھتہ خوروں کے سرپرست سنگین الزامات والی ایک مخصوص گروہ چھوڑ کر بھاگ بھاگ کر اس نئی پارٹی میں جانے اور یہ باور کرانے لگے کہ وہ اپنے گناہوں پر ’’نادم‘‘ ہیں اور اب ’’توبہ‘‘ کرچکے ہیں ۔۔۔ لیکن بھائی لوگ جتنی مرضی پارٹیاں بدل لیں ، جس ملک مرضی جاکر پناہ لے لیں ، خون سے رنگے ان ہاتھوں نے جو کھیل کھیلے ہیں وہ قوم کی نظروں سے تو پوشیدہ ہوسکتے ہیں لیکن اللہ کے حضور ان کی جواب دہی بہرحال ہوگی ۔۔۔ وہاں قتل کا بھی حساب ہوگا اور ظلم کا بھی ، وہاں ہر زیادتی کا جواب مانگا جائے گا اور تب آپ پارٹیاں تبدیل کرسکیں گے اور نہ ہی راہ فرار اختیار کرپائیں گے ۔
آج کچھ توقف کے بعد ٹارگٹ کلنگ کراچی میں ایک مرتبہ پھر سر اٹھا رہی ہے ۔ لاٹھی گولی تو وہاں بچوں کا کھیل سمجھا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے ’’اندھے‘‘ قتل اک عام سی بات ہیں ۔ کچھ کی رپورٹیں میڈیا کی زینت بن جاتی ہیں اور کچھ قتل گمنام رہتے ہیں ۔۔۔ اس تناظر میں یہاں اس امر پر بھی توجہ کی ضرورت ہے کہ کراچی میں کوئی بھی قتل بلاوجہ نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے بہرحال اک مافیا ہوتا ہے یا پھر ذاتی سے بڑھ کر سیاسی رنجشیں ، تعصب ، نفرت اور کینہ و بغض اس کی وجوہات ہوتی ہیں ۔۔۔ اور مجھے قوی یقین ہے کہ امجد صابری کا قتل بھی سیاسی ہے اور اسے بھتہ مافیا کے ایجنٹوں نے قتل کیا ہے ، بلکہ یہ قتل نہیں ٹارگٹ کلنگ ہے۔۔۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس طرح ایک ممبر قومی اسمبلی نے مقتول کے قتل کے انتہائی فوری بعد قومی اسمبلی میں لمبی سی تقریر جھاڑ دی اور مقتول کی لاش ابھی ہسپتال بھی نہیں پہنچی ہوگی کہ اس پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے قتل کا الزام ایک نو مولود پارٹی پر لگا دیا ۔۔۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ دراصل انہی موصوف کی سرپرستی اور انہی کی ناک کے نیچے یہ قتل کیا گیا ہے۔ اگر رینجرز نے اس واقعے کی تفتیش کی تو بہت جلد حالات اس حقیقت سے پردہ اٹھے گا ۔
عروس البلاد کراچی میں گذشتہ ایک عرصہ میں کئی قیمتی چراغ گل کردئیے گئے ۔ انسانی جان یہاں سب سے سستی ہے ۔ اہم افراد کے اغوا کی وارداتیں اضافی اقدام کے طور پر سامنے آرہی ہیں اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے اویس شاہ کا اغوا اسی کی کڑی ہے ۔۔۔ یہاں بے حسی چھائی ہوئی ہے ، شہر جل رہا ہے ، ہر فرد نوحہ کناں ، ہر شخص درد میں مبتلا ہے ۔ سسکیاں ہیں کہ بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں ۔۔۔ ذرا آنسو خشک ہوتے ہیں تو ایک اور سانحہ پھر سے ہمارے زخم تازہ کردیتا ہے ۔ کراچی کے منظرنامے میں ’’سائیں حکومت‘‘ کا کردار توجہ طلب ہے ۔ قائم علی شاہ اب عمر رسیدہ بلکہ اوور ایج ہوچکے ہیں ، وہ اب معاملات حکومت چلانے کے قابل نہیں رہے جبکہ گورنر سندھ جتنے پرانے ہوچکے ہیں ، یوں لگتا ہے جیسے ان کی بھی حکومت میں دلچسپی ختم ہوچکی ہے ، وہ صرف عہدہ سنبھالنے کو ترجیح دئیے ہوئے ہیں ، عوامی مسائل کا حل اور امن و امان فراہمی کی ذمہ داریوں سے وہ شاید خود کو بری سمجھتے ہیں ۔ مرحوم امجد صابری کے شہر کے یہ مائی باپ ہر انسانیت سوز واقعہ پر صرف قراردادیں پیش کرنے ، ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر مذمت کرنے ، متعلقہ اداروں سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرنے اور کمیٹیاں بنانے تک محدود ہیں ۔۔۔ انٹرویو ، ٹیبل ٹاک اور لفاظیوں کے سوا ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔ ان کے تمام معاملات صرف کاغذی کارروائی کی حد تک چل رہے ہیں ۔۔۔ ان کی ترجیحات میں پانامہ پانامہ کھیلنے کے علاوہ عوام کی جان و مال کا تحفظ شامل ہی نہیں ۔۔۔ افسوس کہ جنہیں ہم اپنے سروں کا تاج بنائے بیٹھے ہیں وہ فقط اپنے لئے جی رہے ہیں ، وہ ٹیکس ہم سے لیتے ہیں لیکن ان پیسوں سے اپنے گرد حفاظتی حصار مضبوط کئے جارہے ہیں۔۔۔ ان کے رویے کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک میں حکومت کرنے والے صرف وہ چار نقاب پوش ہیں جنہوں نے اویس شاہ کو دن دیہاڑے اغوا کیا ، یا پھر شاید امجد صابری کو قتل کرنے والے موٹرسائیکل سوار افراد یہاں کے حاکم ہیں ۔۔۔ ہمارے ووٹ لے کر اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ تو محکوم ہیں جو قاتلوں ، بھتہ خوروں ، غیرملکی ایجنسیوں اور ملک دشمن قوتوں کے سامنے بے بس ہیں ۔
گذشتہ تین دہائیوں میں صرف کراچی میں بیس ہزار سے زائد عام و خاص لوگ لسانیات ، نفرت ، کینہ ، عصبیت اور ذاتیات کی بھینٹ چڑھ کر مارے جاچکے ہیں ۔۔۔ پولیس ، ڈاکٹر ، علماء ، فنکار ، انجینئر ، وکیل ، صحافی ، سیاستدان ، سماجی کارکن ، مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں ، باپ ، بھائی ، بیٹا ، غرض کراچی کی ’’روشنیوں‘‘ نے ایک سے بڑھ کر ایک گوہر نایاب کو نگل لیا ۔۔۔ سب کے نہ سہی کم از کم حکیم سعید ، عظیم طارق ، شکیل اوج ، نشاط ملک ، ساجد قریشی ، رضا حیدر ، مفتی شامزئی ، چوہدری اسلم ، ولی بابر ، مولانا یوسف لدھیانوی ، علامہ حسن ترابی ، سبط جعفر ، پروین رحمن ، سبین محمود ، زہرا شاہد ، منظر امام ، شاہد حامد ، پروفیسر تقی ھادی ، اسلم شیخوپوری وغیرہ کے ’’اصل‘‘ قاتلوں کو ہی سرعام سزا ملی ہوتی تو آج شاید امجد صابری ہمارے درمیان ہوتا ۔۔۔ لیکن افسوس کہ ایسے واقعات کو سالوں گزر جاتے ہیں اور اس دوران ہماری سسکیوں اور آہوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔۔۔ اگر کوئی گرفتار ہوتا بھی تو وہ محض کرائے کا قاتل نکلتا ہے ، حالانکہ ان کرائے کے قاتلوں کے پیچھے جو محرکات اور کردار ہیں ، ان تک پہنچنے کی ضرورت ہے ، تاکہ اصل افراد انجام کو پہنچیں ، لیکن ہمارے ارباب اختیار میں اتنی استطاعت پیدا نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے ان واقعات کے کرتا دھرتاؤں کو حوصلہ مل رہا ہے اور وہ آگ اور خون کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں ۔۔۔ یہ سچ ہے کہ جس گھر میں خوشیوں کی گہما گہمی ہو ، وہاں جنازہ داخل ہوجائے ، ایک مانگ اجڑ جائے ، بچے یتیم ہوجائیں ، ماں جوان بیٹے اور بہن اپنے بھائی کو کھودے ، ان کی تکلیف اسمبلیوں کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھنے والے بھلا کہاں محسوس کرسکتے ہیں ۔۔۔ لیکن میں حیران ہوں ارباب اقتدار و اختیار کو ذرہ برابر بھی پشیمانی نہیں کہ جب امجد صابری سمیت ان ہزاروں بے گناہ مقتولوں کی بیوائیں اور بوڑھی مائیں قیامت کے دن ان کا گریبان پکڑ کر اپنے پیاروں کا قصور استفسار کریں گی تو وہ کیا جواب دیں گے ، تب کون سی اور کہاں سے قرارداد پیش کریں گے ، تب تو مذمت کرنے اور دعائے مغفرت کیلئے ہاتھ اٹھانے کو بھی وقت نہیں دیا جائے گا ۔ تب اس جرمِ بے گناہی کا حساب لیا جائے گا اور وہ بہت کڑا احتساب ہوگا ۔
قابل فکر امر یہ بھی ہے کہ ہر مرتبہ ایسے واقعات کے بعد ٹی ٹی پی ان کی ذمہ داری قبول کرلیتی ہے، اور ہمارے ادارے بے فکر ہوجاتے ہیں کہ اب انہیں مجرم ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے ، حالانکہ ٹی ٹی پی کی پالیسی ہی عوام اور اداروں کو گمراہ کرنا اور اصل قاتلوں سے توجہ ہٹانا ہے ۔۔۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہر ایسے واقعے کے بعد ہم جمہوریت کے مزید مخالف اور آمریت کی امید لگا بیٹھتے ہیں ۔ متاثرہ لوگ انصاف کیلئے حکومت کی بجائے برائے راست آرمی چیف کو آواز دیتے ہیں اور انہیں اپنے دکھوں کا مداوا گرداننے لگتے ہیں ، عوامی خواہشات کا احترام اپنی جگہ ، لیکن فوج نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ جمہوریت کے تسلسل کی حامی اور سویلین حکومت کی مددگار ہے اور اس کی بقا میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔۔۔ اس عزم کے بعد اب کوئی دوسری رائے نہیں رہ گئی کہ ہمیں جمہوریت کو درست خطوط پر استوار کرنے کی سعی کرنی ہے ۔۔۔ اگرچہ ملک میں آنے والی ہر آفت پر سیاسی قیادت سے زیادہ فوج ہی کردار ادا کرتی ہے ، لیکن اس کے باوجود یہ فوج کا بڑا پن ہی ہے کہ وہ ملکی بقا کو جمہوریت کے تسلسل سے مشروط کئے ہوئے ہے۔
مرحوم قوال امجد صابری کے گھر والوں کی زندگی تو اب خالی اور سنسان ہوچکی ہے ۔ نجانے اس نے گھر سے نکلتے وقت اپنی بیٹیوں سے کیا وعدے کئے ہوں گے ۔۔۔ اس کے بیٹوں نے عید پر اس سے کیا امیدیں وابستہ کررکھی تھیں ۔۔۔ لیکن ان کے پاس اب صرف اپنے باپ کے قہقہے اور یادیں ہی رہ گئی ہیں ۔۔۔ عون محمد ، حُب علی اور ان کی بہنوں کو اب باپ کی شفقت کبھی نصیب نہیں ہوپائے گی ۔۔۔ وہ 5 معصوم تو یتیم ہوئے ہی ، لیکن 40 سالہ امجدصابری اپنے 5 بچوں کے ساتھ ساتھ 300 غریب ، یتیم اور مستحق بچوں اور بچیوں کی بھی خاموش کفالت کررہا تھا ۔ انسانیت اور امن کے دشمنوں نے پلک جھپکنے میں ہی 305 بچے یتیم کردئیے ۔ انہوں نے 300 گھروں سے شفقت کی چادر چھین لی ہے ، جس کا ننگ انسانیت ، ننگ وطن ’’مڈل مینوں‘‘ کو احساس تک نہیں ہے ۔۔۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ امجد صابری کی ایسی ہی ادائیں ہزاروں لوگوں کو اس کے جنازے میں کھینچ لائی تھیں جہاں درود و سلام کی صدائیں اور اس کے چہرے کا سکون اور نور بتا رہا تھا کہ وہ تو امر ہوگیا لیکن اپنے پیچھے امن و امان کے دعویداروں کیلئے کئی سوال چھوڑ گیا ہے ۔۔۔ بلاشبہ کراچی جیسے شہر میں امجد صابری کا اس قدر بڑا جنازہ دہشتگردوں کو شکست ہے ۔۔۔ درود و سلام کی صدائیں بلند کرتے لوگوں کے جم غفیر نے اس جنازے کو بلا خوف و خطر تاریخی بناکر ثابت کیا ہے کہ انہیں ڈرا دھمکا کر نہیں رکھا جاسکتا ۔۔۔ ان کے کندھوں میں طاقت ابھی موجود ہے ، چاہو تو مزید جنازے بھی اٹھوا لو ، لیکن وہ امن دشمنوں کے آگے نہیں جھکیں گے ۔۔۔ تاہم مجھے یقین ہے جو درندے ایسی تلخ کارروائیوں میں ملوث ہیں ، انہیں مظلوموں کی بددعائیں اور آہیں ضرور لگیں گی ، اور شاید انہیں تو جنازہ بھی نصیب نہ ہو ، نہ ہی کوئی ہاتھ ان کیلئے دعائے مغفرت کی خاطر اٹھے گا۔
ادارتی نوٹ: ایڈیٹوریل بورڈ کی رائے میں‌یہ ایک جانبدارانہ مضمون ہے. آزادی رائے کے تحت شائع کیا گیا ہے. اگر کوئی قلم کار اس مضمون لکھنا چاہے تو قلم کار اس تحریر کو بھی شائع کرے گا.

Views All Time
Views All Time
476
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   مذہب اور ریاست کے درمیان دیوار - افضل رحمان
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: