Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہندوستان کو آج عوامی دانشوروں کی اشد ضرورت ہے۔انٹرویو رومیلا تھاپر

by فروری 6, 2018 تراجم
ہندوستان کو آج عوامی دانشوروں کی اشد ضرورت ہے۔انٹرویو رومیلا تھاپر
Print Friendly, PDF & Email

معاصر ہندوستانی تاریخ کے علوم کی محافظ کے طور پہ، پروفیسر رومیلا تھاپر نے ہمیشہ تاریخ کو ایسا متحرک شعبہ علم سمجھا ہے جو ماضی اور حال کے درمیان مستقل مکالمہ ہے۔بہت سی بصیرت افروز کتابوں کی مصنف ہونے کے ساتھ وہ اب ایک نئی کتاب "بولتی تاریخ” کا موضوع ہیں۔ کتاب آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی ہے۔ کتاب میں رامن جہاں بیغلو اور نیلادری بھاٹیہ چاريہ نے نہ صرف ان کے پنجاب سے لندن تک کے ذاتی زندگی کے سفر کو سامنے لائے ہیں بلکہ انہوں نے ہسٹوریکل متھاڈلوجی، رزمیہ ادب اور ہندو نیشنلزم /قوم پرستی جیسے کئی بنیادی مسائل پہ انٹرویو تھاپر سے کئے ہیں۔ ان کی تحریروں کا ایک انتخاب "مورخ اور ان کا فن منتخبات مضامین و خطبات” کے عنوان سے مرتب کیا گیا ہے۔ ایک ممتاز عوامی دانشور کے سچے روپ میں تھاپر نے اسکرول ان ویب سائٹ پہ اپنے بارے میں نئی کتاب، تاریخ اور ہندتواء وغیرہ کے بارے میں بات کی ہے۔ ان کے انٹرویو سے اقتباسات پیش ہیں۔

آپ اپنی کتاب میں ہندوستانی معاشرے میں عوامی دانشوروں کی ضرورت بارے بات کرتی ہیں، جن کی آج جیسے حالات میں کہیں زیادہ ضرورت بنتی ہے۔ تاہم، اکثر درس گاہوں میں پڑھانے والے خاص طور پہ جن کا شعبہ تاریخ ہے عوامی مباحثوں میں زیادہ حصّہ لیتے نظر نہیں آتے ہیں۔ آپ کے خیال میں اس قدر گریز پا ہچکچاہٹ کیوں ہے؟

تھاپر: اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ تحقیق کرنے والوں کی تربیت میں ان کی تحقیق کا باقی معاشرے سے جو تعلق بنتا ہے کے بارے میں سوچنا شامل نہیں ہے۔ یہ اس قدر ماہرین تاریخ میں غالب نہیں ہے اگرچہ بہت سے ماہرین تاریخ اپنی تحقیق کا معاشرے سے جو تعلق بنتا ہے اسے جوڑ بھی نہیں پاتے۔ یہ کافی توجہ طلب بات ہے۔ مثال کے طور پہ سائنس دانوں کے اندر جو کہ اپنے تجربات کرتے ہیں۔ ان تجربات کا سبب ان کی اپنی تحقیق سے دلچسپی ہوتا ہے جب کہ وہ کبھی اس کے معاشرے پہ کیا اثرات ہوں گے جیسے سوال نہیں اٹھاتے۔ ہم سائنس دان ہوں یا غیر سائنس دان ہمیں ایسے بنیادی سوال کی تعلیم یا اس کو اٹھانے کا حوصلہ نہیں دیا جاتا۔ اس ایک جزوی وجہ تو ہماری تعلیم کا اب تک نوآبادیاتی طرز پہ زیادہ تر استوار رہنا ہے۔ جہاں ایسی تنقیدی نگاہ کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔اور ان دنوں اسے سرکاری آئیڈیالوجی کے ذریعے مسلط کیا جا رہا ہے جو کہ سوالات اٹھانے کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ ہم اب تک اس سطح کی تعلیم تک نہیں پہنچے جہاں پہ تعلیمی اداروں کے نصاب ایسے بنیادی سوالات کے ساتھ شروع ہوتے ہوں۔ وہ جو سوال اٹھانے کی اہمیت سے باخبر ہیں خاموش رہتے ہیں۔ کیوں کہ تدریسی ادارے اور عوام دونوں ہی موجودہ علم پہ سوال اٹھانے کو نہیں سراہتے ہیں۔ آج کے زمانے میں اور آج کے وقت میں ایک اضافی خوف ہے کہ اگر آپ کھلے عام اس کی مخالفت کرتے ہیں جسے "روایتی” کہا جاتا ہے تو آپ کو خوف ناک نتائج و عواقب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسے یونیورسٹیوں میں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں بہت سے بہت خوش تھے جب سائنس دانوں کے ایک گروپ نے ایچ آر ڈی وزرات سے ایک وزیر کی جانب سے ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی مذمت پہ سختی سے اعتراض کیا۔

آپ کے خیال میں "رزمیہ ادب/اپیک لٹریچر” کو واقعاتی ثبوت کے طور پہ نہیں لیا جاسکتا۔تاہم، ایک اساطیری/خیالی محض فکشن کی تخلیق ہونے کے باوجود جائسی پدماوت کا تخلیق کردہ کردار پدامنی ایک تاریخی کردار کے طور پہ مسلسل پیش کیا جاتا ہے۔ مہابھارت اور رامائن کو بھی بہت سے تاریخ کا حصّہ مانتے ہیں۔ ایک عوامی دانشور ایسے دعوؤں سے کیسے مقابلہ کرسکتا ہے؟

تھاپر: بہت سے سوالوں کو اٹھاتے ہوئے، بطور ماہرین تاریخ، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہوتی ہے آیا کہ یہ تاریخی ہے اگر اسے بطور تاریخ کے درج کیا جا رہا ہے۔ ہمیں اس کے کردار کی سماج کی تشکیل نگاری میں جانچ کرنا پڑتی ہے۔ کیا اس سے سماجی اقدار کا پتہ چلتا ہے۔ اور کیا ان کے بارے میں سماجی شناختوں کے ماخذ ہونے کا دعوی کیا جاسکتا ہے؟ کیا لوگ اسے ماضی کے بارے میں ایک معلوم سچ کے طور پہ لیتے ہیں اور کیا وہ اسے اپنی زندگیوں کے ذریعے سے جان پاتے ہیں،جب کہ وہ اس کو اپنے سماجی مقام و مرتبہ اور شناخت کے جاننے کا سرچشمہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں؟ یا کیا وہ اسے ایک عظیم ادب اور ماضی کے بارے میں پرکشش فنتاسی کے طور پہ لیتے ہیں، بلکہ وہ اس کے دفاع کی خاطر اپنی جانوں کو قربان کرنے کو تیار نہ ہوں؟

یہ بھی پڑھئے:   داعش کو مکمل تباہ نہ کریں

مزید یہ کہ اس فنتاسی کو ایک مانی ہوئی حقیقت میں بدل ڈالنے کے پیچھے محرک کیا ہے؟ یہ حال کے ماضی کے ساتھ تعلقات کے ساتھ بہت کچھ کرنے جیسا ہے، جہاں ماضی آج سے بہت زیادہ تعلق رکھتا ہے، خاص طور پہ سماجی شناخت کے علاقے میں۔ ایسی مخلوط شناختوں والے سماج میں، کوئی کیسے ایک واحد شناخت پاسکتا ہے اور اس کے خاص ہونے کا اعلان کرسکتا ہے؟ بہت سے طریقوں میں سے ایک طریقہ ایسا کرنے کا ایک بہت بڑے مقام اور رتبے کے حامل متن کو اٹھانا ہے، چاہے وہ فکشن کی تخلیق ہو اور اسے ایک کی وراثت سے جوڑ دینا اور پھر اس کے تاریخی ہونے پہ اصرار کرنا ہے۔ ایسے دعوے اکثر ایسے گروپوں کی طرف سے آتے ہیں جو سماجی طور پہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ آج سنگین بات یہ ہے کہ ایسے گروپ غالب و بالادست جاتیوں کے ہیں کیونکہ ان کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ ان کا موجودہ غلبہ کچھ سائے میں ہے۔

ماہرین تاریخ ان تمام مختلف پہلوؤں کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ اتنا ہی اس متن پہ تبصرہ کرنا ہے جن کو ماضی کے رزمیہ ادب کی بجائے حال میں ایک سیاسی ہتھیار کے طور پہ استعمال کیا جارہا ہے۔

آپ میموری/حافظے کو بطور ماخذ تاریخ کے استعمال کرنے بارے شدید تحفظات اٹھاتی ہیں۔تاہم کیا تاریخ بڑی حد تک تاریخی واقعات کی یادوں کے مجموعے کا نام نہیں ہے جن کو لکھا گیا؟ کئی ایک تاریخی متن جن کو ہم ٹھیک ماخذ تاریخ آج خیال کرتے ہیں ایک روزنامچہ نویس کی یادداشتوں یا حافظے سے ہی نکلے ہوتے ہیں۔ آپ اس پہیلی یا معمہ کو کیسے حل کریں گے؟

تھاپر: آپ نے جو مقدمہ یا کلیہ بنایا پہلے مجھے اس سے عدم اتفاق کرنے کی اجازت دیں۔ آپ کا کہنا ہے کہ یادداشتیں تاريخ کا بڑا ماخذ ہیں۔ ایسا ان دنوں میں تھا جب تاریخ بڑی حد تک ماضی بارے ایک بیانیہ کا نام تھی۔ لیکن اب جو تاریخ ہے اس کی تشکیل اور تجزیہ کے بہت سارے ماضی پہ موجود ماخذ ہیں اور یہ ماضی کی تشریح و وضاحت کرنے کی کوشش کا نام ہے۔میموری /یادادشت تو اس میں قدرے کم کردار ادا کرتی ہے۔ ماضی کو محفوظ رکھنے کی دوسری اشکال کا کردار اب زیادہ اہم اور مرکزی ہے۔ عوامی کاغذات ، سرکاری بیانات اور آرکیالوجیکل شواہد اور آثار ہیں میموری سے کہیں زیادہ وزن رکھتے ہیں۔ تاریخ کئی قسم کے ماخذ سے اخذ کی جاتی ہے اور اس انٹریکشن/تفاعل میں مختلف ماخذ کی قدر وقیمت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اس لئے، میموری کو ساختہ/بنالی گئی اور تنقیدی جانچ کا موضوع بننے والی شئے کے طور پہ دیکھا جاتا ہے۔ اور ہمیں اسے حتمی قدر کے طور پہ نہیں لیتے۔ ہم اس کا تجزیہ کرتے ہیں، اسے تحلیل کرتے ہیں اور اس کا تقابل و موازنہ دوسرے ماخذ سے کرتے ہیں۔میں اس کو نشان زد کرنا پسند کروں گی کہ جو بھی ماخذ ہو ،اس کا تجزیہ کرنا مطلق بہت اہم اور بنیادی چیز ہے تاریخ نگاری کے لئے۔ ہندوتوا بطور ایک نظریہ اور آئیڈیالوجی کے بہت تیزی سے جڑ پکڑ رہی ہے۔اگرچہ اس کے پیش کار ‘پران’ کی بہت دہائی دیتے ہیں، مگر ہندوتوا کا ہندو ازم/ہندو مت کا تصور اس صلح کلیت اور جذب پذیری کا مخالف قطب ہے جو کہ پران کی خاصیت ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   10 فیصد بالادستوں کی غلامی سے نجات حاصل کیجئے – حیدر جاوید سید

کیا آپ سمجھتی ہیں کہ ایک خارج کرنے والا، فریب فریب ابراہیمی ہندؤازم مذہب کی تاریخ میں پراڈائم تبدیلی کی علامت ہے؟

تھاپر: ہمیں یاد رکھںا پڑے گا کہ تمام مذاہب کی ایک تاریخ ہے۔ مذہب جامد چیز نہیں بلکہ تاریخی تبدیلوں سے بدلنے والی شئے ہے۔ مذہب دو طرح کے ہیں: ایک ذاتی مذہب ہے جو آپ اور آپ کے دیوی دیوتا سے تعلقات پہ مشتمل ہیں جن کو آپ پوجتے ہو، اور پھر ایک عوامی صفات کے ساتھ بندھا ہوا مذہب ہے،جہاں مذہب، ایک سماجی انٹرپرائز کے طور پہ معاشرے کو قابو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ اس وقت خدوخال پکڑتا ہے جب مذہب طاقت ور ہو جاتا ہے اور بہت سارے پیروکار اسے مل جاتے ہیں۔ یہ تنظیمیں بناتا ہے جو سماجی سرگرمیوں کو تشکیل دیتی اور ان کی سمت کا تعین کرتی ہیں۔اب یہ ہندوتوا ہے اس کی تشکیل اور ساختگی 20ویں صدی کے آغاز میں ہوئی۔ یہ ذاتی مذہب پہ تو کم ہی اثر رکھتا ہے اور یہ ہندو مت کو دوبارہ سے تشکیل دینے کی کوشش نہیں کرتا۔ لیکن مذہب کی جانب سے سماجی کنٹرول کی جو مشق کی جاتی ہے یہ اسے دوبارہ سے متعین کرتا ہے۔ تو اجتماعی پوجا پاٹ، اجتماعی پوجا پاٹ کونسلیں جو ہندوتوا سے جڑے سماجی رسوم و رواج کے قوانیں بناتی ہیں۔ مذہب کی تاریخیت کے عقیدہ ہونے کی تلقین کرتی ہیں اور جیسے ابراہیمی مذاہب میں ہوتا ہے ویسے ہی مرکزی شخصیات کی بنیاد رکھتی ہيں۔ مختصر یہ کہ ایک تنظیم کا تمام تر اسٹف وجود میں آتا ہے جو اس سے پہلے نہيں تھا۔ پہلے، ہر فرقہ اپنے رجحانات رکھتا تھا۔ مگر ہندوتوا ہندو مت کو یک شکل/یک نوعی بنانے کی کوشش کر رہا ہے اس طرح کے تمام فرقوں کو باہم مدغم کر رہا ہے تاکہ ایک مونولتھک/یک نوعی مذہب بنایا جا سکے۔ ہندو مت اور دوسرے مذاہب میں ایک دلچسپ فرق یہ ہے کہ ہندو مت اپنے آپ کا اظہار تاریخی اعتبار سے مختلف فرقوں کی تخلیق،ان کے وجود اور ان کے ارتقاء کے ذریعے سے کرتا ہے۔ یہ چیز مذہب کو زرخیر اور وسعت سے مالا مال بناتی ہے اور اسے کشادہ اور تکثیری کر دیتی ہے۔ پرانے زمانے میں ہندومت کی کشادگی کو بڑے پیمانے پہ منایا جاتا تھا اور تنگی صرف جات پات پہ عمل کی صورت تھی۔ سماجی تنظیم اور سیاسی تحرک پہ ڈرل اور سنڈے اسکول جیسے طریقوں پہ زور ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں نے ہندوتوا کو "سینڈیکٹ ہندو مت” کا نام دیا ہے۔ ہندوتوا کا اپنے آپ کو ہندو مت کہلوانا ایک مصیبت ہے کیوں کہ روایتی ہندومت سے رخصتی ہے۔

نوٹ: یہ انٹرویو ہندوستانی ویب سائٹ اسکرول ان سے عامر حسینی نے ترجمہ کیا ہے۔

Views All Time
Views All Time
184
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: