کراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ طالبان لیں گے ۔ عارف جمال

Print Friendly, PDF & Email

arif jamalکراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ طالبان لیں گے ۔ عارف جمال
انٹرویو:شمائل شمس
ترجمہ: محمد عامر حسینی
ادارتی نوٹ:جرمنی کے خبر ساں ادارے ڈوئچے ویل کی انگریزی ویب سائٹ نے امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد صحافی عارف جمال سے ایم کیو ایم کے خلاف کراچی میں رینجرز کی کاروائيوں کے حوالے سے خصوصی بات چیت کی۔اس بات چیت میں عارف جمال نے اپنے تئیں ایم کیو ایم کو کراچی کے سیاسی منظر نامے سے ہٹانے کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی کوششوں کے پیچھے مقاصد کو جاننے کی کوشش کی ہے۔عارف جمال کی بات چيت اس لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستانی مین سٹریم میڈیا پہ ایسے تجزیے بالکل ہی نایاب ہیں۔کیونکہ پاکستانی مین سٹریم میڈیا مکمل طور پہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مطابقت میں کھڑا نظر آرہا ہے۔جبکہ سوشل میڈیا پہ اگرچہ ایم کیو ایم کے خلاف اسٹبلشمنٹ کی کاروائیوں بارے تنقیدی انداز میں بہت کچھ کہا جارہا ہے لیکن وہاں زیادہ تر جذباتی فضاء غالب ہے۔ایسے میں عارف جمال سے ڈوئچے ویل کی انگريزی ویب سائٹ پہ شمائل شمس کا یہ انٹرویو سیاسی ادراک کے کئی در وا کرتا ہے۔لیکن عارف جمال کے تجزیہ میں ایک کمزوری بھی ہے۔جب وہ یہ کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کی ملک گیر مہم چلائے ہوئے ہے تو یہ حصّہ کسی حد تک صداقت پہ مبنی نظر آتا ہے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ جماعت دعوۃ ، حزب المجاہدین (یہ دو نام لئے انہوں نے ) یہ پاکستانی فوج کے اچھے مجاہد ہیں جن سے وہ سیاسی جماعتوں کی کمزوری سے پیدا ہونے والے خلاء کو پر کرنا چاہتی ہے۔لیکن وہ یہاں اس حقیقت سے نظریں چراتے ہیں کہ اس وقت مرکزی حکومت میں مسلم لیگ نواز برسراقتدار ہے۔اس پارٹی کی ایک طرف تو طالبان کی حامی جمعیت علمائے اسلام۔ف گروپ اتحادی ہے تو دوسری جانب سلفی تنظیم جمعیت اہلحدیث ساجد میر گروپ اس کا اتحادی ہے۔جبکہ اس پارٹی کے دیوبندی مکتبہ فکر کی سب سے ریڈیکل اور تکفیری انتہا پسند کالعدم تنظیم اہلسنت والجماعت سے بھی اتحاد اور اشتراک ہے۔اور یہ پارٹی سعودی عرب کے شاہی خاندان اور سعودی مذہبی اسٹبلشمنٹ سے بھی مضبوط روابط رکھتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ نواز،سندھ میں پی پی پی ، بلوچستان میں مسلم لیگ نواز کی کولیشن حکومت اور خیبرپختونخوا میں تجریک انصاف کی حکومت میں سے کوئی ایک حکومت بھی تکفیری دیوبندی دہشت گرد کالعدم تنظیم کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتی اور اس سے تعلقات بہتر بنانے میں مصروف نظر آتی ہیں۔بلدیاتی انتحابات میں ملیر میں پی پی پی کی مقامی قیادت نے اہلسنت والجماعت /پاکستان راہ حق پارٹی سے اتحاد بنایا ۔یہ تنظیم دفاع پاکستان کونسل میں بھی موجود ہے۔اب سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اگر ملٹری اسٹبلشمنٹ اسلامسٹ کے لئے بڑی سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کی ملک گیر مہم چلارہی ہے تو پھر مسلم لیگ نواز کے دیوبندی اسلامسٹ گروپوں سے سٹریٹجک اتحاد اور شراکت کی ہم کیسے تشریح کریں گے؟عارف جمال اپنے ہی ایک انٹرویو میں پاکستان کے اندر 80ء اور 90ء کی دہائی میں شروع ہوئے سعودیزائشن اور دیوبندئزائش پروسس کا تذکرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے تبلیغی جماعت ، سپاہ صحابہ وغیرہ اور سعودی عرب سے تزویراتی اشتراک کو بیان کرچکے ہیں۔لیکن اس انٹرویو میں انہوں نے ایک مرتبہ بھی دیوبندی مکتبہ فکر کی ریڈیکل تنظیموں اور ان کے رشتوں ناطوں کاذکر نہیں کیا۔یہاں کچھ تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے مسلم لیگ نواز ، پاکستان تحریک انصاف جیسی جماعتیں دیوبندی ریڈیکل عناصر اور سلفی جہادی گروپوں کو جو فوج نواز ہیں اور تزویراتی گہرائی کے شراکت دار ہیں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔یہاں پہ جمہوریت نواز لبرلز کے ساتھ کے ایک حلقے کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ وہ میاں نواز شریف کو ایک لبرل ماڈریٹ جمہوریت پسند اینٹی اسٹبلشمنٹ لیڈر کے طور پہ پروجیکٹ کرنے کے ایجنڈے پہ کام کررہا ہے اور وہ اسٹبلشمنٹ کے جہادیوں سے تزویراتی رشتے تو بار بار زیر بحث لاتا ہے لیکن دیوبندی و سلفی جہادی گروپوں سے نواز۔شہباز کے ساتھ رشتوں بارے خاموشی اختیار کرتا ہے۔
mqmڈوئچے ویل : حکام ایم کیو ایم پہ اغواء ، ٹارچر اور قتل کے ریکٹ چلانے کا الزام لگاتے ہیں جبکہ سیاسی گروہ جو کہ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والی اردو بولنے والی کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہیں اس الزام سے انکاری ہیں بلکہ یہ گروہ کئی عشروں سے جاری امتیازی سلوک اور ناانصافی کی شکایت کرتے ہیں۔
عارف جمال: اس وقت فوج کی قیادت میں جو مہم جاری ہے اس کا مقصد ملک میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنا ہے تاکہ حکومت اور سویلین اداروں پہ کنٹرول اور زیادہ مضبوط ہوسکے۔راحیل شریف جن کو بڑے منظم انداز میں فوج نواز میڈیا نے ایک مسیحا کے طور پہ پروجیکٹ کیا ایم کیو ایم کو کمزور کرکے کراچی پہ اسلام پسندوں ( اس سے مراد سیاسی اسلام پسند جہادی ، تکفیری لئے جائیں )کے قبضے کی راہ ہموار کررہے ہیں۔
ڈوئچے ویل: کیا آپ ایم کیو ایم کی قیادت کے اس دعوے سے متفق ہیں کہ پاکستان آرمی امتیازی طور پہ اس کے کارکنوں کو نشانہ بنارہی ہے؟
عارف جمال: اس کا ایک واضح ثبوت ہے کہ پاکستانی فوج ایم کیو ایم کو امتیازی طور پہ نشانہ بنارہی ہے۔یہ تو اب پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی نشانہ بنائے ہوئے ہے۔پاکستان آرمی کی موجودہ جو مہم ہے وہ ملک گیر مہم ہے اور اس کا مقصد ملک کی تمام بڑی سیاسی پارٹیوں کو کمزور بنانا ہے۔
جب تک سیاسی جماعتیں تقسیم رہیں گی اور متحدہ مزاحمت کرنے میں ناکام رہیں گی تو فوج ان کو ناک سے پکڑ کے اپنے اقدامات کی حمایت پہ مجبور کرتی رہے گی ۔ہم ہر ایک اہم فیصلوں والے اجلاسوں میں جنرل راحیل شریف کو وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ بیٹھے دیکھتے ہیں ۔تمام تصویروں اور ویڈیوز میں جنرل راحیل شریف ہی شو چلارہے ہوتے ہیں۔راحیل شریف کبھی بھی کیپ پہنے نظر نہیں آتے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو اپنے سویلین باس کو سیلوٹ مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ بڑی حد تک واضح ہوچکا ہے کہ پاکستان رینجرز ، پولیس اور دوسرے سیکورٹی ادارے براہ راست پاکستان آرمی سے احکامات وصول کررہے ہیں۔ملک کا جو میڈیا ہے وہ مکمل طور پہ فوج کا ساتھی بن چکا ہے یا رہن رکھا جاچکا ہے۔یہ گروی پن اس قدر زیادہ ہے کہ پاکستان کے یوم دفاع پہ کئی صحافی پاکستانی فوج کی وردی پہنے نظر آئے۔اور یہ چیز فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے اور میڈیا کے درمیان امتیاز کو ختم کرتی نظر آتی ہے۔
ڈوئچے ویل: یہ پہلی مرتبہ تو نہیں ہوا ، پاکستانی فوج نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن 1990ء کی دھائی میں بھی ہوئے۔ریاست اور خاص طور پہ ہر جگہ موجود پاکستانی فوج ایم کیو ایم کے خلاف کیوں ہے ؟
عارف جمال:پاکستانی فوج اقتدار پہ قابض ہو یا نہ ہو اس کے رشتے پاکستانی سیاسی جماعتوں سے بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں۔80ء کی دھائی کے ڈھائی عشروں میں اس نے ایم کیو ایم کی تشکیل اور ابھار میں مدد فراہم کی تاکہ پی پی پی کو سندھ میں نقصان پہنچایا جاسکے۔1990ء میں پاکستانی فوج کے جرنیلوں نے یہ محسوس کیا کہ اس جماعت کا سائز اتنا بڑھ گیا ہے کہ اس کو قابو رکھنا ناممکن ہوجائے گا تو انہوں نے اس کے اندر تقسیم پیدا کردی۔
ایم کیو ایم واحد جماعت نہیں ہے جسے فوج کے مسلسل عتاب کا سامنا ہو۔دوسری سیاسی جماعتیں بھی فوج کی جانب سے ایسے ہی سلوک کا سامنا کرتی ہیں۔مختلف اوقات میں پاکستانی فوج نے سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنے اور ان کے اندر ٹوٹ پھوٹ کے لئے مختلف حربے استعمال کئے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مضبوط سیاسی جماعتیں سیاست میں فوج کی بالادستی کے لئے براہ راست خطرہ ہیں۔
ڈوئچے ویل: نقاد کہتے ہیں کہ ایک لبرل پارٹی ہونے کے باوجود ایم کیو ایم کراچی پہ گرفت برقرار رکھنے کے لئے دہشت گردی کا استعمال کرتی ہے، اس لئے اس کے خلاف ملٹری آپریشن کا جواز بنتا ہے۔کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں ؟
عارف جمال:اس خطے کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان بھی ایک متشدد معاشرہ ہے جہاں سیاسی جماعتیں اکثر تشدد کا مظاہرہ کرتی ہیں۔تاہم یہ ناجائز بات ہے کہ آپ سیاسی تشدد کو دہشت گردی قرار دیں۔مذہبی جماعتیں ہیں جیسے جماعت اسلامی ، جمعیت علمائے اسلام ( اہلسنت والجماعت دیوبندی )، جماعت دعوۃ وغیرہ جو دہشت گردی کی سپانسر ہیں۔
اگر دہشت گردی وجہ ہے ،تو فوج کو جماعت اسلامی کے پیچھے جانا چاہیے جس کا مسلح ونگ حزب المجاہدین اس خطے کا ایک بڑا دہشت گرد گروپ ہے۔یا دوسری دہشت گرد تنظیمیں جیسے جماعت دعوۃ ( سابقہ لشکر طیبہ )(عارف جمال شاید تکفیری دیوبندی تنظیم کالعدم (کاغذوں میں بس ) اہلسنت والجماعت کا نام لینا بھول گئے حالانکہ کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف اور رینجرز کے حق میں سب سے بڑی ریلیاں اسی تنظیم نے نکالی ہیں)وغیرہ ہیں۔لیکن بدقسمتی سے حقیقت یہ ہے کہ پاکستان آرمی خود حزب المجاہدین اور جماعت دعوۃ کو فنڈنگ کرتی ہے۔
ڈوئچے ویل : لاہور ہائیکورٹ کے ایم کو ایم کے رہنماء الطاف حسین کی میڈیا میں تقاریر نشر کرنے پہ پابندی کو آپ کیسے دیکھتے ہیں ؟
عارف جمال:لاہور ہائيکورٹ کا الطاف حسین کی تقاریر کو میڈیا میں نشر کرنے اور ان کی تصویر دکھانے پہ پابندی کا فیصلہ خود پاکستانی میعارات کے مطابق بھی ایسا فیصلہ ہے جس کی نظیر نہیں ہے۔اس فیصلے سے سارے قانونی اور جمہوری ضابطوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔یہ فیصلہ بظاہر پاکستانی فوج کی سیاسی جماعتوں کے خلاف عمومی اور ایم کیو ایم کے خلاف خصوصی مہم کا حصّہ نظر آتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستانی فوج اور عدلیہ کا ہمیشہ غیرمقدس گٹھ جوڑ رہا ہے۔یہ بندھن ابھی بھی مضبوط ہے اور یہ فیصلہ بھی اسی گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔
ڈوئچے ویل: پاکستان کے قومی سیاسی منظر نامے پہ ایم کیو ایم کے کمزور ہونے کے کیا ممکنہ نتائج و عواقب ہوسکتے ہیں ؟
عارف جمال:ایم کیو ایم اور دوسری سیاسی جماعتوں کے کمزور پڑنے سے پاکستان میں جہادی گروپوں کے لئے بہت جگہ پیدا کررہی ہے۔سیاسی ایشوز میں فوج کی سرگرم مداخلت اور سازشوں کی وجہ سے کوئی بھی سویلین منتخب حکومت 1988ء سے نہ تو اچھی کارکردگی دکھاسکیں اور نہ ہی نتائج دکھاپائیں ۔
لوگوں کا جمہوریت اور سویلین حکمرانی پہ جو عقیدہ تھا وہ کھوگیا ہے۔المیہ یہ ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں جیسے جماعت دعوۃ (اہلسنت والجماعت دیوبندی)سرعام بھرتی اور چندے اکٹھے کررہی ہیں۔جبکہ پاکستانی فوج سیاست دانوں پہ دہشت گردوں کو فنڈنگ کرنے کا الزام عائد کررہی ہے۔
اب ہمیں پتہ چل رہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کا مقصد سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنا تھا ناکہ دہشت گردوں کو۔بعض عالمی دہشت گرد جیسے حافظ سعید ہے اور حزب المجاہدین کا یوسف شاہ ہے وہ پبلک ریلیاں منظم کررہے ہیں ساتھ ساتھ جہادی بھرتی اور فنڈ جمع کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
دہشت گرد تنظیمیں لاکھوں ڈالر کا فنڈ بقر عید پہ اکٹھا کرلیتی ہیں جبکہ سیاسی جماعتوں جیسے ایم کیو ایم کو حقیقی امدادی وجوہات کے ہوتے ہوئے فنڈ جمع نہیں کرنے دئے جاتے۔
ڈوئچے ویل :کچھ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے کمزور ہونے کا نتیجہ وہاں پہ اسلام پسند گروپوں جیسے داعش ، القاعدہ ، طالبان کے پاکستان کے اربن سنٹرز میں نمودار ہونے کی صورت میں نکل سکتا تھا۔پاکستانی فوجی قیادت ایسا کیوں چاہتی ہے؟
عارف جمال : کیونکہ پاکستانی جرنیلوں نے جہاد کو استعمال کرنے کی پالیسی کو ابھی تک اپنی دفاعی پالیسی کا حصّہ بنارکھا ہے۔پاکستان پاکستانی فوج ابھی بھی "اچھے جہادیوں ” کی حمایت کرتی ہے جن میں جماعت دعوۃ بھی شامل ہے جوکہ ایک سلفی گروپ ہے اور وہ اسی نظریہ کی پیروکار تنظیم ہے جس کی داعش پیروی کرتی ہے اور باکو حرام بھی ۔
داعش افغانستان ۔پاکستان کے خطے میں جون 2014ء س مڈل ایسٹ میں اپنے ابھار سے لیکر ابتک اسلامسٹ دہشت گرد گروپوں کے زیادہ انتہا پسند دھڑوں کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب رہی ہے۔اور جماعت دعوۃ بھی افغانستان میں اس کی اتحادی نظر آتی ہے۔تو پاکستانی فوج کی سٹریٹجی داعش کی چھتری تلے اچھے جہادیوں جیسے جماعت دعوۃ ہے کا ایک اتحاد بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   منحرف زندگی ارون دھتی رائے (حصہ دوم)

انگریزی کے انٹرویو کے لئے یہاں کلک کریں

Arif Jamal is an independent US-based journalist and author of several books, including "Call For Transnational Jihad: Lashkar-e-Taiba 1985-2014.”
The interview was conducted by Shamil Shams.

Views All Time
Views All Time
1114
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: