شیخ رشید اور پی ایس ایل کا فائنل – عمار کاظمی

Print Friendly, PDF & Email

نو عمری کی بات ہے ہمارے ایک عزیز گرمیوں کی چھٹیوں میں آئی اپنی ایک دور کی عزیزہ پر مر مٹے۔ خود بہت شرمیلے تھے، سو براہ راست اظہار محبت نہیں کر پاتے تھے، تاہم ایک اور رشتہ کے کزن کے ذریعے لڑکی کے لیے ایک میٹھا سُرخ تربوز محبت کے اظہار کے طور پر باقاعدگی سے بھجوایا کرتے تھے۔ لڑکی اپنے جوبن میں کافی خوبصورت تھی سو مہینہ پورا ہونے سے پہلے ہی تربوز لے کر جانے والے سے اسکی محبت شروع ہوئی اور پھر چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوگیا۔ ہمارے عزیز کو اس میں دل ٹوٹنے کے علاوہ پچیس تیس تربوزوں کا نقصان ہوا جو وہ بلا ناغہ لڑکی کے لیے بھیجا کرتے تھے۔

آج جب شیخ رشید کی طرف سے پی ایس ایل کا پانچ سو والا ٹکٹ خریدنے کی بات سنی تو بے اختیار وہ بیس پچیس سال پرانا واقعہ یاد آ گیا۔ شیخ صاحب جنرل سٹینڈ میں بیٹھ کر وہی کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے قریبی عزیز کےساتھ دوسرے عزیز نے کیا مگر شاید میاں صاحبان ہمارے عزیز جیسے سیدھے نہیں ہیں۔ انھوں نے لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل کا فیصلہ کر کے جہاں بہت بڑا رسک لیا ہے وہیں یہ انکا بہت بڑا کریڈیٹ بھی ثابت ہو سکتا ہےاور وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ انکا کریڈیٹ کوئی اور شئیر کرے۔ بہر حال شیخ رشید نے پانچ سو والا ٹکٹ لے کر ایک بار تو پی سی بی اور پنجاب حکومت کو پسینے چھڑوا دیے تھے۔ خبر سامنے آتے ہی بینک اتظامیہ اور پی سی بی نے شیخ صاحب سے فوری رابطہ کیا اور کہا آپ جنرل سٹینڈ میں نہیں بیٹھیں، ہم آپکو وی آئی پی ٹکٹ فراہم کریں گے۔ جواب میں شیخ صاحب نے انہیں بتایا کہ انکے پاس آٹھ اور بارہ ہزار والے ٹکٹ بھی پہلے سے موجود ہیں۔ آپکو شیخ رشید سے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو اور آپ انہیں کتنا ہی نا پسند کیوں نہ کرتے ہوں، مگر ماننا پڑے گا، ان سے زیادہ مقبول سیاست کو سمجھنے والا دوسرا کوئی سیاستدان اس وقت پاکستان میں موجود نہیں۔ اور اگر عمران خان جیسی فین فالونگ کہیں شیخ رشید کو نصیب ہوتی تو شاید نواز حکومت عرصہ پہلے گھر جا چکی ہوتی یا پھر دو ہزار تیرہ کا الیکشن ہی نہ جیت پاتی۔ دوسری طرف میاں صاحبان کی سمجھ کی بھی تعریف کرنا پڑے گی کہ وہ جانتے تھے کہ عوامی لیڈر کا عوامی سٹینڈ میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا معنی رکھتا تھا۔

خِیر، میری رائے میں شیخ صاحب کو جنرل سٹینڈ میں ہی بیٹھنا چاہیے اور آٹھ اور بارہ ہزار والے ٹکٹ اپنے کارکنوں کو دے دینے چاہئیں۔ دوسری طرف پنجاب حکومت کو بھی اب دل بڑا کر کے انہیں عوامی سٹینڈ میں بیٹھنے کی اجازت دے دینی چاہیے کہ ان کے جنرل سٹینڈ میں بیٹھنے سے آسمان سر پر نہیں گر پڑے گا، بلکہ ان کے ہی ایونٹ کی رونق میں اضافہ ہوگا۔ خون آلود فضا میں بسنت بہار کے رنگ بھرنے کے لیے ضروری ہے کہ شیخ جیسا کوئی معروف نام عوام کیساتھ بیٹھ کر میچ دیکھے۔ جہاں شیخ صاحب کو چار نمبر اضافی مل جائیں گے وہیں پی ایس ایل کے جشن کو بھی چار چاند لگیں گے۔ آپ انہیں وی آئی پی کے ٹکٹ کی آفر دے کر اپنی طرف سے بری الذمہ ہوچکے، اب انہیں خود فیصلہ کرنے دیں کہ وہ عوام میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں یا اشرافیہ میں۔ تاہم انکے جنرل سٹینڈ میں بیٹھ کر میچ دیکھنے سے اُس غریب عوام کا حوصلہ ضرور بڑھے گا جو ٹکٹوں کی قیمتوں کے فرق کی بنیاد پر پانچ سو والے کو شودر، آٹھ ہزار والے کو کھشتری اور بارہ ہزار والے کو براہمن تعبیر کر رہی ہے۔

 

Views All Time
Views All Time
365
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کہا جاپان کو جائیں؟ -ابن انشاء

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: