عورت اور مرد کے کردار کی چھان بین کا ایک پیمانہ ایک رکھنا ہو گا – عمار کاظمی

Print Friendly, PDF & Email

ہمارے ضلع قصور میں چار پانچ خاندانوں کے نام بڑے مالکان اور خاندانی رئیسوں کے طور پر گنوائے جا سکتے، ہیں لیکن اگر کسی اکلوتے مالک کی بات کی جائے تو میرا نہیں خیال کہ پھول نگر کے مرحوم راؤ فضل الرحمان خان عرف راؤ صدن سے بڑا زمیندار کوئی ضلع میں تھا۔ راؤ صاحب میرے ماموں ڈاکٹر سید رضا عسکری مشہدی کے اچھے دوستوں میں شامل تھے۔ میں خود بھی ان سے متعدد بار ملا، ان کے ساتھ سفر کیا، وہ اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے سا تھ اچھے شریف، نفیس اور بھلے انسان محسوس ہوتے تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کا اکلوتا الیکشن پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر لڑا اور ضلع کے بڑے زمیندار ہونے کے باوجود انھیں رانا پھول محمد خاں صاحب سے بہت بُری شکست ہوئی۔ تاہم اس بڑی شکست کے باوجود انھیں حلقہ میں رانا پھول محمد خاں کے خلاف بڑا چیلنج سمجھا گیا۔ بہر حال وقت گزرتا گیا، میرا داخلہ اسلام آباد میں ہوگیا، کافی عرصہ ان سے ملاقات نہ ہوسکی اور پھر اچانک یہ خبر ملی کہ راؤ صاحب پر ان کی کسی مزارع کی بہن بیٹی یا بیوی سے زیادتی کے بعد قتل کا پرچہ درج ہو گیا ہے۔ راؤ صاحب اس پرچے کی وجہ سے کافی عرصہ پریشان رہے اور بعد میں صلح کے نتیجے میں ان کی جان چھوٹ گئی۔ کہتے ہیں کہ اس مقدمہ سے نکلنے کے لیے مرحوم رانا پھول محمد خاں صاحب نے ہی ان کی مدد کی تھی۔ تاہم بعض لوگوں کی رائے میں یہ پرچہ راؤ صاحب کے سیاسی حریفوں نے ہی انھیں سیاست سے باز رکھنے کے لیے کروایا تھا۔ اس مقدمے کے بعد راؤ صاحب نے حقیقتاً سیاست سے کنارہ کشی کر لی تھی۔ لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ایک بار راؤ صاحب نے خود میرے پوچھنے پر سیاست سے بیزاری کا اظہار کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ ان کے مخالفین کے لیے سیاست روزگار کا ذریعہ ہے اور وہ لوگ اسے کاروبار کی طرح لیتے ہیں، جبکہ ان کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے اور وہ اس حرام پیسے، چوری چکاری اور رسہ گیری کی سیاست کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ان کے ناقدین کے خیال میں راؤ صاحب میں دو بنیادی کمزوریاں تھیں۔ ایک وہ کنجوس تھے اور دوسرے وہ ناڑے کے کچے تھے۔ پہلی کمزوری تو بہر حال جائز دولت والے ہر امیر میں کسی نہ کسی حد تک ہوتی ہے اور ایسا کوئی بھی شخص جو الیکشن پر اندھا دھند پیسہ نہ پھینکے، بدمعاشی نہ کرے اور دھڑے بندی کا حصہ نہ بنے اسکے لیے پنجاب کی انیس سو پچاسی کے بعد کی سیاست میں کامیاب ہونا آسان نہیں۔ راؤ صاحب کنجوس تھے، اس کا اندازہ تو مجھے بھی کسی حد تک ہو سکتا ہے کہ ان کا ظاہر ان کی حیثیت کی تصدیق نہیں کرتا تھا۔ مطلب ان کے پہناوے اور جیپ سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ خود پر بھی کچھ زیادہ خرچ کرنے کے قائل نہ تھے۔ جبکہ ان کے سیاسی حریف رانا پھول محمد خان جو درحقیقت وراثتی جائیداد اعتبار سے ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھے، ان کی گاڑیاں، پہناوا، ڈیرا ڈنڈا، سب کچھ نوابوں اور بادشاہوں والا تھا اور ان کی وفات کے بعد آج بھی ان کے خاندان کا طرز زندگی اور طرز سیاست ویسا ہی ہے۔ یہاں یہ کہنا بھی شاید غلط نہ ہو کہ رانا پھول محمد خان کا پورا خاندان اپنی تمام تر متنازعہ ترقی اور دولت کے باوجود بھی شاید راؤ صدن سے زیادہ مالدار نہ ہونگے۔ ویسے اگر عمران خان واقعی نواز مخالفت اور حصول اقتدار سے زیادہ کرپشن کے اشو پر سنجیدہ ہیں تو وہ ایسے تمام اراکین اسمبلی کے انیس سو اسی کے بعد کے اثاثہ جات پر بھی ایک نظر ضرور ڈال لیں۔ اگر وہ پورے پنجاب میں محض نواز لیگ کے ہر ایم پی اے، ایم این اے کی تیس پینتیس برس پہلے کی حیثیت چھان بین کر لیں تو نہ صرف ہر دوسرے رکن اسمبلی کے حوالے سے طلسم ہوشربا انکشافات سامنے آئیں گے، بلکہ انھیں یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کہ لندن فلیٹس اور دیگر لا تعداد اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاریوں کے لیے پیسہ کہاں سے کیسے کیسے اکٹھا ہوا اور کون بدعنوانی کےسہولت کار تھے۔

یہ بھی پڑھئے:   پاکستان میں خواتین کی سماجی و سیاسی ہمصری اور ارتقائی منازل

خیر جہاں تک راؤ صدن صاحب کی دوسری کمزوری کا سوال ہے اسکے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا کہ عمر میں ان کے بچوں کے برابر ہونے کی وجہ سے ایسی بے تکلفی نہ تھی۔ تاہم آج عمر کے اس حصے میں تجربے، مشاہدے اور تھوڑی بہت نفسیات کی سمجھ کی بنیاد پر یہ ضرور لکھ سکتا ہوں کہ دنیا کے کم و بیش نوے فیصد مرد اگر جنسی اور جسمانی طور پر تندرست ہوں تو وہ ناڑے کے کچے ہی ہوتے ہونگے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب جہاں لبرل ازم پروان چڑھا اور جہاں عورتوں کے حقوق سب سے زیادہ طاقتور شکل میں موجود ہیں وہاں بھی "جنسی ہراساں” کے ساتھ ایک فلرٹیشن اور سڈیوس یا سڈکشن یعنی بہکانے جیسے اعمال کی حقیقت کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ واضع رہے کہ وہاں یہ الفاظ مرد اور عورت دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ سڈکشن یا بہکانے کے عمل کی قانونی حیثیت کیا ہے، مگر ایک ایوریج مرد کی گندھی یا فطری نفسیات میں کسی بھی قبول صورت عورت سے دھوکہ کھانے کی گنجائش بہت زیادہ ہوتی ہے، لہذا مردوں کی اکثریت بڑی آسانی سے ٹریپ بھی ہو جاتی ہے، سو یہ اخلاقی جرائم کے اعتبار سے جنسی طور پر حراساں کرنے کے عمل کا ہی ایک حصہ تصور کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   صنفی امتیاز اور متوازن معاشرے کا خواب

مگر ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم عورت کو اس کا جائز مقام اور تحفظ تو دے نہیں پاتے، مگر اس کی طرف سے کسی پر الزام لگانے پر فوراً اچھل پڑتے ہیں۔ بس سٹینڈ پر کھڑے دس لڑکے جنکی نگاہیں بس کے انتظار میں کھڑی کسی لڑکی کا مکمل ایکسرے کر رہی ہوتی ہیں اگر وہ کسی مرد پر محض اپنا غصہ نکالنے کے لیے کہہ دے کہ اس نے مجھے چھیڑا ہے تو دس کے دس بنا تصدیق اسے مارنے پہنچ جاتے ہیں۔ امریکہ میں بل کلنٹن کے سا تھ مونیکا لونسکی کا جتنا بھی سکینڈل منظر عام پر آیا اس میں کہیں بھی زبردستی کا دخل ثابت نہیں ہوا۔ جو تھا جتنا تھا فریقین نے سب کے سامنے رکھ دیا، مونیکا کی کتاب اچھی بک گئی اور کلنٹن سچ بولنے پر دوبارہ صدر منتخب ہو گئے۔ یقیناً راؤ صدن مروجہ طرز سیاست کے اعتبار سے مس فٹ اور کسی حد تک مندرجہ بالا وجوہات کی بنیاد پر سیاست بیزار بھی تھے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ زیادتی اور قتل کا پرچہ ان کی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ مقدمے کے دوران اکثر دیہاتی کہا کرتے تھے "سائیاں نے راؤ صاحب تے عورت بھگتا کے اوہندی چھٹی کروا دتی”۔ اگر ہم واقعی عورت اور مرد کو برابر تصور کرتے ہیں تو ہمیں حقوق کے تحفظ کے سا تھ دونوں کے کردار کی چھان بین کا پیمانہ بھی برابر رکھنا ہوگا۔

Views All Time
Views All Time
634
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: