Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

حکومت کا شرمناک فیصلہ اور صحافیوں کا رویہ

by اکتوبر 13, 2016 کالم
حکومت کا شرمناک فیصلہ اور صحافیوں کا رویہ
Print Friendly, PDF & Email

ammar-kazmiکسی وکیل کے پاؤں میں کانٹا چبھ جائے، اس کی کسی سے تو، تو میں میں ہو جائے، تو سارے وکیل دوسرے کو مارنے کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ پھر بھلے کتنے ہی اہم مقدمات زیر التواء کیوں نہ ہوں رول آف لا کی حکمرانی کسی کو یاد نہیں رہتی۔ راہ چلتے، سڑک بازار موٹروے پر کسی فوجی کا چالان ہو جائے یا اس سے کسی کی تلخ کلامی ہو جائے، تو پھر بھلے سرحدوں پر کتنی ہی ٹینشن کیوں نہ چل رہی ہو، جوانوں سے بھرے ٹرک مخالف کو مارنے پہنچ جاتے ہیں، اور جب کسی صحافی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، تو ساری صحافی برادری ایک ہی خبرکے پیچھے لگ جاتی ہے، پھر دوسری طرف چاہے کتنی ہی سنگین داخلی اور خارجی صورتحال کیوں نہ درپیش ہو، کتنی ہی اہم خبریں اور موضوعات تشنہ کیوں نہ ہوں، ہر طرف ایک ہی خبر، ایک ہی بحث اور ایک ہی مسئلہ زیر بحث رہتا ہے۔ اس کے باوجود ہماری خواہش ہے کہ دنیا ہمیں ایک مہذب اور انصاف پسند قوم کے طور پر جانے۔ اور یقیناً ان تمام رویوں سے کسی ناخواندہ شخص کا کوئی تعلق نہیں۔
سیرل المیڈا کا نام ای سی ایل میں کیا آیا تمام صحافی ایسے تلواریں کس کے نکل پڑے جیسے لبیک یا سرل کے علاوہ کوئی مسئلہ، دوسری کوئی خبر ہی نہیں۔ مانا کہ ایک رپورٹر کا نام ای سی ایل میں ڈالا جانا، ریاست اور حکومت کا ایک انتہائی احمقانہ اور شرمناک فیصلہ تھا جس سے پوری دنیا میں پاکستان کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ بدترین معاشروں اور آمریتوں میں بھی پیغامبر کو کچھ نہیں کہا جاتا اور یہاں یہ حال کہ خبر دینے اور خبر بننے والے دونوں ہاتھ دھو کر ایک رپوٹر کے پیچھے پڑ گئے۔ جبکہ اس نے صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کی۔ یقناً، یہ سب بہت قابل مذمت اور شرمناک تھا اور ہم ہمیشہ اایسے اقدامات کی مذمت کرتے رہیں گے۔ مگر کیا یہ درست رویہ ہے کہ آپ ای سی ایل میں نام ڈالے جانےوالے ایشو کو ہر خبر سے اوپر رکھ کر صرف اسی پر بات کرتے چلے جائیں؟ صرف اس لیے کہ یہ ایک صحافی کی بات تھی؟ مطلب آپ کے اس برادری ازم اور مقامی سیاست کے برادری ازم میں کتنے سو ہزار کا فرق رہ گیا۔ اگر آپ درست کر رہے ہیں تو ریاستی ادارے بھی پھر ٹھیک ہی کرتے ہونگے؟ حکومت وقت نے اپنی بے شرمی آپ کے گلے ڈال دی اور آپ چلے اس کی شیلڈ بنوانے۔ مطلب اس نیوز سٹوری میں کون سی ایسی ایک بریکنگ نیوز تھی جو پاکستان میں آٹھویں کا بچہ نہیں جانتا؟
پوری کہانی میں میرے لیے جو خبر تھی وہ بس اتنی ہی تھی کہ جس بندے نے کبھی کسی صوبیدار سے آنکھ ملا کر بات نہیں کی وہ خفیہ ادارے کے سربراہ سے کہہ رہا تھا کہ ہم بندے پکڑتے ہیں آپ کے لوگ چھڑوانے آ جاتے ہیں۔ ہر طرف شور ہے کہ خبر درست رپورٹ کی گئی کوئی اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں کہ چلو خبر تو درست تھی، مگر اُس بات اور دعوے میں کتنی سچائی تھی جو حکومت کی طرف سے کہی گئی؟ شریف برادران نے حافظ سعید، مولانا مسعود اظہر اور مولانا احمد لدھیانوی کے خلاف کاروائی کی بات کی اور حساس ادارے کے سربراہ سے کہا کہ آپ لوگ ہمیں ان لوگوں کے خلاف ایکشن نہیں لینے دیتے۔ پاکستان کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست میں پوائنٹ اسکورنگ کے حساب سے تو یہ بڑی زبردست بات ہے، اور یہ بھی درست ہے کہ تاریخ کا کوئی بھی حق پرست طالب علم جہادیوں کے حوالے سے فوج کے کردار سے انکاری نہ ہوسکتا۔ اور اس بات کو بھی ذرا ایک طرف رکھیے کہ فوج کن لوگوں کو ہمیشہ اپنا اثاثہ قرار دیتی رہی، ہمیں صرف اتنا بتا دیجیے کہ کیا شریف برادران حافظ سعید صاحب کے خلاف واقعی کاروائی کی خواہش رکھتے یا رکھ سکتے ہیں؟ اور کیا ایسی کسی نیت کے بعد میاں صاحب جاتی عمرہ بھی جا سکتے ہیں؟ آج تک مندرجہ بالا شخصیات سے میاں صاحبان کا رتی برابر اختلاف بھی کبھی سامنے نہیں آیا۔ بلکہ طالبان کے لیے بھی کہا کہ طالبان ہمارے بھائی ہیں وہ ہم پر حملے نہ کریں۔ جانے لوگ کس دنیا میں آباد ہیں، ملکی حالات سامنے ہیں، زمینی حقائق سامنے ہیں، رینجر پنجاب کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے، عمران خان اسلام آباد کی تیاریوں میں ہے، ناجائز ٹیکسوں سے متوسط طبقات کا جینا محال ہے۔ دو وقت سبزی پکانا مشکل ہو چکا، سول ملٹری تعلقات کیسے ہیں؟ خبر کی ٹائمنگ کیا ہے؟ خبر لیک ہوئی یا جان بوجھ کر کروائی گئی؟ خبر دینے والوں نے خبر دی اور نام ای سی ایل میں ڈالنے والوں نے اپنا کام کیا۔ آپ ہر پہلو بھول کر اور ہر چیز چھوڑ چھاڑ، بھاگ پڑے برادری کی لڑائی لڑنے۔ فوج نے ای سی ایل والے معاملے سے خود کو الگ کر لیا ہے اب اگر آپ اتنے ہی سچے اور تیس مار خان نیوز اینکر یا صحافی ہیں، تو اس سچی خبر کے مطابق حکومت وقت سے پوچھیے کہ وہ حافظ سعید، مولانا مسعود اظہر اور احمد لدھیانوی کے خلاف کاروائی کب کر رہے ہیں؟ اور ذرا ان جمہوریت پسندوں سے یہ بھی پوچھ لیجیے کہ سیرل کا نام کس نے ای سی ایل میں ڈالا؟ وزارت داخلہ تو آج تک نام ای سی ایل سے نہ نکالنے پر بضد ہے۔ بلا شبہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیوں کی بے شمار کوتاہیاں ہیں، مگر دوسری طرف کون سے فرشتے آباد ہیں؟ اُڑی حملہ، سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ اور اس کے بعد انڈیا ٹی وی کا اسی خبر کو سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کو درست ثابت کرنے کے لیے اپنے حق میں استعمال کرنا۔ ہمارا فوکس محض خبر کی سچائی پر، مگر بھائی یہ خبر کی نہیں یہ رپورٹنگ کی سچائی ہے کہ رپورٹر کو جو بتایا گیا وہ اس نے درست انداز میں ویسے ہی عوام تک پہنچا دیا۔ باقی اغراض و مقاصد کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسا بھی ہرگز نہیں کہ یہ بات، یہ ڈرامہ، صرف ہم عام فہموں کو سمجھ آ رہا اور یہ سب عقل سلیم رکھنے والے اسے سمجھ نہیں پا رہے۔ معروف کالم نویس محمد حنیف نے اپنے تازہ کالم میں ایسے ہی ملتے جلتے تحفظات اور خیالات پر مبنی چند دلچسپ سطور لکھیں کہ "تھوڑی دیر کے لیے سیِرل کو بھول جائیں اور ایک اور نام لیں، رانا افضل۔ یہ صاحب اِتنے معصوم ایم این اے ہیں کہ فرماتے ہیں کہ مجھے کشمیر کا کیس لڑنے پیرس بھیجا گیا تو اُنہوں نے میری بات بھی نہیں سُنی، حافظ سعید حافظ سعید کرتے رہے۔ میں نے پوری زندگی کبھی یہ نام ہی نہیں سُنا تھا اور یہ حافظ صاحب کون سے انڈے دیتے ہیں کہ ہم نے اِنہیں رکھا ہوا ہے۔ ایسی بدزبانی اور ایسی معصومیت کہ شیخوپورہ کے سیاستدان کو یہ نہیں پتہ کہ مرید کے میں پاکستان کے مجاہدوں کا ڈیرہ ہے”۔
بہر حال محد حنیف کے کالم کا آخری اور بنیادی مقصد بھی سیرل المیڈا سے اظہار یکجہتی اور ای سی ایل میں نام ڈالے جانے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانا ہی تھا۔ بہت اچھا کیا جو کالم لکھا۔ لیکن ذرا غیر صحافتی حلقوں سے اس سارے معاملے پر دو شیعہ اور کرسچن دوستوں کا ردعمل بھی پڑھ لیجیے۔ شیعہ دوست کا کہنا تھا کہ "چار ہزارہ شیعہ عورتیں بس سے اتار کر دہشت گردی کا نشانہ بنائی جاتی ہیں مگر اس طرح کا ہنگامہ کھڑا نہیں ہوتا جیسا سیرل المیڈا کا نام ای سی ایل میں ڈالنے پر ہوا”۔ دوسری طرف آج کل میں سپریم کورٹ آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف آخری اپیل سننے والی ہے۔ اور صحافیوں کے اس خود غرضی کی حد تک غیر حقیقی اور اوور رویے پر کرسچن دوست کا ردعمل یہ تھا کہ "پاکستانی میڈیا نے کبھی بھی اصل ایشوز نہیں اٹھائے۔ ان کی ڈوریاں جیسے ہلائی جاتی ہیں یہ ویسے ہی بولتے ہیں”۔ یہ رہی آپ کی غیر جانبداری، ساکھ اور عزت، اور وہ دیوار پر لٹکے آپ کے کپڑے۔ اس کے منہ سے یہ الفاظ سن کر ایسے ہی محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے شکایت کرنا چاہ رہا ہو کہ، ای سی ایل کا مطلب پھانسی تو ہرگز نہیں ہے، صحافی سیرل کا دس فیصد وقت آسیہ بی بی کو ہی دے دیں۔

Views All Time
Views All Time
652
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سقوطِ مشرقی پاکستان۔۔۔ تاریخ پر مٹی پاؤ پروگرام کب تک؟ - حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: