امجد صابری شہید اور سوالات

Print Friendly, PDF & Email

amjad sabriکراچی کے علاقے لیاقت آباد 10 نمبر میں قوال امجد فرید صابری کی گاڑی پر نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں امجد صابری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پرعباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں امجد صابری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے جبکہ ڈاکٹروں نے بھی ان کی موت کی تصدیق کردی۔ امجد صابری گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے جن کے سینے اور سر میں گولیاں لگیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں۔
امجد صابری اپنی رہائش گاہ سے نکلے تھے کہ لیاقت آباد نمبر 10 میں گھات لگائے بیٹھے دہشت گردوں نے ٹریفک کے دباؤ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی گاڑی کی رفتار کم ہونے پر انہیں نشانہ بنایا اور فرار ہوگئے۔
عینی شاہدین کے مطابق جب امجد صابری کی گاڑی پر فائرنگ ہو رہی تھی تب سامنے کے سرکاری آفس کا گارڈ اسلحہ لے کر باہر نکلا مگر قاتلوں نے ان پر بندوقیں تان لیں اور وه اپنی جان بچانے کے لیے واپس چلا گیا
واقعے کی اطلاع سیکیورٹی پر مامور فورسز کو دی گئی مگر فائرنگ کے واقعے کے پندره منٹ تک جب کوئی امداد کو نہ پہنچا تو لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو گاڑی سے نکالا عینی شاہد کے مطابق اس وقت امجد صابری کی سانسیں بحال تھیں
مگر ہسپتال منتقلی کے دوران وه زخموں کی تاب نہ لاتے ہوۓ شہید ہو گئے
حسب روایت بعد میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
دہشت گردمسلسل ٹارگٹ کلنگ میں‌مشہور اورنامور لوگوں‌کو مسلسل قتل کرتے جا رہے ہیں جو سیکیورٹی اداروں‌کی کارکردگی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے.
پتہ نہیں اس بے ضرر انسان نے کسی کا کیا بگاڑا تھا جو کسی بھی ایک مسلک کی بجائے تمام مسالک سے منسلک تھا، کس چیز کا بدلہ لیا گیا ہے
صابری کی شہادت نے ڈھائی سال سے جاری آپریشن کی کامیابی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کراچی میں کئی کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں سر عام جاری ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی آئے روز وقوع پذیر ہو رہے تھے
مگر ان دو دنوں میں ہائی ویلیو ٹارگٹس کے خلاف دہشتگردوں کی کامیابی نے کراچی میں جاری آپریشن کی قلعی کھول دی ہے
گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاه کے بیٹے کو دن دیہاڑے اغوا کر لیا گیا جس کے بعد شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی تھی اور آج نامعلوم افراد ہائی الرٹ سیکیورٹی کے دوران آرام سے آتے ہیں امجد فرید صابری کو شہید کرتے ہیں اور فرارہو جاتے ہیں۔
کچھ بعید نھیں چند دنوں بعد امجد صابری شہید کی شہادت کے پیچھے ‘را’ کاہاتھ بتایا جائےکیونکہ انھوں نے ایک انڈین فلم ڈائرکٹر پر کاپی رائٹس ایکٹ کے تحت مقدمہ کر رکھا تھا
اگر کراچی میں امن لانا مقصود ہے تو حکومت اور سیکیورٹی ایجنسیز کو چاہیے کہ اپنا دائره کار صرف ایک مخصوص جماعت تک محدود نہ رکھے اور بلاتفریق تمام شدت پسند اور دہشت گرد عناصر کے خلاف کاروائی کرے۔

Views All Time
Views All Time
1108
Views Today
Views Today
1
mm

رضوان گورمانی

رضوان ظفر گورمانی ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔ تعلق کوٹ اددو سے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: