امام زین العابدین ؑ اور یزید کی بیعت

Print Friendly, PDF & Email

amjad-abbasایک روایت کی بنیاد پر کیے جانے والے پروپیگنڈا کا جواب

فیس بُک پر احباب نے ایک روایت کی بابت دریافت کیا کہ شیعہ کتاب "الروضۃ من الکافی” میں ہے کہ امام علیؑ بن حسینؑ (زین العابدینؑ) نے یزید سے کہا کہ میں تیرے سامنے مجبور و لاچار ہوں، تو چاہے تو مجھے اپنے پاس رکھ لے، چاہے تو بیچ دے۔۔۔ الخ کہ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ امام زین العابدینؑ نے یزید پلید کی بیعت کر لی تھی۔ امام علی زین العابدینؑ نے بالکل یزید پلید کی بیعت نہ کی، میں اِس روایت کی قدرے وضاحت کیے دیتا ہوں۔ روایت کی وضاحت: یہ روایت "الکافی” کے تیسرے حصے "الروضۃ” میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ پوری روایت یوں ہے إن يزيد بن معاوية دخل المدينة وهو يريد الحج فبعث إلى رجل من قريش فأتاه فقال له يزيد: أتقر لي أنك عبد لي، إن شئت بعتك وإن شئت استرقيتك فقال له الرجل: والله يا يزيد ما أنت بأكرم مني في قريش حسبا ولا كان أبوك أفضل من أبي في الجاهلية والاسلام وما أنت بأفضل مني في الدين ولا بخير مني فكيف أقر لك بما سألت؟ فقال له يزيد: إن لم تقر لي والله قتلتك، فقال له الرجل: ليس قتلك إياي بأعظم من قتلك الحسين بن علي (عليهما السلام) ابن رسول الله (صلى الله عليه وآله) فأمر به فقتل. (حديث علي بن الحسين (عليهما السلام) مع يزيد لعنه الله) ثم أرسل إلى علي بن الحسين (عليهما السلام) فقال له: مثل مقالته للقرشي فقال له علي بن الحسين (عليهما السلام): أرأيت إن لم أقر لك أليس تقتلني كما قتلت الرجل بالأمس؟ فقال له يزيد لعنه الله: بلى فقال له علي بن الحسين (عليهما السلام): قد أقررت لك بما سألت أنا عبد مكره فإن شئت فأمسك وإن شئت فبع، فقال له يزيد لعنه الله: أولى لك حقنت دمك ولم ينقصك ذلك من شرفك. (الروضۃ من الکافی، جلد 8، صفحہ 235، دار الكتب الاسلامية، تھران) روایت کا مفہوم یوں ہے کہ یزید بن معاویہ حج کے ارادے سے مدینہ میں داخل ہوا تو ایک ہاشمی کو بُلایا اور اُس سے پوچھا کہ کیا تُم یہ مانتے ہو کہ تُم میری رعیت ہو، چاہوں تو تمھیں بیچ دوں، چاہوں تو آزاد کر دوں۔ اِس ہاشمی نے انکار کیا تو یزید پلید نے اُسے قتل کروا دیا، پھر اُس نے امام علیؑ بن حسینؑ (زین العابدین) کو بُلایا، یہی اُن سے پوچھا تو اُنھوں نے فرمایا میں مجبور و لاچار ہوں، تُم چاہو تو بیچ دو، چاہو تو آزاد کر دو (تُم مجھے قتل بھی کر سکتے ہو اور چھوڑ بھی سکتے ہو)۔ تو یزید نے اُنھیں چھوڑ دیا۔۔۔ 1- اس روایت کا ایک راوی ابو ایوب الخزار (ابراہیم بن زیاد) ہے جو مجہول الحال ہے، اِس لیے یہ روایت سند کے لحاظ سے ضعیف ہے۔ 2- اِس روایت کا متن بھی غلط ہے، یزید پلید جب سے حکمران بنا، مرتے دَم تک شام میں ہی رہا۔ اولاً: اِس روایت کی سند اور متن دونوں درست نہیں تو یہ روایت بالکل مردود ہے۔ ثانیاً: یہ روایت اگر درست مان بھی لی جائے تو مجبوری کو ظاہر کر رہی ہے، حضرت قاری محمد حنیف ڈار صاحب نے اِس روایت کو پیش کرنے والے ایک یزیدی تکفیری کو یوں جواب دیا: انا عبد مکرہ کا مطلب ” میں ایک مجبور و بےکس بندہ ہوں ” بنتا ہے جو کہ اُن کی اُس وقت واقعی پوزیشن تھی ، اگر تیرا غلام کہنا مقصود ہوتا تو ” انا عبدک المکرہ ” فرماتے۔ جس لڑکے کے باپ سمیت سارے بھائی اورعزیز شہید کر دیے گئے ہوں ، اور خواتین اسیر ہوں ، جس نے بیماری اور نقاہت کے عالم میں وہ سب بربریت دیکھی ہو، مستورات کی چیخیں سُنی ہوں اور جس طرح مستورات نے اس پر لیٹ کر اس کی جان بچائی ہو وہ سب مناظر اس کے دل و دماغ میں نقش ہوں ، وہ سب اذیت اس ایک جملے سے واضح کر دینا خاندانِ نبوت کا ہی خاصہ تھا ، میں تیرا ایک مجبور غلام ہوں تو اِس کے ساتھ جو چاہے کر سکتا ہے ، چاہے تو خود اذیت کا سامان کرتا رہ یا کسی اور کے آگے بیچ دے۔ یہ فرعون کے سامنے بے بس نومسلم جادوگروں کا سا عالم ہے "فاقض ما انت قاض” کر دے جو فیصلہ تو نے کرنا ہے ، "انما تقضی ھذہ الحیاۃ الدنیا” تو بس اسی دنیا کے فیصلے کر سکتا ہے۔ ضیاء صاحب ، اللہ کے رسول ﷺ نے منع فرمایا تھا کہ کوئی شخص اپنے غلام کو عبد اور لونڈی کو امہ نہ کہے بلکہ فتای اور فتاتی کہے۔ کیا نبی ﷺ کے خاندان کا امام اپنے آپ کو کسی کا ” عبد ” کہہ سکتا ہے ؟ جبکہ وہ عبداللہ (اللہ کا بندہ) ہو۔یہ ایک طنزیہ جملہ ہے جس میں امام عالی مقام نے اپنی پوزیشن واضح کی ہے، کیا کسی کی خلافت کی بیعت انہی لفظوں کے ساتھ کی جاتی تھی ؟ ، اللہ پاک آپ پر رحم فرمائے ، خاندان نبوی ﷺ پر ہاتھ ہلکا رکھیں۔ (معروف مؤرخ علامہ مسعودی نے اپنی کتاب مروج الذھب کی تیسری جلد کے صفحہ 70 پر یوں تصریح کی ہے بايع الناس على أنهم عبيدٌ ليزيد، ومن أبى ذلك أمره مُسْرف على السيف غير علي بن الحسين۔۔۔ کہ مدینہ میں مُسرف بن عقبہ نے لوگوں سے یزید کی یوں بیعت لی کہ وہ اُس کے غلام ہیں، جِس نے انکار کیا اُسے مُسرف نے قتل کرنے کا حکم دیا، سوائے علی بن حُسین زین العابدینؑ کے۔۔۔ پس واضح ہوا کہ امام علی بن حُسین زین العابدین نے واقعہ کربلا کے بعد بھی یزید کی بیعت نہ کی تھی۔)

Views All Time
Views All Time
1402
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   اسلام کے صوتی علوم - نعت خوانی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: