Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پس مرگ آنے والے ویلنٹائن ڈے پہ ساری کے نام خط۔

by فروری 14, 2018 بلاگ
پس مرگ آنے والے ویلنٹائن ڈے پہ ساری کے نام خط۔
Print Friendly, PDF & Email

پیاری ساری!
میں نے سوچا تھا کہ "ساری کے نام خطوط” کا سلسلہ ان انتیس خطوط کے سامنے لانے کے بعد تمہیں کوئی خط لکھنے کی پھر نوبت نہیں آئے گی۔ لیکن میرا خیال اس ویلنٹائن ڈے پہ باطل ہو گیا ہے۔ میں لاہور سے ابھی ابھی گھر واپس پہنچا ہوں، وہاں بس میں نے ایک ایسی عورت کے جنازے کو کاندھا دیا جس نے "پدریت سریت” کے منہ پہ ایسا طمانچہ رسید کیا تھا کہ جس کی بازگشت آج بھی چاروں طرف گونج رہی ہے۔ اس کے مرنے کے بعد بھی گرمئی افکار اور خیالات کے جدال میں کمی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ بلکہ درجہ حرارت کچھ اور بڑھ گیا ہے۔

تمہیں پتا ہے کہ اس جنازے پہ مردانہ اور زنانہ کندھوں کے صف در صف آپس میں بھڑ جانے پہ سب سے زیادہ خفا وہ ہیں جو نہ تو اس کی مرگ پہ "سوگ” کا حصّہ تھے اور نہ ہی اس جنازے سے ان کی کوئی دلچسپی تھی۔اور وہ بھی جو اس کے مرنے سے پہلے اور مرنے کے بعد "مصدقہ نرک ناری” ہونے کا پتر جاری کر رہے تھے جیسے ان کو پرماتما نے یہ سند آکاش سے مہر لگا کر جاری کی ہو۔ میں ان حماقتوں پہ اب اور کوئی بات کرنا نہیں چاہتا بس تم میں تھوڑی دیر کے لئے کھوجانا چاہتا ہوں۔تمہیں جب یہ خط لکھنے بیٹھا تو سوچا تھا کہ پہلے حرف سے آخری حرف تک بس محبت اور صرف محبت لکھوں گا۔ لیکن مجھے لگتا ہے فرنینڈو پیسوا نے ٹھیک ہی کہا تھا: "محبتوں کے تمام سندیسے مضحکہ خیز ہوتے ہیں اور اگر وہ ایسے نہ ہوں تو سندیسہ ہائے محبت کیوں کہلائیں؟”.

واقعی جب میں نے تمہیں سابقہ خطوط لکھے تھے تو وہ یہ سوچے بنا لکھے تھے کہ وہ کہیں مضحکہ خیز تو نہیں ہیں۔ اور اگر اس لمحے یہ سوچ میرے دامن گیر ہوتی تو شاید میں وہ سب کبھی لکھ ہی نہ پاتا جو تمہیں کہنے کا خواہش مند تھا۔ اس ویلنٹائن ڈے پہ تمہیں میرا سندیسہ محبت پدرسریت کے منہ پہ زناٹے دار طمانچہ مارنے والی عورت پہنچائے گی۔ جب اس کا جنازہ قذافی اسٹیڈیم لايا جا رہا تھا اور میں اسے کاندھا دے رہا تھا تو میں نے چپکے سے اس کو پیغام دے دیا تھا اور مجھے اس سے زیادہ تیز رفتار طریقہ تمہیں پیغام پہنچانے کا نہیں لگا تھا۔ تم اسے تار سمجھ لینا یا آج کے زمانے کا ٹوئٹ۔ کابل میں سنگسار کی جانے والی فرخندہ سنا ہے تمہارے پڑوس میں آ کر رہنے لگی ہے۔اسے میرا سلام کہنا اور اسے بتانا کہ مرد جاتی کے قالب میں گھٹن کا شکار ایک عورت روح اسے سلام دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   ایسی ویسی عورتیں - زری اشرف

سرخ گلابوں سے نسبت رکھنے والا ویلنٹائن ڈے آج کالے گلابوں کے ساتھ آیا ہے اور خوشی کے ساتھ دکھوں کی مالا پہنے ہوئے ہے اور سوگ کے بادل آسمان پر محبت پہ چھائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں تم آکاش میں مجھے نجانے کیوں کالے لباس میں ملبوس نظر آتی ہو۔ میں نے تمہاری خواہش کا احترام کرنے کی کوشش کی تھی مگر کیا کروں تمہارے بعد میں گر کسی اور طرف بڑھا بھی تو وہ وجود اتنا شفاف ہوا کہ اس کے اندر بھی تم ہی جلوہ افروز نظر آتی ہو اور میں بے بس سا ہو جاتا ہوں۔میں مارچ 2001ء سے بولایا بولایا پھرتا ہوں۔ بہار میں خزاں کیسے آتی ہے اس کا پتا کسی کو کیسے چلے جب تک وہ آغا خان کے کینسر وارڈ میں ایک اذیت بھری مسکان کے ساتھ کسی کو ہمیشہ کے لئے جاتا نہ دیکھ لے۔ کہتے ہیں پدر سریت کو طمانچہ رسید کرنے والی عورت کی دماغ کی شریان پھٹ گئی تھی اور تمہاری۔۔۔۔۔ تو ساری شریانیں ایک ایک کر کے پھٹ گئی تھیں اور تم نے ایسے میں مسکرانے کی کوشش کی تھی اور وہاں برین ہیمرج سے مرنے والی وہ عورت بھی کہتے ہیں ہوش کھونے سے پہلے اسٹریچر پہ مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی۔

میں ساری عمر ایسے مناظر سے بچنے کی کوشش کرتا آیا ہوں مگر بار بار اس منظر کو اپنے سامنے پاتا ہوں۔ آج بھی آنکھیں جل رہی ہیں۔ محبت کا خط لکھنے بیٹھا ہوں مگر ایسے الفاظ امنڈ کر آ رہے ہیں جو لو لیٹر کو اوبیٹیوری بنا رہے ہیں۔ محبت آسیب ہی کیوں بنتی ہے اور ہمیں مجنوں کیوں کر ڈالتی ہے؟ ذرا پرماتما سے پوچھنا تو سہی۔ کیا یہ بات ٹھیک ہے کہ وہاں پرش پرماتما سے آواز مستعار لے کر محو کلام ہوتے ہیں اور پرماتما پرشوں کے لہو سے اپنے درد کو رسنے کا رستہ مہیا کرتا ہے؟ میں تمہارے بارے میں سوچنے کے عمل میں بھی اس نرک میں جلنے والی روحوں بارے سوچنے کیوں لگ جاتا ہوں؟ کیا میں بھی مضحکہ خیز ہو چکا ہوں۔ ویسے یہاں کچھ لوگوں نے حیا کو محبت کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور وہ فروری کے اس خاص دن کو "یوم محبت” کی جگہ "یوم حیا” کہنے پہ اصرار کرتے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑے گا۔ مجھے تو محبت اور حیا دونوں ہی غیر منفصل (نہ الگ ہونے والی) لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   عورتوں کی آزادی اور طبقاتی جدوجہد سرمایہ دارانہ فیمن ازم کہاں غلط ہے؟-عامر حسینی

ہاں تمہیں یہ بتانا تھا کہ وہ جس میں تمہیں تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا وہ بول پڑی ہے اور اس کی آواز میں سارا ردھم تمہارا ہے اور لوچ بھی تمہاری جیسی ہے۔ کیا یہ بھی مضحکہ خیز ہے؟ میں شرط لگا کر کہتا ہوں کہ جب وہ سامنے آئے گی تو بالکل تمہارا مظہر ہوگی، تمہارا عکس ہو گی۔میں اسی لئے تو جو خط لکھتا ہوں اس کی ایک نقل تمہاری آواز کا ردھم رکھنے والی کو ارسال کر دیتا ہوں۔ کیا میں ٹھیک نہیں کرتا؟

لوگ تمہارے نام لکھے خطوں میں قاضی عبدالغفار کی لیلی، اختر شیرانی کی صفیہ، کافکا کی میلینا، سارتر کی سیمون کو تلاش کرتے ہیں اور کچھ تو اسے فیض صاحب کے دريچوں میں گڑی صلیبوں میں تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔ جب کہ میرے حلقے کے کچھ دوست حیدر جاوید سید مرشد کی "دل و جان کی بستیاں” میں تلاش کرنے لگتے ہیں۔ اب بھلا ان خطوں میں اس طرح کی تلاش سے کسی کو کیا ملے گا؟ جسے تلاش کرنا بنتا ہے اسے نہیں کرتے۔ خط کو سمیٹنے کا مرحلہ آنے پہ اسے فل اسٹاپ لگانا ہر مرتبہ ہی کارے دارد ہوتا ہے۔ اور اب بھی وہی مرحلہ در پیش ہے اور میں اس خط سے اپنے آپ کو کیسے باہر نکالوں؟ یہ معاملہ نہ اس وقت حل ہوا، نہ اب ہونے والا ہے تو میں فرینڈو پیسوا کی اس نظم پہ ختم کرتا ہوں، جس کا ذکر شروع میں کیا تھا۔

All love letters are
Fernando Pessoa

All love letters are
Ridiculous.
They wouldn’t be love letters if they weren’t
Ridiculous.
In my time I also wrote love letters
Equally, inevitably
Ridiculous.
Love letters, if there’s love
Must be
Ridiculous.
But in fact
Only those who’ve never written
Love letters
Are
Ridiculous.
If only I could go back
To when I wrote love letters
Without thinking how
Ridiculous.
The truth is that today
My memories
Of those love letters
Are what is
Ridiculous.
(All more-than-three-syllable words,
Along with unaccountable feelings,
Are naturally
Ridiculous.)
فقط تمہارا
ع۔ح

Views All Time
Views All Time
117
Views Today
Views Today
3
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: