​اسٹیبلشمنٹ سے ساجھے داری بھی اور لڑائی بھی

Print Friendly, PDF & Email
​پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ کیمپ کی مساوات قائم کر کے نواز شریف کا جھنڈا اٹھائے کمرشل لبرل سے پوچھا جائے کہ نواز شریف، محمود خان اچکزئی، حاصل بزنجو اور مولانا فضل الرحمان نے مل کر بلوچستان میں جو حکومت قائم کی تھی کیا وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ نعرے کے ساتھ قائم کی تھی؟ جب ایوان میں یہ 21 ویں ترمیم لائے اور اس کے تحت فوجی حکومتیں قائم کی گئیں تھیں کیا وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ اقدام اٹھایا گیا تھا؟
کراچی میں رینجرز اور سندھ کے اندر رینجرز کی تعیناتی پہ جب پاکستان پیپلزپارٹی تحفظات کا اظہار کر رہی تھی تو کیا اس وقت مسلم لیگ نواز اور اس کے اتحادی پیپلزپارٹی کی روش کی مذمت اینٹی اسٹبلشمنٹ رویہ تھا
کیا ثناء اللہ زہری سابق چیف منسٹر پنجاب اینٹی اسٹیبلشمنٹ تھے جن کا انتخاب کیا گیا؟ آج کا چیف منسٹر اس وقت ڈپٹی اسپکیر بلوچستان اسمبلی تھے اور آج کے وزیر داخلہ بلوچستان اس وقت بھی وزیر داخلہ تھے اور آج کا بلوچستان سے منتخب ہونے والا سینٹر انوار الحق کاکٹر اس وقت ترجمان بلوچستان حکومت تھے کیا یہ سب اینٹی اسٹیبلشمنٹ تھے جب ان کا انتخاب عمل میں لایا گیا؟ سی پیک کے منصوبے کو جس طرح پنجاب فوکس کیا گیا۔ کیا مسلم لیگ نواز کا یہ اقدام بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ اقدام تھا؟اینٹی اسٹبلشمنٹ ہونے کا مطلب ہے کیا؟ رینجرز،
نیب ، ایف آئی اے اور ہائیکورٹ و سپریم کورٹ سندھ حکومت، نوکر شاہی، پی پی پی کے سیاست دانوں کے خلاف کاروائی اور فیصلے کریں تو اقدام قانون کی بالادستی اور یہی ادارے پنجاب میں فیصلے کریں جس سے نواز شریف اور ان کی پارٹی پہ اثر پڑے تو یہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ۔
یہ بلوچستان میں جن لوگوں کے ساتھ حکومت بنائیں تو جمہوریت پسند اور وہی لوگ ان سے ہٹ کر کسی اور پارٹی سے اشتراک اور تعاون کریں تو اسٹیبلشمنٹ نواز ہو جائیں۔ ان کی جانب سے 500 ووٹ لینے والا قدوس بزنجو ڈپٹی اسپیکر بنے تو جمہوریت زندہ اور 200 ووٹوں کی حد کراس نہ کرنے والا ڈاکٹر مالک چیف منسٹر بنے تو جمہوریت زندہ. مگر قدوس بزنجو چیف منسٹر بن جائے اور سینٹ الیکشن میں اپنے ساتھی کو چیئرمین سینٹ کے طور پہ سامنے لائے اور ساری اپوزیشن اس کا ساتھ دے تو اچانک اس کے 500 ووٹ یاد آجاتے ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ کا گھوڑا ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں صحافت اور این جی نائزڈ سول سوسائٹی کے ‘اصلی تے وڈے اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور جمہوریت پسند’ جو خود کو انسانی حقوق کے بڑے سورما قرار دیتے ہیں اور بلوچستان کے غم میں ان کا وزن بھی روز بڑھتا جاتا ہے اور کوئٹہ کی ہزارہ (شیعہ لکھتے ان کی جان جاتی ہے) آبادی کی نسل کشی پہ احتجاج کا اصل حق دار خود کو خیال کرتے ہیں اور جبری گمشدگیوں کے سوال پہ اکثر ڈونر ایجنسیز سے فنڈڈ پروجیکٹ بھی حاصل کرتے ہیں.
بتائیں کہ نواز شریف کی وفاق، پنجاب اور بلوچستان میں حکومت، ان کے سربراہان خود نواز شریف نے ان ایشوز پہ کون سا جرآت مندانہ بیان دیا ہے؟ کون سا مسلم لیگ نواز کا سینٹر ، وزیر یا اس کا صوبائی و مرکزی صدر اس موضوع پہ ٹی وی پر آ کر بولا ہے؟ عوام کی لڑائی لڑنے کا دعوی دار نواز شریف آمروں اور جرنیل شاہی کے بنگلہ دیش کی عوام کے ساتھ کیے جانے والے اقدام بارے مجیب سے ہوئے سلوک پہ بات کرتا ہے لیکن اس کے قریب واقع صوبہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیز کے بلوچ سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے کارکن، شاعر و ادیبوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پہ اس نے چپ سادھ رکھی ہے۔ پنجاب کے اندر اس قدر جلسے کرنے کے باوجود کسی ایک جلسے میں بلوچستان پہ اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرول بارے ایک لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلا۔
اس سے جب اس کے ساتھی ارکان بغاوت کر جاتے ہیں تو پھر وہ ہارس ٹریڈنگ اور اسٹیبلشمنٹ اسٹیبلشمنٹ کا شور مچاتا ہے۔ مطلب پنجاب کے بادشاہ کا مفاد متاثر ہو تو اسٹیبلشمنٹ یاد آجاتی ہے اور لوگ جبری لاپتا ہوں، فوجی آپریشن ہوں، سویلین کو اغواء کرکے مار دیا جائے اس وقت اسٹیبلشمنٹ نہیں ہوتی۔ کور کمانڈر بلوچستان اور سدرن کمانڈ کے سربراہ کے ساتھ مل کر پرچم کشائی اچکزئی و مالک و بزنجو کریں تو وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ اقدام ہوا کرتا ہے۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ کیمپ پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔پاکستان میں پارلیمانی سیاست کرنے والے اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ سے کسی معاملے میں ‘ساجھے داری’ اور کسی معاملے میں لڑائی کرتے ہیں اور نواز شریف کی ساجھے داری میں جہاں جہاں رخنے پڑے ہیں وہ نواز شریف کے ذاتی مفادات کے سبب ہی ہیں۔اس کا کوئی تعلق پارلیمینٹ کی بالادستی سے نہیں ہے۔
Views All Time
Views All Time
238
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   گھر تو آخر اپنا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: