Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

امریکی امدادکامتبادل

امریکی امدادکامتبادل
Print Friendly, PDF & Email

wisal khanامریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت پاکستان کی 54کروڑڈالرکی فوجی امدادکو حقانی نیٹ ورک کے خلاف مؤثر کارروائیوں اور ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کیاگیاہے مذکورہ خبر بظاہرتو پاکستانی حلقوں کیلئے ناصرف تشویش کاباعث ہے بلکہ اس خبر سے شمالی وزیرستان سمیت پورے ملک میں امریکہ کے پیداکردہ دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکارپاکستانی فوج کے جوانوں کامورال بھی گرنے کاخدشہ نظراندازنہیں کیاجاسکتاامریکہ چونکہ دنیابھرمیں طوطاچشمی کیلئے شہرت رکھتاہے اور پھرپاکستانی قوم تو اس طوطاچشمی کاوسیع تجربہ رکھتی ہے افغانستان سے روسی افواج کے انخلا کے بعد بھی امریکہ نے اسی رویئے کامظاہرہ کیاتھابلکہ دوقدم آگے بڑھ کر پاکستان پرپریسلر ترمیم کے ذریعے مختلف قسم کی پابندیاں بھی عائدکی گئی تھیں جنہیں دوبارہ ضرورت پڑنے پراٹھایاگیاتھا9\11کے حادثے کے وقت بھی پاکستان امریکی عتاب کاشکارتھاکچھ پابندیاں توایٹمی دھماکوں کے پاداش میں لگائی گئی تھیں اورکچھ پرویزمشرف کے مارشل لاء کوجوازبناکر۔ مگرجب امریکہ کوپاکستان کی ضرورت پڑی تووہ ناصرف ہماراایٹمی پروگرام کچھ عرصہ کیلئے بھول گیابلکہ اسے یہ بھی یادنہیں رہاکہ پاکستان میں تو جمہوریت کاگلاگھونت کرایک فوجی آمر برسراقتدارہے اسی فوجی آمر کے درپرامریکہ سمیت اسکے اتحادی سجدہ ریزہوگئے اورایک وقت ایسا بھی تھاجب پاکستان کے انٹرنیشنل ائیرپورٹس پر دوممالک کے سربراہوں کے جہازلینڈنگ کیلئے اورتین ٹیک آف کیلئے تیارہوتے جبکہ دوسربراہان پرویزمشرف سے ملاقات میں ہرقسم کے تعاون کی یقین دہانی میں مصروف رہتے کوئی اپنے قرضے ری شیڈول کراتاتوکوئی قرضے معاف کرانے کاپروانہ تھماتانظرآتاانہی بھول بھلیوں میں الجھاکرپاکستان کو فرنٹ سٹیٹ کے لولی پاپ کی آڑمیں میدانِ جنگ بنادیاگیااسی امریکی جنگ نے پاکستان کے پچاس ہزارلوگوں کی بھینٹ لی امریکہ اوراسکے اتحادی اپنے پورے سازوسامان اورپوری قوت کے ساتھ افغانستان میں موجودرہے مگر انکی موجودگی ناتوپاکستان کے کسی کام آئی اورناہی افغانستان میں امن لاسکی بلکہ یہ آگ پھیلتے پھیلتے پاکستان منتقل ہوگئی دس بارہ سال کی خواری کے بعدامریکہ نے اعلان کیاکہ افغان جنگ جیتی جاچکی ہے جس سے خطے میں اسکے مقاصدپورے ہوگئے ہیں لہٰذا اب یہاں فوجیں رکھنے کاکوئی فائدہ نہیں افغانستان سے جیسے ہی پہلاامریکی فوجی وطن واپسی کیلئے روانہ ہوااسکے ساتھ ہی امریکی آنکھیں بدلنے لگیں اور پاکستانی فوجی امدادکوکبھی ایک توکبھی دوسری پابندی سے مشروط کیاجانے لگاحالانکہ پاکستانی فوج اور حکومت کی جانب سے یہ واضح طورپہ کہاگیاہے کہ کوئی بیڈیاگڈنہیں جوبھی دہشت گردہے وہ ہمارادشمن ہے اسی نظرئے کی بنیادپرآج الحمدللہ پاکستان امن کی جانب تیزی سے لوٹ رہاہے پاکستانی قوم اوربہادرافواج کی لازوال قربانیوں کی بدولت دہشت گردیاتوبھاگ رہے ہیں یاپھراپنے انجام کوپہنچ رہے ہیں دنیامیں شائدہی کوئی ایساملک ہوجس نے دہشت گردی کی عفریت کااس جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کیاہو،اس قدرقربانیاں دی ہوں اور کامیابیاں سمیٹی ہوں ساری دنیاپاکستانی قوم اورمسلح افواج کی جن قربانیوں اورکامرانیوں کوقدرکی نگاہ سے دیکھنے پہ مجبورہے وہی کامیابیاں امریکی نگاہوں سے یاتواوجھل ہے یاپھر کھٹک رہی ہیں ہمارے ہاں کہاجارہاہے کہ پاکستانی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے ہم اپنے بہادر مسلح افواج کی کامرانیاں کیش نہ کراسکے یاہم امریکہ میں درست لابنگ کرنے میں ناکام رہے اس بات کی صداقت میں شبہے کی کافی گنجائش موجودہے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کوتاہی یاناکامی اپنی جگہ درست ہوسکتی ہے کیونکہ ہماری حکومت تین سال کاعرصہ گزرجانے کے باوجودوزیرخارجہ کاتقررتک نہ کرسکی وہی نوازشریف وزیرخارجہ بھی ہیں،نون لیگ کے صدربھی ہیں ،سیاسی راہنمابھی ہیں اور وزیراعظم بھی۔ پورے ملک میں کوئی قابل اورجہاندیدہ شخص موجودنہیں جوخارجہ پالیسی کی باریکیوں کوسمجھتاہواورجس پرنوازشریف کواعتمادہواورجواپنی مہارت ملک وقوم کیلئے بروئے کارلاسکیں مگروزیرخارجہ کی غیرموجودگی کے باوجودہماری خارجہ پالیسی ایسی بھی گئی گزری نہیں وزیراعظم متعددمرتبہ امریکہ کے دورے کرکے اعلیٰ حکام کیساتھ ملاقاتوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی کامیابیوں کے قصے سناچکے ہیں ہمارے نڈرجرنیل راحیل شریف امریکی حکام کواس جنگ میں پاکستانی افواج کی کارکردگی سے بارہاآگاہ کرچکے ہیں امریکی اب اتنے بھی بے خبرنہیں کہ انہیں کوئی وزیرخارجہ ہی یہ سب کچھ دکھائیگااصل مسئلہ حقانی نیٹ ورک ہے اورناہی ڈاکٹرشکیل آفریدی بلکہ مسئلہ امریکی معیشیت کولگنے والے شدیدجھٹکے ہیں ،مسئلہ امریکی پالیسیوں میں تبدیلی ہے ،امریکی حکام کی بھارت نوازیاں ہیں،مسئلہ پاکستان کوہمیشہ کی طرح استعمال کرکے اس سے طوطاچشمی کامظاہرہ ہے امریکہ افغانستان میں موجوداپنے افواج کی حفاظت پاکستان سے کرواناچاہتاہے جوممکن نہیں امریکہ اور اسکے اتحادی افغانستان میں جس جنگ سے دم دباکربھاگ اختیارکرچکے ہیں اب پاکستان کوجائز وناجائزحربوں سے یہ جنگ لڑنے کیلئے مجبورکیاجا رہاہے افغانستان کی اپنی حکومت اور امریکی افواج جوکاروائی کرنے سے قاصرہیں پاکستان سے یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ جس طرح اس نے اپنی سرزمین کودہشت گردوں سے پاک کیااسی طرح افغانستان کوبھی پاک کریگا جہاں تک ڈاکٹرشکیل کاتعلق ہے تو پاکستان متعددبارواضح کرچکاہے کہ یہ اس کااندرونی معاملہ ہے امریکہ اقوام متحدہ کے چارٹرکے مطابق دوسروں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کاپابندہے لہٰذا کوئلے کے اس کاروبارمیں باربارمنہ کالاکروانے کاامریکہ کوکوئی فائدہ نہیں امریکہ کوپاکستانی امدادسے غیرضروری شرئط کی تلوارہٹانی ہوگی اگرچہ ایوان نمائندگان میں منظورہونے والابل ابھی کانگریس اورامریکی صدر سے منظوری حاصل نہیں کرسکاہے اوراگرپاکستانی حکام نے بہترین ڈپلومیسی سے کام لیاکسی قابل شخص کووزیرخارجہ نامزدکیاگیااوراچھی لابنگ کی گئی تویہ بل کانگریس سے مستردہوجائیگامگرامریکہ کی نیت میں کھوٹ صاف نظرآرہاہے آج نہیں توکل کوئی اوربل آئیگاکوئی اورترمیم ہوگی اور پاکستان کوکسی اورپابندی کاسامناکرناہوگا ان پابندیوں کوہٹانے اورمنتیں سماجتیں کرنے سے بہترطرزعمل یہی ہوسکتاہے کہ ہم امریکہ پرحدسے بڑھے ہوئے انحصارکوکم کرنیکی کوشش کریں خودانحصاری کی پالیسی اپنائیں یاامریکی امدادکا متبادل تلاش کریں۔

Views All Time
Views All Time
262
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ناکام ریاست کے کامیاب لوگ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: