Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

کس سے منصفی چاہیں | امینہ عمر

Print Friendly, PDF & Email

اسلام آباد کے ایک بہت بڑے اور مہنگے ہاسپٹل کے الٹرا سونو گرافکل لیب کی انتظارگاہ میں بیٹھی تھی کہ سفید لباس میں ملبوس ایک خوبرو باریش نوجوان اپنی باپردہ اہلیہ کے ہمراہ داخل ہوا۔استقبالیہ پہ کھڑا کچھ بات چیت کرنے لگا۔ ہم لوگ زیادہ دور نہیں تھے اس لئے گفتگو صاف سنائی دے رہی تھی۔ وہ ڈاکٹر کی ٹائمنگ کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا ٹائم چار بجے کا ہے اگر چیک اپ کروانا چاہتے ہیں تو آپ اپائنٹمنٹ لے لیجیئے سر، آپ کو تقریبا 17 تک کا نمبر مل جائیگا، آپ اپنی باری آنے پہ چیک اپ کروا سکیں گے، برائے مہربانی اپائنٹمنٹ لے لیجیئے اور انتظار گاہ میں تشریف رکھیئے۔
استقبالیہ ڈیوٹی پہ موجود خوبصورت دوشیزہ نے حسب معمول اپنے مخصوص نرم اور پروفیشنل لہجے میں جواب دیا۔ اور ساتھ ہی سامنے رکھے کمپیوٹر کے کی بورڈ پہ اپنی نرم و نازک انگلیاں رکھے ہوئے استفہامیہ انداز میں اس نوجوان کے چہرے کی طرف دیکھا۔نوجوان نے کچھ دیر سوچنے کے سے انداز میں ماتھے کو کھجایا اور پھر ساتھ ہی اپائنٹمنٹ دینے کو کہا۔استقبالیہ پہ موجود دوشیزہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا اور ہال کی خاموشی میں اس کی نرم و نازک انگلیوں کے "کی بورڈ” پر تیزی سے دوڑنے کے نتیجے میں پیدا ھونے والی آواز کی گونج سنائی دینے لگی۔
مخصوص سوالات جیسے مریض کا نام وغیرہ پوچھنے اور پھر ان کے جوابات ٹائپ کرنے کے بعد اگلا سوال الٹرا ساونڈ کی قسم کا پوچھا گیا،

Sir "Usg diagnosis for ? abdominal !!!?

پروفیشنل آواز پھر سے گویا ہوئی۔”جی”نوجوان نے جواب دیا۔اوکے سر ( 10) ٹین تھاؤزنڈ دے دیجیئے۔
ریسیپشنسٹ نے اپائنٹمنٹ سلپ کو فائنل کرتے ہوئے کہا۔نوجوان نے اپنی سائیڈ جیب میں ہاتھ ڈال کے والٹ نکالا، کچھ نوٹ کھینچے دس کا عدد پورا کر کے ریسپشنسٹ کے حوالے کر دیا۔ریسپشنسٹ نے ایک بار پھر نوٹ گن کے تسلی کی اور اسے ایک سلپ دی سر آپ کی باری آنے پہ آپکا نمبر اناؤنس کر دیا جائے گا سامنے موجود سکرین پہ اپنا نمبر دیکھ کے آپ اپنے پیشنٹ کو دائیں ہاتھ پہ موجود کمرے میں بھیج دیجیئے گا۔
جی بہتر، نوجوان نے جواب دیا اور خود تھوڑے فاصلے پہ موجود کرسی پہ براجمان ہو گیا۔
کچھ ہی دیر میں وہ نوجوان اٹھ کے اپنی اہلیہ کی طرف آیا اور "نماز کیلئے جا رہا ہوں بس تھوڑی دیر میں آیا” کہہ کے باہر نکل گیا۔گھڑی کی سوئیاں ساڑھے تین بجا رہی تھیں وہ یقینا کسی دور دراز کے علاقے سے ہی آئے تھے جبھی اب تک نماز ادا نہیں کی تھی۔
وہ لڑکی میری برابر کی نشست پہ تھی اس لئے ہماری ہیلو ہائے ہو گئی اور دوران گفتگو معلوم ہوا کہ وہ واقعتاً دور دراز کے علاقے سے ہی آئے تھے اس عورت کو اپنی زچگی میں کوئی پیچیدہ مسئلہ در پیش تھا اور ان کے علاقہ اور قرب و جوار کے تمام ڈاکٹرز نے اسے ابارشن کا مشورہ دیا تھا سب کا واضح طور پہ ایک ہی موقف تھا کہ اس کے سوا اس کا کوئی حل نہیں ورنہ آپ کا حمل ایک ایسی معذوری کے ساتھ پیدا ہو گا جو آپ ساری زندگی جھیلنے کے قابل نہیں رہیں گے مگر وہ خدا خوفی کے سبب ایسا کرنے سے قاصر تھی کسی بندہ خدا نے اسے اس ڈاکٹر سے الٹرا ساونڈ کروانے کا مشورہ دے کے بھیجا تھا کہ یہ ماہر ڈاکٹر ہے جو اس کی رپورٹ ہو گی اسی پہ انحصار کرنا ان لوکل ڈاکٹرز کو کیا خبر؟ بلا وجہ ہی جیبیں بھرنے کے چکر میں مریض کو پریشان کرتے ہیں کافی تلاش کے بعد وہ لوگ ادھر پہنچے تھے۔ وہ کافی پریشان لگ رہی تھی۔ اس کی باتیں سن کے ہم سب بھی بہت اداس ہو گئے سبھی بیسٹ وشز سے نواز رہے تھے۔
ادھر ہال کے گھڑیال کی سوئیوں نے چار بجنے کا اعلان کیا ادھر ایک خوبصورت خاتون بلو جینز پہ گھٹنوں کو چھوتی ہوئی وی شیپڈ گلے والی امبرائیڈرڈ خوبصورت سیاہ شرٹ پہنے چہرے پہ ہلکے میک اپ کے ساتھ بڑا سا سیاہ چشمہ سجائے مروجہ فیشن کے مطابق کٹی ہوئی سنہری زلفوں کے جال کو ایک ہاتھ سے چہرے سے ہٹاتےہوئے داخل ہوئی اسٹاف کے ایک دم الرٹ ہونے کے انداز سے علم ہوا کہ یہ ڈاکٹر ہے اور اس کے قریبا کوئی پانچ ہی منٹ بعد ایک اور ادھیڑ عمر شخص پینٹ شرٹ پہنے اپنا بریف کیس سنبھالے اندر داخل ہوا ایک دفعہ پھر عملہ دائیں بائیں ہوا تو علم ہوا کہ یہ بھی ڈاکٹر موصوف ہی ہیں اور مریضوں کا معائنہ ایک دوسرے کے تعاون سے مل جل کے ہی کیا جاتا ہے۔
خیر چیک اپ کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ایک کے بعد ایک مریض کا نام پکارا جاتا رہا ہمارے پیشنٹ کی بھی باری آ گئی چیک اپ کے بعد فائنل رپورٹ کے لئیے آدھ گھنٹہ باہر انتظار کرنے کو کہا گیا اسی اثنا میں ان کا نمبر بھی آ گیا وہ جوان بھی آ چکا تھا۔ مریض کا جب نمبر آیا تو سب نے نیک دعاؤں کے ساتھ اس لڑکی کو رخصت کیا خیر وہ اپنے خاوند کی طرف بڑھی اور ایک اداس نظر اس کی طرف ڈالی گیا گویا زبان حال سے دعاؤں کی ملتجی ہو پھر نم آنکھوں اور بوجھل قدموں سے ڈائگنوسٹک آفیسر کے دروازے کی طرف چل پڑی۔ وہ نوجوان بھی ساتھ ہی تھا مگر اسے دروازے پہ رکنے کو کہا گیا۔ اس نے آدھ کھلے دروازے میں سے اندر دیکھا جہاں پہ دونوں آفیسرز بیٹھے ہوئے تھے اس کی نظر جوں ہی ساتھ بیٹھے مرد پہ پڑی اس نے وہیں اپنی اہلیہ کو روک لیا۔ اور خود آگے بڑھا”ایکسکیوزمی "نوجوان نے ڈاکٹرز کو متوجہ کیا۔جی کہیئے،دونوں نے ایک آواز میں جواب دیا۔یہ الٹرا ساونڈ کون کرے گا؟ لیڈی ڈاکٹر یا پھر میل؟جی دونوں مل کے کرتے ہیں۔جی میری درخواست ہے کہ صرف لیڈی ڈاکٹر ہی کرے پلیز۔جی نہیں ایسا ممکن نہیں ہے۔لیڈی ڈاکٹر بولی مگر کیوں؟ کیا آپ ڈاکٹر نہیں ہیں؟نوجوان نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔جی آپ سے کس نے کہا کہ نہیں ہیں۔لیڈی ڈاکٹر بال پین ہونٹوں کے کنارے ٹکا کر بولی۔پھر آپ کو اکیلے ٹیسٹ لینے میں کیا دقت ہے ؟ کیا آپ کو اپنے علم پہ اعتماد نہیں یا پھر۔۔۔
اس نے کاٹ دار لہجے میں کہاجی ڈیفینیٹلی ہے مگر ہم رسک نہیں لیا کرتے دونوں مل کے ہی الٹرا ساونڈ کرتے ہیں اور ہر لحاظ سے تسلی کرنے کے بعد ہی رپورٹ فائنل کی جاتی ہے۔اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اسے جواب مل چکا تھا۔بڑی معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو پھر مجھے بھی یہ رپورٹ نہیں بنوانی۔
Its up to you sir۔ لیڈی ڈاکٹر نے بالوں کو ایک طرف جھٹکتے ہوئے لاپرواہی سے کندھے اچکا دیئے۔
چلو ثناء۔اس نے اپنی بیگم کو باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔بیگم حیران و پریشان اس کا منہ سی تکنے لگی کہ یہ ہو کیا رہاہے۔اس نے بازو سے پکڑ کے اسے روم سے باہر کیا اور خود کافی دیر اندر ان سے الجھتا رہا اور پھر باہر نکل آیا۔بیگم اسکی طرف بڑھی اور بولی ،یہ کیا پاگل پن ہے بلال۔یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔کچھ نہیں کر رہا اب تم چلو گی یہاں سے؟
پلیز بلال میری بات تو سنیں ہم اتنے دور سے آئے ہیں اتنا سفر بھی کیا اتنی فیس بھی بھری پھر جس مقصد کے لئے آئے اس پورا کئے بنا ہی چلے جائیں کیا؟جوابا نوجوان کا چہرے کے ساتھ آنکھوں کا رنگ بھی گہرا سرخی مائل ہو چکا تھا اور تقریبا غصے سے دھاڑتے ہوئے بولا بھاڑ میں جائے سب ، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، میرا پیسہ برباد ہوگیا کوئی پرواہ نہیں مگر یہ سب میری برداشت سے باہر ہے۔میں باہر گاڑی میں ہوں جانا ہوا تو آ جانا۔وہ غصیلے لہجے میں بولتا ہوا باہر کے دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔
ہال میں موجود بہت سے لوگوں نے اسے روکنے اور قائل کرنے کی کوشش کی مگر وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے نکل لیا۔بیوی بے چاری سوچوں اور اداسیوں کے سمندر میں ڈوبی دھیرے دھیرے باھر کی طرف بڑھنے لگی اور باقی لوگوں کی طرح میں بھی”ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم” کا مصداق بنی ہوئی تھی۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے جو کہ حسب معمول ان کی عادت بھی ہے۔ اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ کس سے منصفی چاہیں؟قصور کس کا تھا؟اس آدمی کا جو ایک عورت سے عورت کا معائنہ کروانے پہ مصر تھا؟ یا اس لیڈی ڈاکٹر کا جو ایک اکیلے یہ ٹیسٹ نہیں کرنا چاہ رہی تھی
تصویر کے دوسرے رخ پہ ایک اور سوال بھی درج تھا کہ جب اپنی بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کی بار آپ کو ایک ٹیچر، ایک گائیڈ، ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے ایک خاتون ہی درکار ہوتی ہے تو آپ اپنی گھریلو خواتین کی باری آنے پہ انہیں اعلی تعلیم اور پھر جاب کی بار کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں؟
پاکستان میں بڑے بڑے شہروں میں اب بھی یہ بیماری موجود ہے کہ لوگ بیٹیوں کو رسمی تعلیم دلوانے کے حق میں ہی نہیں۔ اگر ہو بھی تو بس برائے نام اور اگر وہ آگے بڑھ بھی جائے تو اسے ملازمت کی اجازت نہیں بڑی بڑی پڑھی لکھی لڑکیوں سے میری ملاقات ہوئی جو کہ کافی مہنگی یونیورسٹیز سے تعلیم یافتہ اور خداداد صلاحیتوں سے بھرپور قابلیت کی مالک ہیں مگر گھروں میں ہیں۔ وجہ پوچھیں تو ایک ہی جواب ملتا ہے۔
اجازت نہیں ہے۔ پاپا نہیں مانتے، فلاں بھائی نہیں مانتے، شوہر نہیں مانتے۔اگر پوچھیں کیوں؟بڑا کھسیانا سا جواب ملتا ہے کہ” وہ کہتے ہیں ماحول ٹھیک نہیں "واٹ نانسینس ؟ماحول کو کیا ہے؟ ماحول بناتا کون ہے؟
ایک عورت کا ماحول اس کے گھر سے ہی تو شروع ہوتا ہے۔ حلفاً کہتی ہوں جب آپ اپنی بہن بیٹی کو اپنے گھر میں تحفظ اور چاہت بھرا دوستانہ ماحول دیتے ہیں اور وہ ہر بات بلا جھجھک آپ سے کرنے کی جرات رکھتی ہے تو یقین مانئے اسے کبھی بھی باہر کی نام نہاد دوستانہ آب و ہوا متاثر نہیں کرسکتی۔
اگر آپ اپنی بیوی کے ازدواجی حقوق کے علاوہ بھی اس کے دیگر حقوق سے بھی واقفیت رکھتے ہیں اور اپنے کامیاب بزنس کے علاوہ بیوی کو بھی خیالات کے اظہار کا وقت دیتے ہیں تو کبھی بھی کسی غیر مرد کی نام نہاد ہم دردیوں کو سمیٹنا تو درکنار وہ آنکھ اٹھا کے دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرے گی۔
عورت کا دل اللہ نے بے حد نرم و ملائم بنایا ہے اس میں سوائے اپنوں کی محبت کے کسی چیز کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اب وہ اپنے چاہے اس کے سگے ہوں یا پھر خود ساختہ، رشتے نبھاتے نبھاتے اور ان کی لاج رکھتے رکھتے ایک جہاں سے دوسرے جہاں منتقل ہو جاتی ہے۔ بس کوئی قدردان ہو تو سہی۔

Views All Time
Views All Time
618
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   عطائیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے حکومتی دعوے - انور عباس انور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: