Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بھول گئی یہ قوم ایک درویش بزرگ کو ، ہائے الحذر الحذر – الطاف حسین رندھاوا

بھول گئی یہ قوم ایک درویش بزرگ کو ، ہائے الحذر الحذر – الطاف حسین رندھاوا
Print Friendly, PDF & Email

altaf-randhawaالحذر الحذر وہ پاک دامن بزرگ جس کی زندگی کھلی کتاب کی مانند تھی ۔ جس نے اپنی دن رات کی انتھک محنت سے پاکستان میں اسٹیل کی صنعت میں ایک نام پیدا کیا ۔ جس نے اس قوم کوجسے ہمیشہ قیادت کا بحران درپیش رہا قیادت کے لئے ایک دو نہیں بلکہ ایک پوری نسل دی ۔ آج اس درویش کے بچوں کو عدالتوں میں صفائیاں پیش کرنا پڑ رہی ہیں ۔ الزامات ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے ۔ قوم اس خاندان کے عظیم احسانات بھول گئی ۔ بھول گئی کہ ملک میں فارمی مرغی کا کتنا بحران ہوا کرتا تھا ۔ یہ بحران کس نے ختم کیا ؟ اسی درویشِ باصفاکے گھرانے نے ۔ غریب جنہیں کھانے کے لئے روٹی نہیں ملتی تھی ان کے لئے میٹرو بس جیسی عظیم نعمت کس نے فراہم کی ؟ اسی مردِ قلندر کے فرزندوں نے ۔ وہ قوم جس کے مریض گدھا گاڑی پر اسپتال آتے تھے ان کے لئے موٹروے کس نے تعمیر کی ؟ اسی پیکرِ وفا کے جگر گوشوں نے ۔ دل درد سے بھر گیا اور طبیعت مکدر ہوگئی تو سپہ سالار کی طرف چل پڑا ۔ سپہ سالار دالان میں کرسی ڈالے دھوپ سینک رہا تھا ۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں چمک تھی ۔ میں نے ہاتھ ملایا تو یوں لگا جیسے ہاتھ کسی شکنجے میں آگیا ہو ۔ سپہ سالار نے مرغیوں کا حال پوچھا اور چینی کا خاص طور پرذکر کیا ۔ چینی کے ذکر پر سپہ سالار کی آنکھوں کی چمک گہری ہوجاتی ۔ چینی سے سپہ سالار کی محبت کے بارے میں استفسار کیا تو جواب ملا ” یہ صدیوں کا قصہ ہے دوچار برس کی بات نہیں ” ۔ اپنے مطلب کی بات کی تو سپہ سالار کے چہرے پر ایک لمحے کے لئے ناپسندیدگی کی ایک لہر اُبھری اور سپہ سالار نے اس پر بات کرنے سے معذرت کرلی ۔ وہاں سے رخصت ہو کر اسی مجذوب کے ٹھکانے کی طرف ہولیا جو مشکل وقت میں سائل کو گالی دے دے تو اس کی مراد پوری ہو جاتی ہے ۔ یہ وہی مجذوب ہے جس کی گالیوں کی وجہ سے اس مردِ حق کی اولاد اس مقام تک پہنچی ۔ مجذوب کے ایک خدمت گار کو کیپسٹن کی ایک سگریٹ سُلگا کر دی ۔ مجذوب نے دیکھا تو کہا آگیا شاہ کا وفادار ۔ عرض کیا ، حضور گالی درکار ہے بلکہ گالیاں درکار ہیں ۔ مجذوب ہنسنے لگا ، ہنستے ہنستے وہ دہرا ہوگیا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ کہنے لگا ، آج گالیوں کا کوٹہ پورا ہوگیا ہے پھر کسی روز آنا ۔ میں نے اصرار کیا تو کہا ، ضد نہ کر ۔ ستارے الٹی چال چل رہے ہیں ۔ کہنے لگا جیلوں کا انتظام بہتر ہوگیا ہے اور اب کھانے میں جلے ہوئے توش نہیں ملتے بلکہ انڈے بھی ملتے ہیں ۔
یہ وقت بھی آنا تھا جب مانگنےپر بھی گالی نہ ملے ۔ معاملہ اب عدالت میں ہے جہاں جو جیتا ججوں کو خرید کے جیتا ۔ خدا کسی کو ایسا وقت نہ دکھائے بیشک رہے نام اللّہ کا ۔

Views All Time
Views All Time
407
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کیا وقت بدل گیا ہے؟
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: