Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سب صحیح ہے

by مئی 26, 2016 بلاگ
سب صحیح ہے
Print Friendly, PDF & Email

mehjabeen asifمیں جب بھی اس جیتے جاگتے ریت گارے سیمنٹ ۔۔سنگ بدن فولاد آہن جیسے شہر کی جاگتی شاہراہوں سے گزرتی ہوں مجھے ان روشنیوں کے پیکر خاکی پر جابجا داغ ۔اشتہا انگیز مگس ۔پھڑپھڑاتےکیوں نظر آتے ہیں ۔۔دو طرفہ سبزہ اگی باڑھیں ۔سروقد درختوں بلند و بالا عمارتوں کے سائے میں کسی درخت کی اوٹ تلے ۔۔کہیں سبز گھاس سے ہٹ کر گوشہ تنہائی میں ایسے مناظر دیکھنے کو کیوں مل جاتے ہیں جن کو ننگی آنکھ کی بصارت قبول نہیں کرتی ۔۔۔میں چشم حیراں کو پتھرایا ہوا پا کر اس طلسماتی شہر سے گزرتے ٹھٙٹک جاتی ہوں ۔۔۔جس کے ماتھے پر جلی حروف میں ،،اسللامی جمہوریہ پاکستان ،،کا ٹیگ میرا منہ چڑا رہا ہے ۔۔۔۔موبائلوں پر تھرکتی ناچتی انگلیاں ۔۔۔فارم ہاوسز کی بکنگیں ۔۔۔پارکوں کے سنسان گوشوں کی سر سرا ہٹیں ۔۔برقعوں میں لپٹے اجسام کےاندر برہنہ وجود مجھے اوپر سے ہی کیوں نظر آجاتے ہیں ۔۔۔۔مجھے وہ عینک کیوں نہیں ملتی جو ملک عمام مملکت چلانے والوں ۔ایوانوں میں دھواں دار تقریریں کرنے والوں کے معصوم چہہروں پہ سجی ہوئی ہمت ۔۔جس کی سیاہ اوٹ میں وہ بیان دیتے ہیں کی ۔۔سب صحیح ہے ،،،اس سوال کی ہیبت اور مابعد الا ثرات کیفیت جس نے عمر فاروق جیسے جری کو لرزا دیا تھا ۔۔لب فرات پیاسے کتے کی بابت سوال کیا ہمارے ان حکمرانوں کو معاف ہے ۔۔اس معاشرے کے بطن میں اب تخلیق کے بے بہا جوہر کی جگہ گندے سڑے جوہڑ نے لے لی ہے ۔جو اس مادر کے بطن میں پڑا سڑ گل رہا ہے ۔۔اس میں پیپ پڑ رہی ہے ۔۔سڑاند اٹھ کر مشام جاں کو آلودہ کر رہی ہے۔۔متعفن ۔بدبودار ۔۔کریہ غلیظ محلول میں اک وقت آنے پر،کیڑے پڑنے کا عمل شروع ہو جائے گا،۔۔۔یہ عمل زیرگی کے عمل جیسا ہوتا ہے جو پل بھر میں وائرس کی ترسیل اک مقام سے دوسرے مقام تک کر دیتا ہے ۔۔لیکن دانش اہل ہوس نے یہ پٹی نہ صرف آنکھوؓ ں پر ۔۔۔۔بلکہ زخم پر لاعلمی کی غفلت کی پٹی باندھ کر اسے گلنے سڑنے پکنے چھوڑ دیا ہے جس نے اب دل کو بھی لپیٹ لیا ہے ۔۔جو نہ سن سکتے نہ دیکھ سکتے ۔۔۔۔اسی رنگین پٹی کے اوپر بھی جلی حرف میں لکھا ہے ۔۔،،سب صحیح ہے ،،،،،،،،،،زیست کی اس آگ نے مرے وجود کو جھلسا دیا ہے میرے وجود کو آگ کے پھولوں نے رنگین کر دیا ہے ۔۔۔بے حسی کی آہنی دیواروں کے پار ۔۔۔۔۔۔کیا سوال دم توڑدیتے ہیں ۔کیا اک لڑکی کی عصمت اتنی ارزاں ہے کہ کوچہ و بازار میں بک رہی ۔۔۔۔۔کیا ان گاڑیوں کے دھویں ان گریس زدہ ہاتھوں کی نرمی اجلاہٹ کھا گئے ہیں ۔۔کیا ان ہاتھوں کو کھلونوں کی حاجت نہی ۔۔۔۔۔۔۔کیا میری ماں کو دوا کے لیے بیٹی کو برقع اڑھا کے در پردہ دن کی تاریکی میں شاہراوں پر کھڑا دیکھنے سے معاشرے کی کس جبلت کی تسکین ہو رہی ہے ۔۔۔ان بدن دریدہ لڈکیوں کے ہآتھوں میں کتابوں کی جگہ ان گنہ گار آنکھوں نے زردی بھرے گہرے کھنڈر دیکھے ہیں ۔۔کیا یہ کھنڈر وقت کے ان الوقت کی آنکھ میں درانتی بنکر نہیں چبھتے ۔۔۔۔جن انگلیوں کی پوروں کو کتاب کے تقدس میں ملفوف لفظوں کی تفہیم کرنی تھی وہ بند قباء کھولنے پر کیوں مقرر کر دیئے گئے ۔۔۔۔ایسے کئ سوال ہیں جو تہہ در تہہ سیل رواں کی طرح میرے دل میں انی بنکر گڑ گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کاش کوئ مجھے بھی وہ طلسماتی عینک لادے جس کو پہن کر میں بھی کہہ سکوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب صحیح ہے

Views All Time
Views All Time
585
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   شوق کا کوئی مول نہیں
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: