آج کل کی چند ایک اہم خبریں

Print Friendly, PDF & Email

چیف جسٹس آف پاکستان کا میو ہسپتال کا دورہ، مردانہ اور زنانہ ایمرجنسی وارڈ ایک ہونے پر اظہار برہمی، الگ کرنے کا حکم
شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی ساتھیوں سمیت ضمانت پر رہا
پولیس اہلکار قتل میں کار ٹیمپرنگ کیس میں مجید اچکزئی بری دیگر کیسز میں تاحال زیر حراست
صاف کہتا ہوں مجھے لیڈری کا کوئی شوق نہیں جسے تنقید کرنی ہے کرے،چیف جسٹس

ان خبروں میں ایک قدر تو مشترک ہے یہ تمام خبریں عدالت سے تعلق رکھتی ہیں، چیف جسٹس صاحب نے میو ہسپتال کا دورہ کیا اچھی بات ہے لوگوں سے طبی ضروریات اور ادویات کی فراہمی سے متعلق پوچھا یہ بھی اچھی بات ہے، ایک سوال انہوں نے نہیں کیا یا اگر کیا تو ابھی تک سامنے نہیں آیا کتنا اچھا ہوتا چیف جسٹس انصاف کی فراہمی کا سوال بھی کسی سے راہ چلتے ہی کرلیتے۔اگر کوئی شخص اپنے یا اپنے کسی عزیز کے حصول انصاف کے مقدمے سے متعلق کوئی سوال کر دیتا تو کیا ہوتا؟ ہوسکتا ہے آپ یہ کہہ کر چلے جاتے یہ ماتحت عدالت کا کیس ہے میں اس سے متعلق معلوم کروں گا ،متعلقہ عدالت بہتر جانتی ہے وہ کیا کررہی ہے وغیرہ وغیرہ تو اصولاً آپ کا طبی ضروریات والا سوال کرنا بھی نہیں بنتا یہ بھی تو متعلقہ افراد و محکمے ہی بہتر جانتے ہوں گے۔ معاملات بہت سے خراب ہیں ہر ادارے کے دوسرے کے کام میں زیادہ دل چسپی ہے یہ بات کسی طور بھی اچھی نہیں اس کا ایک پھر یہی حل کر لیں کہ سب لوگوں کے تبادلے دل چسپی والے اداروں میں کر دیں بظاہرہی سہی سب مسائل ختم تو ہو جائیں گے۔

قریباً پانچ سال تک ایک عدالت سے دوسری عدالت منتقلی کے دھکے کھانے کے بعد شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں کو ضمانت پر رہائی مل گئی ہے، اور مقتول کے والد نے قاتلوں کی رہائی اور مقدمہ ختم کرنے کی درخواست بھی دائر کردی ہے، اس پر فقط یہی کہا جاسکتا ہے خدا نہ کرے ایسا وقت کبھی کسی باپ پر آئے، عدالت عظمیٰ کا جو معزز بنچ ابھی کراچی رجسٹری میں صاف پانی جیسے مقدمات سن رہا ہے اس میں ایک جسٹس سجاد علی شاہ بھی ہیں وہی جن کے صاحب زادے کو چند ماہ قبل اغواء کر لیا گیا تھا تو تمام کی تمام عدلیہ کی جان پر بن آئی تھی حکومتی اور عسکری اعلیٰ ترین شخصیات سے بازیابی کی درخواستوں کے بعد بازیابی ممکن بھی ہوگئی تھی، انہی سے اسکا درد پوچھ لیں، جس طرح سے وقت گزر رہا ہے اور از خود مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے گزشتہ چند از خود مقدمات پر سوال کرنے کوجی چاہتا ہے، کوئی ہمیں بتائے گا طیبہ تشدد کیس کا کیا بنا؟ زین قتل کیس ختم ہونے پر دوبارہ سے کیس کھولنے کا از خود حکم جاری ہوا تھا کیا ہوا؟

یہ بھی پڑھئے:   امریکا کی جھنجلاہٹ (1) - اکرم شیخ

یقیناً طیبہ کے زخم بھر چکے ہونگے اور ایک بہتر زندگی اس بچی کو میسر آچکی ہوگی لہذا چونکہ اب تک وہ تندرست ہوچکی ہوگی ،یہ خیال کرکے کہ ایسا کبھی ہوا ہی نہ ہوگا مقدمہ ختم کردیں، زین قتل کیس میں بھی مقتول کے لواحقین صلح کر چکے لہذا وہ مقدمہ جو ایک دو سال سے کہیں فائلوں میں دب کر مر چکا اسے کہیں دفن ہی کردیں، یقیناً مجید اچکزئی کار ٹیمپرنگ کیس کی طرح باقی کیسز میں بھی باعزت بری ہو جائیں گے،صالح زبیری قتل مقدمے کا حال بھی کچھ مختلف نہ ہوگا۔ ان تمام مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات ختم کردیں کیوں کہ ان سے ہرگز ہرگز دہشت نہیں پھیلی اور آئندہ کے لیے ہدایات جاری کردیں دہشت گردی کی دفعات تب تک شامل نہ کی جائیں جب تک کوئی ایک شخص درجن سے زائد قتل نہ کرے اس پر دہشت گردی کی دفعات لاگو نہ ہوں گی۔ایسا کرنے سے دیگر بہت سے مقدمات بھی ختم ہو جائیں گے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں ہماری عدلیہ بہت حد تک آزاد ہے یہ تو کبھی کسی وزیر اعظم کو اقدام قتل پر پھانسی کی سزا سنا دیتی ہے تو کبھی کھڑے کھڑے کسی وزیر اعظم کو توہین کے جرم میں یا کبھی قابل وصول تنخواہ وصول نہ کرنے کے جرم میں نااہل قرار دے کر گھر بھیج دیتی ہے۔کبھی قتل کے جرم میں پھانسی چڑھ جانے والا دو سال بعد بے خطا ثابت ہونے پر باعزت بری ہو جاتا ہے۔کیسی عجیب بات ہے بابا جی کو پانی سے خالی تالاب تو نظر آجاتا ہے، مگر انصاف سے خالی معاشرہ نہیں۔
جن مسائل کو آپ دیکھ رہے ہیں وہ بہت اہم ہیں، انہیں دیکھنے والےاور بہت لوگ ہوں گے ان کی ذمہ داریاں پوچھیں انہیں ہدایات دیں اور کام کرنے کی غیرت دلائیں، مگر جن مسائل کوآپ کے علاوہ کوئی نہیں دیکھ سکتا ان کا بھی تو ادراک کیجیے!ایک بڑی دل چسپ صورت حال بن جاتی ہے جب کوئی جج، جرنیل یا سیاست دان یہ کہتا ہے ہم قوم کو جواب دہ ہیں ، قوم خود سے سوال کرتی ہے آخر یہ قوم ہے کون جسے یہ سب جواب دیتے ہیں، ہمیں تو ان کی طرف سے پہلے ہی جواب ہے۔۔۔

Views All Time
Views All Time
191
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: