Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

لیفٹ کا بھٹو

by اپریل 4, 2018 حاشیے
لیفٹ کا بھٹو
Print Friendly, PDF & Email

آج کے دن پاکستان کے کنفیوزڈ لیفٹ سے طالب علم کا ایک ہی سوال ہے۔ بھٹو سوشلسٹ انقلابی تھے یا محض اپنے وقت کی ایک عارضی طور پر مقبول شخصیت؟ پاکستان کا لیفٹ اس شخصیت کے بارے میں بہت سے فکری تضادات کا شکار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ لیفٹ نے اس شخصیت کو کبھی اپنا سمجھا ہی نہیں اور نہ اس پر کام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی جیسے سرمایہ دار بھٹو کے وارث بنے بیٹھے ہیں اور اس کے نام اور مقبولیت کو اپنے مفادات کی خاطر کیش کر رہے ہیں۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ غریب کو زبان اور محنت کش کو شعور دینے والے تیسری دنیا کے اس رہنما سے عالمی اور علاقائی سرمایہ دار اس قدر خوفزدہ کیوں ہو گیا کہ اس نے اسے ایک سازش کے ذریعے راستے سے ہٹا دیا۔ یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو سے جڑے لوگ، مزدور طبقہ، شاعر، ادیب اور صحافی آج بھی انھیں یاد کرتے ہیں اور وہ پاکستان کی سیاسی ثقافت کا مستقل حصہ بن چکے ہیں۔ اس ثقافت کو پہچانے اور مانے بنا ہٹ دھرمی سے "ماسکو ماسکو” کی رٹ لگانے والے اب ہوش کے ناخن لیں اور سب کو ساتھ لے کر چلیں۔ ورنہ ہمیشہ کی طرح اسٹڈی سرکلز سے آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:   بارش، محبت اور فون کال

بہت ہی افسوس کا مقام ہے کہ جہاں اس شخصیت کا ذکر آتا ہے، یہ لوگ تعصب اور منافقت کی عینک پہن لیتے ہیں۔ ہمیں یہ سیکھنا ہو گا کہ آخر وہ کون سے اقدامات تھے جنھوں نے بھٹو کو یہ مقام دیا۔ صرف دس سال کی سیاسی زندگی میں اس نے ایسا کیا کر دیا کہ وہ اس خطے کا سب سے رومانوی سیاسی کردار بن گیا۔

پاکستان کی طبقاتی سیاست کو مذہب، عقائد، رسوم و رواج، تاریخ اور حالات حاضرہ سے جوڑ کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ "میں نہ مانوں” اور "مسترد مسترد” کر کے آپ اپنی فکری تسکین تو کر سکتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ بھی نہیں کر سکتے۔

حالات بہت تیزی سے بدل رہے ہیں۔ وقت کا پہیہ کئی گنا زیادہ رفتاری سے گھوم رہا ہے۔ یہ عالمی تبدیلیوں کا دور ہے۔ طبقاتی جدوجہد پوری دنیا میں شدید تر ہو چکی ہے۔ اس دہائی میں معلوماتی ٹیکنالوجی کے انقلاب نے عوام کے شعور میں انتہائ تیز رفتاری سے اضافہ کیا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب سرمایہ دار طاقتیں عوامی طاقت کے آگے گھٹنے ٹیک دیں گی۔ اس صورتحال میں دنیا بھر کی سوشلسٹ تنظیموں کو اپنے اپنے علاقائی اور سماجی حالات کے مطابق خود کو مضبوط کرنا ہے تاکہ وہ محنت کش طبقے کی رہنمائی کے قابل ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھئے:   پاکستان میں محنت کش خواتین اور لیفٹ کا المیہ

 

Views All Time
Views All Time
223
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: