Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کرشن نگر | علی جاوید نقوی

by August 23, 2017 تاریخ
کرشن نگر | علی جاوید نقوی

انتظارحسین (افسانہ نگار) نے میرے سوال کاجواب دینے کی بجائے پوچھا آپ کرشن نگرمیں رہتے ہیں؟ میں نےجواب دیا جی۔ ان کے چہرے پرمسکراہٹ پھیل گئی۔ اندر آجائیں وہ مجھے اپنے کمرے میں لے گئے۔اُن کاگھرجیل روڈ پرروزنامہ پاکستان کےدفترکے سامنے گلی میں تھامیں نے اخبارکاتعارف کرایا تھا لیکن انہوں نے اخبارکی بجائے کرشن نگرکواہمیت دی۔ انتظارحسین نے زندگی کے کئی سال یہاں گذارے تھے۔کرشن نگرصرف ایک علاقہ ہی نہیں ایک پورا شہر اور شاید تہذیب کا نام تھا، جس کا کلچر لاہور کے اندرون شہر اور ماڈل ٹاؤن سے مختلف تھا۔ ایک دفعہ ڈاکٹر اسرار احمد (عالم دین،امیر تنظیم اسلامی) سےماڈل ٹاؤن میں ان کے دفترمیں طویل گفتگو جاری تھی، پوچھنے لگے آپ کہاں رہتے ہیں، میں نےکہا کرشن نگر۔ حیرت سے بولے کرشن نگر، ارے آپ بھی وہیں رہتے ہیں۔ ان سے زیادہ مجھے حیرت ہوئی کہ اس میں اتنی حیرت کی کیا بات ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد نےکہا میں بھی ایک عرصہ تک وہیں رہتا رہا ہوں، لڑکپن کی میری بہت سی یادیں ہیں۔ میں نےپوچھا ڈاکٹرصاحب آپ کہاں رہتے تھے۔ کہنے لگے’’ مین بازار میں، پاکستان آئے توسیدھے کرشن نگر آگئے، اب تو اسے اسلام پورہ کہتے ہیں‘‘۔ میں نےکہا آپ جہاں رہتے تھے صرف اس بازار کو اسلام پورہ کہتے ہیں۔ باقی سب کرشن نگرہے، وہ ہنسنے لگے۔

باب العلم کرشن نگر کا ایک مشہورسکول تھا۔ اس سکول کے پیچھے چندگلیاں چھوڑ کر ناصر کاظمی (معروف شاعر) کا گھر تھا۔ ان کی مسزکاظمی اس سکول کی ہیڈمسٹریس تھیں۔ ناصرکاظمی ،انکے بھائی انصر کاظمی اور ماموں جان اقبال مہدی کاظمی کوکبوتروں سے بہت محبت تھی۔ دونوں نے گھروں میں اپنے کمرے سے بڑے کبوتروں کے دڑبے بنارکھے تھے لیکن کبوتروں کا اصل شوق ناصر کاظمی کاتھا۔ انھیں مشاعروں سے جو پیسے ملتے وہ ان کے کبوتر خرید لاتے۔انتظارحسین، ناصرکاظمی کے قریبی دوست تھے لیکن انھیں یہ شوق نہیں لگا۔ کرشن نگر میں ہی دیانند روڈ پر یوسف خان(فلم سٹار) رہتے تھے، جن کے کبوتروں کی تعداد شاید سب سے زیادہ تھی۔ ہیرن روڈ پرمولانا عبدالستار خان نیازی (جمعیت علمائے پاکستان) نے اپنی بہن کے گھر میں رہائش اختیار کر رکھی تھی جہاں ایک کمرے میں ان کی چارپائی بچھی ہوتی تھی۔ اُن کے کئی انٹرویو اسی گھر میں کیے۔ ان سے پہلی ملاقات بھی بڑی دلچسپ تھی، میرا حال چال پوچھنے کے بعد کہنے لگے مجید کہاں ہے؟ میں نےکہا مجید کون؟ بولے حمید کابھائی۔ میں نے دل میں سوچا اب یہ حمید کون ہے؟ شاید وہ میری پریشانی بھانپ گئے۔ داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پنجابی میں بولے میں مجید نظامی کی بات کر رہا ہوں۔ میں نے پہلی مرتبہ کسی کے منہ سے جناب مجید نظامی (چیف ایڈیٹرروزنامہ نوائے وقت) کانام اس بے تکلفی سے سنا تھا۔ مولانانیاری کو دیکھ کرشادی نہ کرنے کے نقصانات سامنے آجاتے تھے۔

عارف عبدالمتین (شاعر،ادیب) تو گویا کرشن نگر کے دروازے پر تھے۔ دفتر لاٹھ صاحب (پنجاب سیکرٹریٹ) کے راستے کرشن نگر میں داخل ہوں تو چشتیہ سکول کے اندر ایک سرکاری کوارٹر میں ان کی رہائش تھی۔ میں جب اُن سے ملنے جاتا بہت محبت سے پیش آتے۔ سچی بات یہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ میری تعریف کی۔ کئی سال بیت گئے ہیں لیکن اُن کے کہے ہوئے کئی جملے اب بھی میرے کانوں میں ایسے گونجتے ہیں جیسے کل کی بات ہو۔

ایک دن علی رضا سہیل (سابق میگزین ایڈیٹر روزنامہ جنگ لاہور) گھر آئے تو انہوں نے بتایا اُن کے بھائی نذیرناجی (سینئرصحافی،کالم نگار) ہمارے گھر کے پیچھے جناح سٹریٹ میں رہتے ہیں لیکن میری کبھی ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ چوہان روڈ کے چوک پر مرزا ادیب (ڈرامہ وافسانہ نگار) کا گھر تھا۔ انٹرویو لینے کے لیے کئی مرتبہ ان کے گھر بھی گیا۔ چوہان روڈ پر وہ اکثرپیدل پھرتے ہوئے مل جاتے، کبھی کبھی میں انھیں موٹرسائیکل پر مین بازار تک چھوڑ آتا۔

شاہ سٹریٹ میں رانا اقبال (سینیئررپورٹر) کرائے کے ایک مکان میں رہتے تھے۔ ان کے پاس موٹرسائیکل نہیں تھی۔ دفتر روزنامہ پاکستان جاتے ہوئے میں اکثر انھیں ساتھ لے لیتا تھا۔ آخری وقت میں انہوں نے بہت کسمپرسی کی زندگی گذاری۔ چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ انہوں نے ایک درست خبر دی لیکن اکبر بھٹی نے ایک صوبائی وزیرکے کہنے پر انھیں نوکری سے نکال دیا۔ بیروزگار ہوئے اورپھر کینسر نے جان لے لی۔ ایک دن میں نے رانا اقبال سے پوچھا رانا صاحب آپ کاگذارہ ہو جاتا ہے۔ بولے کیا پوچھ رہا ہے یار، اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ راناصاحب نے بتایا ان کی مسز ادویات کی ایک فیکٹری میں پیکنگ کاکام کرتی ہیں۔ مجھے یاد ہے ایک دن بے نظیر بھٹو نے رپورٹنگ کے دوران رانااقبال سے کہا تھا کہ وہ پیچھے کیوں کھڑے ہیں آگے آئیں۔ راناصاحب نے جواب دیا ہمیں توحالات نے پیچھے دھکیل دیاہے۔ کیسے کیسے نایاب اورایماندار رپورٹر تھے۔

منیرنیازی (شاعر) نے ایک دفعہ مجھے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا ’’اب وہ تہذیب وتمدن ہی نہیں رہا۔نئی آبادیوں میں وہ گھروں کی بالکونیاں اور کھڑکیاں ہی نہیں ہیں جہاں کوئی دوشیزہ اپنے دوپٹے کا پلو لہرادیا کرتی تھی۔وہ گلیاں اورگلیوں کی نکڑیں ہی نہیں رہیں،جہاں لڑکے کھڑے ہوتے تھے‘‘۔لیکن کرشن نگر میں یہ سب کچھ اب بھی ہے۔ قائم نقوی (شاعر) نے ایک عرصہ کرشن نگرمیں گذارا، پھر کہیں اورچلے گئے۔ اعجازرضوی (شاعر، خاکہ نگار) اب بھی کرشن نگرکوآباد رکھے ہوئے ہیں۔ ناصربشیر (شاعر) اور آفتاب کاوش( شاعر) کوبھی کرشن نگربہت پسند تھا۔ناصربشیرتواب بھی وہیں قریب رہ رہے ہیں۔ کرشن نگرکے معروف ناموں میں ایک نام پرویز بشیر (سینیئرصحافی روزنامہ جنگ لاہور) کا ہے۔

کرشن نگر کی ان ہی گلیوں اوربازاروں میں، میں نے نوازشریف اورشہبازشریف کوپہلی مرتبہ سوزوکی ایف ایکس گاڑی پرانتخابی مہم چلاتے دیکھاتھا۔ یہ ہماری گلی میں بھی کئی مرتبہ پھرتے نظر آئے۔ ہمیں کیا، خود انھیں بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ ایک دن پاکستان کے حکمران بن جائیں گے۔

وقت گذرنے کے ساتھ آبادی بڑھی توکرشن نگر بھی بے ترتیب ہوکرپھیلانا شروع ہوگیا اوردریائے راوی کے بند تک پہنچ گیا۔اب توآبادی کاسیلاب بند کوبھی پارکرگیاہے لیکن وہ کرشن نگر نہیں ہے۔اصل کرشن نگرمیں زیادہ تر مکان اب بھی قیام پاکستان سے پہلے کے ہیں۔کھلی ،کشادہ گلیاں۔تقریبا ایک جیسے ڈبل سٹوری ہوادار گھر۔ یہ اپنے دور کی ایلیٹ کلاس کی آبادی تھی۔ یہاں بہت سے مندر اورگوردوارے تھے جو بے آباد تھے لیکن اپنی موجودگی کااحساس دلاتے تھے۔بھارت میں بابری مسجد شہید کی گئی توبعض لوگوں نے ردعمل میں ان مندروں اور گوردواروں کو گرا کر گویا بدلہ لے لیا۔ قیام پاکستان سے قبل یہاں اکثریت ہندوؤں اورسکھوں کی تھی جوبعد میں بھارت منتقل ہوگئے اور ہندوستان سے آنے والے مسلمان ان کے گھروں میں آباد ہوگئے۔

کرشن نگر 1930 میں آباد ہوا تھا لیکن 1947میں اجڑ گیا، کرشن نگرمیں رہنےوالے ہندوؤں کویقین تھا کہ لاہور بھارت کاحصہ بنے گا، اس لیے کسی نے ہجرت کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ اچانک ان پرافتاد ٹوٹ پڑی۔ لکھنو، دلی اوریوپی کے دوسرے شہروں سے آنے والے بتاتے ہیں جب وہ کرشن نگرپہنچے تو بہت سے گھروں کی حالت ایسے تھی جیسے مکین ابھی بازار کچھ خریدنے گئے ہیں اور آجائیں گے۔ کئی گھروں سے قیمتی سامان ملا۔ یہاں آنے والوں میں یوپی کے اردوسپیکنگ سید، غیرسید خاندان تھے تو لدھیانہ، جالندھر، کانگڑہ اورامرتسر کے پنجابی اورکشمیری خاندان بھی۔ تاہم اکثریت اردوبولنے والوں اور سرکاری ملازمین کی تھی جن میں محکمہ ڈٓاک، اے جی آفس ، سیکرٹریٹ ، تعلیم اورمختلف محکموں کے سول سرونٹس تھے۔ وقت گذرا تو پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے بھی کرشن نگر آ کر آباد ہونا شروع ہوگئے۔ کرشن نگر تعلیمی اداروں، تجارتی مراکز اور سرکاری دفاتر کے قریب سب سے بہترین آبادی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج، اسلامیہ کالج سول لائنز، ایم اے او کالج اوریہاں تک کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کافاصلہ بھی چند منٹ کاتھا۔

کرشن نگر میں لاہور کے بعض دوسرے علاقوں کی طرح تین چارمختلف تہذیبیں ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔ اردو بولنے والے اکثریت میں تھے، گویہ تعداد کراچی اورحیدرآباد میں آباد ہونے والوں سے بہت کم تھی۔ بچپن میں یہاں پاجامے میں ملبوس مرد اور غرارہ پہنے خواتین عام نظرآتی تھیں۔ مین بازار میں پان بیچنے والے بیٹھے ہوتے جن کی وجہ سے گھروں کے پاندان چل رہے تھے۔ تقریبات میں مہمانوں کوپان پیش کیے جاتے۔ السلام وعلیکم کی جگہ آداب کہا جاتا تھا۔ بازاروں میں خرید و فروخت اردو زبان میں ہوتی تھی۔ شیعہ اورسنی برابر کی تعداد میں تھے۔ پنجاب سے آنے والے پنجابی احمدی بھی بڑی تعداد میں کرشن نگراوراس کے اردگرد آباد ہوگئے۔کشمیری ،پٹھان ،گوجراوردوسرے لوگ بھی آگئے۔ سب اپنے اپنے کلچراورماں بولی کوساتھ لے کرچلتے رہے۔ اردوبولنے والے بزرگوں نے جلد محسوس کرلیا وہ زیادہ عرصہ دوسروں سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتے۔ آپس میں دوستیاں پیدا کی گئیں جووقت گذرنے کےساتھ ساتھ رشتہ داریوں میں بدل گئیں۔ کرشن نگرمیں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کااپناسسرال یاکوئی نہ کوئی خونی رشتہ دارکراچی یاہندوستان میں ہے لیکن آپ کو کراچی کے اثرات یہاں نظر نہیں آئیں گے۔ مادری زبان گھر کی چاردیواری میں محدود ہوگئی جبکہ عام بول چال کی زبان پنجابی بن گئی۔ آپ کوکسی کی مادری زبان معلوم کرنے کے لیے بہت جدوجہد کرنی پڑے گی ۔ اردو بولنے والے یوپی کا جو کلچر اپنے ساتھ لائے تھے اس سے رضاکارانہ طورپردست بردار ہوگئے۔ انہوں نے پنجابی کلچر اورزبان کواختیار کر لیا اورخود کو پنجاب کے رنگ میں رنگ لیا۔ لاہورکے دوسرے علاقوں میں مقیم اردو بولنے والوں نے بھی کرشن نگریوں کی پیروی کی۔

امریکہ کے شہر سان فرانسسکو کی بات ہے، ریسٹورانٹ کے سکھ مالک کوجب پتہ چلا کہ میں لاہورسے آیا ہوں، اس نے میرے لیے ایک سپیشل دودھ پتی موٹی ملائی کے ساتھ گلاس میں پیش کی۔ میرے امریکی دوست نے پوچھا یہ کیا چیز ہے؟ میں نےکہا اسے سپیشل چائے کہتے ہیں، ریسٹورانٹ کے مالک نے میرے لیے خاص طورپر تیار کروائی ہے۔ وہ بہت حیران ہوا کہنے لگا آپ لوگ پہلی مرتبہ ملتے ہیں اورایسے دوست بن جاتے ہیں جبکہ آپ کے ملک علیحدہ ہیں، مذہب علیحدہ ہیں۔ اسی دوران وہ سکھ میرے پاس آیا اورپوچھنے لگا میں لاہورمیں کہاں رہتا ہوں۔ میں نے جواب دیا کرشن نگر ۔۔۔ اس نے حیرت سے کہا کرشن نگر؟؟؟ میں نے اثبات میں سرہلایا ۔۔۔ ابھی ہماری گپ شپ جاری تھی کہ وہ سکھ ایک بوڑھے سکھ کو لے آیا۔ اس نے آتے ہی مجھے کھڑا کرکے جھپی ڈالی، کہنے لگا ’’ میں کرشن نگرمیں رہتا رہا ہوں، میرا بچپن وہیں گذرا ہے۔ میں حیرت زدہ رہ گیا، اس بوڑھے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ کافی دیر تک مجھ سے اپنے کرشن نگر کی باتیں کرتا رہا، جہاں وہ پیدا ہواتھا ، جس کی گلیوں میں وہ کھیلا کرتا تھا۔ اُس نے بتایا کہ اس نے کرشن نگر اور ہوتا سنگھ روڈ پرایک فلم بھی بنائی تھی بعد میں امریکہ شفٹ ہوگیا۔

کرشن نگرامروہہ سادات کابھی اہم مرکزرہاہے۔رئیس امروہوی، جون ایلیا اورصادقین (گووہ مستقل کراچی میں رہتے تھے) سمیت امروہہ کے کئی نگینوں کاکسی نہ کسی طرح کرشن نگرسے تعلق تھا، ان میں ایک بھائی نہال (سید محمد نقوی (تھے۔ کرشن نگرمیں عزاداری کی بنیاد رکھنے کاسہرا ان کوجاتاہے۔

کرشن نگری ہونے کی اصطلاح پہلی مرتبہ میں نے سید محمد رضا کاظمی (ریڈیوپاکستان) سے سنی تھی۔ ریڈیو پاکستان میں انکےکمرے میں بیٹھا تھا انہوں نے ایک پروڈیوسر کانام لے کر کہا اسے جانتے ہو وہ بھی کرشن نگری ہے۔ اتنے میں رضاکاظمی کے ایک دوست ملنے آگئے، رضاکاظمی بولے آج تو سارا کرشن نگر اکٹھا ہو گیا ہے۔اسی طرح شہنشاہ نواب (پی ٹی وی)، شرافت علی نقوی( پی ٹی وی (اورآغا ذوالفقار (پی ٹی وی ) کاتعلق بھی کرشن نگر سے تھا۔محسن جعفر (پی ٹی وی ) پرانے دوستوں میں سے ہیں،کرشن نگر کے قریب ہی راج گڑھ میں رہتے تھے۔میں اور زاہد مقصود(ایکسپریس نیوز) روزنامہ پاکستان سے فارغ ہوکر اکثر ان کے گھر چلے جاتے جہاں کھانے پینے اورصاف ستھری انگلش فلمیں دیکھنے کاپروگرام بنتا۔ سبط الحسن ضیغم(دانشور،کالم نگار) بھی کرشن نگری تھے۔ روزنامہ نوائے وقت میں بحیثیت رپورٹرکام کرنے کاموقع ملا توان سے ملاقاتیں شروع ہوئیں۔وہ نوائے وقت میں کالم لکھتے تھے۔ ایک دن اچانک غائب ہوگئے اورکئی دنوں تک لاپتہ رہے۔ علیحدگی پسند سکھوں سے ان کے تعلق کامجھے علم نہیں۔ اورنج پگڑی کے باعث وہ دور سےنظرآجاتے تھے۔ ان کے بھائی مقصودبخاری (پرنسپل ایم اے اوکالج) بھی پیپلزپارک کے قریب کرشن نگرمیں رہتے ہیں۔ ایک علم دوست شخصیت ہیں۔ پرویزمجید(دانشور،نیشنل بنک) سبط الحسن ضیغم کے متاثرین میں شامل ہیں۔اب بھی جب ملاقات ہوتی ہےضیغم شاہ جی کا تذکرہ ضرورہوتا ہے۔کیسے عظیم لوگ تھے۔

نعیم مصطفی(سینیئرصحافی) ان کے کزن علی اختر(سینیئرصحافی( دونوں کرشن نگری ہیں۔ ان کے والد کرشن نگر کی ہردلعزیز شخصیت اوراسے آباد کرنیوالوں میں شامل تھے۔

کرشن نگر پڑھے لکھے اورعلم و ادب کا شوق رکھنے والوں کا گڑھ تھا۔ اردوبازار کے کئی بڑے پبلشرز کاتعلق کرشن نگر سے تھا۔ راحیل زیدی، ان کے والد، ،چچا اورچھوٹے، بڑے بھائی سب کاشمار اردوبازار لاہور کےبڑے پبلشرز میں ہوتا ہے۔ راحیل کے چچا پورے کرشن نگر میں ’’علامہ‘‘ مشہورہیں۔ انھیں کسی کتاب کاپھٹا ہوا آدھا صفحہ بھی دکھایا جاتا تو وہ کتاب ،مصنف اور پبلشرز کانام بتادیتے تھے۔آج کل تو لوگوں کوعلامہ اقبال کی کتابوں کے نام یاد نہیں۔

سید ثقلین امام واسطی (سابق صدر لاہور پریس کلب) کرشن نگر کے قریب لیڈی مکلیگن سکول کے سامنے گلی میں رہتے تھے۔ وہ پی یو جے کے صدربھی رہ چکےہیں، میں اُن کے ساتھ خزانچی اورپھرنائب صدر بنا۔ ثقلین امام کی فیملی بڑی پڑھی لکھی فیملی تھی، ان میں بہت سے سینیئربیوروکریٹس تھے۔کرشن نگر اورثقلین امام کا چولی دامن کاساتھ تھا۔

کرشن نگر آخری بس سٹاپ کے قریب اندرا سٹریٹ میں نانا، ماموں اورخالو کا گھر ترتیب کے ساتھ واقع تھا۔ خالوغلام عباس نقوی کارجحان پیری مریدی کی طرف تھا،فال نکالتے اورعلم جفر کے ذریعے لوگوں کوانکی قسمت کاحال بتاتے۔فلمی ستارے اُن سے اپنی قسمت معلوم کرنے کے لیے آتے تھے۔ معروف قوال،عزیزمیاں قوال انکے منہ بولے بھائی تھے، ان کے ساتھ اکثرانکے ہمنوا بھی ہوتے تھے۔ خالو دیکھنے میں درویش تھے لیکن شاہجہان کے باغ سے لے کرکئی مربع زرعی زمین کے مالک تھے۔ میرے خالہ زاد بھائی سکندرعباس کے مطابق 1970 تک ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمان پاکستان نہ آنے پرافسوس اورغم کااظہارکرتے تھے لیکن اب وہ شکرکرتے ہیں۔

سلیم خان گمی (ریڈیو پاکستان)، کالج میں میرے نفسیات کے استاد پروفیسر توقیرسلیم، دوست اور کلاس فیلو عدیل برکی (گلوکار) بھی کرشن نگرمیں رہتے تھے۔سکول کے زمانے میں بغیرکسی فیس کے ہمیں بیالوجی، فزکس اورکیمسٹری پڑھانے والے ڈاکٹر امتیاز علی، ڈٓاکٹرانجم مہدی، ڈاکٹرعباس ، جلیس عباس، حسن رضا ، کرنل ڈاکٹرساجد ۔۔۔ کیادورتھا۔اب توکوئی پیسے لیے بغیرقرآن نہیں پڑھاتا سوائے بھائی صغیرکےجواس عمر میں بھی مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرانجم مہدی،  آفاق علی )مقیم ہالینڈ) ، زاہد نقوی اپنے گھرمیں کھانے پینے کاخفیہ پروگرام بناتے اورکوشش کرتے ہمیں اس کی خبر نہ ہولیکن ہمیں کسی نہ کسی طرح پتہ چل جاتا اورہم انکے گھرپہنچ جاتے۔ ہمارامطالبہ ہوتابغیرپیسے دیے ہمیں بھی اس پارٹی میں شامل کیاجائے۔ نجم الحسن (مقیم بحرین)، صفدر حسنین رضا ، اخلاق علی جعفری، انیس عباس(مقیم یواے ای)، شاہدرضا اور ذوالفقارحسین زلفی نجی محفلوں کی جان تھے۔

وقت نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ اب دولت اورمرتبے کوسلیوٹ ہے۔ خالی شرافت اورعلم وادب کوکون پوچھتا ہے۔ ہمارے معاشرتی زوال کے اثرات سے کرشن نگربھی محفوظ نہیں رہا۔

بہت سے لوگوں نے کرشن نگر کانام بدل کراسلام پورہ رکھنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ گلیوں کے نام بدل دیے گئے اندرا سٹریٹ ،حمزہ سٹریٹ بن گئی ،دیانند روڈ ،دیانت روڈ ہوگیا۔ نہرو پارک کانام افغان پارک رکھ دیا گیا۔ سنت نگر ،سُنت نگر ہوگیا لیکن کرشن نگر ،کرشن نگر ہی رہا۔

صوفی غلام مصطفی تبسم،منورسعید (اداکار)، آغاامیر حسین (کلاسک پبلشرز)، کشورناہید )شاعرہ ،ادیبہ)، احمد بشیر اور ان کی صاحب زادی بشری انصاری، شوکت علی (گلوکار)، گل فراز(علم وعرفان پبلشرز)، سہیل ظفر(صحافی)، ظفر علی راجا، تاب عرفانی، تسلیم احمد تصور، شہوار حیدر، محشر زیدی، تسنیم کوثر، عابد نوربھٹی، عظیم چودھری، مسعود رضاخاکی (شاعر) ، وحیدخیال ، مبارک منزل کے مبارک حسن اورامیرالعظیم (جماعت اسلامی ) کا تعلق بھی کرشن نگرسے رہا ہے۔ ان کے علاوہ کئی بڑے نام ہیں جنہوں ںے کرشن نگرکورونقیں بخشیں اوردنیابھرمیں پاکستان کی پہچان بنے۔ ان میں کئی سینیئربیوروکریٹس ، ڈاکٹرزاورسیاست دان بھی شامل ہیں ،کبھی وقت ملا تواُن سب کے بارے میں ضرور لکھوں گا۔

مرتبہ پڑھا گیا
268مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: