Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

قرۃ العین طاہرہ – علی عباس

by نومبر 24, 2016 بلاگ
قرۃ العین طاہرہ  – علی عباس
Print Friendly, PDF & Email

ali-abbasقرۃ العین طاہرہ یا بقول علامہ اقبال خاتون عجم 1823ء میں ایران کے قدیم شہر قزوین میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام زرین تاج تھا۔ وہ ایران کے عظیم شیعہ آیت اللہ ملا برغانی کی صاحبزادی تھیں۔ والدہ کا نام آمنہ خانم قزوینی تھا۔ ان کی شادی قزوین کے نوجوان عالم شیخ محمد تقی سے ہوئی، جنہیں شہید ثالث کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کی فطانت اور علمیت کا یہ عالم تھا کہ کم عمری ہی میں وہ اپنے والد اور چچا جیسے نوابغ کو مباحثوں میں لاجواب کر دیتیں۔ وہ بچپن ہی سے ایک قادرالکلام شاعرہ بھی تھیں۔ ایران میں ان کی شہرت کی ایک اور وجہ ان کا حسن و جمال بھی تھا ۔ 1850ء میں، دین میں فتنہ پھیلانے کے الزام میں بادشاہ ناصر الدین قاچار نے انہیں سزائے موت دلوا دی۔
وہ پیدائشی طور پر شیعہ خانوادہ سے تعلق رکھتی تھیں، لیکن ابتداء ہی سے ہر بات پرکیوں کی جرح کرنے والا باغیانہ مزاج پایا تھا۔ شہر میں دینی مسائل پوچھنے کے لیے آنے والی خواتین سے انہوں نے علی محمد باب کے خروج اور تعلیمات کا سنا جس نے حال ہی میں مہدویت کا دعویٰ کیا تھا۔ طاہرہ ان کی تعلیمات سے متاثر ہوئیں اور باب سے خفیہ خط و کتابت شروع کر دی۔ وہ علی محمد باب پر ایمان لانے والے پہلے 18 لوگوں (جو بابی تاریخ میں حروف حی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں)، میں سے واحد خاتون مبلغہ تھیں۔ سیّد کاظم رشتی نے انہیں قرۃ العین کا لقب دیا اور بہاء اللہ نے انہیں طاہرہ کا لقب دیا۔
انہوں نے اپنے گھر کو خیرباد کہنے کے بعد شہر بہ شہر بابی مذہب کی تبلیغ شروع کر دی اور ہزاروں لوگوں کو اپنے نظریات سے متاثر کیا۔ وہ ایک بلیغ اور شعلہ نوا مقرر تو تھیں ہی، لیکن ان کے حسن کا یہ عالم تھا کہ وہ جب دوران تقریر اپنے چہرے سے نقاب گرا دیتیں تو مجمع میں موجود تمام حاضرین بابی مذہب کا کلمہ پڑھنے لگتے۔
علی محمد باب نے ان کے تن میں جناب سیّدہ فاطمۃ الزھرا کے روح کے حلول کر جانے کی نوید دی، جس سے انہوں نے مظہر سیدہ طاہرہ ہونے کا دعویٰ کر دیا، جسے ایران میں ہاتھوں ہاتھ‍ لیا گیا۔ بعد ازاں وہ بہاء اللہ کی تعلیمات کی بھی بہت بڑی مبلغ بنیں۔
1850ء میں بغاوت، دین میں فتنہ پھیلانے اور خواتین کے حقوق پر کچھ‍ باغیانہ سوالات اٹھانے کے الزام میں ایران کے بادشاہ ناصر الدین قاچار نے اپنے دربار بلایا۔ انہوں نے بادشاہ کو مخاطب کر کے یہ اشعار کہے:
تو و ملک و جاہ سکندری
من و رسم و راہ قلندری
اگر آن نکوست، تو در خوری،
اگر این بد است، مرا سزا
(تیرے پاس ملک، جاہ اور بادشاہی ہے، میں ہوں کہ میرے پاس قلندرانہ اطوار ہیں۔
اگر وہ بھلی چیز ہے، تو تجھے مبارک، لیکن اگر یہ شے بری ہے، تو مجھے [یہ بدی] قبول ہے۔)
کہا جاتا ہے کہ بادشاہ جو ان کے حسن و جمال کو دیکھ‍ کر پہلے ہی پگھلنے کے قریب تھا، ان کی اس بے ساختہ جواب پر ان کی ذہانت کا بھی قائل ہو گیا، اس خوف سے کہ ان کے مزید چند لمحے دربار میں رہنے پر مبادا وہ ان کو دل دے بیٹھے، جلد از جلد انہیں انجام تک پہنچا دیا جائے۔ اس نے ان کے بال ایک گھوڑے کے پیچھے باندھ‍ کر اسے دوڑا دیا اور انہیں اذیتیں دے کر قتل کر دیا گیا۔
قرۃ العین طاہرہ ایران میں حقوق نسواں پر بات کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ انہوں نے 1848ء میں بابی مذہب قبول کرنے سے 4 سال قبل حقوق نسواں، اور عورت کے مرد کے برابر حقوق کی بات کی تھی۔

Views All Time
Views All Time
926
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   وسائلِ سفر،وسیلہء ظفر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: