علیشہ امتیازی سلوک کی بھینٹ چڑھ گئی

Print Friendly, PDF & Email

aleesha

رائٹر: اینڈریو مارسلز
مترجم: توقیر ساجد

خواجہ سراؤں کی این جی او کا سرگرم کارکن اور کوارڈینٹر علیشہ کو اتوار کے روز کچھ لوگوں اور خواجہ سراؤں کی لڑائی کے دوران آٹھ گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تاہم تنازعہ کی وجوہات کیا تھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن پاکستانی خواجہ سرا ؤں کی اکثریت رقص ،بھتہ خوری اور جنسی کاروبار میں ملوث ہے لیکن حکام کی طرف سے کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے گولیوں کے نشانہ بنانے کے بعد علیشہ کو فوری طوری پر پشاور کے لیڈی لیڈنگ اسپتال میں لایا گیا لیکن اس کی سوشل سٹیٹس کی بنیاد پر بیڈ اور وارڈ الاٹ نہیں کیا جارہا تھا
خواجہ سراؤں کی تنظیم کے لئے کام کرنے والی تنظیم بلیو وینز کی سربراہ قمر نسیم کہتی ہیں کہ اسپتال میں زخمی علیشہ کو اس لئے اسپتال میں بنیادی سہولیات نہیں دی گئی تھی کیونکہ وہ ایک خواجہ سرا تھی ہم نے لیڈی ریڈنگ اسپٹال کے حکام پر اس بات کا زور بھی کہ زخمی علیشہ کو فوری طور پر آئی سی یو میں منتقل کیا جائے لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور تین گھنٹوں کی کوششوں کے بعد ایک پرائیویٹ کمرہ میں منتقل کیا گیا لیکن تب تک علیشہ کا خوب بہت بہہ چکا تھاعلیشہ خیبر پختونخوا ٹرانس ایکشن کی کوآرڈینٹر تھی اور یہ خواجہ سراؤں پر امسال پانچواں حملہ کیا گیا تھا ۔خواجہ سراؤں کے اس گروپ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک جرائم پیشہ گروہ انہیں بھتہ وصولی اور فحش فلمیں بنانے پر مجبور کرتا ہے مطالبات پورے نہ ہونے پر تشدد کیا جاتا ہے اور پھر قتل کر دیا جاتا ہے ۔پاکستان میں مخنث عورتیں حجڑا کے طور پر پہچانی جاتی ہیں کو شادی بیاہ کے موقعوں پر ڈانس کی دعوت دی جاتی لیکن اسی گروہ کے ساتھاس مسلم معاشرہ میں امتیازی سلوک برتاجاتا ہے
شی میل ایسوسی ایشن کی صوبائی صدرفرزانہ جان ایک سرگرم خواجہ سرا ہے کہ مطابق گزشتہ دو سالوں میں 54خواجہ سراؤں کو قتل کیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں پچاس ہزار خواجہ سرا رہتے ہیں جینڈرaleesha 2 انٹریکٹو الائنس کی رکن رفیع کہتی ہیں کہ پاکستان میں روز بہ روز ہجڑوں کے ساتھ امتیازی سلوک بڑھتا جارہا ہے ان میں بہت سے غریب ہیں یا بے گھر ہیں اور بہت سے غیر تعلیم یافتہ ہیں کیونکہ والدین نے انہیں بچپن سے اپنایا ہی نہیں ہے اس لئے خواجہ سرا رقص،بھیگ مانگنے اور جنسی کاموں میں ملوث ہوجاتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ خوا جہ سرا ہر گز یہ کام نہیں کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کیلئے جسم فروشی کا کاروبار کرتے ہیں یہ پاکستان میں بہت زیادہ ہیں اور اکثر تو لڑکیوں کی طرح نظر آتے ہیں پاکستان میں خواجہ سراؤں کے ساتھ جو امتیازی سلوک کیا جاتا ہے حکومت ،پولیس اور معاشرے سے ہر گز چھپا ہوا نہیں لیکن یہ ہماری مجموعی بے حسی کا نتیجہ ضرور ہے کہ ایک بے ضرر مخلوق کو کس قدر اپنے مفادات کی خاطر استعمال میں لایا جاتا ہے اور پھر قتل کر دیا جاتا ہے ۔

Views All Time
Views All Time
1808
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مجھے راہ دکھاؤ - فائزہ چوہدری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: