ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے – علینہ ارشد

Print Friendly, PDF & Email

aleena-arshadکئی دنوں سے سوچا کہ کیا لکھوں پھر اچانک سے میرے سامنے یہ قطعہ آیا
"ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراخِ آخرِشب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے "
تو سوچا کیوں نہ اسی موضوع پر لکھا جائے۔اِس مصرع میں لفظ ہمارا سے مراد میں، آپ اور اس ملک کا ہر وہ فرد ہے جو قوم کا آنے والا مستقبل ہے۔ لفظ ہمارا سے مرادپاکستان کی تریسٹھ فیصد نوجوان نسل ہے۔وہ نوجوان جو پاکستان کے معما رہیں۔ہمارا ملک ایک باغ ہے اور ہم اس کے پھول،پودے۔اسی کی خوشبو سے یہ باغ ہمیشہ مہکے گا۔یہی نوجوان کہیں مصطفی کمال کے روپ میں کراچی کا نقشہ بدلتے ہیں تو کہیں علی معین نوازش کے روپ میں تعلیمی میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہیں۔یہی نوجوان قدرتی آفات کے بعد متاثرین کی مدد کر کے یہ ثابت کرتے ہیں کہ
"عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں”
ہم اپنی قوم کی ریڑھ کی ہڈی، بلکہ شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں،ہم نوجوان ہی اپنے ملک کی تعمیر و ترقی اور ہم وطنوں کی خوشحالی میں بہترین کردار ادا کرتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ تمام بڑی تحریکیں اور انقلابات انہی جوانوں کے عزمِ جواں،ولولہ و ہمت اورجذبہءِ قربانی کا نتیجہ ہے بلکہ ان کا گرم خون بڑے بڑے مفکروں،عالموں،سیاستدانوں اور بے عمل سلفیوں کو بھی میدانِ عمل میں لے آیااور فکر و عمل کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر یوں امڈا کہ منزلِ مقصود بھی ان کے قدموں کو بوسہ دینے پر مجبور ہو گئی۔
اقبال نے جس دھرتی کا خواب دکھایا قائد نے اسے پورا کر دکھایا ۔۱۹۶۵ ؁ اور۱۹۷۱ ؁ کی جنگوں میں افواجِ پاکستان نے ملک کے لئے بے بہا قربانیاں دیں۔ ستاروں پر کمندیں ڈالیں گئیں،عقابی روح بیدار کر کے یقینِ محکم، عملِ پیہم اور محبت فاتح عالم کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔ اسلاف کی درخشندہ روایات کو زندہ رکھ کر ، آدابِ جہانبازی سیکھنے بلکہ خودی کے دم پر دنیا پر چھا جانے کی تمام صلاحیتیں ہم میں موجود ہیں۔
اقبال نے کیا خوب کہا ہے

"اگر جواں ہوں مری قوم کے *جسورُو غیور
قلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں”
ہم نے مئی ۱۹۹۸ ؁ کو چاغی کے مقام پر دھماکے کر کے خود کو ایٹمی طاقت بنایا۔عبدالقدیرخان جیسے سائنسدان ہمارا سرمایہ ہیں جنہوں نے دن رات محنت کر کے اس ملک کو اس قابل بنایا کہ ہم کسی بھی دشمن کے سامنے ڈٹ سکتے ہیں۔ارفع کریم رندھاوا جس نے ۱۰ سال کی عمر میں سافٹ وئیراور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اپنا نام پیدا کیااور پاکستان کوانفارمیشن ٹیکنالوجی کی دوڑمیں دوسرے ممالک کے برابر لا کھڑا کیا ۔ عافیہ صدیقی جس نے حق کے لئے آواز اُٹھائی، سپاہی مقبول حسین جس نے زبان تو کٹوا لی مگر پاکستان مردہ باد کا نعرہ نہیں لگایا۔ جہاں پرنسپل طاہرہ قاضی جیسی ماں اپنے سکول کے ننھے نونہالوں کو بچانے کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دیدے۔جس مٹی میں لاکھوں معصوموں کا لہو ہو، جہاں عبدالستار ایدھی نے اپنی ساری زندگی ملک کی خدمت کے لئے قربان کر دی ہو۔ جس ملک میں جنرل راحیل شریف جیسے بہادر سپوت کی آواز گونجتی ہو۔ جہاں وہ جو بڑا دشمن بنا پھرتا ہے وہ بھی اس ملک کے بچوں سے ڈرتا ہو۔جہاں بابر اقبال اور ایان قریشی جیسے بچے ملک کا سرمایہ ہوں ۔جس وطن کی مٹی نے اجالوں کی گواہی مانگی ہو اور اس ملک کے بچوں نے اپنے خون سے اس باغ کی آبیاری کی ہو وہاں اجالا کیوں نہ ہو؟

"خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے”
ہم مسلمان ہیں ، پاکستانی ہیں۔ پاکستان مملکتِ خداد ہے اور اس پر سایہِ خدائے ذوالجلال ہے۔

Views All Time
Views All Time
846
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   زندگی میں ہی پذیرائی کیجئے! | شیخ خالد زاہد - قلم کار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: