تقسیم ہند اور نائن الیون – اکرم شیخ

Print Friendly, PDF & Email

تاریخ کے اپنے آپ کو دہرانے کا عمل محض خوش گمانی اور خوش فہمی ہے وقت آگے بڑھتا ہے تو اس کے ساتھ حالات میں بھی تبدیلی آتی ہے اور اس کے تقاضے بھی نئے رنگ روپ میں سامنے آتے ہیں اور انسان کو اپنے پیچھے دوڑنے پر مجبور کرتے ہیں اگر کہیں ماضی اور حالات میں کہیں کوئی ہم آہنگی یا ہم شکلی سامنے آ جاتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ… تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ یہ تو وقت کا پہیہ الٹا گھمانے والی بات ہے۔ جو کبھی ممکن نہیں ہوتا… اس کے باوجود کچھ لوگ ماضی میں زندہ رہتے اور حال میں سے ماضی کو تلاش کرتے ہیں۔ یہ خود فریبی تو ہوتی ہے لیکن ماضی پرستی بھی اسی لیے کچھ لوگ ’حال‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے مستقبل بینی کو ہی زندگی کی جدوجہد قرار دیتے اور تاریخ کو محض پرستی کا نام دے کر اسے نظرانداز کرنے، حال کا تجزیہ کرنے اور مستقبل پر توجہ مرکوز رکھنے کو ہی قوموں کی اوّلین ترجیح قرار دیتے ہیں۔

لیکن… قوموں کی زندگی میں کبھی کبھی وہ موڑ بھی آ جاتے ہیں جب انھیں ماضی کی طرف دیکھنا اور سرزد ہونے والی اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ یہی ماضی سے سبق حاصل کرنے والی بات ہے۔ چناں چہ کچھ لوگ ماضی کو بھی اسی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ کام حکمران طبقے نہیں سوجھوان، دانش ور، ادیب اور فن کار کرتے ہیں… پنجاب یہ ’حلقہء احباب‘ بھی آج کل تاریخ کے اسی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ وہ ماضی میں ہونے والی غلطیوں کا اعتراف بھی کر رہا ہے اور آیندہ اس سے محتاط رہنے کی عملی کوششوں میں بھی مصروف ہے۔

اب یہ بات پرانی ہو چکی، یا پھر وہ تاریخ کے کوڑے دان میں غرق ہو چکی ہے کہ ہندوستان کی تقسیم عالمی قوتوںکی ضرورت تھی۔ دوسری عالمی جنگ نے انسانیت کو تو تباہ کیا تھا، معیشت اور معاشرت کو بھی نیست و نابود کر دیا تھا۔ برطانوی سامراج کے لیے ہندوستان کی نو آبادی پر مزید تسلط رکھنا ممکن نہیں رہا تھا… لیکن متحدہ ہندوستان بھی سامراجی قوتوں کے مفاد میں نہیں تھا۔

ہندوستان میں’بائیں بازو‘ کی تحریک فکری اور نظریاتی طور پر مضبوط ہو رہی تھی چناں چہ اس کے بالمقابل کانگرس اور مسلم لیگ جیسی جماعتوں کی تشکیل بھی لازم ٹھہری اور نام نہاد دو قومی نظریہ سے خطے کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہوئی۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ اقلیتی رکن ایس پی سنگھا کا ووٹ تھا جس نے اس تقسیم کو یقینی بنایا… اسی طرح بنگال میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی اور اس کو بھی تقسیم کیا گیا۔ یہاں اس تناظر میں تلخ سچائی تو یہ بھی ہے کہ یہ تقسیم عوام کو حق رائے دہی دے کر، یا عوامی ریفرنڈم کے ذریعے نہیں ہوئی بل کہ اس کے لیے بھی مخصوص طبقے کو استعمال کیا گیا… کھیل تو تقسیم سے پہلے ہی شروع ہو گیا تھا جس کا بنیادی مرکز پنجاب تھا۔ ’چار اضلاع‘ ک پاکستان میں شمولیت اور پھر ہندوستان میں ہی رہنے کا اعان

گورداسپور، امرتسر، جالندھر اور فیروزپور۔

ایسا کیوں ہوا، صرف دو حقائق سامنے رکھیں تو بات سمجھ میں آجائے گی اور پھر یہ بھی پتا چل جائے گا کہ سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان فسادات کروانا اور نفرت کو مضبوط بنادیں فراہم کرنا کیوں ضروری تھا؟ پانیوں کا مرکز کشمیر جو پنجاب کی زراعت اور خوشحالی کا مرکز تھا۔ اس کی طرف جانے والے پانچ راستوں میں سے کوئی بھی ہندوستان کے حصے میں نہیں آ رہا تھا چناں چہ گورداسپور، پٹھانکوٹ سے جموں کی طرف رسائی اسی صورت ممکن تھی۔

دوسرا یہ کہ… ماجھے، دوآبے اور مالوے کا یہی وہ علاقہ تھا جو مارشل ایریا تھا… جو فوج کو خام مال یا پھر افرادی قوت فراہم کرتا تھا۔ اور اس افرادی قوت کا تعلق مسلمان اور سکھ قوم سے تھا… یاد رہے کہ تقسیم فارمولا کے تحت مسلمان فوجی پاکستان اور دیگر فوجی ہندوستان کے پاس جانا تھے۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا فوجی ایریا ’پوٹھوہار‘ تھا جو پاکستان میں آ رہا تھا۔ لیکن دیگر مذکورہ علاقے خصوصاً چار اضلاع بھی اگر پاکستان میں آ جاتے تو وہ سکھ افرادی قوت ہندوستانی فوج کا حصہ کیسے بنتی؟؟ جن کی تعداد بھی بھی بھارتی فوج میں زیادہ ہے۔ بل کہ جتنے بھی آرمی چیف بنے ہیں ان میں اکثریت پنجابیوں اور سکھوں کی ہے… بہ ہرحال سچائی یہ ہے کہ دونوں قومیں جرأت، بہادری اور دلیری کی علامت تھیں اور ہیں لہٰذا ان میں نفرت کو دشمنی کی حد تک پھیلانا بھی ضروری تھا جو مستقبل کی محاذ آرائی میں کام آ سکے۔

تیسرا یہ کہ… جغرافیائی تقسیم میں جو سرحدیں وجود میں آئیں ان کے دونوں طرف اگر پرامن ماحول ہوتا۔ یا پھر دونوں طرف آباد قوموں کے درمیان، محبت اور بھائی چارے کے پیغامات کا تبادلہ ہوتا، ایک دوسرے کے لیے نرم گوشہ ہوتا تو پھر جنگوں کے نتائج یوں سامنے کیسے آتے؟ یہ صورتِ حالات دہلی کے لیے بھی کسی طرح مناسب نہیں تھی۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں سرحدی تلخی دونوں ملکوں کے درمیان کم نہیں ہو رہی… حال آں کہ اکیسویں صدی کے اس دوسرے عشرہ میں جب سرمایہ داری نظام، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور عالمی سرمایہ داروں کی گرفت میں ہے اس نے اپنی مصنوعات کی درآمد و برآمد کے لیے سرحدوں کے پرامن اور خوشگوار ماحول کو لازم سمجھ لیا ہے بھارت اور پاکستان کے درمیان پنجاب کی سرحد پر حالات میں نرمی نہیں آنے دی جا رہی۔ نہ ہی اس کے مستقبل قریب میں امکانات ہیں۔ یہ بے ہنگم اور غیر فطری تقسیم محض اتفاقی نہیں سوچی سمجھی سازش تھی اور اس کے مظاہر گذشتہ سالوں میں کھل کر سامنے آ چکے ہیں جس میں ایک نئی معاشی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے اور دونوں ملک ماضی کی طرح مخالف کیمپوں میں کھڑے ہیں۔

بات تو تقسیم تھی دونوں طرف کے دانش ور اب ماضی کو نئے سرے سے دیکھ رہے ہیں تاریخ کے صفحات کو الٹتے پلٹتے اپنی اپنی غلطیوں کے محرکات و عوامل کے ساتھ اپنے اپنے اجتماعی کردار کا بھی تجزیہ کر رہے ہیں اور ان اسباب کو بھی دیکھ رہے ہیں یہ سوال بھی سامنے ہے کہ

صرف دو نظریاتی گروہ ہی ایک دوسرے کے بالمقابل کیوں تھے؟ اور مبینہ فسادات کا مرکز کچھ مخصوص علاقے ہی کیوں تھے؟ اور اس میں تیسرا بڑا نقطہء نظر کیوں شامل نہیں تھا؟ کہیں یہ اکیسویں صدی کا ’نائن الیون‘ تو نہیں تھا؟

یاد رہے کہ … سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی اور نظریاتی سانجھ بھی تھی۔ دونوں توحید پرست تھے؟

دونوں گروہوں کے درمیان معاشرتی تعلق بھی بہت گہرے اور مضبوط تھے۔ سماجی رشتے اور ایک دوسرے کی رسومات میں شرکت بھی ہوتی تھی۔

تیسرے گروپ کے ساتھ سماجی رشتے محض رسمی تھے۔ دونوں تیسرے گروپ کے معاشی استحصال کی زد میں بھی تھے… لیکن سکھ اور ہندو، مسلمان اور ہندو اس طرح بالمقابل نہیں آئے جیسے سکھ اور مسلمان ایک دوسرے کی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ساتھ ظلم و زیادتی میں بھی ملوث ہوئے۔

ہندوؤں کے ان فسادات کو ہوا دینے کی معلومات تو ملتی ہیں لیکن بہت کم براہِ راست نشانہ بننے کی شہادتیں ہیں۔ چناں چہ یہ سوال بھی فطری ہے کہ… کیا یہودیوں کی طرح انھیں بھی ’نائن الیون‘ کا پہلے سے علم تھا؟ اور وہ اس حادثے سے پہلے ہی منظر سے غائب ہو گئے تھے یا پھر انھوں نے اپنے لیے محفوظ پناہ گاہیں حاصل کر لی تھیں۔

یہی وہ سوالات ہیں جنھوں نے آج کے دانش وروں کو ماضی میںجھانکنے اور نصابوں سے ہٹ کر سوچنے اور کھوجنے کی طرف مائل کیا ہے لیکن حکمران طبقے گمراہی کو برقرار رکھنے کی دیرینہ روش پر ہی گامزن ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ رابطوں کے تمام امکانات کو معدوم کر رہے ہیں بل کہ حقیقت تو یہ ہے کہ گذشتہ دس بیس سال میں عوام کی سطح پر خصوصاً دونوں طرف کے علمی اور ادبی رابطے ہوئے تھے انھیں منقطع کر کے ایک بار پھر مستقبل کے رجحانات کو ماضی کی طرف دھکیل دیا ہے یہ الگبات کہ جس  ’شعور‘ اور فہم کی ہوائیں  صحنوں میں داخل ہوئی ہیں آنگوں میں کھڑے خزاں رسیدہ درختوں کو نئی کونپلیں دی ہیں، انھیں پھلنا پھولنا تو ہے۔ وقت اور حالات میں ارتقائی عمل نے آگے بڑھنا ہے۔

Views All Time
Views All Time
325
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   صابر چشتی کے ساتھ گزری کچھ یادیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: