Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

چوتھی عالمی جنگ کا آغاز 2 – اکرم شیخ

by جنوری 30, 2017 سیاست, کالم
چوتھی عالمی جنگ کا آغاز 2 – اکرم شیخ
Print Friendly, PDF & Email

امریکی معیشت کو عالمی سرمایہ داری اور مقامی سرمایہ داری کے تضادات نے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے امریکا ہزاروں ٹریلین ڈالر کے مقامی اور عالمی قرضوں میں سے صرف چین کے 3ہزار ٹریلین ڈالر کا مقروض ہے۔ امریکی معیشت کی ترجیحات مرتب کرنے میں ایک سو سے زائد ملٹی نیشنل کمپنیوں کی گرفت تھی جو بظاہر ابھی تک نئے عالمی اقتصادی ظہور کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں یہی وہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور امریکا کے اسلحہ ساز کارخانے تھے جنھوں نے مختلف ملکوں میں اختلافات کو ہوا دی اور پھر ان میں جنگیں بھی کروائیں۔ پھر اپنی من مرضی کی قیمتوں اور منافع کے ساتھ ہتھیاروں کی فروخت بھی ک۔ ایک زمانہ میں برصغیر ان کمپنیوں کا سب سے بڑا خریدار ہوا کرتا تھا ان کے لیے یہ مارکیٹ ابھی تک موجود ہے لیکن ان ملکوں خصوصاً پاکستان اور بھارت کے بہت سے ہتھیاروں میں خود کفیل ہونے کے باعث یہاں وہ کھپت باقی نہیں رہی۔ دوسرا یہ کہ دونوں ملکوں کے ایٹمی ہتھیاروں نے بھی جنگ کی تباہی کے خوف نے انھیں براہِ راست جنگ سے دور رکھا ہوا ہے حال آں کہ 1917کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تصادم کے بہت سے مواقع آئے تھے خصوصاً گذشتہ تین سال کے دوران میں تو یہ خطرات انتہاؤں کو چھوتے ہے لیکن انسانیت کی تباہی کے خوف سے عالمی طاقتوں نے بھی ان کو حدود سے تجاوز کرنے نہیں دیا بل کہ انھیں مذاکرات کی راہ پر چلنے کا ہی مشورہ دیا ہے… چناں چہ اسلحہ سازوں کی تمام توجہ اس وقت سعودی عرب، شام اور یمن کے تناز پر ہے جس میں سعودی عرب سب سے بڑا اسلحہ کا خریدار بھی ہے اور امریکا کے ساتھ دفاعی معاہدے کا پابند بھی۔

امریکا میں عالمی اور مقامی سرمایہ داری کا یہ تنازع بہت پرانا ہے یہ اس وقت بھی سامنے آیا تھا جب بش جونیئراور الگور کے صدارتی انتخابات ہوئے تھے۔ الگور بھی عدالت تک گئے تھے مگر پھر خاموشی چھا گئی تھی۔ بش جونیئر کے عہد صدارت میں ہی عراق اور افغانستان پر امریکی قبضہ ہوا تھا عوام اور دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے ان ممالک میں قبضہ پر جمہوریت کا نقاب ڑھایا گیا ہے ورنہ اصل مسئلہ تو تیل گیس اور معدنیات کے ذخائر ہیں جن سے یہ علاقے مالا مال ہیں۔ امریکی معیشت کے اس تنازع کی ایک اور وجہ عالمی سرمایہ داری کا گلوبل ورلڈ کا وہ تصور ہے جس میں سرحدیں نرم ہوئیں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ان ممالک میں داخلے کی اجازت ملی جہاں مصنوعات پر لاگت کم اور منافع ترقی یافتہ ملکوں سے کہیں زیادہ تھا۔ چین میں بھی یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں آئیں اور انھیں سستی لیبر اور تونائی بھی میسر آئی لیکن منافع کی حدود تجاوز نہیں ہوسکیں جس کے نتجہ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی تیار کردہ مصنوعات عالمی مارکیٹ میں سستے داموں فروخت ہونا شروع ہو گئیں۔ جس کے نتیجہ میں یہ صورتِ حالات بھی بنی کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی انہی مصنوعات کو غیرمعیاری قرار دیا جانے لگا۔ گویا ملٹی نیشنل کمپنیاں خود اپنے ہی خلاف پراپینڈا کرنے پر مجور ہو گئیں۔ لیکن معروضی حقیقت تو یہ تھی کہ چینی مصنوعات نے صرف پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کی مارکیٹوں تک ہی رسائی حاصل نہیں بل کہ امریکی ریاستوں کی مارکیٹوں پر بھی قبضہ کر لیا جس سے امریکا کی سمال انڈسٹری تباہی کا شکار ہو گئی۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں امریکہ کے نو منتخب صدر کو حلف اٹھاتے ہوئے امریکی عوام کو یہ کہنا پڑا ہے کہ امریکی مصنوعات استعمال کریں اور امریکنوں کو ہی ملازمتیں دیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہمارے جنرل مشرف کی طرح سب سے پہلے امریکا کا نعرہ بلند کرنا پڑا۔ جو مقامی سرمایہ داری یا پھر سمال انڈسٹری کے لیے پیغام تھا جس پر چینی صنعتکار اور سرمایہ دار قبضہ کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان کو جوابی پیغام دینا پڑا اور کہا

تجارتی جنگ میں دونوں سے کوئی فاتح نہیں ہو گا کیوں کہ امریکا اور چین تجارت کی وجہ سے امریکا میں 25 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوئیں… گویا تجارت میں رکاوٹ امریکا میں بے روزگاری کی شرح میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔

 اسی لیے چینی ترجمان نے کہا ہے کہ ٹرپ کو سب سے پہلے امریکا نہیں سب سے پہلے امریکی کی بات کرنی چاہیے تھی بہرحال حقیقت یہ بھی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کپنی نے روس سمیت 50 ممالک میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور اس کمپنی اور صنعتی یونٹس میں 75 ہزار سے زائد ملازم کام کرتے ہیں اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ نہ صرف ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے مالک ہیں بل کہ عالمی سرمایہ داری کے نمایندہ بھی ہیں مگر وہ امریکی معیشت کی تباہی میں مقامی صنعتوں کے فروغ اور مقامی سرمایہ داری کے استحکام کو اہمیت دینے پر مجبور ہیں یا پھر ان کا واحد مقصد امریکی معاشرے میں ابھرنے والے تضادات کو نرم کرنا تھا کیوں کہ ایک نقطہ نظر میں یہ تصور بھی غالب تھا اور ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف پراپیگنڈا اور احتجاجی مظاہوں کے پیچھے بھی یہی مقامی سرمایہ داری تھی اور اسے خطرہ تھا کہ عالمی سرمایہ داری کے نمایندہ کی حیثیت سے وہ اسی کی بہتری اور تسلط کو ہی اہمیت دیں گے اور مقامی سرمایہ داری مزید تباہی کا شکار ہو گی… دوسرا یہ کہ وہ مقامی سرمایہ داری کو سرپرستی کا تصور دے کر چین کی بڑھتی ہوئی ملٹی پولر اقتصادی پالیسی کو واضح پیغام دینا چاہتے تھے… جس نے اب چین سے باہر نکل کر پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں میں اشتراکِ عمل شروع کر دیا ہے جس نے امریکی سرمایہ داری نظام  کے لیے باقاعدہ چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں گذشتہ دنوں ہونے والی عالمی اقتصادی فورم کی کانفرنس میں چین کے صدر نے خصوصی خطاب کیا ہے یہ خطاب در اصل نئے اقتصادی نظام کی نشاندہی بھی ہے اور نئی سمت پر آگے بڑھنے کے عزائم اور چینی تعاون کی پیشکشوں کا بھی پتا دیتا ہے اور اس کا تمام انحصار تجارت، بل کہ برابری کی سطح پر تجارت اور وسائل کی تقسیم پر ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم چین کے صدر کا خطاب دیکھیں اور سمجھیں ہمیں اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ پر بھی غور کر لینا چاہیے جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ:

عالمی معیشت سست شرحِ نمو سے باہر نہیں آئی۔ 2016 میں یہ شرح 2.2 فی صد رہی۔ 2017 میں یہ شرح  2.8 فی صد اور اس سے اگلے سال 2018 میں یہ شرح 2.9 فی صد ہونے کا امکان ہے۔

یہ کم ترین اور بدترین شرحِ نمو دنیا کو غربت سے نکالنے کے ایجنڈے کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ دنیا میں افریقا کے 48 ممالک سب سے کم ترقی یافتہ ہیں وہاں سرمایہ کاری میں سالانہ 11 فی صد اضافے کی ضرورت ہے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ در اصل سرمایہ داری نظام کا اعترافِ جرم ہے جس میں امیر، امیر ترین اور غریب غریب ترین ہوتا جا رہا ہے دنیا کی آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے تو دوسری طرف 2 فی صد سے بھی کم افراد پوری دنیا کے وسائل پر قبضہ کرتے چلے جا رہے ہیں اور وہ یہ گرفت چھوڑنے کے بجاے مزید مستحکم کر رہے ہیں۔

بہرحال اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا کا اقتصادی نظام تجارت کی طرف بڑھ رہا ہے نئی دنیا تجارت کی ہی دنیا ہے لیکن اس میں عدم توازن کو ختم کرنے کے ساتھ احترام اور تعاون کو برقرار رکھنے کو بھی اوّلین ترجیح ملنی چاہیے ورنہ تجارت کی یہ خواہش چوتھی عالمی جنگ کا باعث بھی ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ تجارت میں اصل تنازع مارکیٹ کے حصول اور اس پر گرفت سے شروع ہوتا ہے اور جب کبھی اس میں مقابلے کی فضا بنتی ہے مفادات کو خطرات لاحق ہوتے ہیں تو ٹکراو بھی ہوتے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا ہماری نظر میں گلوبل ویلج نہیں بل کہ گلوبل مارکیٹ ہے جس میں یہ ممالک چھوٹی چھوٹی مارکیٹیں ہیں۔ جنھیں مخصوص اجارہ داریوں نے اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے بل کہ انھوں نے دروازے بند کر کے لوٹ مار شروع کر رکھی ہے جب کہ چینی تاجر نئے راستے اور نئی سڑکیں بنا کر نئے معاشی رابطے بنانا چاہتے ہیں۔ پیرس سے شنگھائی تک ریلوے لائن ہو یا کاشغر سے گوادر تک کی سڑک۔ ان سب کا بنیادی مقصد مصنوعات کے لیے مارکیٹیں حاصل کرنا ہے۔ جب مصنوعات کی ترسیل ہو گی تو ٹیکنالوجی بھی ساتھ چلے گی ہنرمندی اور مہارت بھی تقسیم ہو گی اور اجارہ داریوں کا بھی خاتمہ ہو گا… جس نے عالمی معیشت پر قبضہ کیا ہوا ہے پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کی سیاست اور معاشرت کو بھی اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے۔ چینی صدر کا یہ کہنا بجا ہے کہ بڑے ممالک چھوٹے ممالک پر اپنی مرضی ٹھونسنا بند کریں اور ان کے ساتھ برابری کا سلوک کریں… چین کے صدر نے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے عالمی سرمایہ داری نظام اور اس کے محافظوں کو انتباہ بھی کیا ہے اور چین کی مستقبل کے لیے معاشی حکمت عملی سے آگاہ بھی کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ:

عالمی تجارت کی جنگ میں کوئی فاتح نہیں بن سکے گا۔ یہ جنگ سب کے لیے تباہ کن ہو گی۔ موجودہ عالمی اقتصادی بحران ناجائز منافع اور مالیاتی بدانتظامی کا نتیجہ ہے معاشی چیلنج سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا۔ عالمی معاشی صورتِ حالات حالیہ عرصہ میں کمزور رہی ہے… (یہی بات اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں بھی کہی گئی ہے) ترقی کے حوالے سے ابھی تک نئی راہ متعین نہیں کی گئی آپ چاہیں نہ چاہیں عالمی معیشت ایک سمندر ہے جس سے آپ راہِ فرار اختیار نہیں کر سکتے۔

چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت 50 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں… امید ہے دیگر ممالک بھی چینی سرمایہ کاری کے لیے اپنے دروازے کھولیں گے۔ سست روی کا شکار عالمی معیشت کی بہتری کا حل کھلا پن اور جامعیت ہے۔

تجارتی جنگ تمام فریقین کے لیے بدترین ہو گی۔ کچھ عناصر کی طرف سے سست روی کا الزام عالمگیریت پر عائد کیا جا رہا ہے یہ عالمگیریت نہیں ہے بل کہ علاقائی تصادم کی بنا پر بہت سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ عالمگیریت دو دھاری تلوار ہے۔ عالمی معیشت سے استفادہ کرنا اس وقت ممکن نہیں جب روایتی معاشی انجن اپنی طاقت کھو رہے ہیں… چین کی تعمیر و ترقی دنیا کے لیے اس وقت سنہری موقع ہے چین دوسرے ممالک کا خیر مقدم کرے گا کہ وہ بھی اپنے مواقعوں کو دوسرے ممالک کے ساتھ شیئر کریں…

اب ذرا چینی صدر کی تقریر میں چھپے پیغامات پر غور کریں تو واضح ہو گا کہ چین نے اپنے ملک سے باہر نکل کر عالمی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے خصوصاً ایشیا کے وہ ممالک جو انسانی آبادی سے بھرے ہوئے ہیں مگر وہاں موجود وسائل کو بہتری اور فلاح کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا اسی تناظر میں گذشتہ تین چار سال میں اس کی پاکستان بھارت اور افغانستان میں سرمایہ کاری ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ ہوئی ہے اور اب وہ اس کی مزید وسعت چاہت اہے۔ ابتدائی مرحلے میں اپنی مصنوعات افریقا اور مشرقِ وسطی کی مارکیٹوں تک ترسیل کی طرف گامزن ہے اگلے مرحلے میں افریقا کے پسماندہ ممالک میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور مہارت کو بھی لے کر جائے گا جو معاشی اور معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ چین جو اب تک محض ایک معاشی اور علاقائی قوت تھی اور اسے ایشیا میں سب سے بڑا مقام حاصل تھا وہ ایک نئی عالمی اقتصادی سیاسی قوت بن کر سامنے آئے گا۔ چین کی وزارتِ خارجہ میں عالمی اقتصادی امور کے ماہر کا کہنا ہے کہ چین دنیا کی قیادت نہیں چاہتا اگر دوسرے اس پوزیشن سے پیچھے ہٹے تو چین یہ کردار ادا کرنے پر مجبور ہو جائے گا ہمیں امید ہے کہ امریکا اور یورپ دنیا کی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس تناظر میں روس کے بطور نئی اقتصادی قوت کے احیا اور ایران کی معاشی طاقت کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں یاد رہے کہ اقتصادی پابندیوں کے خاتمہ کے بعد ایران نے یورپی ممالک میں بھی سرمایہ کاری کی ہے اس نے سی پیک میں بھی سرمایہ لگانے کا عندیہ دیا ہے لیکن بعض اندرونی اور بیرونی قوتیں ہنوز پاک ایران تعلقات میں کشیدگی برقرار رکھنے میں مصروف ہیں… بہرحال دوستو حرفِ آخر کی صداقت میں ایشیا ایک نئی معاشی قوت کے طور پر سامنے آ چکا ہے اور اس نے یورپ اور امریکا کی معاشی بالادستی کو چین کی قیادت میں چیلنج کر دیا ہے۔ چین، روس، ایران اور پاکستان اس محاذ کے ’باصلاحیت‘ کھلاڑی ہیں جو میدان میں اتر چکے ہیں یہ حالات کا جبر اور وقت کی ستم ظریفی ہے کہ بھارت علاقائی بالادستی میں جس عالمی کردار کے لیے امریکی بلاک میں شامل ہوا تھا وہ ایشیائی سیاست میں تنہا ہو گیا ہے۔ لیکن بحرہند میں ملنے والی کمانڈ مستقبل میں خطرات کا باعث بھی ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ… امریکا کو جس ایشیائی معاشی بالادستی کا سامنا ہے وہ اس کی بوکھلاہٹ کو جھنجلاہٹ میں بھی تبدیل کر سکتی ہے وہ زخمی سانپ کی طرح کچھ اور نہیں تو زمین کو ڈسنے سے باز نہیں رہیگا۔ وہ دنیا کو جنگ میں بھی دھکیل سکتا ہے لیکن بہرحال ہمارے خیال میں تو چوتھی عالمی جنگ شروع ہو چکی ہے جو بالآخر بقا کی جنگ بن کر پندرہ بیس سال بعد ہی ضرور سامنے آئے گی یہ الگ بات کہ ایٹم بموں اور میزائلوں کی بارش میں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔

Views All Time
Views All Time
249
Views Today
Views Today
3
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: