Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

افسوس صد افسوس

by دسمبر 2, 2017 کالم
افسوس صد افسوس

دھرنا ختم ہوگیا ، اسلام آباد ،راولپنڈی ہی نہیں پورے ملک کے عوام خوش ہیں کہ اُن کی بیس دن تک مفلوج رہنے والی زندگی ایک بار پھر متحرک اور فعال ہوگئی ہے ۔ کس کوکیا ملا ، کس کا کتنا نقصان ہوا ، مرنے والے کون تھے اور وہ کیسے مرے بہت سارے سوال ہیں جن کا جواب چاہئے ۔ظاہر ہے ہم ایسے بے یارو مددگار لوگ ایسے سوال نہیں کر سکتے ، یہ وہ فضائیں ہیں جہاں صرف شاہین ہی اڑ سکتے ہیں یہ فاختاؤں کی فضائیں نہیں ، اُن کے تو ان فضاؤں میں اُڑنے کی سوچ کے ساتھ ہی پر جلنے لگتے ہیں۔
افسوس ، صد افسوس کہ اخبار نویسی میں چالیس سال گزرنے بلکہ اس دشت کی سیاحی میں اک عمر گزارنے پر حالت وہی ہے کہ
چھٹتی نہیں یہ کافر مُنہ کو لگی ہوئی!

خوش تو ہم بھی ہیں کہ چلو اس اذیت سے جان چھوٹ گئی لیکن کیا ہوا، کیسے ہوا، ابتدا کہاں سے ہوئی اور انجام بخیر کیسے ہوا؟ کس نے کیا کردار ادا کیا اور کون منظر پر موجود تھا۔ معاہدہ کس نے کیا اور دستخط کرنے والے کون تھے؟ 27نومبر کو صبح چھ بجے ٹی وی آن کیا  معاہدے کی خبر ٹی وی پر بریک ہورہی تھی اُس کی ’’فوٹوکاپی‘‘ بھی نشر ہورہی تھی۔ یہ دعوی اور منظر بھی ان آنکھوں نے دیکھا کہ  پانچ افراد کے دستخط تھے لیکن جب یہ معاہدہ برسرعام ہوا اس پر طبع آزمائی ہوئی تو معلوم ہوا کہ سات افراد کے دستخط ہیں یعنی حکومت کی طرف سے وزیرداخلہ اور سیکرٹری داخلہ بھی شامل ہیں جبکہ ایک اعلی فوجی افسر بطور ثالث شامل ہیں۔ یہ پانچ سے سات کیسے ہوئے اس پر غور کرنے بلکہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

اب ہم منتظر تھے کہ  دھرنا قائدین کی پریس کانفرنس ہوگی تو مزید حقائق سامنے آئیں گے۔سات بجے کے بجائے یہ منظر گیارہ بجے کے بعد دکھائی دیا ۔ دھرنا قائدین نے ایک اور معاہدے کی کاپی اخبار نویسوں میں تقسیم کی جو پنجاب حکومت اور دوسرے دھرنا فریق کے درمیان ہواتھا جس کے بارے پنجاب کے وزیر قانون جو اس معاہدے کے تحت نامزد ملزم ہیں کے خلاف علماء بورڈ فیصلہ کرے گا ان کا یہ بیان بھی نظر سے گزرا کہ اس معاہدے پر وفاقی وزیر ریلوے اور اشرف جلالی کے دستخط ہیں۔ چنانچہ یہ سوال بھی اہم تھا اور ہے کہ پنجاب حکومت کی نمائندگی وفاقی وزیر ریلوے کیسے کرسکتا ہے؟ یہ محض حسن کارکردگی اور خودنمائی کی خواہش اور کوشش تھی ۔ لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ جلالی صاحب اپنے گروپ کے ساتھ واپس پلٹ آئے ۔ یہ الگ بات اسلام آباد میں ہونے والے معاہدے کے بعد انہوں نے پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا شروع کر دیا کیوں یہ تو کوئی مہربان اور رازدان ہی بتا سکتا ہے۔
بہرحال پریس کانفرنس میں دھرنا قائدین واضح طور پر کہہ رہے تھے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے نمائندے بھیجے جن سے معاہدہ کیا گیا آرمی چیف ضامن بنے ان کے نمائندے جنرل صاحب ضامن بنے ہمارے خلاف پراپیگنڈہ کیا گیا کہ ہم کسی کے کہنے پر آئے ہیں ۔حالانکہ کچھ دن پہلے جب حکومت کی طرف سے فوج بلانے کا عندیہ دیا تھا تو اس ’’علامہ‘‘ نے واضح طو رپر کہا تھا کہ ہم فوج کے مؤقف کی تائید میں بیٹھے ہیں فوج ہمیں ہٹانے نہیں آئے گی۔یہ حسن اتفاق ہے کہ جب حکومت نے آئین کے آرٹیکل 45کے تحت حالات کی درستی کیلئے فوج کو بلایا تو آرمی چیف نے کہا کہ ہم اپنے لوگوں پر طاقت استعمال نہیں کر سکتے حکومت معاملہ مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرے ، یعنی فوج پولیس کا کردار ادا نہیں کرسکتی ۔ ہمیں تو اس پس منظر میں 77ء کی پی این اے تحریک بھی یاد آئی اور واقعات میں مماثلت کی بازگشت بھی سنائی دی ۔ ظاہر ہے اُنکا ذکر معروض میں مناسب نہیں ہم تو پہلے ہی زخم خوردہ ہیں۔
لیکن ایک وقوعہ ہے جس کو نظر انداز کرنا ممکن ہے ۔ ڈی جی رینجرز فیض آباد کا دھرنا پوائنٹ خالی کرانے کی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ جب فریقین کے درمیان معاہد ہوگیا تو وہ دور و نزدیک سے آنے والے شرکاء کو واپسی کے کرایہ کا چیک تقسیم کرتے دکھائی دیئے اور یہ چیک وصول کرنے والے اپنے چہرے سے قبائلی نوجوان لگتے تھے ۔ اب یہ سوال کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں کہ یہ نوجوان کیسے، کب اور کس وعدے پر آئے تھے۔ یا پھر انہیں واپسی کاکرایہ رینجرز ‘‘ کے کھاتے سے ادا کرنا کیوں ضروری سمجھا گیا۔ اگر یہ رقم رینجرز کے خزانہ کی نہیں تھی کسی اور کی تھی وہ شخص سامنے کیوں نہیں آیا؟اور یہ ذمہ داری میڈیا کی موجودگی میں ڈی جی رینجرز نے کیوں نبھائی ۔ اور دنیا بھر میں پاکستان کی ریاست اور مقتدر قوتوں کی رسوائی کا باعث بنے ۔ جس پر پہلی ہی انگشت نمائی ہورہی تھی ۔ لیکن کیا کیجئے کہ طاقت اور اختیار کا زعم بعض اوقات ایسی غلطیوں کا مرتکب ہوتا ہے جن کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا۔۔۔
دھرنا کیسے اور کیوں شروع ہوا ۔ اور پھر اس کو کیسے منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ کس کی جیت اور کی ہار ہوئی اُس کے موجود معاشرتی اور سیاسی نظام پر کیا اثرات مرتب ہوئے اور ابھی اس کے مابعد اثرات کیا ہونگے؟؟ بہت سارے سوالات ہیں جن کا جواب تلاش کرنے کوبہت دور تک سفر نہیں کرنا پڑے گا۔ بہت جلد یہ سب کچھ مزید کھل کر سامنے آجائے گا۔ بہت ساری چیزیں راز نہیں رہیں۔ پھر بھی اگر کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج شوکت صدیقی کے یہ ریمارکس پڑھ لیجیئے اور اپنے اذہان کے لئے تازیانہ عبرت کھلا رکھئے ۔ انہوں نے توحکومت کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ اور بھی بہت کچھ کہا ۔ ہم تو بس کچھ باتیں آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں جن پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا عدالت نے مظاہرین سے معاہدے کا نہیں فیض آباد خالی کرانے کا حکم دیا تھا۔ یہ کیا معاہدہ کیا دھرنے والوں کے سامنے سرنڈر کیا ۔ اپنی ایک بات نہیں منوائی انتظامیہ اور پولیس کو ذلیل کروا دیا دہشتگردی کی شقوں والے مقدمات کیسے ختم ہونگے ۔ ججز کو گالیاں ، معافی معاہدے میں شامل نہیں انوشہ رحمن کو بچانے کے لئے زاہد حامد کو قربانی کا بکرا بنایاگیا۔۔۔
قانون شکنی کرنے والوں اور انتظامیہ کے درمیان فوج کیسے ثالث بن سکتی ہے۔پولیس جب فیض آباد خالی کرانے کے قریب تھی تو دھرنا مظاہرین کی مدد کس نے کی۔ ان کے پاس اسلحہ ، آنسو گیس، بندوقیں اور حفاظتی ماسک کیسے پہنچے؟
فوج نے قانون توڑنے اور نافذ کرنے والو ں کے درمیان معاہدہ کرایا۔ حمزہ کیمپ کی جگہ جی ایچ کیو ہوتا تو کیا وہاں دھرنا ہوتا۔ یہ اس کا ثبوت ہے کہ ان کے پیچھے یہ لوگ ہیں۔ کیا آئین کے تحت آرمی چیف ایگزیکٹو سے الگ ہیں ۔ آئین کے تحت فوج ایگزیکٹو کاحکم ماننے کی بجائے ثالث کیسے بن سکتی ہے ؟ فوج کا میجر جنرل ثالث کیسے بنا؟ سازش کے تحت اسلام آباد انتظامیہ کو ناکام بنایا گیا۔ قوم کے ساتھ یہ تماشا کب تک چلتا رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اُن کا رد الفساد کہاں ہے کیا یہ فساد نہیں تھا۔۔۔؟؟
فوج کا یہ کردار  ہمیں قبول نہیں فوج اپنا کردار آئینی حدود میں ادا کرے ۔ جن فوجیوں کو سیاست کا شوق ہے وہ ریاست کی بندوق واپس کرے ریٹائرمنٹ لیں اور سیاست میں آئیں ، جانتا ہوں مار دیا جاؤں گا یا پھر لاپتا کر دیا جاؤں گا۔۔۔
کاش کبھی ایسا نہ ہو ایک سچے اور کھرے انسان کے ساتھ ایسا سلوک نہ ہو۔۔۔ لیکن اس معاشرے کو جس انتہا تک پہنچا دیا گیا ہے اُس میں کہیں بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ کوئی مجاہد ،نمازی بننے کیلئے کسی کو بھی دریا کے اُس پار پہنچا کر عارف اقبال بھٹی اور سلمان تاثیر کی صف میں کھڑا کرسکتا ہے۔ اور پھر ہم ایسے لوگ افسوس ہی کرتے رہیں گے ، افسوس ،،، صد افسوس کچھ لوگ شوکت صدیقی صاحب کو ابھی سے نفسیاتی مریض لکھنا اور کہنا شروع کرچکے ہیں مگر ان کے لبوں کی سچائی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ۔۔ انسانی تہذیبی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ غیرمعمولی شخصیات کچھ نہ کچھ نفسیاتی مریض ضرور ہوتے ہیں۔ اگر وہ ’’معمولی‘‘ ہوتے تو اُن سے کوئی بڑا کارنامہ نہ ہوتا۔۔۔۔

Views All Time
Views All Time
87
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: