Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

عارضی فتح

by نومبر 26, 2017 کالم
عارضی فتح
Print Friendly, PDF & Email

عدالت عظمی کے لارجر بنچ کے فیصلے کے تحت سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کسی بھی عہدے کے لئے تمام عمر کے لئے نا اہل ہوگئے تو یہ سوال بھی پیداہوا کہ وہ کسی پارٹی کے صدر بھی ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ آئین اور قانون کے ماہرین نے اس پربھی تشکیک کا اظہار کیا تو مسلم لیگ (ن) کے ارمان نے قومی اسمبلی میں ایک بل کے ذریعے قانون سازی کر کے پارٹی صدارت کا امکان واضح کیا۔ جس پر مختلف حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

تاہم اس دوران میں یو بھی ہوا کہ نوازشریف جو پہلے صرف فیصلے پر جابہ جا تنقید کررہے تھے ۔ اُن کا یہ حق آئین کے مطابق قرار دیا گیا کیونکہ جب کوئی فیصلہ آجاتاہے تو اُس پر آئین کی حدود میں رہتے ہوئے تبصرہ تجزیہ اور تنقید کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس بات کاخیال رکھا جاتا ہے کہ عدالت اور فاضل جج صاحبان پر کسی قسم کی جانبداری کا اظہار نہ ہولیکن پھر بات آگے بڑھتی چلی گئی ہے۔ بیشمار سوالات بھی اُٹھائے گئے اور فاضل جج صاحبان کا نام لئے بغیر اُن پر الزامات عائد کئے گئے ، مزید یہ بھی ہوا کہ نواز شریف کی طرف سے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی جو مسترد کر دی گئی اس استردار کا جو فیصلہ سنایا گیا وہ دو درجن صفحات پر مشتمل تھا جس میں اُن تمام سوالات کے جواب بھی وضاحت کے ساتھ دیئے گئے تھے جو اس دوران میں نواز شریف اور اُ ن کے حلقہ احباب کی طر ف سے اُٹھائے گئے تھے ۔ اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیر قانون اور آئین ماہر ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ نظرثانی کی درخواست کا فیصلہ آئینی نکات پر یس آر نو نہیں ہوتا ہے اس تفصیل میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ظاہر ہے کہ یہ ملک کی اعلی ترین عدالت اور بہترین ججوں کا فیصلہ تھا اس کو قبول کرنا اوراس کا احترام ہر کسی پر لازم تھا لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے نظرثانی کی درخواست مسترد ہونے کے بعد نواز شریف اور اُن کے حلقہ احباب کے لب و لہجہ میں مزید تلخی آگئی نواز شریف یہ واضح طور پر کہتے رہے کہ پانچ افراد 20کروڑ عوام کے فیصلے کو تبدیل نہیں کر سکتے فیصلہ عوام ہی کریں گے اُنہی کو ہی یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی کو سیاست میں رکھنا اور دیکھنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   تعلیمی ادارے یا اکھاڑے؟ -محمد اظہار الحق

یہ تلخ نوائی اور محاذ آرائی جاری تھی کہ پیپلزپارٹی نے الیکشن بل 2017ء میں ترمیم کا بل پیش کیا جو سینٹ کے بعد قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر کی طرف سے پیش کیا گیا اس پر بحث بھی ہوئی اور فریقین کی طرف سے تلخ و شیریں خیالات کا اظہار بھی کیا گیاشور شرابہ اور ہنگامہ آرائی بھی ہوئی ، سپیکرقومی اسمبلی نے رائے شماری کرائی۔ اس ترمیمی بل کی حمایت میں 98اور مخالفت میں 163 ووٹ آئے تاہم دلچسپ بات ہے کہ مستقبل کے امیدواروں کی صف میں شامل سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی نے ترمیمی بل کی حمایت کر کے واضح کیا کہ وہ نواز شریف کے پارٹی سربراہ رہنے کو پسند نہیں کرتے وہ چاہتے ہیں کہ دیگر نا اہلیوں کے ساتھ اُن کی یہ نا اہلی بھی برقرار رہے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین حسب روایت اس اہم موقع پر بھی قومی اسمبلی میں تشریف نہیں لائے البتہ انہوں نے اپنی بیان بازی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے۔ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے 163ارکان سے کہا کہ ایک مجرم کی حمایت کرنے والے ان ارکان کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئے ۔ ان لوگوں کو ترقیاتی کاموں کے لئے 94ارب پیسے کی رشوت دی گئی ہے۔
اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ارکان اسمبلی کی زیادہ سے زیادہ حاضری کو یقینی بنانے کے وزیراعظم خاقان عباسی ، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور پارٹی قائدین نے دونوں اطراف میں کوششیں ہوئی تھیں اسی بناء پر شاید اسمبلی کی چار سالہ تاریخ میں یہ دوسرا تیسرا موقع ہے کہ 261ارکان کی حاضری ہوئی پھر بھی مسلم لیگ کے کم از کم پچاس ارکان غیر حاضر رہے جس پر مخالفین کو مسلم لیگ نون کے اندر اختلافات کی نشاندہی کرنے کا موقع ملا۔ اس غیر حاضری کی تہہ تک جانے کا نواز شریف کو بھی عندیہ دینا پڑا۔
لیکن اب جبکہ نواز شریف پارٹی صدارت اپنے پاس رکھنے کا آئینی حق حاصل کر چکے ہیں ہوسکتا ہے جب یہ تحریر اشاعت میں آئے تو اس بل پر صدر مملکت کی توثیق بھی ہو جائے ، البتہ اس بات کا امکان بھی ہے کہ سید نوید قمر جو اس بل کے محرک تھے انہوں نے مشترکہ اجلاس بلانے کا عندیہ بھی دیا تھا وہ اس میں کامیاب ہو جائیں ، لیکن اگر صدر مملکت کے توثیقی دستخط ہو گئے تو پھر شاید انہیں کوئی نیا بل پیش کرنا پڑے اور نئے سرے سے اس کی تگ و دو کرناپڑے ، فی الحال تو یہی واضح ہے کہ نواز شریف اپنی پارٹی صدارت بچانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ فی الوقت جیت کس کی ہوئی ہے اور ہار کس کی ہوئی ہے ؟؟ اوراس جیت نے لب و لہجہ بھی تبدیل کیا ہے اور خوش گمانی نے تلخی میں بھی اضافہ کیا ہے۔
معروضی حالات کا تجزیہ کیا جائے تو اس بات سے انکار بھی ممکن نہیں کہ یہ عارضی فتح ہے یہ تو صرف ایک دروازے کومحفوظ بنایا گیا ہے ۔
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
نہ تو مخالف فریق ہار تسلیم کرے گا اور نہ ہی وہ دوسرے دروازوں پر حملہ آور ہونے سے پیچھے ہٹے گا۔ بدقسمتی تو یہ بھی ہے کہ قلعہ میں محصور ہو کر دفاع تو ہوسکتا ہے جوابی حملہ نہیں۔ اور پھر یہ بھی کہ دفاع کب تک ہوسکتا ہے ۔ لہذا انہیں مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئیے کہ  الیکشن بل 2017ء کے خلاف درخواست سپریم کورٹ نے سماعت کے لئے منظور کرلی ہے یہ بل پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد منظور ہوا ہے۔۔۔۔

Views All Time
Views All Time
123
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: