Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اُلٹا لٹکوتو پھر سیدھا دکھائی دے گا

by نومبر 19, 2017 کالم
اُلٹا لٹکوتو پھر سیدھا دکھائی دے گا
Print Friendly, PDF & Email

پاکستانی قوم کو جگ ہنسائی کا واسطہ دے کر. لڑائی سے دور رہنے کا مشورہ دیا جارہا ہے کیونکہ اسی میں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ ہے ۔ ذاتی بھی سیاسی بھی اور اجتماعی بھی۔کہیں ریاست کا ذکر ہے تو کہیں قومی سلامتی کا !!جس کا آج تک مجھ ایسے ان پڑھ کو یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ہم بحثیت قوم کیا ہیں اور کہاں ہیں؟ ہمارا قومی تشخص کیا ہے اور یہ قومی سلامتی کیا ہے؟ اوراس کا تحفظ بے چارے ، مجبور اور غریب عوام پر ہے لازم کیوں ہے ؟؟؟ حب الوطنی کا درس بھی اُنہی کو دیا جاتا ہے۔حالانکہ ہم نے تو یہی پڑھا سُنا اور جانا ہے کہ حب الوطنی ایک عمل اور کردار کا نام ہے۔ وہ عمل جس کا بحثیت مجموعی فائدہ عوام اور ملک یا فرد اور ریاست کو ہو۔
اب پھر یہ سوال ہے کہ . ریاست کیا ہے؟ یہ کوئی ایک شخصیت ہے یا کوئی ایک ادارہ اور پھر یہ کسی ایک ادارے کے تسلط کا نام ہے . یا پھر اس ادارے میں موجود سیاسی اور غیر سیاسی اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ ہے
اسی لئے کہ مختلف سیاسی او رمعاشی نظام کی ترقی و ترویج کے لئے لازم ہیں۔ اسی میں ایک نظام ’’پارلیمانی ‘‘ بھی ہے جس میں ہر ادارے کا اپنا اپنا معین کردار ہوتا ہے جس کو آئین تحفظ دیتا ہے ۔ یعنی آئین ہر ادارے کا کردار اور عمل متعین کرتا اور پھر اُس کی حدود اور اختیارات بھی مقرر کرتا ہے ۔۔ مقننہ ، عدلیہ اور انتظامیہ۔ یہ ٹرائیکا ہے جو وفاقی نظام کی عکاس ہوتی ہے . مقننہ اور مسلمہ اصولوں کے تحت یہی وہ ایک دو تین کی ترتیب ہے جس میں اس نظام کی ترقی و ترویج ہوتی اور پھر فرد اور ریاست کے مفادات کا تحفظ اور نگرانی ہوتی ہے. لیکن افسوس کہ ہمیں اس نظام کو دیکھنے اور سمجھنے کو اس مصرعہ کو یاد کرنا پڑرہا ہے
اُلٹا لٹکو گے تو پھر سیدھا دکھائی دے گا.

ہماری نظر میں تو یہی ہے کہ وفاقی نظام میں مختلف اکائیاں ہوتی ہیں جو اتفاق رائے سے اپنے لئے وفاق بناتیں اور پھر یہ وفاق ان اکائیوں کے سیاسی اور معاشی ، تہذیبی اور ثقافتی ، معاشرتی اور تاریخی اقدار و روایات کا تحفظ اور نگرانی کا فریضہ انجام دیتا ہے ۔یہاں بھی معاملہ اُلٹا لٹکنے والا ہے ۔ وفاق نظر آتا ہے او رنہ ہی کوئی اکائی ، سب اکائیاں اپنے اپنے حقوق اور شناخت کی جدوجہد میں مصروف ہیں بلکہ ہنر مندی تو یہ ہے کہ. اس جدوجہد کو بھی باہمی چپقلش کا روپ دے دیا گیا ہے . تاکہ اصل حقائق کی طرف توجہ مرکوز نہ ہو نہ کسی کا اختیا رچیلنج ہو اور نہ ہی کسی کے تسلط پر کسی کی اُنگلی اُٹھے۔مزید بدقسمتی کہ وہ جو کچھ دیکھنے ، سوچنے ، کہنے اور لکھنے کی بصیرت اور بصارت رکھتے ہیں ، نوک قلم پر لہو کی سیاہی بھی ہے،. انہیں کنفیوژن میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بلکہ انہیں بھی مفادات کے شکنجے میں جکڑ کر آدھے چوتھائی سچ پر اکتفا کی ترغیب دیدی گئی ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا اور اُس پر موجود دانش کی راکھ اُڑانے والے محض شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کے کچھ بھی تو نہیں کررہے اور پھر اُس میں فواد چودھری ، شیخ رشید ، طلال چودھری اور دانیال عزیز جیسے بھونپو وہ لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں کہ کچھ نظر آتا ہوا بھی دھند کی لپیٹ میں آجاتا ہے ہمیں تو ذاتی طور پر یہ ادراک بھی ہے کہ یہ وہ ملازم ہیں پہلے کی طرح آئندہ سیاسی انتظام میں بھی اسی تنخواہ پر کام کریں گے۔ کوئی آئے کوئی جائے کچھ فرق نہیں پڑتا . یہ کسی سیاسی جماعت یا ادارے کے نہیں ریاست کے ملازم ہیں انہیں کوئی ملازمت سے نکال نہیں سکتا ، البتہ ریاست اُن کا تبادلہ کسی اور محکمے یا ادارے میں کرسکتی ہے . اور یہ وہاں اپنے فرائض تن دہی سے انجام دیں گے. اس لئے کچھ زیادہ پریشانی کی بات نہیں ، بلکہ اگر سابق وزیرخارجہ سردار آصف احمد علی دوبارہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں. تو اس پر بھی حیران ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اسی کانام تو حب الوطنی ہے . اور یہ حب الوطنی کا تقاضا ہے جو ادھر اُدھر لپکنے اور جھپٹنے پر مجبور کرتا ہے. بات کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں پہنچ گئی… سچ تو یہ ہے کہ جب بہت کچھ سامنے ہو، فضاؤں میں گردش دوراں کی گونج ہو تو پھر کچھ بھی واضح سنائی نہیں دیتا ۔ الجھن ہی الجھن ہوتی ہے۔ کیاسنیں اور کیا کہیں ،شاید یہی تو پس پردہ محرکات او راُس کے مقاصد ہیں . ہم بھی اُسی کی گرفت میں ہیں. ویسے تو یہ بہت پرانا سیاسی فلسفہ پاکستان میں مشہور ہے لیکن جب بھی حب الوطنی اور قومی سلامتی کے تقاضے نمایاں ہوکر تبدیلی کو ناگزیر قرار دیتے ہیں. تو یہ تشہیر لازم ہو جاتی ہے کہ پاکستان کے معاشرتی ماحول اور ا جتماعی سیاسی فکر کے لئے جمہوریت مناسب نہیں یا پھر کم ا ز کم مادر پدر آزاد ، جمہوری فضا تو کسی طور مناسب و موزوں نہیں اس پر کوئی نہ کوئی چیک ہونا چاہئے ، رہا عوام کا احتسابی کردار تو یہ غربت اور جہالت کی موجودگی میں قابل اعتبار نہیں اسی لئے تو یہ فریضہ آئین اور قانون کے محافظ ادارے کو ادا کرنا پڑتا ہے . اس مملکت خداداد میں سیاستدانوں نے اپنا صحیح کردار ادا نہیں کیا وہی تو تمام خرابی کی قوت متحرکہ ہیں باقی سب اچھا ہی اچھا ہے . اور پھر یہ بھی کہ اگر عوام اپنا جمہوری کردار ادا کرتے تویہ ضرورت محسوس نہ ہوتی. یہ سب نظام کی خرابی ہے اور یہ نظام پاکستان اور اُس کے عوام کیلئے مناسب نہیں ہے ، لہذا اس میں تبدیلی ناگزیر ہے.
ویسے سوچنے کی بات ہے کہ ہر پانچ دس سال بعد پاکستان میں ہی تبدیلی کی بات کیوں ہوتی ہے… حالانکہ پس پردہ حقائق میں تو یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ یہاں ’’جمہوریت بی بی‘‘ کبھی آئی نہیں یہ تو اُس کی کوئی کنیز ہوتی ہے جس کو ’’جمہوریت بی بی ‘‘ کے کپڑے پہنا کر سامنے کر دیا جاتا ہے او رہمارے ’’جمہوری دیوانے‘‘ اُس کے ارد گرد رقص کرنے لگتے ہیں ہمیں تو جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے ارشادات عالیہ آج بھی یاد ہیں انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا تھا مغربی جمہوریت پاکستان کے عوام کے لئے مناسب نہیں( انہیں ایک نئی جمہوریت کی ضرورت ہے جس میں اداروں کے کردار کا نئے سرے سے تعین ہو ) یعنی پھر کسی کو یہ کہنے کی جرات نہ ہو اُلٹا لٹکو گے تو سیدھا دکھائی دے گا….

Views All Time
Views All Time
206
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ن لیگی محبوبہ کا انصافی محبوب کو آخری خط
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: