Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو

by نومبر 16, 2017 کالم
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو
Print Friendly, PDF & Email

ایک دن کی شادی اور پھر طلاق کے باوجود ابھی یہ سوال فضاؤں میں موجود تھا کہ میاں کون ہے اور بیوی کون؟ بلکہ شوہر کا اعزاز کس کے پاس تھا اور بیوی بن کر گھریلو فرائض کس نے ادا کرنا تھے ۔ سہاگ رات کہاں منائی گئی ابھی ولیمے کی رسم بھی ادا نہیں ہوئی تھی کہ ایک طرف کے عزیز و اقارب نے اس شادی کو ناجائز قرار دے دیا ۔ وقتی دولہا کو علیحدگی کے ساتھ خاندانی نظام سے بھی دوری کا اعلان کرنا پڑا ۔ شرافت سے خاموشی سے علیحدگی ہوجاتی تو شاید سرپرستوں اور بڑے بوڑھوں جنہوں نے اس شادی کا اہتمام کیاتھا انہیں بھی اس ہزیمت کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔۔ لیکن کیا کیجئے کہ دولہا دلہن ہی کم ظرف ہوں انہیں ضرورت سے زیادہ اہمیت حاصل ہوگئی تو پھر اس کا نتیجہ تو ایسا ہی برآمد ہوگا۔۔۔
اب اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ کوئی لو میرج نہیں تھی یہ ارینج میرج تھی اس میں دونوں طرف کے معززین شامل تھے اور انہوں نے ہی اس کو ارینج میرج بنایا تھا۔ لیکن وہ جنہیں اہمیت نہیں دی گئی ،جنہیں نکاح کے موقع پر بلایا نہیں گیا انہوں نے روایتی شریکے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا جہیز اچھا نہیں ، دلہن کا جوڑا بھی اچھا نہیں ، شادی ہال کا کھانا بھی اچھا نہیں تھا اس لئے ہم نہیں مانتے۔ لہذا دولہا کو طلاق بھی دینا پڑی اور اپنے اُن خاندان والوں سے بھی انکار کرنا پڑا جو اس شادی کے انتظامات میں بھی شامل تھے ،نکاح نامہ سامنے آنے کے بعد تو اب کوئی چیز چھپی نہیں رہی کہ فریقین میں کتنا جہیز طے ہواتھا ۔ دلہن کیلئے ماہانہ خرچہ کیا ہوگا۔ دلہا کے گواہ اور ضامن کون ہیں اور دلہن کے کون۔۔۔ وہ نکاح خواں کون ہے اور اُس کے معاون کون ہے جس نے نکاح نامہ یا پھر فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدہ کو تحریرکیا ۔ لیکن افسوس صرف ایک دن کی شادی کے بعد میاں بیوی سوتنوں کی طرح لڑنا شروع ہوگئے۔۔۔
دیہات میں خانہ بدوشوں کا ایک قبیلہ ہوتا تھا اُن کے درمیان لڑائی میں الزام تراشی او ردشنام طرازی صبح و شام جاری رہتی۔ شام کو وہ ایک ٹوکری کو اُلٹا کر یہ لڑائی بند کرتے اور صبح پھر اس کا نئی توانائی اور قوت کے ساتھ آغاز کرتے یہ لڑائی ہفتوں جارہی رہتی ان کے گھروں کے سامنے سے گزرنے والا ہر کوئی اس سے لطف اُٹھاتا ۔ ایک اورلڑائی کا منظر بھی یقیناًاس پس منظر میں اہم ہوسکتا ہے ۔ یہ کچھ دہائیاں پہلے کی بات ہے جب طوائفوں کے باقاعدہ کوٹھی خانے ہوا کرتے تھے ۔ دو طوائفوں کے درمیان جب کبھی لڑائی ہوتی تھی الزام تراشی میں بھی تفاخرہوتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ تمہارے ہاں لچے لفنگے ، کمینے لوگ آتے ہیں، میرے ہاں شرفا اور معززین کی آمد ہوتی ہے ۔یہ تو جملہ ہائے معترضہ تھے لیکن صد افسوس کہ سوتنوں یا میاں بیوی کا اس لڑائی میں شرفا کی شرافت پر جس طرح انگلی اٹھائی گئی ہے وہ کسی بھی طرح قابل تحسین نہیں ۔ اسی لئے تو کہا جاتا ہے خاندانی لوگ خاندانی ہوتے ہیں۔ انہیں ورثے میں جو سیاسی جہیز ملتے ہیں وہی تو اپنا ظہور کرتے ہیں حالیہ لڑائی میں دونوں طرف سے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی گئی۔
علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے فاروق ستار نے اپنی رابطہ کمیٹی کے ان ارکان کا تذکرہ بھی کیا جو اس معاہدے میں شامل تھے یا پھر جنہیں تمام معاملات کا پتہ تھا ۔۔ اور اُن میں سے اکثر اس وقت آئے جب انہوں نے صرف علیحدگی کا ہی نہیں خاندانی نظام سے ہی کنارہ کا اعلان کر دیا جس کو ایم کیو ایم کے بانی کی روایت سے منسلک کیا گیا۔ انہوں نے مصطفیٰ کمال بھائی پر تابڑ توڑحملے کئے لیکن انیس قائم خانی کے بارے نرم گوشہ رکھا۔ یہ تو ایم کیو ایم بلکہ کراچی کی سیاست کامعاملہ ہے لیکن اس سارے ہنگامے میں دو اہم باتیں تھیں جن کی بازگشت بعد میں بھی سنائی دیتی رہی۔
اول تو ان کی لینڈ کروزر جو دوستوں کے تعادن سے ملی اور سترہ لاکھ کی ابھی تک معاملہ اور اس پر مصطفی کمال پر حملہ کہ وہ بتائیں کہ انہیں گھر کہاں سے ملا ہے اور اُن کی ساڑھے تین کروڑ کی لینڈ کروزر کہاں سے آئی ہے اس لینڈ کروزری سیاست سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں۔ ہمارے نزدیک اہم ترین بات وہ ہے جس میں فاروق ستار نے گذشتہ چھ ماہ سے رابطوں کی تصدیق کی اور پھر ڈی جی ایم آئی ، ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیراعظم کو خط بھیجنے کی بات کی۔۔۔ کیوں؟؟ اس سوال کا جواب فضاؤں میں اڑتی ہوئی آوازوں سے ابھی تلاش ہورہا تھا کہ مصطفیٰ کمال نے جوابی وار کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ فاروق ستار اسٹیبشلمنٹ کے ایجنٹ ہیں ایم کیو ایم کا مطلب لوٹنا ، کھانا اور کمانا ہے ۔ اور پھر فردا ََفرداََ کئی اہم رہنماؤں کا کچا چٹھا بیان کر دیا۔
دلچسپ تو نہیں مگر فکر انگیز بات ہے کہ فاروق ستار صاحب نے ریاستی اداروں کے سربراہان کو خط لکھنے کی بات کہی اور مصطفی ٰکمال نے اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ قرار دیا اس سے بظاہر کوئی بات چھپی نہیں لگتی سب کچھ عیاس ہے البتہ ہم جیسے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ۔۔۔ یہ دوستی ہے یا دشمنی ؟؟
لال حویلی کے تنہا وارث او رمکین ، دربان اور خود ساختہ ترجمان کایہ بیان تو ریکارڈ پر ہے کہ سیاستدانوں کی اکثریت ایک ہی نرسری کی تیار کردہ ہے ۔ اور وہ خود بھی پیر پگاڑہ مرحوم کی طرح برملا محبت اور وارفتگی کااظہار کرتے ہیں بقول شخصے آجکل وہ تحریک انصاف نامی فلم کے ہدایتکار ہیں۔ اور یہ اسی ہدایت کا ہی نتیجہ تھا 2014ء کے دھرنا میں اس ملک کے اکیلے معصوم ،پاکباز اور فرشتہ سیرت راہنما ’’ ایمپائر ایمپائر پکارتے رہے لیکن ظاہر ہے تھرڈ ایمپائر براہ راست کوئی فیصلہ نہیں سُنا سکتا۔ انگلی گراؤنڈ ایمپائر کو ہی اُٹھانا ہوتی ہے ۔ لیکن اُن کی صداؤں سے عوام کو ’’تھرڈ ایمپائر‘‘ کی اہمیت کا ایک بار پھر اندازہ ہوگیا یہ الگ بات کہ تھرڈ ایمپائر نے جدید ترین ٹیکنالوجی کی موجودگی میں گراؤنڈ ایمپائر کو کوئی فیصلہ بلکہ ’’ناٹ آؤٹ‘‘ کا ہی فیصلہ دنیا پڑا۔ اگر یہ ناٹ آؤٹ نہ ہوتا۔۔۔ تو شاید یہ نوبت یہاں تک نہ آئی۔۔ یا پھر پانامہ لے کر عدالت عظمی نہ جانا پڑتا ۔ پیپلزپارٹی والے آوازیں دیتے رہے کہ عدالت نہیں پارلیمنٹ آؤ۔ مگر کسی نے پارلیمنٹ کی کوئی پرواہ نہیں کی اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جس نے آئین اور قانون کی بالادستی کی روایت کاچراغ روشن رکھا۔ حیرانی کی بات ہے حکومتی وزراء اور مشیر سازش کی بات کرتے رہے بلکہ اب بھی جب کھیل ختم ہوگیا ۔ نا اہلی کے بعد کچھ اور مقدمے انصاف کے متقاضی ہیں۔ سازش کی بات تو ہوتی رہی مگر سازشی کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔ یہی تو آداب محفل ہے اور یہی خاندانی نظام کی روایت کہ ، بیوی شوہر کا نام نہیں لیتی لیکن کراچی والے تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ اس لئے ذاتی لڑائی میں سوتیانہ پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ کچھ کررہے ہیں جو کسی جو کسی بھی طرح مناسب نہیں یہ دوستی نہیں دشمنی ہے ۔ یہ احسان مندی نہیں بلکہ محسن کو بدنام اور رسوا کرنا ہے۔

Views All Time
Views All Time
320
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی - حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: