Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

این آر او کی بازگشت | اکرم شیخ – قلم کار

by نومبر 7, 2017 کالم
این آر او کی بازگشت | اکرم شیخ – قلم کار
Print Friendly, PDF & Email

اس عہدِ آشوب میں ہمارے سیاستدانوں سے بڑھ کر کوئی بھی خواہشوں کا اسیر نہیں ۔عوام بے چارے روٹی روزگار کی الجھنوں میں جکڑے ہوئے ہیں تو انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ ہر چودہ ہزار افراد روزانہ غربت کی لکیر سے نیچے لڑھک جاتے ہیں، ایک ہزار افراد روزانہ بلڈ پریشر اور شوگر کی بیماریوں کے باعث فالج کا شکارہوتے ہیں،۔ اُن میں سے تین سوسے زائد لقمہ اجل بن جاتے ہیں تو کیاہوا ، اورنج ٹرین اور موٹرویزکا سامان تو ہور ہا ہے ۔ ہسپتالوں میں دوائیاں اور بستر نہیں خواتین اگر سڑکوں پر بچوں کو جنم دے رہی ہیں تو یہ بھی کوئی پریشان کن امر نہیں سی پیک تو آگے بڑھ رہا ہے وہ دن دور نہیں جب ترقی اور خوشحالی ہر گھر کے دورازے پر دستک دے گی ، غربت ، مفلسی ، بے بسی اور لاچاری کاکہیں کوئی منظر باقی نہیں رہے گا۔ یہ ایک طرف کا بیانیہ ہے تو دوسری طرف بس پانامہ اور اُس کا فیصلہ ہے۔ وزیراعظم کی نااہلی پر جشن کا سماں ہے ۔ مگر بات یہیں تک ہی نہیں ، ایک خاندان کو پس دیوار زنداں دیکھنے یا پھر سیاسی میدان سے خارج ہونے کی آرزو میں کسی اخلاقی روایت کا کوئی احترام باقی رہا ہے اور نہ ہی آئین اور قانونی تقاضوں کی بالادستی کاکوئی عملی مظاہرہ ہے ، الزام تراشی پر دشنام کی گرفت ہے اور پھر بدقسمتی کہ مقتدر قوتوں کی خودساختہ ترجمانی اور حفاظت کے وہ دعوے ہیں کہ کسی سچائی پر یقین کرنا بھی مشکل ہورہا ہے متاثرہ یا مخالف فریق کو نشانہ بناتے ہوئے یہ خیال بھی نہیں کیا جاتا کہ اس سے غیر جانبدار ادارے بھی متاثر ہورہے ہیں اُن کا کردار بھی مشکوک ہورہا ہے۔۔۔ اب جب کوئی سیاست دان یا سیاسی جماعت یہ کہے گی کہ اگر فلاں نے عدلیہ پر حملہ کیا ، اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی تو اُس کی حفاظت ہم کریں گے، گویا وہ ادارے کمزور ہیں خود اُن کو آئینی اور قانونی تحفظ حاصل نہیں وہ اپنی حفاظت خود کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ انہیں اِن جیسے بے زمین اورہواؤں میں اُڑنے والے سیاستدانوں کی مدد درکار ہے ۔بہرحال یہ بات الگ بھی ہے منسلک بھی ۔ لیکن آج کل ایک اور معاملہ شدت کے ساتھ عوام او رمیڈیا کی زبان پر ہے۔
ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے برملا یہ کہا جاتا تھا کہ این آر او نہیں ہونے دیں گے اگر ہوا تو اس کی بھر پور مزاحمت کریں گے ،لیکن کسی نے یہ بتانا ضروری نہیں سمجھا یہ انتباہ کس کے لئے ہے ۔ دوسرا فریق کون ہے اور اس کا اختیار کس کے پاس ہے اور کون اس بنیاد پر نااہل قرار دے دیا ۔ نیب کو ریفرنس داخل کرنے کی ہدایت کی اور ایک فاضل جج کو ان کی مانیٹرنگ پر بھی مقرر کر دیا ۔ نیب نے ریفرنس بھی احتساب عدالت میں پیش کردیئے عدالت نے کارروائی بھی شروع کر دی سابق وزیراعظم اور اُن کا خاندان بھی پیش ہونے لگا۔ اگرچہ متاثرہ خاندان کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک ہی جیسے ریفرنسز کی مشترکہ سماعت کی ہدایت بھی کردی ہے لیکن اُدھر ایک اور تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ سابق وزیراعظم کے موقف میں کوئی واضح تبدیلی نہیں آئی تاہم اتنا ضرور ہوا ہے کہ وہ جو لب و لہجہ میں تلخی اور جارحیت تھی اُس لفظوں کے استعمال میں احتیاط اور تدبر کا مظاہرہ ہونے لگا ہے لیکن ہمارے کچھ مخصوص سیاستدانوں نے اس پر بیانیہ دینا شروع کر دیا ہے کہ سابق وزیراعظم این آر او چاہتے ہیں۔ لیکن یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ اہم ہے این آر او کا اختیار کس کے پاس ہے اور وہ کون ہے جو اس سے پہلے بھی ’’این آر او‘‘ کرتا رہاہے۔ فوری تبصرہ میں تو یہ کہنا برحق ہے کہ
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو!
یہ نہ تو دوستی ہے ا ور نہ ہمدردی ، یہ بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں ۔ اس لئے لوگ کہتے ہیں بیوقوف دوست سے عقلمند دشمن اچھا ہے بہرحال اب ذرا تاریخ کا تجزیہ کریں تو یہ کہانی تو پہلے مارشل لاء سے شروع ہوئی ہے ایوب حان کو عوام کی حمایت کے لئے سیاستدانوں کو شریک اقتدار کرنا پڑا تھا پھریہی بات جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں بھی سامنے آئی او رپرویزمشرف کو بھی قاف لیگ کے ساتھ پیپلزپارٹی سے محب الوطن تلاش کرنا پڑے تھے کیا یہ این آر او نہیں تھا ؟؟ لیکن پھر بھی یہ سمجھنے کی کوشش کیجئے کہ اس این آر او کا اختیار کس کے پاس تھا اور وہ کون تھا جس کو اس کی ضرورت تھی؟؟ یہ الگ بات کہ اس این آ راو کو بھی بین الاقوامی قوتوں نے مقبول نہیں کیاتھا جس کی بناء پر ایک اور این آر او ناگزیر ٹھہرا ۔۔۔ لیکن اس این آر او کو پاپولر سیاسی قوت کو لازم قرار دیا گیا۔۔۔
تاریخ کے طالب علموں کو یاد ہوگا کہ جنرل پرویز مشرف اور پیپلزپارٹی کی شہید قائد محترمہ بینظیر بھٹو کے درمیان جو این آر او ہوا تھا اُس کی ضامن بھی بین الاقوامی قوتیں تھیں ۔ جنہیں پاکستان میں مفاہمتی سیاست کے ساتھ جمہوریت کی ضرورت تھی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس این آر او کا سب سے زیادہ فائدہ ایم کیو ایم کے ہزاروں پس زنداں کارکنوں کو ہوا وہ ایم کیو ایم جو گستاخیوں کے باعث آج کل پھر زد میں ہے اُس میں واضح تقسیم ہورہی ہے تو کراچی کی سیاسی قیادت کیلئے جنرل مشرف کی واپسی کی قیاس آرائیاں ہیں۔ آگے آگے دیکھئے کا تیزی سے بدلتا ہوا منظر نامہ ہے لیکن بہرحال اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اس این آر او سے پیپلزپارٹی اور نواز شریف کو بھی فائدہ ہوا بلکہ اُن کی واپسی اور تیسری بار وزیراعظم بننے کے امکانات واضح ہوئے۔ یہ الگ بات کہ پس پردہ ترجیحات اپنی جگہ پر متحرک رہیں پہلے محترمہ بینظیر بھٹو کو منظر سے ہٹایا گیا ، اور پھر نواز شریف کو عدالت کے ذریعہ نا اہل قرار دیا گیا ، اسے نواز شریف کی خوش قسمتی کہیں یا پھر پالیسی سازوں کی مجبوری کہ نوازشریف صرف احتساب کے شکنجے میں آئے ہیں اُن کو کسی بڑے تیر کا نشانہ نہیں بنایا گیا ۔ پھر بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس دوران وہ بیگم کی عیادت کیلئے برطانیہ بھی جاتے رہے ہیں اور گذشتہ دنوں وہ والدہ کے ساتھ سعودی عرب بھی عمرہ کیلئے گئے ، وہاں مقررہ وقت سے زیادہ قیام ہی پاکستان میں قیاس آرائیوں کا متحرک بنا اور اُن کے مخالف کیمپ کو این آر او کا شور برپا کرنے کا موقع ملا ۔مزید یہ کہ وہ وہیں سے پاکستان آنے کے بعد واپس برطانیہ چلے گئے تو یہاں سے مسلم لیگ کی اہم شخصیات اور وزیراعظم پاکستان بھی ہنگامی بنیادوں پر وہاں پہنچ گئے ، ہمارے میڈیا نے پس پردہ قوتوں سے مفاہمی کوششوں کی خبریں بھی جاری کیں اور یہ اندازہ بھی لگایا کہ نواز شریف کے جو بین الاقوامی رابطے ہوئے ہیں اُن کے اشتراک سے نئی حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔ یہ الگ بات کہ نواز شریف کے بیانات سے جب سیاسی رویے میں تبدیلی اور مائنس ون فارمولا قبول نہ کرنے کا واضح عندیہ دیا گیا تو اس کو این آر او کی ایک اور کوشش قراردیا گیا۔ اگرچہ این آر او کے دوسرے فریق کی پھر بھی نشاندہی نہیں کی گئی لیکن سمجھنے والے اشارہ سمجھ گئے کہ انگلی کس طرف اٹھی ہوئی ہے اور پس بیان کون ہے ۔ اگر کوئی پھر بھی یہ کہتا ہے کہ دوستی نہیں دشمنی ہے تو ہم ایسے لوگ یہ کیوں نہ سمجھیں ، یہی تو وفاداری ہے۔۔۔۔

Views All Time
Views All Time
127
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   اخلاص اور اخلاق
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: