پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات اور تجارت | اکرم شیخ

Print Friendly, PDF & Email

اپنا اپنا مشاہدہ اور تجربہ ہے اپنا اپنا نقطہ نظر ہے سوات میں ہونے والی بغاوت کو کچلنے میں پاکستان کی مسلح افواج نے ہی بنیادی کردار ادا کیا تھا طاقت کا جواب طاقت سے ہی دیا جاسکتا تھا لیکن اس کا کریڈٹ اُس وقت کی سول حکومت لیتی رہی بلکہ آج بھی سابق صدر پاکستان آصف زرداری بڑی شان سے تذکرہ کرتے ہیں ، آپریشن ضرب عضب ہو یا آپریشن رد الفساد بلاشبہ یہ ذمہ داری فوج نے ادا کرنا تھی اور اُسی نے ہی ادا کی ہے چھ ہزار سے زائد جوانوں اور افسروں کی قربانیوں کا کریڈٹ بھی اُسی ادارے کے پاس ہے یہ الگ بات کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کی زد میں تیس ہزار سے زائد معصوم او ربے گناہ پاکستانی خواتین و حضرات بچے او بوڑھے بھی آئے جن کی قربانیاں بھی لائق تحسین ہیں کریڈٹ تو بہرحال اُس ادارے کا ہے جو صف اول میں تھا اور اُس کی قیادت بھی کررہا تھا .. اب بھی جو کچھ ہورہا ہے مزید ہونے والا ہے سیاسی سفارتی اور دفاعی سطح پر جو تبدیلیاں آنے والی ہیں وہ بھی اسی ادارے کی مرہون منت ہیں. سیاسی اور سول قیادتیں تو مفاہمت او رمذاکرات کی راہ پر چل رہی تھیں 249. لیکن ظاہر ہے لاتوں کے بھوت باتوں سے ماننے والے نہیں تھے اس لیے اینٹ کا جواب پتھر سے دینا لازم ٹھہرا تو یہ کام اُس نے کیا جس کے ہاتھ میں پتھر تھا…
ویسے بھی سول حکومتوں اور سیاستدانوں کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں وہ اپنی ترجیحات کے مطابق پیش رفت کرتے ہیں بلکہ اکثر تو وقت اور حالات کے جبر میں اپنا موقف تبدیل کرتے رہتے ہیں بہترین سیاستدان وہی ہوتا ہے جو معروض میں ایشوز کی بات کرتا ہے اور اُس کے مطابق بیان بازی کرتا ہے سیاسی جماعتیں بھی اسی نہج میں آگے بڑھتی ہیں کبھی وہ فرنٹ فٹ پر ہوتی ہیں تو کبھی بیک فٹ پر کھیلتی ہیں .. نواز شریف حکومت تاجروں کی تھی اس لئے اُس کا مطمع نظر بھی تجارت کا فروغ اور ہمسائیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بہتری تھا اس پس منظر میں وہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہتی تھی… یہ کوئی حالیہ حکومت کی خواہش اور کوشش نہیں تھی بلکہ ماضی میں بھی اس سلسلے میں بعض عملی اقدامات ہوئے تھے انہی کے دوسرے دور میں بھارت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی بس پر بیٹھ کر لاہور آئے تھے باہم تجارت کے ساتھ عوامی رابطوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا تھا .واجپائی کی آمد پر مقتدر قوتیں خوش نہیں تھیں لاہور میں قاضی حسین احمد کی قیادت میں جماعت اسلامی نے احتجاج بھی کیا تھا اُس کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کی موجودگی میں تعلقات کی بہتری کا کوئی جواز نہیں ہے . یہ الگ بات کہ جنرل مشرف کے دور میں دونوں ملکوں کے دوران میں بیک ڈور ڈپلومیسی بھی شروع ہوئی اُس وقت کی بعض اطلاعات میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ دونوں ملک مسئلہ کشمیر کے قابل قبول حل تک پہنچ گئے تھے . لیکن ہر دو ا طراف کی پس پردہ قوتوں نے اپنے اپنے تحفظات کی بنا پر پیش رفت نہیں ہونے دی … ہمارے ہاں یہ تاثر بھی نمایاں ہوا کہ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کا اپنا کوئی سیاسی حلقہ انتخاب نہیں تھا وہ بھی شوکت عزیز کی طرح درآمد ہوئے تھے اس لئے وہ کوئی بڑا فیصلہ کرنے کی جرات نہیں کر سکتے . کچھ ایسا ہی تاثر ہندوستان اخباری حلقوں میں تھااس تناظر میں ایک مضمون بھی نظر سے گزرا تھا جس میں کہا گیا تھا . جنرل مشرف پوری طرح تیار ہو چکے تھے لیکن اس کے خلاف عدلیہ تحریک شروع ہو گئی جس سے وہ بتدریج کمزور ہوتے گئے اور کوئی فیصلہ نہ کرسکے ، مزید یہ کہ انہیں این آراو بھی کرنا پڑا او رانتخابات کروا کے حکومت پیپلزپارٹی کے حوالے کرنا پڑی بلکہ خود بھی صدارت سے علیحدہ ہونا پڑا … ویسے اس پس منظر میں تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے انٹرنیشنل مافیا دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کا خاتمہ نہیں چاہتا تھا . وہ دونوں ملکوں کو اپنے اپنے مفادات کے لئے استعمال بھی کرنا چاہتا تھا اور انہیں منڈیوں کی صورت برقرار رکھنا چاہتا تھا تاکہ اُن کے اسلحہ کی فروخت ہوتی رہے.
بہرحال یہ بھی حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے جنرل مشرف نے جو خطوط مرتب کئے تھے ان کی بنیاد پر وزیراعظم گیلانی مبینہ طور پر شرم الشیخ بھی گئے تھے اور چندی گڑھ کرکٹ میچ دیکھنے بھی پہنچے تھے مگر من موہن سنگھ ثابت قدمی کا مظاہرہ نہیں کرسکے تھے تو ادھر عدالت عظمیٰ نے پیپلزپارٹی کی حکومت کو چین نہیں لینے دیا بلکہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت میں سزا سنا کر نا اہل کردیا..
بہرحال… واجپائی لاہور آئے تو سفارتی روایت کے مطابق عسکری قیادت نے پروٹوکول نہیں دیا تھا اس کے بعد کارگل میں محاذ آرائی شروع ہوگئی تھی جو بلآخر نواز شریف حکومت کی برطرفی کی ایک وجہ بنی .. یاد رہے کہ 97ء کے انتخابات کے بعد نواز شریف برملا کہتے تھے کہ انہیں ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کا مینڈیٹ حاصل ہوا ہے اب کی بار وہ خاصے محتاط تھے وہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے خواہشمند تھے مگر انہوں نے کسی گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ اپنی تمام توجہ سی پیک پر محدود رکھی جس کو مقتدر قوتوں کی حمایت اور سرپرستی تو حاصل تھی مگر بعض معاملات پر مکمل اتفاق رائے نہیں تھا . سی پیک کے ساتھ انہیں مقابل قوتوں حصوصا افغانستان میں امریکی مفادات کا بھی احساس تھا اسی بنا پر وہ وسطی ایشیاء کی مخصوص ریاستوں کا وقتا فوقتا دورے بھی کرتے رہے اور تیل گیس پائپ لائنیں بچھانے کے ایم او یوز بھی سائن کرتے رہے جبکہ وزیر خزانہ اسحق ڈار نے افغان حکام کی مشاورت سے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون او رتجارتی تعلقات کے فروغ کے لئے ایک 42نکاتی پروگرام بھی بنایا . جو بوجوہ آگے نہیں بڑھ سکا .. اس کے نتیجہ میں افغانستان کے لئے پاکستان کی برآمدات دو ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں جو ایک بار پھر نیچے آگئی ہیں بلکہ وہ مصنوعات جو پاکستان سے ترسیل ہورہی تھیں وہ بھارت سے درآمد ہونا شروع ہوگئی ہں . جو بھارت نواز اور کٹھ پتلی امریکی حکومت کی ’’پاکستان دشمن‘‘ پالیسیوں کا ایک پہلو بھی ہے. پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت اور سرپرستی کے الزامات بھی عائد ہوتے ہیں جن کا ازالہ اب دونوں ملکوں کی مفاہمت اور مشاورت سے ہورہا ہے . لیکن اس بات میں پھر بھی کوئی شبہ نہیں کہ دونوں ملکوں میں اعتماد کی کمی ہے اور بعض علاقائی اور بین الاقوامی قوتیں بھی اعتماد اوریقین کی فضا کو بہترین اور خوشگوار نہیں دیکھنا چاہتیں یہ الگ بات کہ اس کے بغیر دونوں ملکوں میں استحکام اور امن نہیں ہو سکتا….

Views All Time
Views All Time
370
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   طورخم بارڈر پر ٹھاہ ٹھوں ۔۔۔ پسِ پردہ کیا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: