چوتھی عالمی جنگ کا آغاز 1 – اکرم شیخ

Print Friendly, PDF & Email

میڈیائی دانش وروں، صحافیوں سیاسی اور غیر سیاسی تجزیہ کاروں کو عدالت کے اندر فاضل ججوں کے ریمارکس اور عدالت سے باہر ہونے والی انپڑھ اور جاہل سیاستدانوں کی الزام تراشی اور بکواس کے سوا کچھ بھی ریٹنگ کے لیے ’مناسب‘ نہیں دکھائی دیتا۔ ایک نقطہ نظر ہے جو کچھ بصیرت اور بصارت میں آتا ہے اسی پر بات ہو گی اور وہی حرفِ آخر یا پھر جس کی تدریس ہو گی یا پھر جو کچھ سنایا جائے گا وہی زیر بحث بھی لایا جائے گا… پاکستان کے تمام اخبارات نے ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدئہ صدارت سنبھالنے پر صرف ایک ہی بات کو ’شہ سرخی‘ بنایا ہے:

’’اسلامی دہشت گردی کو دنیا سے ختم کر دیں گے‘‘

دوسرا یہ کہ… اس کے عہدہ سنبھالنے کے موقع پر نہ صرف امریکا خصوصاً وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرے ہوئے بل کہ بہت سے ممالک میں بھی احتجاج ہوا۔ لیکن ہمارے میڈیائی دانش وروں نے اس امر کی واضح نشاندہی نہیں کی کہ باہر مظاہرے ہو رہے تھے تو اندر تقریب حلف برداری اور انتقالِ اقتدار ہو رہا تھا۔ یعنی جمہوری نظام کے تسلسل میں کوئی رکاوٹ ہوئی اور نہ ہی کسی نے مداخلت کی جرأت کی۔ اوباما پرامن طریقے سے وائٹ ہاؤس سے اپنی ذاتی رہایش گاہ کی طرف روانہ ہو گئے اس تقریب میں سابق صدور بش اور کلنٹن بھی موجود تھے۔

بہرحال… جہاں تک ’اسلامی دہشت گردی‘ پر اٹھنے والا شور ہے، تو یہ بعینہٖ ویسا ہی ہے جو ’نائن الیون‘ کے بعد تہذیبوں کے تصادم کے بعد اٹھنے والی صداؤں کے مساوی ہے جس کے بعد عراق، افغانستان، لیبیا اور مصر پر قبضے ہوئے اور اب شام میں ہونے والی ’خانہ جنگی نما‘ لڑائی ہے جس کے بالمقابل سعودی حکمران دولت کے بل بوتے پر ’مشترکہ اسلامی فوج‘ بنا کر اس جنگ میں خودکش حملہ آور کی طرح شامل ہونا چاہتے ہیں ایک زمانہ تھا جب ’القاعدہ‘ کی افغانستان میں تشکیل اور سرپرستی ہوئی۔ یہ سرپرستی کرنے والے امریکا اور نیٹو کے ساتھ دیگر سرمایہ دار ممالک تھے جو افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کے معدنی وسائل،  تیل اور گیس کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ سوویت یونیئن کی موجودگی میں چوں کہ ایسا ممکن نہیں تھا اس لیے اس کے حکمرانوں کی سیاسی غلطیوں سے بھی فائدہ اٹھایا گیا۔ ایک اور تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ معدنی ذخائر میں القاعدہ نے اسلام کی بالادستی کے چراغ جلا کر عوام کو ایمان کی روشنی سے منور کرنا شروع کیا مبادا سوویت یونیئن سے روس میں تبدیل ہونے والے ملک کو سنبھلنے کا موقع نہ ملے۔ لیکن روسی قیادت اپنے ملک کو سنبھالنے میں کامیاب ہو گئی آج سوویت یونیئن نہیں تو روس عالمی اور ایشیائی  سیاست کا تیسرا بڑا کھلاڑی بن کر تیزی سے سامنے آ رہا ہے۔ جس کی تصدیق و تائید اس بات سے ہو سکتی ہے کہ امریکا اور عالمی شہرت رکھنے والے خفیہ ادارے بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ صدارتی انتخابات میں روس نے مداخلت کی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان ذاتی اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ ٹرمپ کا اہم ترین وزیر ایک طویل عرصہ روس میں مقیم رہا ہے۔ آگے آگے ہوا ہے کیا… یہ تو وقت کے ساتھ سامنے آئے گا لیکن ہمارے دانش ور اس بات پر آہ و فغاں کر رہے ہیں کہ ٹرمپ نے اسلامی دہشت گردی کے خاتمے کا علان کیا ہے۔ حال آں کہ وہ یہ بھی اقتدار سنبھالنے سے پہلے کہہ چکا تھا کہ… داعش کو اوباما انتظامیہ یا پھر امریکا کی سرپرستی حاصل ہے۔ گویا اقتدار سنبھالتے ہی اس کا مؤقف کوئی خاص تبدیل نہیں ہوا لیکن ہم چوں کہ ’کاسہ لیس‘ ہیں ہماری نظر زکوٰۃ پر بھی ہوتی ہے۔ ہماری فکری نہج کو بھی ایک خاص سمت پر ڈال دیا گیا ہے اس لیے ہمارا پریشان ہونا فطری بھی ہے… حقیقت یہ ہے کہ شمالی افریقا کی صورتِ حالات، عراق، شام، سعودی عرب اور یمن کی سرحدوں پر موجود کشمکش اور بے چینی… لیکن سب سے بڑھ کر افغانستان کی داخلی صورتِ حالات اور اس میں امریکا، نیٹو، روس، چین، ایران، بھارت اور پاکستان کے درمیان مفادات کی طویل چپقلش ہے جس کا ہنوز کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا بل کہ سی پیک منصوبہ اور گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر نے امریکا، نیٹو اور دیگر سرمایہ دار ملکوں کے خواب تباہ کر کے رکھ دیے ہیں بہت سے یورپی ممالک نے نئی صورتِ حالات کا ادراک کرتے ہوئے بل کہ جنوبی ایشیا کے نئے معاشی مرکز کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے سرمایہ کاری کا عندیہ بھی دے دیا ہے لیکن امریکا اور بھارت ہنوز طاقت اور بالادستی کے زعم سے باہر آنے کو تیار نہیں۔ لیکن بالآخر اس نئی حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا… بہرحال معروض کی تلخ حقیقت تو یہی ہے کہ امریکا نے وسطی ایشیا اور افغانستان کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے جو جنگ 35 سال پہلے شروع کی تھی ہزاروں ٹریلین ڈالر خرچ کیے لاکھوں انسانوں کو موت کے حوالے کیا علاقے کھنڈرات میں تبدیل کر دیے جب اس جنگ اور تباہی کے اثرات حاصل کرنے کا وقت آیا تو چین، روس، ایران اور پاکستان ایک نئے ’اکنامک پارٹنر‘ بن کر سامنے آ گئے اور انھوں نے سارے خواب چکنا چور کر دیے۔ ذرا غور کیجیے تو اس تباہی میں مرکزی کردار بھی بھارت کا ہی ہے جو ابھی تک اکھنڈ بھارت اور سب سے بڑی جمہوریت کا معاشی اور نظریاتی چمکہ دے کر پاکستان کے خلاف خود بھی سازشیں کیں اور امریکا کو بھی سیاسی دباو برقرار کھنے پر آمادہ کیا یہ الگ بات کہ حقائق بتاتے ہیں کہ پاکستان کبھی بھی امریکا کی اوّلین ترجیح نہیں رہا۔ امریکی معاشی اور سیاسی مفادات کی للچائی ہوئی نظریں بھارت پر تھیں جس کا بھارتی بنیے نے پورا فائدہ اٹھایا ہے لیکن امریکا ہنوز اس دامِ فریب سے باہر نہیں آیا… یہ جو ٹرمپ نے اسلامی دہشت گردی کے خاتمہ کی بات لازم سمجھی ہے تو وہ بھی بھارت کو خوش کرنے کو ہے۔ وہ بھارت جو ایک طویل عرصہ سے پاکستان کو ’دہشت گرد‘ ریاست قرار دلوانے کی کوششیں کر رہا ہے آج کل پہلے حافظ سعید اور اب مولانا مسعود اظہر ہدف بنے ہوئے ہیں چین کے واضح مؤقف کی بنا پر ہی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ابھی تک کوئی واضح فیصلہ نہیں سنا سکی یاد رہے کہ بھارت کے امریکا میں مقیم تارکین وطن نے اوباما انتظامیہ کے بالمقابل ٹرمپ کی حمایت بھی اسی امید کے ساتھ کی تھی اور ٹرمپ نے بھی امید کو مجروح نہیں ہونے دیا اور یہ تسلی برقرار رکھی ہے۔ اس تناظر میں ایک اور اہم بات بھی ہے کہ امریکا اور برطانیہ نے بھارت کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی یقین دہانی بھی کروا رکھی ہے لیکن چین کی مخالفت کے باعث ایسا ممکن نہیں ہو سک یہی صورت نیو کلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت کی بھی ہے جس کا واضح مؤقف ہے کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک جو بھی یہ صلاحیت رکھتے ہیں انھیں بھی مشروط شمولیت ملنی چاہیے اگر پاکستان کو اس گروپ میں شامل نہ کیا گیا تو خطے میں عدم توازن بھی ہو گا اور اسلحہ کی دوڑ کے ساتھ محاذ آرائی میں بھی شدت آئے گی جو نہ صرف خطے بل کہ پوری دنیا کے امن کو خطرات کی لپیٹ میں لے سکتی ہے… چین کے اس مؤقف پر بھارت کی طرف سے شدید ردعمل کا کئی بار اظہار ہو چکا ہے بل کہ چین پر دہرے معیار اور غلط حکمت عملی کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں لیکن چین اپنے مؤقف پر سختی سے قائم ہے۔

بہرحال اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ سوویت یونیئن کے انتشا تک سرد جنگ کے بظاہر خاتمے اور سرمایہ داری نظام کے تسلط میں اقتصادی گلوبل ویلج کا تصور سامنے آیا تھا عالمی سرمایہ داری نے سرحدوں کے نرم اور خوشگوار اور مناسب انداز میں تجارت کے فروغ پر عملدرآمد کی جو کوششیں شروع کی تھیں ان میں اوّلین ترجیح برصغیر کی ڈیڑھ ارب سے زائد ب کہ دنیا کی تیس فی صد آبادی کی مارکیٹ کو کنزیومر سوسائٹی میں تبدیل کرنا مقصود تھا بھارت میں اس کیلیے تعاون کی فضا بھی قائم ہو گئی تھی اور اس کے لیے مارکیٹ کے دروازے بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے کھول دیے گئے تھے جس میں بھارت کو بھی صنعتی ترقی کے فوائد حاصل ہوئے جس کے لیے اسے خود بھی مارکیٹوں کی اشد ضرورت تھی مشرق وسطی میں اس کا مسکن بھی تھا لیکن اسے وہاں جاپان، کوریا اور چینی مصنوعات کا مقابلہ بھی درپیش تھا جب کہ دبئی میں ہونے والی سمال انڈسٹریز کی ڈیویلپمینٹ نے بھی اسے خطرات سے دوچار کر دیا تھا۔ اسی تناظر میں ہی پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی کی مارکیٹوں پر توجہ مرکوز ہوئی اور اس کے امریکا کے ساتھ سیاسی اور دفاعی اتحاد کو مزید مستحکم بنیادیں فراہم کی گئیں۔ ایک نقطہ نظر یہ بھی تھاکہ پاکستانی اسٹیبلشمینٹ امریکی اقتصادی سیاسی اور دفاعی دباو برداشت نہیں کر سکے گی اسے بالآخر اس حصار میں آنا پڑے گا لیکن پاکستانی اسٹیبلشمینٹ ماضی کی زخم خوردگی کو فراموش نہیں کر سکی خصوصاً افغانستان میں پاکستان کے کردار کی اہمیت کو بھی جانتی تھی اور اسے ردعمل میں سیاسی دفاعی اور معاشی قربانیاں بھی یاد تھیں لیکن کوشش اور خواہش کے باوجود جب مناسب صلہ نہیں ملا بل کہ ہر معاملے میں پاکستان کو نظرانداز کر کے بھارت کو اہمیت دی گئی تو اس نے بھی اپنی سمت تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا یہی وہ سمت تھی جس کی منزل آج چین کے ساتھ تعلقات میں گہرائی اور روس کے ساتھ تعاون کی پیش رفت اور گوادر بندرگاہ کی چین کو حوالگی اور سی پیک منصوبے کی شکل میں سامنے آ رہی ہے اس دوران پاکستان کے نقشہ کی تبدیلی، بلوچستان میں بھارتی مداخلت، شمالی علاقہ جات میں مسلح بغاوت اور کراچی میں بدامنی کے فروغ میں بھارتی معاونت جیسے اقدامات بھی سامنے آئے جن پر پاکستانی اسٹیبلشمینٹ نے بتدریج قابو پایا۔ دہشت گردی کے فاٹا میں موجود مراکز کا خاتمہ بھی کیا افغان حکومت کے ساتھ سرحدی معاملات کو ٹھیک کرنے کی بھی کوشش کی۔ رأ، موساد اور افغان خفیہ ایجنسی کے اشتراکِ عمل کی شہادتوں کے باوجود صبر و تحمل کے ساتھ نئی منزل کی طرف پیش رفت جاری رکھی اور اب اس کے ثمرات شاخوں پر سجنے والے ہیں تو ان حقائق کا ادراک یورپی ممالک کے مثبت رویے سے بھی سامنے آنا شروع ہو گیا ہے کئی ملکوں کی طرف سے سرمایہ کاری کا عندیہ بھی دیا جانے لگا ہے لیکن افسوس کہ امریکا اور بھارت ابھی تک اس نئے معاشی مرکز کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں… سی پیک کے تحت انڈسٹریل زون بھی بنیں گے اور وہاں پاکستان کے عوام کو روزگار کے وسائل کے ساتھ ریاست کو ٹیکس اور محصولات کی شکل میں ذرائع آمدن بھی حاصل ہوں گے۔

یہاں ایک اور اہم بات بھی ہے کہ… چین پاکستان میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جس کے دو اہم شعبے ہیں سڑکوںکی تعمیر کاشغر سے گوادر تک… جس کے ذریعے چینی مصنوعات ایک ہفتہ میں مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور افریقا کی مارکیٹوں تک پہنچ جائیں گی جس پر صرف پانچ ارب ڈالر سالانہ خرچ ہوں گے یاد رہے کہ شنگھائی کے راستے بحری جہازوں کے ذریعے سپلائی پر سالانہ 20 ارب ڈالر بھی خرچ ہوتے ہیں اور اس کے لیے دو ماہ کا عرصہ بھی درکار ہوتا ہے۔ نمبر1توانائی کے پراجیکٹ لگائے جائیں گے جو انڈسٹریل زونز میں بھی کردار ادا کریں گے۔

اب ایک اور تلخ سچائی تو یہ بھی ہے کہ… پاکستان کی 65 فی صد آبادی 13 سے 33 سال کے نوجوانوں یا پھر محنت کے قابل افراد کی ہے جس میں سے60 فی صد بے روزگار ہے گویا یہاں سرمایہ کاری کرنے والوں کو یہاں سستی لیبر محنت کی منڈی سے وافر مقدار میں میسر ہو گی جو سرمایہ کار کے منافع میں مزید بہتری کے امکانات میں بہترین معاون ثابت ہوں گے سرمایہ کاروں کے سامنے مغربی اور ترقی یافتہ ملکوں جیسے سخت قوانین ہوں گے اور نہ ہی احتجاجی خطرات!! یاد رہے کہ پاکستان میں سرمایہ داروں اور تاجروں کی حکومتوں نے قوانین سازی میں صرف آجروں کے مفادات کو تحفظ فراہم کیا ہے محنت کشوں کے حقوق سلب کیے ہیں…

Views All Time
Views All Time
284
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مسئلۂ شہد کا مستقل حل نکلنا چاہیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: