Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

یہ کسی کے مفاد میں نہیں | اکرم شیخ

by اکتوبر 19, 2017 کالم
یہ کسی کے مفاد میں نہیں | اکرم شیخ
Print Friendly, PDF & Email

کہانی بھی اور ہے اور اُس کا پس منظر بھی کچھ اور ہے . اختلافات پوشیدہ ہیں نہ اور نہ ہی خواہشیں اور عزائم کسی سے ڈھکے چھپے ہیں کھلے راز ہیں پھر بھی عوام کو گمراہ رکھنے کی کوششیں ہیں249اور دوسرے کو محدود الزام ٹھہرانے کی سعی ہے . پچھلے ایک ہفتہ میں وزیراعظم نے دو تین بار ٹیکنوکریٹ حکومت کی بات کی ہے . کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ تو ہوگا جس پر صدائے احتجاج بلند ہوئی ہے .اور پھر اس پر یہ جواب دینا بھی ضروری سمجھا گیا کہ نہ تو ٹیکنو کریٹ حکومت کا امکان ہے اور نہ ہی مارشل لاء کا …پھر بھی یہ کہنا ضروری سمجھا گیا کہ جو کچھ بھی ہوگا آئین کے دائرے میں ہوگا کہ دوسرے اداروں کی طرح ہمارا یقین بھی آئینی کی بالادستی اور اُسے یقینی بنانے پر ہے …. اگرچہ کچھ ماضی پرست اپنی یادوں کو تازہ دم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پی این اے میدان میں تھی ریاستی ہنگامہ آرائی عروج پر تھی تو جنرل ضیاء الحق نے بھی ایسے ہی ارشاداتِ عالیہ سے قوم کو نوازا تھا. ..لیکن پھر عین اُس موقع پر جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بنیادی نکات پر اتفاق رائے ہو گیا تھا اور اگلے دن معاہدہ پر دستخط ہونے والے تھے تو مجاہد اسلام نظام مصطفی نافذ کرنے کو براہ راست سیاسی میدان میں آگئے تھے اس طرح کی کچھ اور کہانیاں بھی کچھ اور ماضی پرست صفحہ قرطاس پر منتقل کررہے ہیں لیکن یہ سب قیاس آرائیاں ہیں بین الاقوامی اور علاقائی حالات ہی نہیں زمینی حقائق بھی اس سے بہت متضاد ہیں اُن کے تقاضے کچھ اور ہیں . اگرچہ حکومت کے کچھ بقراط بھی اس پر عارضی برہمی کا اظہار کر چکے ہیں کہ آرمی چیف ہوں یا مسلح افواج کے ترجمان انہیں قومی معیشت کی تباہی اور تنزل پر اپنی رائے کا اظہار نہیں کرنا چاہئے اور اب اُن کا شعبہ نہیں . جس کا کام اُسی کو ساجھے… ہم ذاتی طور پر ان لوگوں کی سادگی اور معصومیت پر حیران بھی ہیں اور پریشان بھی کہ بس ایک ہی تو ادارہ ہے جس میں ہر قسم کے ماہر معاونین ، تھنک ٹینکس اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں انہیں بیرونی یعنی سویلین افراد کی حمایت بھی حاصل ہوتی ہے اگر ایسا نہ ہو تو ٹیلی ویژن کی آزاد اور خودمختار سکرینوں پر ایسے لوگوں کی اکثریت کہاں سے نظرآئے جن کا عملی سیاست اور معیشت میں کوئی کردار نہ ہو پھر بھی وہ ہم ایسے ان پڑھوں اور جاہلوں کو ادعداد و شمار کے گورکھ دھندوں سے آگاہ کریں…. اور اہم اُن کی راہبری تسلیم کرنے پر مجبور ہوں کہ ہم کچھ نہ کچھ سننے اور دیکھنے کی خواہش میں وہ سب کچھ قبول کرنے پر مجبور ہیں جس کا حقائق سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا. لیکن چونکہ یہ ارشاد عالیہ ہے اس لئے اُس کی تشہیر بھی ضروری ہے اور ہم ایسے لوگوں کو قبول کرنا بھی لازم ہے ورنہ نا ماضی پرستوں کو یہ دلیل دینے کی ضرورت نہ رہتی کہ ماضی میں جب بھی مارشل لاء کا نزول ہوا تھا معیشت یا تو بہتر تھی یا پھر اُس میں بہتری کے امکانات پیدا ہورہے تھے چنانچہ اگر معیشت تنزل اور تباہی کا شکار ہے اس میں بہتری کے امکانات نہیں تو پھر…. ؟ْ؟ ویسے بھی جب عالمی مالیاتی اداروں نے ہاتھ کھینچ رکھا ہو تو پھر بھلا کون خود کو آگ میں جھونکے گا. اسے بدقسمتی یاخوش قسمتی ہے کہ سی پیک کی وجہ سے امریکی ناراضگی کھل کر سامنے آگئی ہے اور اُس نے ماضی کی مناسبت سے حساب کتاب کی باتیں شروع کردیں. اور ہمارے بہترین حکام جوابا یہ کہتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں کہ ہماری بندرگاہیں ، سڑکیں اورہوائی اڈے بھی تو استعمال ہوئے تھے.. اُس کا بھی تو ذکر ہونا چاہئے، اگر ہم تعاون نہ کرتے تو پھر افغانستان وسائل ہی نہیں قدرتی راستوں پر قبضہ کیسے ہوتا؟؟؟ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی. اگرحرمین شریفین کی عقیدت و محبت میں یمن کے خلاف عسکری قیادت کا واضح فیصلہ ہوجاتا ، بعض دینی سیاسی جماعتوں نے ان اس کے لئے تحریک بھی چلائی مگر…. ایسا نہیں ہوا جس کا نقصان بھی پاکستان کے عوام کو ہوا. اور کچھ نہیں اُن کی تیل کی ضرورتیں تو کچھ عرصہ کیلئے پوری ہوگئیں تھیں تو صاحبو ایسے میں فرشتوں کے نزول میں کچھ اور آسانی ہوتی. جہاں تک کرپشن اور بد عنوانی کی بات ہے تو ماضی پرست اس کی جڑیں تو بہت دور تک تلاش کرتے ہیں جس ابتدا مہاجروں کی آبادکاری سے شروع ہوئی. اور یہ ’’سلسلہ‘70ء کی دہائی کے آواخر تک چلتا رہا تھا. اب کسی کو یہ سوچنے ، پوچھنے ، دیکھنے کی ضرورت نہیں کہ اس دوران میں کون سی حکومت تھی اور جمہوریت کیوں نافذ نہ ہوئی ، اور یہ ملک تجربہ گاہ کیوں بنا رہا. معیشت اور معاشرت میں ترقی کیوں نہیں ہوئی، اور اس پر سیاست کا غلبہ کیوں رہا. البتہ اگر آپ چاہیں تو اپنی یادداشت پر زور دے کر ان حقائق کی تلاش کرسکتے ہیں. ضیاء الحق کے 85ء میں بنائے آئین کی جتنی بھی حکومتیں صدور پاکستان نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کر کے حکومتی برطرف کیں ان پر کرپشن اور بد عنوانی کے الزام عائد ہوئے بلکہ کوئی بھی تو ایسا سیاستدان باقی نہیں بچا جس کو کرپٹ اور بد عنوان ہونے کا اعزاز حاصل نہ ہوا ہو. آج کل یہ معاملہ اپنے عروج پر ہے اس مملکت خداداد میں صرف ایک ہی ’’صادق اور امین‘‘ ہے باقی سب چور، ڈاکو اور لٹیرے ہیں. جو دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹ رہے ہیں.
تر دانی پے شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
بہرحال دوستو! اس صورتحال کی سنگینی میں بھلا کوئی کون ہے جو خود کو دلدل میں دھکیلے گا، اس کیلئے بہترین راستہ صرف.نیک ، متقی ، پرہیزگار ، صادق اور امین اجتماع کی ہے جو سرپرستی میں فرائض ادا کریں تاکہ اس ملک کی تباہ حال معیشت کو سہاردیا جا سکے، سیاستدانوں کا احتساب کیاجائے ، لوٹی ہوئی دولت واپس لی جائے، لیکن ایسے ملک میں جہاں ستر فیصد کالا دھن اور اُس میں موجود انفراسٹرکچر کی محبت اور سرپرستی میں ہر سال دس فیصد کا اضافہ بھی ہوتا ہے .جہاں بارہ ارب روپے روزانہ کرپشن کی نظر ہوتے ہوں ، حکومتوں کی تبدیلی سے توں مثبت نتائج برآمد نہیں ہو سکتے ضرورت معاشی اور معاشرتی نظام میں خرابیوں کے خاتمہ کی ہے جو شاید کسی کے بھی مفاد میں نہیں، اس لئے وہ سٹیٹس کو سے ہی راستہ تلاش کرنے میں مصروف ہیں….

Views All Time
Views All Time
237
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ’’سیٹھ ....یا..... سیٹھی‘‘ - سہیل احمد
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: