Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جائزہ، سوالات کے جوابات کی تلاش | اکرم شیخ

by اگست 22, 2017 کالم
جائزہ، سوالات کے جوابات کی تلاش | اکرم شیخ

ڈاکٹر لیاقت قیصر سے ہمارا تعلق بطور انسان پچھلے پندرہ بیس سال سے ہے۔ وہ بائیبل سوسائٹی کے چیئرمین بھی ہیں اور ایف جی اے کے ترجمان بھی لیکن اس کے باوجود اس تعلق کی بنیاد اور استحکام کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ صاحب علم بھی ہیں اور علمی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ اُن کے پاس جدید ترین تہذیبی اور ثقافتی معلومات بھی ہوتی ہیں اور انہںیں وقت اور حالات کے جبر سے انسانی فکر میں ہونے والی تبدیلیوں کا ادراک بھی ہوتاہے چنانچہ جب بھی اُن سے ملاقات ہوتی ہے تو بہت سارے معاملات پر تبادلہ خیال بھی ہوتا ہے اور ہم بہت کچھ ایک دوسرے کے حوالے سے کرتے ہیں سوالات کی شکل میں اور جوابات کی صورت۔

اسی پس منظر میں ڈاکٹر لیاقت قیصر کا یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل تھا کہ توہین رسالت کیا ہے اور کیا دیگر نبیوں ، رسولوں اور پیغمبروں کی توہین جائز ہے خصوصا وہ جن کا ذکر قرآن پاک میں بھی موجودہے؟؟ جن کی تائید و تصدیق خود حضور نبی رحمت ﷺ نے بھی کی ہے؟؟ اور پھر یہ بھی کہ کیا اُن کی شان میں گستاخی ہی توہین رسالت ہے یا اُن کی سنت پر عمل نہ کرنا اُن کے پیغام و ہدایت پر عمل نہ کرنا توہین عدالت ہے؟؟؟ ابھی ہم اس کا کوئی جواب نہیں دے پائے تھے کہ انہوں نے مزید کہا کہ حضرت محمد ﷺ نے تو مکہ میں اُن کے ساتھ برا سلوک کرنے والوں کو بھی برا کہا اور نہ ہی اُن کے بارے کسی غیر انسانی رد عمل کا مظاہرہ کیا حتی کہ وہ خاتون جو اُن پھر گندگی پھینکا کرتی تھی اُس کے لئے بھی کووی بد دعا نہیں کی بلکہ ایک دن جب اُس نے ایسا نہیں کیا تو وہ اس کے گھر بیمار پرسی کے لئے چلے گئے تھے لیکن اُن کے چاہنے اور ماننے والے کیا کررہے ہیں؟؟ بات صرف ایک کی نہیں، جسٹس عارف اقبال بھٹی مرحوم اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا آخر جرم کیا تھا؟ عارف اقبال بھٹی نے توہین رسالت کے ایک مقدمہ کی سماعت کی تھی تو ملتان کے راشد رحمن بھی تو ایک ایسے ہی مقدمہ کی وکالت کررہے تھے لیکن گورنر سلمان تاثیر کا جرم کیا تھا؟ اُن سے کون سی توہین رسالت ہوئی تھی کہ جس کو ایک شخص نے غلط سمجھا خود ہی ایک فیصلہ کیا خود ہی اُس کو سزا سنائی اور پھر خود ہی اس کو قتل کر دیا؟؟؟ سچ تو یہ ہے کہ جسٹس عارف اقبال بھٹی قتل نہ ہوتے انہیں تحفظ فراہم کیا جاتا یا پھر اُن کے قاتل کو بھی سزا سنائی جاتی بلکہ اُس پر سرعام عمل بھی ہوتا تو شاید کسی اور کو بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے کا موقع نہ ملتا۔

ابھی ہم اس کا کوئی جواب نہیں دے پائے تھے کہ انہوں نے میثاق مدینہ کا تذکرہ بھی کیا اور اُس کی کاپی بھی ہمارے سامنے رکھ دی جس میں آدھی سے زیادہ شقیں اقلیتوں کے تحفظ کے لئے تھیں اور اس تحفظ کی ضمانت خود خصور نبی کریم ﷺ نے دی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس ملک میں جس کا آئین بھی اسلامی ہے جس کی بنیاد وہ قرارداد مقاصد ہے جس میں خدائے ذوالجلال کی بادشاہت کو تسلیم کیا جاتا ہے اس میں اقلیتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے؟ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ توہین رسالت کے الزامت مسیحیوں اور دیگر غیر اسلامی لوگوں پر عائد ہوئے اور کتنے مقدمات ابھی تک عدالتوں میں زیر سماعت ہیں کتنے مقدمات میں سچائی ہے اور کتنے مقدمات کی وجوہات کچھ اور ہیں لیکن اب تو معاملہ ہی کچھ اور ہے۔ اُن مسائل کا شکار تو خود مسلمان ہو رہے ہیں اور اُن کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ توہین رسالت کے ان قوانین کو ریاست ملک اور قوم کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں؟؟

ڈاکٹر لیاقت قیصر بہت کچھ کہہ رہے تھے، اور ہم بھی سن رہے تھے کہ سچائی بہت تلخ ہوتی ہے اور سچائی کا جواب دینا بھی کوئی آسان نہیں ہوتا لیکن کیا کریں اور کیا کہیں کہ جس طرح کا مذہب پاکستان میں موجود ہے اور جن تشریحات و تغیرات کو اسلام بنا کر پیش کیا جاتا ہے وہ شاید دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے اور اُس کی وجہ اس خطے کا تہذیبی اور ثقافتی پس منظر بھی ہے تو یہاں موجود مذاہب کی اخلاقیات اور اقدار بھی ہیں جہاں سے ان متضاد اور متعصب اقدار نے جنم بھی لیا اور انہیں سے ہی مذہبی روایات و اخلاقیات کی تخلیق بھی ہوئی۔ مزید بدقسمتی یہ بھی ہوئی کہ ریاست اور مذہب کے درمیان جو تعلقات استوار ہوئے اُس میں بھی فکری غلبہ کو ہی اولیت حاصل رہی۔ مسلمان یہاں تیرھویں صدی کے آغاز میں حکمران بنے تو ایک خاص قسم کی مذہبی فکر اُن کے ساتھ جڑی اور اُس نے تسلط کو ہی اہمیت و افادیت دی۔ غلبہ اسلام کے لئے اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ دینے کی بجائے ان کی اقدار و روایات کو دبانے کی کوششیں کیں جس کے نتیجے میں تضادات اور تصادم بھی ہوئے کسی نے ریاستی اور حکومتی اقدامات میں ہونے والی غلطیوں اور کوتاہیوں کا تجزیہ نہیں کیا بلکہ مخالفانہ نظریات کو سازشوں اور بغاوت کے ہی نام دیا۔ اس کے لئے ہمارے کئی حکمرانوں کی تاریخ میں شہادتیں اور گواہیاں موجود ہیں مگر افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ ہم نے تاریخی حقائق اور ریاستی اقدامات کے سماجی اثرات و نتائج کو بھی ایک مخصوص عینک لگا کر دیکھا جبکہ یہ سلسلہ مختلف صورتوں میں آج بھی جاری ہے۔

حقیقت تو یہ بھی ہے کہ جب ریاست اور مذہب کے درمیان تعلق ہوتا ہے تو حکمران طبقے اس تعلق کو بھی اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ریاست اگر ایک خاص مکتبہ فکر کو تحفظ فراہم کرتی ہے یا پھر ریاستی وسائل اُسے فراہم کئے جاتے ہیں تو اس مکتبہ فکر کو جو قوت اور طاقت حاصل ہوتی ہے وہ مکتبہ فکر اس کو اپنے نظریات کے تسلط اور غلبہ کے لئے بروئے کار لاتا ہے۔ بہت دور جانے کی بات نہیں، پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد مذہب کا سب سے زیادہ استعمال حکومت اور حکمرانی کے تحفظ اور استحکام کے لئے جنرل ضیاءالحق کے زمانہ میں ہوا۔ اگرچہ اس کا مقصد افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد تھا لیکن اس عہد میں ہی مذہبی قوتوں کو ریاست کی سرپرستی اور تعاون حاصل ہوا تو اس کا ساتھ ہی انہیں فکری اور نظریاتی طاقت بھی میسر آئی دولت اور اسلحہ بھی حاصل ہوا۔ جبکہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں آئینی ترامیم بھی ہوئیں قرارداد مقاصد کو آئین کا حصہ بھی بنایا گیا اور توہین رسالت کا وہ قانون بھی پاس ہوا جس کی کئی طرح کی تعبیریں اور تعزیریں بھی سامنے آئیں لیکن ایک اور تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ جب ریاست ایک مخصوص نکتہ نظر کی سرپرستی کرتی ہے تو وہ طاقت کے حصول کے بعد تسلط کی خواہش کو بھی جامہ پہناتا ہے اور دیگر مکاتب فکر کو غلط بھی قرار دیتا ہے اور اُس کے خلاف جہاد کو بھی لازم کہتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج غیر مسلم تو کیا دوسرے مکتبہ فکر کے لوگ بھی واجب القتل ہیں اور انہیں زندہ رہنے کا بھی کوئی حق باقی نہیں رہا۔ یہی فطری عمل ہے اور ہمارا معاشرہ اسی کی زد میں ہے جس کی بے شمار شکلیں ہیں۔

Views All Time
Views All Time
203
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: