میڈیا، نازک موڑ اور نیا عمرانی معاہدہ | اکرم شیخ

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کی صحافت اور سیات چاردن نواز شریف کی برطرفی، ریلی، احتجاج اور 70 سال کی نوحہ گری کی گرفت میں رہی۔ پھر جشن یوم آزادی کی تقریبات میں تاریخ اور شاہپر پاکستان کی گفتگو میں جدوجہد اور قربانیوں کی تماثیل بیان ہوئیں۔ توپوں اور طیاروں کی گھن گرج کے ساتھ پرچم کشائی کی تقریبات کا جاہ و جلال شایان شان بیان ہوا۔ زندہ قومیں اسی انداز میں اپنی آزادی کا دن مناتی ہیں۔ اب جبکہ گھن گرج ختم ہوگئی ہے،  حب الوطنی کی ہیجانی کیفیت تھوڑی ماند پڑگئی ہے، حالات معمول پر آگئے ہیں، سیاست کا وہی طرز عمل لوٹ آیا ہے، ایک دوسرے پر تیراندازی شروع ہو گئی ہے، صادق اور امین کی تشریحات کے ساتھ نقاب کشائی کی پرانی رسوم نئے انداز سے جاری ہے۔

ایک طرف مجرم مجرم کا شور ہے تو دوسری طرف مظلومیت اور معصومیت کی صدائیں ہیں لیکن جی ٹی روڈ پر ہونے والے اجتماعات سے یہ بات بہرحال واضح ہوگئی ہے کہ وہ سیاسی فیصلہ جسے جلدی میں آئینی اور قانونی تحفظ دیا گیا ہے اسے عوام نے یا پھر نواز شریف کے چاہنے والوں نے سنجیدگی سے قبول نہیں کیا۔ یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ عوام کا اجتماعی شعور ارتقائی عمل میں پالیسی سازوں کی سوچ سے کہیں تیزی سے بہت آگے پہنچ گیا ہے حالانکہ اس تلخ حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔

نواز شریف کی برطرفی کو آئینی اور قانونی اور جی ٹی روڈ پر واپسی کو غیر قانونی اور غیر ضروری ثابت کرنے بلکہ چور مچائے شور کی آوازیں بنانے کو الیکٹرانک میڈیا صبح و شام مصروف عمل رہے۔ بدقسمتی تو یہ تھی کہ اس ایونٹ کی کوریج بھی لازم تھی اگر ایسا نہ ہوتا تو ریٹنگ چند لمحوں میں تنزل کا شکار ہوجاتی۔ یوں بھی لازم ٹھہرا کہ بچے کی نادانی اور غفلت سے ہونے والا سانحہ کہیں زیادہ اہم ہو گیا۔ اُس کی تشہیر نے صبح و شام کی نشریات کو بھی اپنی گرفت میں لئے رکھا۔ بچے کی ماں کے بیٹے کی موت پر فطری جذباتی رد عمل کو صرف ٹی وی سکرین پر ہی نہیں سوشل میڈیا پر بھی اچھالا گیا۔ ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر بیٹھے روایتی دانشوروں نے ہرزہ سرائی کے ساتھ بات سے وہ بتنگڑ بنائے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دی۔ ہر کسی کے لبوں پر نیا نقطہ نظر، نئے الفاظ اور نئے معانی کے ساتھ نمایاں تھا مگر وہ سب اس بات پر متفق تھے کہ برطرفی آئینی اور قانونی ہے اور احتجاج بغاوت اور آرٹیکل سکس کے زمرے میں آتا ہے۔ نواز شریف کو فیصلہ تسلیم کر لینا چاہئے اور خود کو آگ میں نہیں جھونکنا چاہئے۔ حیرت کی بات ہے سوائے ایک دو چینلز کے کوئی بھی اس مرحلے پر اپنی غیر جانبداری برقرار نہں رکھ سکا، سب نواز شریف کو مجرم ثابت کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے کو من و عن قبول کرنے کا مشورہ، تجویز اور ترغیب پیش کررہے تھے۔ جمِ غفیر کی موجودگی کو مصنوعی اور فیصلہ قبول نہ کرنے کی صداوں کو بھی سازش اور بغاوت پر اُکسانے کا عمل قرار دے رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی کوئی ایف آئی آر سینکڑوں یا ہزاروں افراد کے خلاف براہ راست درج نہیں ہوسکتی اس لئے بالواسطہ دلائل کے انبار لگائے جاتے رہے۔ پھر ممکنہ سیاسی اور غیر سیاسی خطرات کی نشاندہی کر کے عوام کو ذہنی طور پر تیار کیا جاتا رہا۔ یہ پاکستان کے مادر پدر آزاد میڈیا کا وہ کردار تھا جو جی ٹی روڈ کے چار دنوں کی صداوں میں سنائی دیا۔ یہ الگ بات کہ بین الاقوامی میڈیا ہمیں کچھ اور کہتا اور سُناتا رہا جس پر توجہ مرکوز کرنا حب الوطنی کے برعکس تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ پاکستان کی ریاست اور سیاست کا یہ نازک موڑہے اس موقع پر انتہائی تدبر اور حکمت سے عوام کی حمایت اور اتفاق رائے سے آگے بڑھنا ضروری ہے۔ علاقائی اور بین الاقوامی حالات تیزی سے جس سمت بڑھ رہے ہیں اُس میں کسی غلطی اور کوتاہی کی گنجائش نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   بھٹو مرکربھی امرہوگیا اور مخالفین آج بھی شرمندہ ہیں

اس بات کا کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ سرحدوں پر چاک و چوبند دستے کھڑے ہیں دشمن کو میلی آنکھ دیکھنے کی جرات بھی نہیں ہوسکتی لیکن تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔ کسی قسم کا تسلط اور بالا دستی کی خواہش اور کوشش وفاق پاکستان کیلئے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ پاکستان کے عوام اب کوئی اور صدمہ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اس تناظر میں ہی ہم نے سینٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی کی مفاہمت اور باہم مذاکرات اور سینٹ کا پلیٹ فارم فراہم کرنے کی تجویز کو وقت کی ضرورت قرار دیا تھا لیکن تاریخی تناظر میں ہم نے مفتوح اور فاتح کی شہادتوں کو بھی اپنے پڑھنے والوں کے لئے بیان کرنا لازم سمجھا تھا پھر بھی ہمارا ذاتی خیال ہے کہ یہ پاکستان کے دفاع اور سلامتی کیلئے بہترین راہ عمل ہے۔ اب تو خوشی کی بات ہے دیر آید درست آید ہی سہی یا پھر اسے ایک برطرف اور نا اہل سیاستدان کی واپسی کی کوشش ہی کیوں نہ قرار دیا جائے لیکن اس کے لئے نواز شریف کی تائید بھی بہت اہم ہے۔ اگرچہ اس میں آئینی ترامیم کو بھی لازم سمجھا گیا ہے مگر پھر بھی ہم سمجھتے ہیں کہ اگر مفاہمت کی ضرورت کو سنجیدگی سے محسوس کیا جائے اداروں کے سربراہان کی ملاقات کو ابتدا سمجھ کر آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کیا جائے تو بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے ہمارے مادر پدر آزاد میڈیا اورکنٹرولڈ اینکرز اور فکری گمراہی کے شکار سیاسی صحافیوں کو بھی اپنے عمل و کردار پر سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔ اس اہم اور نازک موڑ کے تقاضے کیا ہیں مسکراہٹوں اور قہقہوں میں ضمیر کی آواز بھی سننی چاہئے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک پنجابی سیاستدان (زخم خوردہ ہی سی) کچھ ترامیم کے ساتھ نیوسوشل کنٹریکٹ نہ سہی آئینی اور جمہوری نظام ، ریاستی ادارہ جاتی بالادستی پر نظر ثانی کی تجویز پیش کررہا ہے ورنہ اس سے پہلے ایسی تجاویز چھوٹے صوبوں سے ہی آتی رہی ہیں اور اُن کی مخالفت پنجاب سے ہوتی رہی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہئے کہ 73ءکا متفقہ آئین بنانے میں چھوٹے صوبوں نے بنیادی کردار ادا کیا، پھر آٹھویں ترمیم بھی چھوٹے صوبوں کی محنت کا نتیجہ تھی لیکن ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ 58/2B ختم ہوئی تو 62/63 کو وزیراعظم کیلئے تلوار بنا لیا گیا جو اس کی موجودگی پر مصر رہا تھا۔ اس عمل کا رد عمل ہی سہی کہ وہ ستر سال کے غیر سیاسی جبر کے نظام کو ختم کرنے کی بات کررہا ہے۔ ہمارا ذاتی خیال ہے کہ اُسے اپنے اس موقف سے پلٹنے کے موقع نہیں دینا چاہئے۔ اُسے ان خواہشوں اور عزائم کے شکنجے میں جکڑدینا چاہئے تاکہ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کا ضامن ایک نیا عمرانی معاہدہ ہو جائے۔

Views All Time
Views All Time
278
Views Today
Views Today
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: