Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

انقلاب کا آغاز | اکرم شیخ

by اگست 12, 2017 کالم
انقلاب کا آغاز | اکرم شیخ

عوام کی عدالت میں جانے سے روکنے والوں کی زبان بندی کیلئے ہی جب نظرثانی کی درخواست کا عندیہ دیا گیاتو نواز شریف نے کہا تھا کہ اُس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا اور پھر یہی لوگ تھے جنہوں نے موٹروے سے لاہور جانے کی تجویز پیش کی تھی لیکن ظاہر ہے جی ٹی روڈ کی جماعت اور جی ٹی روڈ کا وزیراعظم بھی کہلایا اور جی ٹی روڈ پر سفر بھی نہ ہو تو پھر کیسی عوامی عدالت ؟

اب ذرا کچھ باتیں وقت اور حالات کے جبر میں بھی دیکھنی چاہئیں۔ لاہور کے سفر کا عزم ہو رہا تھا تو ریفرنسز کی تیاری کی خبر آ گئی۔ مانیٹرنگ جج صاحب اور اُن کے متبادل کا نام بھی آگیا۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی ملاقات بھی ہوئی اور پھر آرمی چیف کی وزیراعظم خاقان عباسی سے ملاقات بھی ہوئی۔ ہم تو یہ نہیں جانتے کہ ون ٹو ون ملاقاتوں میں کیا گفتگو ہوئی جو ایسا کچھ جانتے اور بیان کرتے ہیں وہ محض فنطنیاں ہیں۔ ہم تو صرف ان واقعات و حالات میں وقت کو دیکھ رہے ہیں۔

ایک قدم آگے بڑھتے ہیں اور یہ منظر دیکھتے ہیں۔ نواز شریف پنجاب ہاوس میں مقیم ہیں 9بجے روانگی کا وقت ہے۔ روڈ مارچ کے بارے اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست کا فیصلہ بھی آنا ہے جو غیر متوقع بھی ہو سکتا تھا۔ وزیراعظم خاقان عباسی پنجاب ہاوس آتے ہیں ملاقات بھی ہوتی ہے اور پھر انہیں لاہور کی طرف روانہ کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں نواز شریف ہی عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں عدالت کا فیصلہ عوام نے قبول نہیں کیا۔ خوشی خوشی ہونے والی اس الوداعی ملاقات کے اثرات چہروں پر نمایاں تھے۔ باڈی لینگویج میں بھی بہت ساری کپکپاہٹیں تھیں۔ پھر بھی نواز شریف نے ”گھر بھیجا گیا ہوں گھر جارہا ہوں “ کہہ کے تمام پیغام کی وصولی اور اُن پر صاد کرنے کا عندیہ دیا تو دوسری طرف یہ بھی واضح کر دیا کہ شہباز شریف پاکستان کی شان اور پنجاب کی جان ہیں انہیں بھی بہت سے کام کرنا ہیں۔

ایک اور منظر نامہ بھی دیکھئے نون لیگ میں جرنیلی سیاست کے موثر اور محرک نمائندے ، فوجی خاندان کے ایک فرد ہونے پر فخر کرتے لاہور مشن میں شامل نہیں ہوتے اور اپنی رہائش گاہ پر ہی آرام کو ترجیح دیتے ہیں۔ کچھ لوگ اس پر بضد ہوتے ہیں کہ وہ کمزور ی کی وجہ سے طویل اور تکلیف دہ سفر نہیں کر سکتے لیکن اگلے دن جب لاہور مشن پنجاب ہاوس راولپنڈی سے جہلم کی طرف تیزی سے روانہ ہوتا ہے تو مذکورہ شخصیت قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی پہنچ جاتی ہے اور ایک ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتی ہے کہ میں نے کب جانے کا کہا تھا 99فیصد سینئر ارکان ہیں جو لاہور مشن میں شامل نہیں۔ ایسے میں ایک ا ور خبر بھی آئی جس کی تردید ہوگئی کہ شہباز شریف کی بھی آرمی چیف سے ملاقات ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ آرمی چیف کوئی بھی ہو دروغ برگردن راوی شہبازشریف کی ملاقاتیں چکری کے شہزادے کے توسط سے ہوتی رہی ہیں جن سے ہر دو حضرات کی فکری سانجھ کی نشاندہی بھی ہوتی رہی اور انہیں متنازعہ اور شکوک بھی بنایا جاتا رہا۔ ابھی یہ کہانیاں گردش میں تھیں کہ ، مائی فیوڈل لارڈ جیسا شاہکار تخلیق کرنے والی جرنیل زادی جو آج کل سی ایم ہاوس کی پناہ گاہ میں ہیں اُن کا ایک بیان سامنے آیا کہ نواز شریف بھائی کے لئے مشکلات پیدا نہ کریں۔ اب بھی اگر کوئی خوش فہمی کا اسیر ہے تو ہم اس کے بارے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ دوستو یہ کوئی نئی بات نہیں بہت پرانا کھیل ہے جو مسلمانوں کی ہی نہیں اقتدار کے حصول میں لازم ہوتا ہے۔ بہت سارے لوگ نواز شریف کو دارا شکوہ اور شہباز شریف کو اورنگزیب کی صورت میں دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ جرنیل زادی بھی ملکہ ظالم کہلانے یا پھر نورجہاں کی طرح ”عدل جہانگیری“ میں اہم اور موثر کردار ادا کرنے کے خواب دیکھ رہی ہوں لیکن ”ہنوز دلی دور است“۔

بہرحال واپس اُسی موڑ پر چلتے ہیں، راولپنڈی تک کا آدھے گھنٹے کا سفر دس گھنٹے میں طے ہونے میں بہت کچھ تبدیل ہوگیا۔ اگلے دن بہت تیزی سے جہلم کا سفر ہوا۔ راستے میں صرف دینہ میں خطاب ہوا جہاں سے آزاد کشمیر کی طرف ایک راستہ جاتا اور بہت سارے پیغامات اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ دینہ اور جہلم کے عوامی اجتماعات اور خطابات راولپنڈی کے لب و لہجہ سے کچھ اور آگے تھے ، 70سال سے جاری تماشہ بند کرانے کے لئے عوام کو ساتھ چلنے کو کہا گیا۔

عدلیہ کے کردار پر براہ راست حملے کئے گئے اور انقلاب کی طرف پڑھنے کا عندیہ بھی دیا گیا لیکن کیسے؟ اس کیلئے بہت سارے سوال معروضی صورت حال میں گردش کرتے نظر آتے ہیں۔ خاندانی مشکلات کے ساتھ پارٹی کی وراثت میں گروہی کشمکش تو اب کسی مصلحت کا شکار نہیں رہی۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ووٹ بینک کسی چکری شہزادے کا ہے نہ بہت اونچا اڑنے والے شہباز  کا ہے۔ یہ ملکیت اور مقبولیت ہنوز نواز شریف کی ہے اور اُسی کا جی ٹی روڈ پر مظاہرہ ہوا ہے۔ اس تناظر میں ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ انتخابات سے پہلے جرنیلی سیاست کے صادق اور امین ابھی اپنے بے شمار رنگ و روپ دکھائیں گے۔ نواز شریف کے لئے موجودہ اور نوجوان ٹیم کے ساتھ آگے بڑھنا کچھ ایسا آسان اور سہل بھی نہیں ہوگا۔ اس پس منظر میں کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ضیاءالحقی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے تو وہ ورثہ رکھنے کی بھی کیاضرورت ہے؟ اگر نواز شریف نے ذوالفقار علی بھٹو کے راستے پر چلنا شروع کر دیا ہے تو اُسے زمینی حقائق کے ساتھ اپنا سیاسی قافلہ بھی مصلحت کوشوں کا نہیں ذہنی اور فکری انقلابیوں کا بنانا چاہئے مگر اس سے پہلے خود نواز شریف کو بھی انقلابی شعور کی ضرورت ہے۔ یہ کام بے چارا تنہا پرویز رشید تو نہیں کر سکتا کچھ اور ایسے جنونیوں کی ضرورت ہے۔ مگر ہمارے دوست اور فکری راہنما علامہ فکر گنگولوی اپنی اس بات پر بضد میں کہ انقلاب کے لئے عزم ، حوصلے اور یقین کے ساتھ صبر ، ضبط اور برداشت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔، سرمایہ داری نظام کے نمائندوں اور کارندوں میں بدقسمتی سے استقامت نہیں ہوتی اُن کا پیمانہ بہت لبریز ہو جاتا ہے اور چھلکنے لگتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
156
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: