Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

نقصان کس کا ہوا! | اکرم شیخ

by جولائی 31, 2017 کالم
نقصان کس کا ہوا! | اکرم شیخ
Print Friendly, PDF & Email

بالآخر وہی ہوا جو پاکستان کے ستم رسیدہ پارلیمانی جمہوری سیاست کی تاریخ کا المیہ ہے جوڈیشل ایکٹو ازم کی جدوجہد اور مفادیت نے کمزور اور بے بس پارلیمنٹ کو اپنے فیصلے کی تلوار سے ذبح کر دیا ہے آئین اور قانون کی بلا دستی کے پس پردہ کیا خواہشیں ، ترجیحات اور مقاصد تھے اُس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بہت کچھ لکھا پڑھا جارہا ہے تو اُس کا بھی تذکرہ ہے جو فیصلے سے ایک دن پہلے اور فیصلے کے دن آسمانوں سے فرشتوں کی آمد کیسے ہوئی اور توقع سے پہلے ہی سپریم کورٹ سے سیاسی تابوت نکالنے ضروری سمجھے گئے ، پھر بھی یہ سوال انتہائی اہم ہیں کہ آخر اتنی جلدی کیا تھی؟ اور اس کیلئے کمزور بنیادوں پر فیصلے کی عمارت تعمیر کی گئی . جسے ماہرین آئین و قانون شیشے کا محل قرار دے رہے ہیں جو پتھر سے نہیں بلکہ ایک کنکر سے ٹوٹ سکتا ہے . ظاہر ہے کہ یہ تاریخ ساز فیصلہ ہے جس میں ایک طرف خوش فہمیاں اور خوش کمانیاں ہیں تو دوسری طرف مایوسیاں ہیں لیکم ہم ذاتی طور پر معروف قانون دان ، سپریم کورٹ بار سے سابق صدر ، آئین اور قانون کی بالادستی کے متحرک اور فعال کارکن علی احمد کرد کی اس بات سے متفق ہیں کہ اس فیصلے سے نقصان صرف سپریم کورٹ کو ہوا ہے ، نواز شریف کے خلاف فیصلہ ملکی آئینی اور قانونی نظام کو تباہ کر دے گا. نواز شریف کو نظرثانی کی درخواست دائر کرنی چاہئے . نظرثانی کے حوالے سے ہم کسی خوش فہمی کے اسیر نہیں…. یہ سپریم کورٹ کیلئے ایک دو دھاری تلوار ہوگی. . لارجر بنچ فل کورٹ میں تبدیل ہوگا. اور اگر فیصلہ تبدیل ہوا تو سپریم کورٹ کی ساکھ متاثر ہوگی اور اگر اسی فیصلے کو برقرار رکھا جاتا ہے جس کے زیادہ امکانات ہیں تو بھی اس کے کچھ زیادہ بہترتاثرات نمایاں نہیں ہونگے . بلکہ اس کو بھی سپریم کورٹ کی ساکھ بچانے کی آخری کوشش کے مساوی سمجھاجائے گا. اس لئے علی احمد کرد کا یہ کہنا ہی درست لگتا ہے کہ سب سے زیادہ نقصان سپریم کورٹ کا ہوا ہے .. جو سیاسی فیصلوں میں پہلے ہی اپنا اعتماد خود اپنے ہاتھوں متاثر کرچکی ہے ….
یہ کہانی مولوی تمیز الدین کیس سے شروع ہوئی ، عاصمہ جیلانی کیس ، بیگم نصرت بھٹو کیس اور ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل جیسے موڑ مڑتی ہوئی اس مقام تک آئی ہے اس دوران میں جنرل ضیاء الحق سے جنرل مشرف کے لئے پارلیمنٹ کے اختیارات کی اجازت کے لئے نظریہ ضرورت کی تصدیق و تائید کے علاوہ منتخب وزرائے اعظم بینظیر بھٹو اور محمد خان جونیجو کی 58/2B کے تحت برطرفی اور اُس کو عدالتی تحفظ فراہم کرنا … تاہم اس دوران میں نواز شریف کی پہلی حکومت بھی شامل تھی جو موجودہ لارجر بینچ کے سربراہ کے سسر مسٹر نسیم حسن شاہ نے بحال کی تھی مگر اُن سے بزور بازو استعفی لیا گیا تھا. لیکن اس بحالی پر بھی پنجابی وزیراعظم اور پنجابی چیف جسٹس کے الزامات عائد ہوتے تھے یہاں ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ موجودہ وزیراعظم بھی پنجابی ہیں اور اُن کی برطرفی بھی پنجابی جج صاحبان کے ذریعے ہوئی ہے…. بہرحال ایک اور تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ … پیپلزپارٹی اور اُس کی اتحادی جماعتوں نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے 58/2B کر کے کچھ اچھا نہیں کیا 58/2B اگر موجود ہوتی تو شاید عدلیہ کو یہ ذمہ داری ادا کرنا پڑتی اور نہ ہی اپنے سر یہ الزام لینا پڑتا جس کا سیاسی بوجھ اُتارنا آسان دکھائی نہیں دیتا ، بلکہ یہ فیصلہ گلے کی پھانس بن گیا ہے جو نہ تو نگلا جا سکے گا اور نہ ہی اس کو پھینکا جاسکے گا. یہ فیصلہ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے بھی زیادہ تلخ ثابت ہو سکتا ہے جو شاید آج تک کسی اور فیصلے میں ریفرنس کے طور پر استعمال نہیں ہوا….
چنانچہ .. اب اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر 58/2B ختم نہ ہوئی تو شاید یہ راستہ اختیار نہ کرنا پڑتا … پاکستان کی سیاست میں باغی ’’سمجھے جانے والے سیاستدان ایک سے زیادہ مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ….. 2014ء کے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے تاریخی دھرنے کے دوران عمران خان نے انہیں بتایا تھا کہ نواز شریف حکومت کی عدالت کے ذریعے برطرفی ہوگی … لیکن راحیل شریف کی فوجی قیادت میں بوجوہ ایسا نہیں ہو سکا تھا. تھرڈ ایمپائر ، تھرڈ ایمپائر کی صدائیں گونجتی رہی تھیں یاد رہے کہ راحیل شریف صاحب گذشتہ مہینے پاکستان واپس آئے تھے اور اُن کے دو عرب ساتھیوں نے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں قیام کیا تھا…. پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت نے یہ بھی کہا تھا کہ میاں صاحب آپ کے دوست ملک ہی آپ کے دشمن بنے ہوئے ہیں. قارئین ایک اور بات بھی اس تناظر میں دیکھ سکتے ہیں کہ نواز شریف امریکی صدر کی سرپرستی میں ہونے والی مسلمان ملکوں کی کانفرنس میں شرکت کے لئے ریاض گئے تھے تو شاہ سلمان نے اُن کے ساتھ ہاتھ ملانا ہی گوارہ نہیں کیا تھا.مبادہ ٹرمپ ناراض ہو جائیں اور پھر انہیں تقریر کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی … ویسے اس تناظر میں خواجہ سعد رفیق کا یہ بیان بھی دیکھا جاسکتا ہے جس میں وہ پاکستان کی قطر اور یمن کے حوالے سے پالیسی کو بھی اس فیصلے کا جواز سمجھتے ہیں..
بہرحال دوستو حرف آخر کی صداقت یہی ہے کہ پاکستان میں یہ عدالتی بالادستی پہلی دفعہ ثابت نہیں ہوئی اس کے بہت سارے رنگ روپ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں لیکن افسوس کہ یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا ہے جب الیکٹرانک میڈیا سے سوشل میڈیا بہت آگے بڑھ چکا ہے . اور اُس پر قدغن لگانا ممکن نہیں رہا ہم تو اس آزادی کے ممنون ہیں کہ اُس نے ممنو حسین کو فاروق لغاری بننے سے بچا لیا ہے لیکن جو کچھ انصاف کے حصے میں آگیا ہے شاید اُس کا ازالہ ممکن نہ ہو…
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی شکرانے کے نوافل کے ساتھ یوم تشکر منا کر اس گناہ پر سچائی کا نقاب چڑھانے کی کوشش ہو رہی ہے تو کچھ لوگ جو کچھ ہوا سو ہوا اُسے ماضی کا حصہ بنا کر مستقبل کی طرف دیکھنے ، نئے عزم اور نئی تحریک کے ساتھ نئے پاکستان کی طرف بڑھنے کی تبلیغ و تدریس کی ذمہ داری نبھانے میں مصروف ہو گئے ہیں. لیکن شاید اب یہ ماضی کی طرح آسان نہ ہو ، چہروں پر پڑنے والے چھینٹے راہ گزروں کیلئے دھونے آسان نہ ہوں……..

Views All Time
Views All Time
627
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   عدلیہ میں اصلاحات کی ضرورت اور چیف جسٹس کے گلے شکوے
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: