نازک موڑ اور ببول کے درخت | اکرم شیخ

Print Friendly, PDF & Email

تاریخ کی کچھ شہادتیں تلخ و تند ہوتی ہیں وہ تیز دھاروں کی طرح زخم لگاتی چلی جاتی ہیں لیکن پھر بھی اُنہیں کسی بھی طرح نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوتا، مسلمان حکمرانوں کی تاریخ میں کوئی ایسا شخص نہیں جس نے رضا کارانہ علیحدگی اختیار کی ہو، سوائے ملائیشیا کے مہاتیر محمد کے ۔۔۔ ایک اور نام بھی گذشتہ چند سالوں کی تاریخ میں ہے لیکن اُس کے ساتھ بدنامیاں ، رسوائیاں اور الزامات اتنے ہیں کہ اس پراگندگی میں اُس کا نام لینا بھی تقدس پر الزام کی صورت دیکھا جائے گا، اور وہ ہمارے تقدس اور پاکیزگی کے امیدواروں اور علمبرداروں کے لئے بھی قابل قبول نہیں ہوگا ، اس لئے اُس کا نام لئے بغیر ہی ہم ماضی کے مہمان حکمرانوں میں کوئی ایسا تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن پھر بھی نگاہوں میں صحراؤں اور بیابانوں کے سو کچھ نہیں آتا۔۔
کسی حکمران نے رضاکارانہ علیحدگی اختیار نہیں کی، بلکہ اُسے یا تو کسی بیرونی حاکم نے تخت سے اُتار دیا یا پھر عزرائیل نے اُسے تخت سے اُتار کر اپنے ساتھ چلنے پر مجبور کیا، دنیا بھر کے مسلمان اور دیگر حکمرانوں کیلئے آئیڈیل زمانہ خلفائے راشدین کا ہے بلاشبہ وہ لوگ کردار و عمل میں بے مثال تھے ۔اور اُس کی وجہ بھی یہ تھی کہ اُنہیں حضور نبی رحمت ﷺ کی صحبت اور تعلیمات سے براہ راست فیض حاصل کرنے کا موقع ملا تھا ۔اس تناظر میں ہمارا ایک تاریخی جرم بھی ہے کہ ہم اُس عہد اور مثالی طرز حکمرانی کا تذکرہ تو ببانگ دہل کرتے ہیں مگر ۔۔۔ ریاست مدینہ اور میثاق مدینہ کا تذکرہ نہیں کرتے جو پہلی اسلامی ریاست تھی اور اُس کا پہلا آئین بھی تھا ہم خلفائے راشدین کے دور حکومت کو آئیڈیل قرار دیتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف نہیں کرتے کہ ۔۔۔ اس دور میں بھی اندرونی سازشیں ہوتی تھیں ، قبائلی نظام کے تضادات و مفادات کا آپس میں تصادم تھا ۔ اور اسی تصادم کے نتیجہ میں ہی تی خلفائے راشد، سازشوں کی زد میں آکر شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے تھے۔۔۔۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ ۔۔۔یہ اپنے کردار و عمل میں بہترین انسان تھے اور انہیں ایک انسان کامل ، محسن انسانیت اور رحمت العالمین ﷺ کی تعلیم و تربیت حاصل ہوئی تھی۔۔۔ مگر ہمارے مخصوص مکتبہ فکر کے لوگ جنہوں نے علم اور تحقیق ، تدبر اور حکمت کے دروازے بند کررکھے ہیں اس بات کا تجزیہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے کہ اُس وقت کے معاشرتی ، تہذیبی ، سیاسی اور تاریخی حقائق کیا تھے ۔ جن کی بناء پر یہ المناک سانحات رونما ہوئے اور پھر واقعہ کربلا ناگزیر ہوا ۔۔۔ جس کے بعد ملوکیت اور بادشاہی نظام کی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی ہوئیں صدیوں تک پھیل گئیں اسلام سے جمہوریت اور عوام کی رائے کا نظریہ ہی غائب ہو گیا، تاریخ کا یہ المیہ بھی ہے کہ اسی عہد میں تاریخ نویسی کا پسندیدہ عمل شروع ہوا اور بہت کچھ نا پسندیدہ دیوار کے اُس پار پھینک دیا گیا تاکہ ۔۔۔ اُسے کوئی دیکھ ہی نہ سکے لیکن ماضی میں جھانک کر متجسس نگاہیں اپنے مقاصد کے جواہر تلاش کر ہی لیتی ہیں، جن کے پاس سیاسی شعور بھی ہوتا ہے اور ماضی کی باریک بینی بھی۔۔۔
ملوکیت کے اس عہد میں کیا کچھ ہوا، مذہب ، سیاست اور ریاست کی کیا راہیں متعین ہوئیں اس پر دیکھنے سوچنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں بس یہی ذہن نشین رکھیئے کہ بنو امیہ کے بعد عباسی خاندان اور پھر سلطنت عثمانیہ طویل عرصہ تک قائم رہی ایران میں پہلوی خاندان حکمران ہوا، ہندوستان پر چھ سو سال تک مسلمانوں کی بادشاہی قائم ہوئی 249۔۔ ان مسلمان بادشاہوں نے اقتدار و اختیار حکومت و ریاست پر قبضہ کرنے کیلئے کیا کچھ کیا۔۔۔۔ ایک خاندان دوسرے کو یہ تیغ کرکے قابض ہوتا رہا، پھر مغل حکمران اپنی بادشاہت کیلئے باپ کو زندان میں ڈالنے اور بھائیوں کی گردنیں آڑانے میں کوئی قباحت ، کوئی ندامت محسوس نہیں کرتے تھے۔ یہ الگ بات کہ بالاخر ہزاروں میل سے بیرونی حملہ آور یہاں قابض ہوگئے ، ہم تو خوش ہیں کہ یہ سب حکمران دین کے محافظ اور علمبردار تھے ۔۔۔ کوئی شہاب الدین غوری تھا ، کوئی ظہیرالدین بابر ، کوئی محی الدین اورنگزیب ، کوئی ضیاء الحق۔۔۔
اس نقطہ نظر کے محافظ اور علمبردار یہ بتانے کو تیار نہیں کہ ۔۔۔۔ دین کے ان علمبرداروں نے عوام کو کیا دیا ، ؟ اُن کی ذہنی اور فکری تربیت کے لئے کیا اقدامات کئے ؟کوئی یونیورسٹی، کوئی درسگاہ کیوں نہیں بنائی تاج محل ، شاہی قلعے اور بڑی مساجد توں بنائیں اور اُن پر اُس زمانے میں لاکھوں روپے خرچ کئے ، یہ وہ زمانہ تھا جب ایک سو روپے کی ملکیت اور جائیداد بل گیٹس کی دولت کے برابر تھی، ’’بل گیٹس‘‘ تو اپنی دولت سے کچھ نہ کچھ اپنے ضمیر کو مطمئن رکھنے کے لئے کرتا رہتا ہے ، ہمارے ان حکمرانوں نے کیا بنایا تھا، حرم اور دیوان خانے جن میں ملازم اور محافظ بھی نیم برہنہ خواتین ہوا کرتی تھیں، لیکن ظاہر ہے کہ وہ نصیر الدین تھے اس پر بات کرنا بھی معیوب ہے ۔۔۔ اس تناظر میں تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ جب یہ افغانستان سے حملہ آور بن کر آئے تھے تو نادر شاہ اور احمد شاہ تھے یا اُ کا نام کچھ اور تھا ، لیکن جب وہ حکمران بن گئے تو پھر دین کے محافظ اور علمبردار بھی ہوگئے یہ کہیں اور نہیں دربر سے وابستہ علمائے کرام تے جنہوں نے امام غزالی کے فلسفے کے تحت حکمرانوں کی اصلاح کے لئے دربار اقتدار کے قریب ہوئے اور پھر مفادات نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا اور انہوں نے نہ صرف ملوکیت اور عین اسلام قرار دیا بلکہ بادشاہوں کو بھی دین کے محافظ قرار دیا اور عوام کوشعوری قیدی بنایا۔۔۔
صاحبو! یہ ساری کہانی ہم کو موجودہ تناظر میں استعفوں کے شور و غل میں یاد آئی ہے جس کو ہم نے اپنے قارئین کی یاداشتوں کو منور و مرسع کرنے کو دہرایا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں، ہم نہ تو ماضی کی بازگشت کے اسیر ہیں اور نہ ہی حال کی ستم ظریفی کو گلے لگا رہے ہیں ، ہم تو مستقبل کی شفافیت کے منتظر ہیں جو اس ملک کے مجبور اور بے بس عوام کا ہے جو یہ نازک اور سنگین موڑ فیصلہ کن بھی ہو سکتا ہے جہاں ابھی صرف ببول کے درخت ہی نظر آتے ہیں ۔۔۔

Views All Time
Views All Time
383
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   آہو، آہو مَیں ایک بوڑھا ہوں - مستنصر حسین تارڑ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: