Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تاریخ کو تاریخ کی آنکھ سے دیکھیے – اکرم شیخ

by مارچ 29, 2017 کالم
تاریخ کو تاریخ کی آنکھ سے دیکھیے – اکرم شیخ
Print Friendly, PDF & Email

تاریخ کہ طالب علم جانتے ہیں کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے پہلے زمانے میں تاریخ لکھنے والے دربار سے وابستہ ہوتے تھے اور وہ روزانہ کی سرگرمیاں بادشاہِ وقت کی خواہش اور ہدایت کے مطابق درج کیا کرتے تھے اس کے بدلہ میں انعام و اکرام سے نوازے جاتے تھے۔ اس تاریخ کو پڑھنے اور پرکھنے کے لیے بہت کچھ دیگر ذرائع سے جاننا بھی ضروری ہے تواس کے لیے غیرجانبداری کی آنکھ سے غیر جانبدار ذرائع بھی تلاش کرنا لازم ہیں یہی وہ راستہ اور طریقہ ہے جو تاریخ کا پورا سچ سامنے لاتا ہے اور ہم یہ کہنے کے قابل ہوتے ہیں، تاریخ صرف تاریخ ہوتی ہے اس کو تاریخ کی نظر سے دیکھنا چاہیے اسی سے بصیرت اور بصارت میں اضافہ ہوتا ہے۔
لیکن ہم بھی کیسے بدقسمت لوگ ہیں کہ تنگ نظری سے ہم کو بصیرت اور بصارت سے بھی محروم کر دیا ہے ہم سبز اور سرخ شیشوں کی عینکیں لگا کر تاریخ کو پڑھتے اور پھر اس کو جانچنے پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں نتیجتاً بصیرت بھی سبز اور سرخ ہو جاتی ہے ہم پوری سچائی پوری دیانت کے ساتھ دیکھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں ہم یہ حقیقت تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ افغانستان سے آنے والے حملہ آور اس وقت ہی کیوں آتے تھے جب کسانوں کی فصلیں پک جاتی تھیں، دولت اور دیگر اشیائے ضروریہ اُن کے گھروں میں آ جاتی تھیں اور پھر یہ بھی کہ ان کا ہدف ’جی ٹی روڈ‘ پر آباد شہر اور دیہات ہی کیوں ہوتے تھے۔ ہم یہ تجزیہ کرنے سے بھی محروم ہیں کہ محمود غزنوی نے ہندوستان پر سترہ حملے کرنے کے بعد سومنات کے مندر کو نشانہ کیوں بنایا تھا شہاب الدین غوری اپنے آبا کے قتل اور تباہی کے بعد کس کا پیچھا کرتے ہوئے لاہور پر حملہ آور ہوا تھا اور کسے ختم کرنے کے لیے اس نے سیالکوٹ کے ہندو راجہ کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔۔۔ اور پھر وہ ملتان پر حملہ آور کیوں ہوا؟
لیکن ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ مخصوص شیشوں کی وجہ سے ہماری نظر سے اوجھل ہے مزید یہ کہ ہمارے نصاب سازوں بھی مخصوص مقاصد کے تحت اس سب کچھ کو طلباے علم پر واضح نہیں ہونے دیا یہی تو وہ الجھنیں اور دھندلاہٹیں ہیں جو ہمارے حکمرانوں کی ضرورت بھی تھیں یہی وہ راستے ھے جن پر اڑائی گئی دھول سے حملہ آوروں کے پوشیدہ عزائم اور جرائم کو عوام کی آنکھوں سے دور رکھ کر انھیں سچائی سے دور رکھا جا سکتا تھا۔ لیکن نئی دنیا نے جہاں نئے انسان کی تجسیم کی ہے تو اسے نئے شعور سے بھی آشنا کیا اس میں حقائق کی دنیا سے ہم آہنگ ہونے کا جذبہ اور حوصلہ بھی دیا ہے۔ اس نئی جہت میں تجزیاتی صلاحیت بھی تبدیل ہوئی ہے معاشرتی اقدار و روایات کے ساتھ تاریخ کو جانچنے پرکھنے کے معیار بھی تبدیل ہو رہے ہیں تجزیات کے تقابلی جائزوں کو بھی فروغ حاصل ہو رہا ہے۔
ہندوستان پر حملوں اور قبضوں کی کہانی آرینز سے سکندر یونانی، اور پھر غزنویوں، غوریوں، لودھیوں اور مغلوں سے ہوتی ہوئی انگریزوں تک آتی ہے۔۔۔ لیکن اس دوران میں صرف ایک مغل بادشاہ جلال الدین اکبر ہی تھا جو خود بی باریش نہیں تھا اور اس کی حکومت بھی لبرل اور سیکولر تھی شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ہماری تنگ نظری کو پسند نہیں اس پر ’لادینی‘ کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں بھول جاتے ہیں کہ اس کی حکومت نہ صرف طویل عرصہ تک قائمر ہی بل کہ پورا ہندوستان اس کی ریاست میں شامل تھا۔۔۔ اس کی حکمت عملی میں مقامی لوگوں کو اقتدار و اختیار میں شامل کیا گیا تھا اس کے نورنتوں میں مان سنگھ راجہ ٹوڈر مل اور تان سین ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ مان سنگھ اس کا آرمی چیف تھا تو راجہ ٹوڈر مل وہ شخص تھا جس نے زمین کی تقسیم کو باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنایا تھا جسے آج کے پٹواری نظام کا بانی بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ان ہندوؤں کے ساتھ ابوالفضل اور فیضی جیسے مسلمان عالم اور فاضل بھی تھے گویا آج کی زبان میں وہ ایک ایسی مخلوط حکومت تھی جس میں بیرونی کے ساتھ مقامی عناصر بھی شامل تھے ان میں مسلمان بھی تھے اور خطے کے سب سے بڑے مذہب کی نمایندگی بھی تھی۔ اس نے تمام مذاہب کو نظریاتی آزادیاں بھی دی تھیں۔۔۔ لیکن وہ ہماری مخصوص تنگ نظری کو پسند نہیں۔۔۔ جو ’میثاقِ مدینہ‘ کو بھی ریاست مدینہ کا پہلا آئین تسلیم کرنے سے عاجز ہے۔
بہ ہر حال تاریخ کی ایک اور صداقت بھی ہے۔۔۔ لاہور شہر پر مغلوں کے زوال کے بعد 1768 میں سکھوں نے قبضہ کر لیا تھا اس وقت لاہور تین حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا اور اس پر تین علیحدہ علیحدہ سکھ حکمران تھے جنھوں نے لاہور کی حیثیت اور معاشرت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی تیس سال کا یہ عرصہ لاہور شہر کے مکینوں کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔۔۔ ایسے میں گوجرانوالہ کا ایک اور سکھ رنجیت سنگھ لاہور کے کچھ شہریوں کی درخواست پر لاہور پر حملہ آور ہوا تھا۔ اسے شہر میں داخل ہونے کا راستہ بھی ایک ’لاہوری‘ نے ہی دیا تھا۔ اس کے قبضہ پر تین سکھوں کے ظلم و ستم کا شکار لاہوریوں نے سکھ کا سانس لیا تھا۔۔۔ یہ الگ بات کہ مزاحمت اور بغاوت کے خوف کی بنا پر دہشت اور وحشت کی فضا مستحکم کرنے کے لیے مسجدوں اور خانقاہوں میں اصطبل اور فوجی کیمپ بنا دیے تھے۔ اس کا سب سے بڑا مرکز ’شاہی مسجد‘ تھی جو اورنگ زیب عالمگیر نے تعمیر کروائی تھی۔۔۔ یاد رہے کہ اس مسجد میں استعمال ہونے والا سرخ پتھر اپنے دادا مرشد حضرت میاں میرؒ کے مزار کی تعمیر کے لیے خصوصی طور پر جے پور راجستھان سے منگوایا تھا لیکن اسے اورنگ زیب کے عزائم کی بنا پر لاہور سے فرار ہونا پڑا تھا وہ ایران اپنے ’سسرال‘ جانا چاہتا تھا لیکن اورنگ زیب کی فوجوں نے اس کا پیچھا کیا تو اسے کامیابی نہ ملی وہ ملتان سے اجمیر شریف ک طرف جاتے ہوئے رحیم یار خان کے نزدیک اپنے ایک دوست اور ہمدرد کی غداری کے باعث گرفتار ہوا۔ اسے پکڑ کر دہلی لے جایا گیا، جہاں اس کا سر قلم کر کے، سر علیحدہ اور جسم علیحدہ دو دروازوں میں تین دن تک لٹکائے رکھا گیا تا کہ اورنگ زیب کے مخالفین اور ولی عہد دارا شکوہ کے حمایتیوں کو عبرت حاصل ہو۔۔۔ تاریخ کے تجزیہ نگار لکھتے ہیں کہ اگر دارا شکوہ تخت دہلی پر براجمان ہو جاتا تو نہ صرف ہندوستان کی بعد ازاں والی صورتِ حالات ہوتی اور نہ ہی مغل سلطنت زوال پذیر ہونے میں اتنی تیز رفتاری دکھاتی۔۔۔ اور نہ ہی اس وقت کے معاشرے میں مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں یہ انتشار پیدا ہوتا اور نہ ہی سکھوں کو نہ ہی باقاعدہ سیاسی اور فوجی قوت بننے کا موقع ملتا۔
بہ ہر حال۔۔۔ 1799 میں رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کیا ابتدائی زمانے میں اس کا رویہ بھی جارحانہ تھا لیکن جب اس کی حکومت کو سنبھالا مل گیا تو ایک طرف تو اس نے فتوحات کا سلسلہ شروع کیا اور اپنی حکومت کابل سے ملتان تک وسیع کی، تو دوسری طرف معاشرتی اور معاشی نظام کو درست کرنے کے اقدامات کیے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اکبر اعظم کی طرح وہ بھی انپڑھ ھا لیکن اس کی حکمت عملی بھی اسی کے نقش قدم کی عکاس تھی اس کے دربار کی وزارتوں اور مشاورتوں میں بل کہ گیارہ رکنی کابینہ میں چار سکھ، چار مسلمان اور تین ہندو شامل تھے۔ دھیان سنگھ، خوشحال سنگھ، گلاب سنگھ اور ہری سنگھ نلوہ سکھ تھے، محکم چند، بھوانی داس او رکرم چند ہندو تھے جب کہ فقیر عزیز الدین، فقیر نورالدین، فقیر امام دین اور مفتی محمد شاہ۔۔۔ مسلمان تھے۔ فقیر خاندان کا فقیر خانہ آج بھی بھاٹی دروازہ کے اندر موجود ہے جہاں اس دور کی یادگاریں بھی محفوظ ہیں اور پھر ایک محلہ بھی ان کے نام سے منسوب ہے۔
رنجیت سنگھ کے دور میں مجرموں کو طویل سزایں دینے کا رجحان نہیں تھا خیال تھا کہ طویل سزائیں دے کر ان کی حفاظت اور خوراک پر خرچہ کرنے کے بجاے فوری سزائیں دینی چاہییں چناں چہ فوجداری مقدمات میں ہاتھ، کان اور ناک کاٹ کر فارغ کر دیا جاتا تھا۔۔۔ دیوانی مقدمات میں جرمانہ کی سزاؤں سے 25 فی صد عدالتی اخراجات کے لیے کاٹ لیے جاتے تھے جیتنے والے سے 25 فی صد رقم شکرانے کے طور پر وصول کی جاتی تھی۔
یہی وہ طرزِ حکومت تھا جس کے تحت رنجیت سنگھ کی پنجاب پر حکومت 1840 میں اس کی موت تک قائم رہی یہ الگ بات کہ اس کے جانشین اسے زیادہ دیر تک قائم نہ رکھ سکے اور انگریزوں نے 1849 میں پنجاب پر قبضہ کر لیا۔۔۔ لیکن آج ہم اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ رنجیت سنگھ جیسے انپڑھ حکمران نے آخر کس حکمت عملی کے تحت پنجاب پر طویل عرصہ تک اپنا قبضہ جمائے رکھا۔ چار فی صد سکھوں کی 96 فی صد ہندوؤں اور مسلمانوں پر حکومت قائم رہی؟؟ اور اس زمانے میں کوئی مقامی بغاوت بھی شدت کے ساتھ سامنے نہیں آئی۔
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
بات سمجھ میں آ سکتی ہے۔ بشرطے کہ ہم تاریخ اور سیاست کو مخصوص رنگوں کی عینک سے نہیں غیرجانبداری کی آنکھ سے براہِ راست دیکھیں اگر نظریاتی جانبداری کا شکار ہوں گے تو پھر وہی ہو گا جو آج کے منظرنامہ میں ہمارے سامنے ہے اور ہم بھگت بھی رہے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
328
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   تجربوں کا جوا کھیلنے کی ضرورت نہیں | حیدر جاوید سید - قلم کار
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: