کچھ تلخ حقائق اور فاٹا میں تبدیلی – اکرم شیخ

Print Friendly, PDF & Email

ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت ساڑھے چھے سو سال کے وسیع عرصہ تک پھیلی رہی ہے اس میں جمہور نام کا کوئی تصور نہیں جب ’جمہور‘ ہی نہیں تو جمہوریت کیسی؟ رعیت تھی اور ملوکیت، رعایا تھی اور بادشاہت، اور بادشاہ عنانِ حکومت سنبھالنے کے لیے اپنے والد کو زندان میں ڈالنے اور بھائیوں کو قتل کر کے نشانِ عبرت بنانے کو معیوب نہیں سمجھتے تھے… بادشاہوں کا کہا فرمان ہوتا تھا مشاورت کے لیے اگرچہ کچھ وزیر مشیر اور امیر ہوتے تھے لیکن حتمی فیصلے کا اختیار بادشاہِ وقت کو ہی ہوتا تھا اس میں نفع نقصان کی کوئی جوابدہی نہیں ہوتی تھی۔ باپ کے بعد بیٹا اور بیٹے کے بعد اس کا بیٹا حکومت، اقتدار اور اختیار کا وارث ہوتا تھا۔

یہ روایت صرف ہندوستان کے مسلمان بادشاہوں کی نہیں دنیا کے اور علاقوں اور تہذیبوں کی بھی ہے جہاں بادشاہتیں ہوا کرتی تھیں لیکن ہم چوں کہ مسلمان ہیں اس لیے اپنی راہنمائی اسلامی تاریخ سے کرتے ہیں وہاں بھی جمہوریت اور جوابدہی کا کوئی خاص تصور نہیں ہے بادشاہتیں اور ملوکیت ہیت ھی۔ اقتدار کے لیے عوام سے براہِ راست رائے لینے کا کہیں کوئی خاص اشارہ نہیں ملتا صرف حضرت علیؓ کے وقت عوام سے بیعت کی کہانی سامنے آتی ہے جسے آج کی زبان میں ریفرنڈم بھی کہا جا سکتا ہے وہ بھی حالات کے دگرگوں اور متنازع ہونے کے باعث ناگزیر ہو گیا تھا۔ ورنہ اس سے پہلے قبائل اور مؤثر طبقات کے نمایندوں سے مشاورت کی ہی نشاندہی ہوتی ہے۔ اس کے بعد ’خاندانی‘ حکومتیں ہی چلتیر ہی ہیں جن میں ورثہ کے تحت ہی اقتدار کی منتقلی ہوتی رہی ہے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں ضیاء الحق کی بادشاہت میں ہمارے علما کرام کے مخصوص مکتبہ فکر نے اسلام میں جمہوریت نہیں کا نعرہ بلند کیا اور مملکت خداداد کے بڑے بڑے شہروں کی دیواروں پر لکھ دیا کہ… جمہوریت کفر ہے… اور پھر جنرل مشرف صدر بھی تھے اور سپہ سالار بھی تھے چناں گہ ایک ’علامہ‘ نے یہ فتویٰ جاری کیا کہ خلفاے راشدین امیر المومنین بھی ہوتے تھے اسلامی لشکر کے سپہ سالار بھی ہوتے تھے، یہ الگ بات کہ مذکورہ ’علامہ‘ حکومت کی طرف سے خصوصی محبت سے نوازے گئے۔ علما کرام کی حکمرانوں اور اقتدار سے وابستگی کی تاریخ بھی بہت قدیم ہے۔ ایک بہت بڑے ’امام‘ نے اس کی حمایت محض اس بنا پر کی تھی کہ طرزِ حکومت کی اصلاح اور حکمرانوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے مشاورت بہت ضروری ہے یہ الگ بات کہ اسلام کے نام پر شروع ہونے والی مشاورت کے بعد قاضی اور قاضی القضاۃ کے مراتب بھی ملے، سہولتیں اور مراعات بھی حاصل ہوئیں تو ہر طرف سے انسانی فطرت کے عین مطابق قرب اقتدار کے تحفظ کی کوششیں بھی ہوئیں اور خواہشیں بھی پروان چڑھیں فتاویٰ اور تنقید کا معیار بھی تبدیل ہوا تشریحات کی سمت بھی تبدیل ہوئی۔ یہ الگ بات کہ دین مبین کی ترجیحات و مقاصد پر بھی زد پڑی… بادشاہِ وقت کو تسلیم کرنے کی روش کو فروغ حاصل ہوا۔

خیر چھوڑیے، ہم تاریخ نویس نہیں صرف اخبار نوسی ہیں صحافت ہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے ہمیں صرف صحافت پر ہی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اس کو ضبط تحریر میں لانا چاہیے جو آنکھوں نے دیکھا اور کانوں نے سنا ہے یہ امیر المومنین جنرل ضیاء الحق کا زمانہ تھا جب شاہی فرمان کے تحت پڑوسی ملک افغانستان کے عوام کو کیمونزم کے طوفان سے بچانے کے لیے اسلامی جہاد شروع ہو اتھا اور پاکستان میں خام مال کی تیاری کے لیے انتہاپسندی کی فیکٹریاں بنائی گئی تھیں ان فیکٹروں سے مختلف برانڈز کا جال تیار کر کے پڑوسی بھائیوں کی مدد اور حفاظت کے لیے بھیجا گیا۔ جب پڑوسی بھائی محفوظ ہو گئے انھوں نے دشمن کو شکست سے دوچار کر دیا تو یہ مجاہدین جن نظریاتی بنیادوں کو ہتھیار بنا گئے تھے اب وہ کہیں اور بھی تو استعمال ہونا تھا چناں چہ یہ نقطہ بھی سامنے آیا کہ… جہاد تو کفر کے خلاف ہوت اہے کفر جہاں کہیں بھی ہو اس کے خلاف جہاد ہونا چاہیے پرھ یہ بھی تو نقطہ نظر سامنے آیا کہ کفر کی مدد کرنے والا بھی دشمن ہوتا ہے اس کے خلاف بھی جہاد ونا چاہیے…  بس یہی وہ موڑ تھا کہ جہاں سے نیا جہاد شروع ہوا۔ اور ہم تاریخ کو بھول گئے ہمارے پالیسی سازوں نے نہ تو پہلے اس علاقے کی تاریخی اور تہذیبی روایات کا تجزیہ کیا اور نہ ہی اب اس کی ضرورت محسوس کی۔

’پنجاب اور بیرونی حملہ آور‘ میں پروفیسر عزیز الدین احمد لکھتے ہیں کہ… محمود غزنوی کے بعد غزنی پر جو بھی حکمران ہوا تھا وہ ہندوستان کو اپنی جاگیر سمجھتا تھا غزنی یا کابل پر قبضہ کے بعد وہ اردگرد کے قبائل کو اکٹھا کرتا تھا بار بار کی قتل و غارت کے باوجود ان قبائل کی آبادی کثرتِ ازدواج کی وجہ سے جلد ہی فراواں ہو جاتی ان کے سامنے د وہی راستے ہوتے تھے کہ وہ بھوکوں مریں یا ارد گرد کے زرخیز علاقوں کی لوٹ مار کریں… ان کی معاشی مجبوریوں نے انھیں مہم جو بنا دیا تھا۔ پھر انھوں نے فوج کشی کا نام جہاد رکھا ہوا تھا جہاد کا نعرہ لگا کر ایک طالع آزما کے بعد دوسرا ان فاقہ کش قبائل کواپنے جھنڈے تلے جمع کر لیتا تھا یہ جہاد عموماً اپنے ہم مذہب مسلمانوں کے خلاف ہی ہوا کرتا تھا جنگ کے نتیجے میں غازی کو مالِ غنیمت ہاتھ آیا جس سے چند سال آرام سے گذرتے تھے شہادت کے نتیجے میں ایک طرح کی منصوبہ بندی ہو جاتی تھی۔ ہر چند سال کے بعدجب آبادی میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو جاتا تو ہر ضرورت مند کے دل میں جذبہء جہاد مچلنے لگتا تھا وسط ایشیا کے طالع آزماؤں کے لیے جذبہء جہاد سے سرشار ان جنگجو مجاہدین کے لشکر ہندوستان فتح کرنے کا سستا اور مؤثر ذریعہ بن جاتے تھے۔

اس اقتباس سے یہ اندازہ لگانے میں کوئی امر مانع نہیں کہ قبائل میں جذبہء جہاد اور شوقِ شہادت کے محرکات کیا تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں جہاد کا تذکرہ تو کل کی بات ہے یہ جذبہ صدیوں پرانا اور تہذیبی ورثہ ہے۔ لیکن دوسری طرف اس امر کی شہادت بھی ملتی ہے کہ یہ وسطی ایشیائی لوٹ مار اور مالِ غنیمت کے لیے ان کے لشکر میں بھی شامل ہو جایا کرتے تھے چناں چہ اس تناظر میں اگر آج بھارت کی مداخلت کا ذکر ہو، یا پھر وادی سوات کی بغاوت کا، خودکش حملہ آوروں کی تیاری یا پھر بمبار حملوں کا تو بہت کچھ سمجھ میں آ سکتا تھا لیکن افسوس کہ ہمارے حکمران بس اسی بات پر مطمئن تھے کہ ان قبائل نے ہمارے کشمیر کو آزاد کروانے میں تعاون کیا تھا۔ پھر مسلمانوں کی روایت کے عین مطابق ذاتی مفادات میں الجھے رہے اس علاقے میں خوشہالی کی طرف توجہ دی اور نہ یہاں وسائل روزگار پیدا کیے… اب گر کچھ ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے تو اس کو غنیمت سمجھنا چاہیے لیکن مستقل حل کی طرف پیشرفت کے لیے تعلیم اور صحت کی سہولتوں کے ساتھ انسانی اور جمہوری حقوق کا شعور لازم ہے۔

Views All Time
Views All Time
324
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پانامہ لیکس کے حمام میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: