فکری بدعنوانی – اکرم شیخ

Print Friendly, PDF & Email

خدا کا شکر ہے کہ ہمارے پاس کوئی ڈگری نہیں ورنہ خطرہ تھا کہ اس پر بھی جعلی ہونے کا الزام لگایا جاتااور ہم اس کا دفاع کرتے زندگی کے دن پورے کرتے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ نہ تو ہم کوئی بیرسٹر ایٹ لا ہیں، نہ کوئی سیاستدان،اس لیے ہم ایسا کر بھی لیں تو کوئی ہرج ہے نہ کوئی قدغن…اول تو کوئی پوچھنے والا نہیں اگر کسی نے کوئی جرأت بھی کی تو اس کا ہمارے پاس جواز بھی ہے۔ اگر بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی  جعلی ڈگری کے ذریعے اس مرتبہ، مقام اور اعلیٰ ترین عہدے اور اعزاز تک پہنچ سکتے ہیں یا کوئی ہمارا سیاستدان اس جعلی حرکت اور فریب کاری کے ذریعے اسمبلی کی نشست پر فائز ہو سکتا ہے تو ہم بھلا اسیا کیوں نہیں کر سکتے… لیکن شاید ہم ابھی تک ضمیر کی خلش سے آزاد نہیں ہو سکے یا پھر اقتدار و اختیار کی خواہش نے ہمارے احساس کو مردہ اور ہم کو زندہ لاش نہیں بنایا… اگر ’بے جان‘ ہو جاتے تو شاید ہم کچھ پوچھنے اور لکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے۔ او ریوں ’قلم بدوش‘ آپ کے سامنے نہ ہوتے اور یہ دعویٰ بھی نہ کرتے کہ پورے سچ کے لیے پوری اور مکمل دیانت کی ضرورت ہوتی ہے قلم کی سیاہی سے لفظوں کی سچائی نہیں اترتی اور نہ ہی قرطاس میں سجنے کے بعد وہ لفظ چمکتے ہیں۔ سنہری حروف کی اصطلاح اسی وقت سامنے آتی ہے جب الفاظ میں سچائی ہوتی ہے۔

پچھلے چند سالوں سے بدعنوانی اور کرپشن کے شور میں ہمارے تو کان پک گئے ہیں بے ہنگم آوازیں سیسہ بن کر ہماری سماعتوں کی صلاحیت چھین چکی ہیں مزید بدقسمتی کہ ’چور مچائے شور‘ کے مصداق ہر کوئی احتساب احتساب کی صداؤں سے فضا کو آلودہ کر رہا ہے افسوس کہ فضائی آلودگی کا کسی کو احساس نہیں کوئی ایک بھی صداے احتجاج کہیں سے سنائی نہیں دیتی گویا کچھ بھی تو غیر متوقع اور غیر فطری نہیں۔ ویسے اس قسم کی توجہ بھی اجتماعی اخلاقیات سے ہی ظہور پذیرہوتی ہے لیکن جب کوئی واضح اخلاقیات ہی نہ ہو کوئی اصول کوئی ضابطہ نہ کوئی معیار ہو تو پھر کیسی صداے احتجاج اور کیسی اصلاح کی خواہشیں؟؟ سب خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے۔

اس کے باوجود ہر کوئی دوسرے کو بدعنوان، بے ایمان، ڈاکو اور لٹیرا ثابت کرنے پر تلا ہوا ہر کوئی احتساب کا نعرہ بلند کرتا اور دھمالیں ڈال رہا ہے۔ ہر کسی کا بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ ڈاکوؤں اور چوروں کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے انھیں سزائیں سنائی جائیں چار پانچ سو آدمی اگر جیل میں ڈال دیے جائیں تو یہ معاشرہ راستی اور پاکیزگی کی علامت بن جائے گا ایک صاحب تو بس یہی کہتے ہیں کہ صرف ایک شخص کو جیل میں ڈال دیا جائے تو پھر کسی اور کو ایسی جرأت نہیں ہو گی تالاب کو صرف ایک مچھلی ہی خراب کرتی ہے بس یہی شور شرابہ ہے صرف مالی بدعنوانی ہی بدعنوانی ہے کوئی بھی بدعنوانی کی بے شمار شکلوں اور قسموں کی بات نہیں کرتا اور نہ ہی احتساب سے پہلے بدعنوانی کے محرکات کے خاتمہ کی بات کرتا ہے۔ اس نظام کی تبدیلی کو لبوں پر نہیں لاتا جو تمام خرابیوں کا باعث ہے۔ بس ’’سٹیٹس کو‘‘ میں راستہ تلاش کرتا ہے۔  ’سیاہ‘ کا بھی ساتھ نہیں چھوڑنا چاہتا اور منزل کی نشاندہی بھی کرتا ہے خیمے باہر قدم بھی نہیں نکالتا اور سفر کے خوشگوار اور راستے کے ہموار ہونے کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔

کوئی یہ بھی نہیں بتاتا کہ مملکت خداداد کسی کی ضرورت تھی اور وہ کون لوگ تھے جو ہجرت کے عذاب سے گذرے قربانیاں دیں اور نئے ملک میں داخل ہو کر سجدہ شکر بجا لائے اور پھر وہ کون تھے جو اس پر قابض ہو گئے اور انھوں نے اپنے قبضہ کو کمزور نہیں ہونے دیا ایسا نظام وضع کیا جس میں انہی کی گرفت مضبوط ہوئی اور انھوں نے اس گرفت کو مضبوط تر بنانے کے لیے خود اپنے ہاتھوں کرپشن اور بدعنوانی کی بنیاد رکھی یہ الگ بات کہ انھوں نے کچھ عناصر سے خود کو مشاہیر بھی قرار دلوایا یہ بدعنوانی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا تھا۔ یہ تاریخ کے ساتھ سرعام زیادتی نہیں تو اور کیا تھا؟ اس فکری بدعنوانی کی کوئی بات نہیں کرتا شاید اس لیے کہ فکری بدعنوانی، بدعنوانی کے زمرے میں شامل نہیں، بدعنوانی صرف مالی ہوتی ہے ذاتی جایدادوں اور اثاثوں میں ترقی اور اضافہ ہی بدعنوانی ہے۔ عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھنا بھی بدعنوانی ہے عوام کو گمراہ کرنا، انھیں سچائی کی تلاش میں آگے بڑھنے سے روکنا کوئی بدعنوانی نہیں۔

فکری بدعنوانی کا تذکرہ ہو تو پھر بہت کچھ اور بھی سامنے آئے گا ترجیحات اور تشریحات کی سمت پر اثرانداز ہونے والے ذاتی اور سیاسی مفادات کی بھی بات ہو گی۔ اس نہج کی بھی گفتگو لازم ہو گی جس نے سفر کی سمت ہی تبدی کر دی ہے ان حقائق بارے بھی سوچ بچار کرنا پڑے گی جنھوں نے جدوجہد کو سفر رایگاں بنا دیا ہے اس لیے صاحبو اس طرح کی کسی بدعنوانی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت نہیں جو کچھ سامنے ہے اسی کو سنیے اور اسی وک سچائی سمجھیے باقی جو کچھ بھی ہے اسے فریب نظر جانیے جو کچھ صاحب علم اور ڈگری ہولڈرز بتاتے ہیں انہی کے کہے پر یقین کیجیے ہم جیسوں ’ابوجہلوں‘ کے الفاظ پر غور نہ کیجیے۔ ورنہ آپ بھی بہک جائیں گے آپ پر بھی الزامات کی بارش شروع ہو جائے گی۔

Views All Time
Views All Time
254
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   دیر سے نکلنے والا دن - عامر حسینی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: