اقتصادی استحصال میں نئے امکان – اکرم شیخ

Print Friendly, PDF & Email

یہ کیسی تلخ حقیقت ہے کہ پچھلی صدی کے آخر میں جس نیو ورلڈ آرڈر کی تخلیق کا عمل شروع ہوا افغانستان کے راستے سوویت یونیئن پر پاکستان کے تعاون سے چڑھائی ہوئی سوویت یونیئن کے انتشار کے بعد افغانستان میں ابھرنے والی انتہاپسندی پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے وسطی ایشیا کی نو آزاد ریاستوں میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر پر گرفت کے لیے معاہدوں کو اولین ترجیح بنایا گیا… تہذیبوں کے تصادم کا خطرہ بھی پراپیگنڈا کا حصہ بنا تو پس پردہ دنیا کو گلوبل ویلج بنانے کے اقدام بھی شروع ہو گئے۔ گلوبلائزیشن کے نام پر پوری دنیا کو عالمی سرمایہ داری کے قبضے میں دینے کا آغاز ہوا… چناں چہ آخری صدی کا یہ ربع نئی ترجیحات پر عملدرآمد کے لیے ہر حربہ آزمانے کا عرصہ بھی رہا۔ اس میں نئی منصوبہ بندیوں کے ساتھ نئے خوابوں کی تصویریں بھی بنائیں گئیں… لیکن ان تصویروں کو سبھی تعبیروں میں ڈھالنے کے لیے کچھ اور قبضے اور جنگیں ناگزیر ٹھہریں۔ لیکن ان کے لیے کچھ اور جواز بھی تو لازم تھے۔ چناں چہ اکیسویں صدی کے آغاز میں ’’نائن الیون‘‘ کے مبینہ حادثے کا اہتمام کرنا پڑا… اس حادثے نے افغانستان پر قبضہ کے منصوبہ کو عملی شکل دی وہ انتہاپسندی اور شدت پسندی جس کو ’جہاد‘ کا نام دیاگیا تھا اسے دہشت گردی کا نیا نام دے کر تباہ کرنا پڑا۔ لیکن بھول گئے کہ اس دوران میں وہ قوتیں وجود میں آ چکی تھیں جو نہ صرف اس قبضہ کے مقاصد کا ادراک رکھتی تھیں بل کہ وہ اقتصادی طور پر چیلنج کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر چکی تھیں اور انھوں نے دنیا کے لیے نئے اقتصادی نظام کی ترجیحات پر عملدرآمد بھی شروع کر دیا تھااور اس منصوبہ بندی کے باقاعدہ خد و خال بھی دنیا کے سامنے رکھ دیے تھے… واحد سپر پاور یونی پولر معاشی نظام کے بالمقابل ملٹی پولر نظام بھی متعارف کروا دیا۔ پوری دنیا کو عالمی سرمایہ داری اور مالیاتی اداروں کے بالواسطہ اقتصادی سیاسی نظام کے بالمقابل آزاد اور خود مختار اقتصادی نظام کو اپنانے کی ترغیبات فراہم کیں۔ خصوصاً پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کو حقیقی خود مختاری اور سلامتی کے نئے احساس سے روشناس کرایا۔ جو جاری اور مجوزہ استحصالی غلبے کے لیے ایک چیلنج تھا… تو اس کے ساتھ ہی علاقائی تعلقات کے فروغ اور استحکام میں عملی تعاون بھی کیا۔

یہ ایک نئی دنیا کی تخلیق کی طرف پیشرفت تھی اور ہے جس نے نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں پرانے دشمن نئی دوستی کی طرف مائل ہو رہے ہیں اور ان کا بنیادی مقصد نئی اقتصادی دنیا اور اس کے امکانات میں شامل ہونا ہے اور اس کی اولین ترجیح اسلحہ فروشی کے بجائے انسانی ضرورتوں کی بنیادی اشیا کی پیداوار اور اس کی تجارت ہے۔ چناں چہ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ نئی جنگ میں کیمونزم کی بنیاد پر محاذ آرائی ہے اور نہ ہی اتحاد۔ یاد رہے کہ نیٹو اسی تناظر میں خطرات سے دوچار ہے۔ مزید حیرت انگیز بات ہے کہ ایک علاقے میں انتہاپسندی کو دہشت گردی قرار دے کر ختم کیا جا رہا ہے تو دوسرے میں ابھی تک اس کو ہتھیار بنا کر شام کی مزاحمتی قوت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تا کہ اسرائیل کی بالادستی کو چیلنج کرنے والے آخری ملک میں بھی اپنی مرضی کی حکومت بنائجی جا سکے یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں تضادات کو ہوا دے کر انھیں کمزور تر کر دیا ہے کوئی بھی متحد اور متفق ہو کر اسرائیل کی بالادستی کو چیلنج کرنے کے قابل نہیں یہاں ایک دلچسپ اور تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ جس اسلامی فوج کی قیات کے لیے ہمارے سابق آرمی چیف گئے ہیں اس کا بنیادی مقصد اسرائیل کے خلاف جنگ نہیں سعودی عرب کے علاقائی دشمنوں کو ’حرمین شریفین‘ کے خادموں سے دور رکھنا ہے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور سیاسی طوفان کے سامنے دیوار کھڑی رکنا ہے جو پورے علاقے کی بادشاہتوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے اور یہ بادشاہتیں نئے نظام کی بڑھتی ہوئی پیشرفت کا ادراک کرنے، اسے محدود راستہ دینے کے بجائے اس کے سامنے دیوار کھڑی کرنے اور خود قلعہ بند ہونے کی کوشش کر رہی ہیں… حیرت کی بات ہے کہ اس نئی اقتصادی جنگ نے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کا دعویٰ کرنے والی ’سپر پاور‘ کو ہلا کر رکھ دیا ہے تو ان کاسہ لیس بادشاہتوں کی کیا اوقات ہے ان کے پاس تو کوئی سیاسی عوامی نظام بھی نہیں جو کسی بھی ریاست کا اصل محافظ ہوتا ہے۔ تاریخ میں واضح ثبوت موجود ہیں جانے کتنی بادشاہتیں ختم ہوئیں اور بادشاہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہو گئے کیوں کہ ریاست فرد سے ہوتی ہے افراد ہی اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ اگرچہ سچائی تو یہ بھی ہے بادشاہوں، راجوں مہاراجوں کے یا پھر سلاطین کے زمانے میں قومی ریاستوں کا کوئی تصور تھا اور نہ ہی فرد میں کوئی نیشنل ازم کا احساس و ادراک تھا۔ یہ بیسویں صدی کی تخلیق ہے لیکن دلچسپ بات تو یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دولت کے وسائل بھی تھے اور ان پر بادشاہتوں کے طویل قبضے بھی ہوئے، بڑی بڑی طاقتوں کے ساتھ دولت کے بل بوتے پر دفاعی معاہدے بھی ہوئے، کرائے کے فوجی بھی حاصل کیے گئے۔ ترقی و تعمیر کے لیے بیرونی ممالک سے مین پاور بھی حاصل کر کے انھیں غلاموں کی طرح استعمال کیا گیا تو پھر نیشنل ازم کا فروغ کیسے ہوتا اور نیشنلسٹ بل کہ ’محب وطن‘ کہاں سے جنم لیتے۔

بات ذرا دور نکل گئی ہے۔ دوستو شام اسرائیل کے بالمقابل فقط ایک مزاحمتی کردار ہے جس کے اردگرد مختلف حصار کھڑے کر دیے گئے ہیں اس کے پرانے اتحادی پہلے ختم ہوئے جو بچے ہیں وہ خود اپنی حفاظت کرنے کے قابل نہیں لیکن وہ جو نئے اقتصادی اور سیاسی کھلاڑی عالمی میدان میں نئے کردار کے لیے اترے ہیں انھیں بھی یہ احساس ہے کہ اگر اس وقت شام میں مؤثر کردار ادا نہ کیا تو پھر مشرق وسطیٰ ہی نہیں خلیج فارس سے نہر سویر ہی نہیں افریقا اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکا کی بالادستی کو روکنا کسی بھی صورت ممکن نہیں ہو گا شام کے آخری چراغ کو بڑھتے ہوئے استحصالی اندھیروں سے بجھنا نہیں چاہیے۔ اس حوالے سے روس کے کردار کو خصوصی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ جس کو کچھ لوگ افغانستان میں امریکا کے ہاتھوں ہونے والی شکست کا ردعمل بھی کہتے ہیں اور یہ خوش فہم پاکستان کے ساتھ روس کے تعلقات کی تجدید کو نئی علاقائی صورتِ حالات میں پاکستان کے کردار میں وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب میں کچھ دفاعی معاہدے بھی ہیں اور اس وقت افغانستان کی حیثیت ثانوی اور مشرق وسطیٰ کی اولیت ہے۔ امریکا افغانستان میں آ کر چین، روس، ایران اور پاکستان کے حصار میں آ گیا ہے اسے قدم قدم شکست کا سامنا ہے لیکن اس کی جھنجلاہٹ کا سب سے پہلا نشانہ ان سب میں اقتصادی اور سیاسی طور پر کمزور پاکستان بھی بن سکتا ہے جو ہمارے نزدیک اس وقت زد میں بھی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اپنے آپ کو محفوظ بنانے کے لیے دفاعی صلاحیتوں پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تو اس کے ساتھ داخلی استحکام کے لیے اپریشن ضرب عضب کے بعد ’ردالفساد‘ میں پے در پے کامیابیوں کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئیں گے۔ اس تناظر میں قارئین میاں محمد نوازشریف کی حالیہ تقریر میں ایک بار پھر مساوات، برابر حقوق اور لبرل ازم کی باتیں سن کر حیران نہ ہوں۔ یہی وقت کی ضرورت ہے لہٰذا اسے کل کے طالبان اور آج کے ترقی پسند… بل کہ سرمایہ داری نظام کے مہروں کی نئی نشست و برخاست بھی کہا جا سکتا ہے۔

اکیسویں صدی کے حوالے سے جو اقتصادی نقشہ بندی کی گئی تھی اور اس پر جمہوریت کا لبادہ چڑھا کر انسانی حقوق اور آزادیوں کی تصویر کشی کی گئی تھی اس کا بنیادی مقصد کثیر الآبادی علاقوں کو کنزیومر سوسائٹی میں تبدیل کرنا لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس کی تشکیل اور اس کی قوتِ خرید میں اضافہ کرنا تھا تا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پیداوار زیادہ سے زیادہ فروخت ہو یہی وہ پس منظر ہے جس میں  پچھلی صدی میں ہندوستانی خواتین کو پے در پے ملکہ حسن کے خطاب دیے گئے۔ جس کے نتیجہ میں بھارت اور جنوبی ایشیا میں لاکھوں کی تعداد میں جم اور بیوٹی پارلرز ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات سے بھر گئے مزید یہ کہ آزادیِ اظہار کے نام پر ’تفریحی چینل‘ بھی سامنے آئے جنھوں نے عورت کی نمایش کے ساتھ مصنوعات کی تشہیر میں مقامی ثقافت اور تہذیب کی دھجیاں اڑا دیں تا کہ کنزیومر سوسائٹی کے راستے ہموار ہوں ظاہر ہے کہ اس خطہ میں چالیس فی صد سے صائد افراد تو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتے تھے مزید یہ کہ ان کی تعداد میں کمی کے اقدام پر توجہ نہیں دی گئی ان کے اردگرد ایسا معاشی نظام وضع کیا گیا جس کے مثبت کے بجائے منفی اثرات مرتب ہوئے سفید پوش لوئر مڈل کلاس میں شامل ہونے کے بجائے غربت کی لکیر سے نیچے لڑھکنے لگے۔ تو لوئر مڈل کلاس کو بینکنگ نظام کے شکنجے میں جکڑ لیا گیا اسے گاڑیوں، گھروں اور دیگر سہولتوں کی بدترین سودی نظام کے ذریعے فراہمی تو کی گئی… لیکن ان کے ذرائع روزگار اور پیداواری وسائل میں اضافہ نہیں ہونے دیا گیا جس کے نتیجے میں معاشی تباہی اور معاشرتی رکھ رکھاؤ نے دروازوں پر دستک دینا شروع کی تو کرپشن اور بدعنوانی کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا یہ تو مجبوری کی کرپشن تھی مگر سب سے بڑی کرپشن ملٹی نیشنل کمپنیوں اور اسلحہ کے سوداگروں کی طرف سے کمیشن کے نام سے ہوئی جس سے ایک نیا کرپٹ مافیا سامنے آیا جس نے تیزی سے سرمایہ داری نظام میں اپنا مقام بنانے کی کوشش میں تمام اخلاقی، معاشرتی اور قانونی حدود عبور کرنا شروع کر دیں۔ گذشتہ دنوں ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بے ایمان او رکرپٹ لوگوں کی سب سے محفوظ پناہ گاہ برطانیہ میں سالانہ 125 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے لندن کی چالیس ہزار ایسی عمارتیں جو غیر ملکی کرپٹ اشرافیہ کی ملکیت ہیں… اور اب وہاں منی لانڈرنگ اور کرپشن کے خاتمے کے لیے سخت قوانین بنانے کی بات ہو رہی ہے۔

بہت دیر کر دی مہرباں آتے آتے

ترقی پذیر اور پسماندہ ملکوں کے سرمایہ داروں، جاگیرداروں، اعلیٰ افسروں اور حکمران عناصر کی تمام دولت کو ترقی اور آزادیوں کے نام پر اپنی طرف کھینچے کے بعداگر قوانین کی بات ہوتی ہے تویہ بھی عجیب ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں سرمایہ داری نظام اور ا س کی اجارہ داریاں کرپشن اور بدعنوانی کے فروغ پر قائم ہیں جہاں تک قوانین اور ان پر عملدرآمد کی بات ہے تو اس کی زد میں ہمیشہ نچلے طبقے کے افراد ہی آتے ہیں پاکستان میں تو پلی بارگین کا قانون ہی بدعنوانی کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے… یہاں ایک اور تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ بدعنوانی کے الزام میں سب سے زیادہ سزائیں اور ان پر عملدرآمد چین میں ہوا ہے لیکن ان کا تعلق کس طبقے سے تھا یہ قابل غور ہے… بہ ہرحال اس تناظر میں ایک نقطہء نظر ہے کہ سرمایہ داری نظام کے محافظ ترقی یافتہ ملکوں نے خود ہی بدعنوانی کو فروغ دیا پھر معدنی وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے ان علاقوں میں جنگوں کو مسلط کیا لاکھوں انسانوں کو بارود کی آگ میں پھینکا اور جب ان وسائل کی مارکیٹنگ کا موقع آیا، یا پھر جب ان کی کمپنیوں نے ان خطوں میں موجود مارکیٹوں کو بدعنوانی اور کرپشن سے پاک کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا انتہاپسندی کو زہریلے پودوں کی کاشت قرار دیتے ہوئے انھیں ختم کرنے میں تعاون کے اعلانات کے ساتھ عملی اقدامات کے عندیے بھی دیے تا کہ سرمایہ کاری کے لیے پرامن، محفوظ اور خوشگوار ماحول ہو کیوں کہ سرمایہ دار سرمایے کے تحفظ اور زیادہ سے زیادہ منافع کے سوا کچھ نہیں چاہتا یہ خطہ بھی ایسے ہی تحفظ کا تقاضا کر رہا ہے۔

لیکن افسوس تو یہ ہے کہ… امریکی اور یورپی سرمایہ دار جو پچھلے پچاس سال سے وسطی ایشیا کے وسائل اور جنوبی ایشیا کی مارکیٹوں پر قبضہ کرنے کے لیے سیاسی، مالی اور دفاعی سرمایہ کاری کر رہے تھے عین اس موقع پر جب منافع کی طرف پیشرفت ہونے والی تھی مفادات میں الجھی ہوئی دنیا نے بھی رخ تبدیل کیا اور ان میں اشتراکِ عمل کی کوششوں کا آغاز کیا۔ بعینہٖ وہی صورتِ حالات ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگ میں ’نیٹو’ کو پارٹنر بنایا گیا تھا لیکن جب وسائل کی تقسیم یا پھر لوٹ مار کے مال کو تقسیم کرنے کا وقت آیا تو تضادات پیدا ہو گئے۔ ’سردار‘ نے طے شدہ حصہ سے زیادہ وصول کرنے کا عندیہ دیا۔ دوسرا یہ کہ ایک اور گروہ بھی آ گیا اور اس نے بھی اس مال میں سے حصے کی ڈیمانڈ کر دی… تو اسے بے جا مداخلت قرار دیا گیا او رکہا گیا کہ… جنگیں ہم نے لڑیں، ہلاکتوں کی ذمہ داری بھی ہم پر عائد ہوئی تباہی کے الزامات بھی ہم پر لگے مگر… یہ کیا کہ اب کوئی اور حصہ وصول کرنے آ جائے۔ یہ بھتا نہیں تو اور کیا ہے… اور وہ جو تمام عمر خود بھتا ہی وصول کرتے رہے ہوں ان کا ردعمل کیا ہو گا؟؟ وہ و کسی بھی انتہا تک جا سکتے ہیں۔

آج کی سچائی تو یہی ہے کہ سی پیک اور گوادر پورٹ پر چائنا کی آمد نے افغانستان پر قبضہ کی خواہشوں، خوابوں اور تعبیروں کو ہی الٹ کر نہیں رکھ دیا بل کہ جنوب مشرقی ایشیا سے خلیج بنگال تک پھیلے ہوئے بحر ہند اور سنٹرل کمانڈ کے کنٹرول کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے مشرق وسیٰ کے ممالک پر اسرائیل کی سیاسی اور دفاعی بالادستی کے لیے بھی چیلنج کھڑا کر دیا ہے چین، روس، ایران اور پاکستان کے اشتراک میں نئی علاقائی اور ایشیائی اقتصادی طاقت نے امریکا اور بھارت کے سیاسی معاشی اور دفاعی اتحاد کے لیے بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں کیوں کہ واضح امکان یہی ہے کہ مذکورہ اقتصادی اتحاد مستقبل میں ’دفاعی اتحاد‘ کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے اس میں ایک اور تلخ حقیقت کہ چاروں ملک ایٹمی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں تعاون کو بھی مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ ایک اور اہم بات امریکاہ ایک عرصہ سے بھارت کو سلامتی کونسل کا مستقبل ممبر اور نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شامل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے جس کو چین نے پاکستان سے مشروط کر کے روکا ہوا ہے… سلامتی کونسل کی موجودہ صورتِ حالات میں روس اور چین ہی بظاہر سرمایہ دار ملکوں کے بالمقابل جب کہ دیگر مستقل اراکین برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا رویہ اس تناظر میں محتاط نظر آتا ہے وہ اپنے داخلی اقتصادی استحکام کے باوجود عالمی سیاست میں امریکا جیسی سپر پاور کی پالیسی اور حکمت عملی پر گامزن نہیں رہے امریکا خود بھی داخلی اقتصادی بحران کی شدت کی زد میں ہے اس کے قرضوں نے بھی حدود سے تجاوز کر لیا ہے تو بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے مقامی سمال انڈسٹری تباہی کے دہانے پر ہے عام آدمی کی مارکیٹوں پر بیرونی مصنوعات خصوصاً چائنا نے قبضہ کر لیا ہے۔ اس کی ذمہ داری عالمی سرمایہ داری اور ملٹی نیشنل کمپنیوں پر عائد کی جا رہی ہے جنھوں نے دیگر ملکوں کی مارکیٹوں تک رسائی کے لیے امریکی مارکیٹ کے دروازے بھی بیرونی مصنوعات کے لیے کھولے۔ ان معاہدوں نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں وہ عوام کو میڈ ان امریکا استعمال کی ترغیب تو دے رہے ہیں مگر مارکیٹوں پر چین کی سستی مصنوعات کا قبضہ ہے اس لیے وہ چین سے ہونے والے پچھلے معاہدوں کی وجہ سے ایشیا بحرالکاہل اقتصادی کونسل کے بھی خلاف ہیں چین کے ساتھ معاہدوں پر بھی انھوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے صدر ٹرمپ اس بات پر بھی معترض ہیں کہ امریکا کے ارب پتی خاندانوں اور کاروباری اداروں نے زیادہ منافع کے لالچ میں اپنی صنعتیں اور سرمایہ چین میں لگایا ہوا ہے دوسری طرف چینی سرمایہ کاروں نے امریکا کی رئیل اسٹیٹ میں بھاری سرمایہ لگا رکھا ہے خاص طور پرنیویارک میں اربوں ڈالر رئیل اسٹیٹ میں چینی سرمایہ کاروں کی گرفت دن بہ دن مضبوط ہو رہی ہے چینیوں نے اس شہر کی چالیس فی صد عمارتیں خرید رکھی ہیں… صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ امریکی سرمایہ کاروں کے چین چلے جانے کا سب سے زیادہ نقصان ملک میں بے روزگاری میں اضافہ کی صورت ہوا ہے چین میں اجرتیں بھی کم ہیں صنعتوں کے لیے توانائی بھی امریکا کی نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہے ہفتہ وار چھٹیاں بھی کم ہیں چینی سرمایہ کاری ٹرمپ کے لیے پریشانی کا باعث ہے وہ چین کے بڑھتے اقتصادی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی خواہش مند ہیں مگر کیسے؟ اس کا اندازہ بھی کچھ دیر بعد ہو جائے گا جب وہ داخلی سیاسی اور اخلاقی بحران سے آزاد ہوں گے اور اس بارے واضح پالیسی اختیا رکریں گے۔

حرفِ آخر کی صداقت بھی یہی ہے کہ… چین کی صنعتی ترقی اور اقتصادی بالادستی نے ’نیو ورلڈ آرڈر‘ ، ’گلوبل ویلج‘ اور ’گلوبلائزیشن‘ کی ترجیحات کی بنیاد اقتصادی استحال اور اس کے ذریعے سیاسی نظام پر قبضہ کی خواہشوں اور کوششوں کو تجارت میں تبدیل کر کے اکثر توقعات کو خاک میں ملا دیا ہے مزید یہ کہ تجارت کا رخ پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کی جانب موڑ کر جاری سرمایہ داری نظام کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ مدافعتی ترجیحات کی نئے سرے سے ترتیب ہو رہی ہے ایک طرف تو مقامی مصنوعات کے استعمال کی ترغیب کو پراپیگنڈے کا حصہ بنایا جا رہا ہے تو دوسری طرف ’میڈ ان چائنا‘ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے عملی اقدام کیے جا رہے ہیں۔ جس کی بنا پر چائنا کو یہ کہنا پڑ اہے کہ معروضی صورتِ حالات میں جب کہ پوری دنیا میں امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے دنیا کو ’میڈ ان چائنا‘ کی ضرورت ہے جب کہ مغربی سرمایہ دار ممالک کا رویہ مناسب نہیں… بہ ہرحال یہ بھی اس چوتھی جنگ کے ایک محاذ کی شکل و صورت ہے جس کی نشاندہی ہم نے اپنے کچھ عرصہ پہلے والے مضمون میں کی تھی چناں چہ دوستو اکیسویں صدی کا یہ دوسرا عشرہ مارکیٹوں کی فتوحات کی طرف گامزن ہے اس کے نتائج اگلے عشرے میں واضح ہوں گے نئی اقتصادی قوتیں میدان میں ہوں گی تو کچھ پرانی طاقتوں کو شکست قبول کرنا پڑے گی لیکن اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ اقتصادی شکست کو دفاعی فتوحات میں تبدیل کر کے اس کے مثبت نتائج حاصل کیے جائیں یہ الگ بات کہ دنیا میں موجود ایٹمی ہتھیار خود کشی کا باعث بن جائیں گے۔ اور رہنے نام اللہ کا!

Views All Time
Views All Time
309
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مذہب اور ریاست کے درمیان دیوار - افضل رحمان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: