کچھ واضح تضادات کی نشاندہی – اکرم شیخ

Print Friendly, PDF & Email

بات تو کہاں سے کہاں کی تھی۔ وفاق اور پنجاب میں ہی نہیں بلوچستان میں بھی اب نون لیگ کی حکومت ہے چناں چہ وزیروں مشیروں کو تمام خرابیاں سندھ اور خیبر پختون خوا میں ہی نظر آتی ہیں لیکن وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو تمام برائیوں کی جڑ پیپلزپارٹی اور اس کی سندھ حکومت دکھائی دیتی ہے۔ مان لیجیے کہ پیپلزپارٹی شروع سے ہی ان کی ناپسندیدہ رہی ہے اور ان کی سیاست کا مرکز نون لیگ رہی رہا ہے۔ یہ الگ بات کہ کچھ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ اکتوبر 1999 کے ’مشرف انقلاب‘ نے شریف خاندان کو دس سالہ جلاوطنی پر مجبور کیا تو کچھ ایسے لیگی بھی تھے جو گرفت میں آئے تھے مگر چودھری نثار علی خان پر کوئی قدغن عائد نہیں ہوئی تھی۔ کیوں؟ اس کا جواب ہمارے دبنگ اور کھرے وفاقی وزیر داخلہ ہی دے سکتے ہیں خیر چھوڑیے ماضی کی باتیں ہیں ان پر توجہ مرکوز نہیں کرنی چاہیے۔ آج کی صورتِ حالات پر غور کرنا چاہیے پھر بھی کچھ باتیں زبان زدِ عام تو ہوتی ہیں کہ جتنا کچھ وہ سندھ حکومت پر تحفظات کی صورت بیان کرے ہیں کے پی کے حکومت بارے کیوں ارشاد نہیں فرماتے۔ عمران خان ذاتی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں تو پرویز خٹک بھی ان کے ’ایچی سن فیلو‘ ہیں۔ اس لیے اگر تھوڑی یا ضرورت سے زیادہ نرمی کا اظہار ہوتا ہے تو اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دینی چاہیے۔ رہی پنجاب کی بات تو یہاں میاں محمد شہباز سریف کی حکومت ہے اور یہ شہباز شریف ہی  ہیں جن کے ساتھ ہر مشکل وقت میں ان کی سابق آرمی چیف کے ساتھ وضاحتی اور مفاہمتی ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں… چناں چہ اگر غطلیوں کوتاہیوں، خرابیوں اور برائیوں کا تذکرہ لازم ہو تو پھر سندھ حکومت یا پھر پیپلزپارٹی سے بہتر کوئی ہدف نہیں!! سہون حادثے اور سانحے کی ذمہ داری ’صوبائی حکومت‘ پر ڈالنا لازم تھا۔

ایک نکتہ اس تناظر میں اہم ہے کہ… وفاقی سکیورٹی اداروں نے اس سانحہ کے امکانات سے صوبائی حکومت کو آگاہ کر دیا تھا اب یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی تمام تر توجہ اس پر مبذول کرتی اور عوام کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدمات بھی کرتی لیکن صوبائی حکومت نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ کیا اس کے پاس وسائل نہیں تھے۔ صوبائی سکیورٹی ادارے بھی متحرک اور فعال نہیں تھے؟ اگر یہ سب کچھ تھا تو اس کے باوجود اگر وہ عوام کی زندگیوں کو دہشت گردوں سے بچانے میں ناکام ہوئی ہے تو اس کی یقینا باز پرس ہونی چاہیے۔

لیکن… کیا یہ سب کچھ لاہور میں ہونے والے پے در پے دو سانحوں میں نہیں ہوا؟؟ پنجاب حکومت کے پاس بھی وفاقی اداروں کی طرف سے ممکنہ حادثوں اور دہشت گردوں کی آمد کے بارے معلومات تھیں۔ پنجاب کے پاس تو آبادی کے تناسب سے پولیس کے ساتھ دیگر فورسز کی تعداد بھی زیادہ ہے ’کوئیک ریسپانس‘‘ کے لیے ایک علیحدہ فورس بھی  ہے۔ پھر یہاں اسمبلی ہال کے باہر وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے چند قدم کے فاصلے پر یہ سانحہ کیوں برپا ہوا؟؟ یہ خوشی کی بات ہے کہ دہشت گرد کو لاہور میں قیام فراہم کرنے والے سہولت کار کو گرفتار کر لیا گیا اس کے بدکردار اور بدنما چہرے کو ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر بھی پیش کیا گیا اس کے رابطے اور اعترافات بھی نمایاں ہوئے لیکن یہ بھی تو لکیر پیٹنے والی بات تھی۔ اس وقت پنجاب حکومت حرکت میں کیوں نہیں آئی؟ اس نے معلومات پر حفاظتی اقدامات کیوں نہیں اٹھائے؟؟ کیا امن و امان کی بحالی اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی؟؟

لیکن… عجیب بات تو یہ بھی ہے کہ ڈیفنس کی مارکیٹ میں ہونے والے دھماکے کو صبوائی وزیروں نے گیس سلنڈروں کے پھٹنے کا واقعہ قرار دے دیا۔ حال آں کہ ’بم ڈسپوزل سکواڈ‘ نے واضح طور پر کہا تھا کہ زیر تعمیر اس عمارت میں 20 سے 25 کلو بارودی استعمال ہوا تھا… اور پھر بطور اخبار نویس یہ بھی معلومات سماعتوں سے ٹکراتی رہیں کہ صوبائی حکومت نے ’بم دھماکے‘ کو نظرانداز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں حکومت چاہتی ہے کہ ’پی ایس ایل‘ لیگ فائنل لاہور میں ہو۔ یہ الگ بات کہ وزیر اعلیٰ اور سکیورٹی اداروں کے سربراہوں کے درمیان کئی روز تک طویل ملاقاتیں اور مذاکرات ہوئے۔ سکیورٹی ادارے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ جنرل قمر باجوہ آرمی چیف نے تو بیرونی کرکٹروں کو تمام تر تحفظ فراہم کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ لیکن مقامی قیادت یہ مؤقف پیش کرتی رہی ہے کہ… یہ ذمہ داری ہماری نہیں۔ ویسے بھی ہماری تمام توجہ ’رد الفساد‘ پر مرکوز ہے جسے ہم معروضی صورتِ حالات میں نظرانداز نہیں کر سکتے۔ چھوٹے مقصد کی جگہ بڑے اور دیرپا مقاصد کو ہی اولیت دی جانی چاہیے… بات تو سچ تھی اور ہے کہ… اگر خدانخواستہ فائنل کے موقع پر کوئی چھوٹا سا بھی سانحہ ہو گیا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟؟

تو صاحبو… حکومت کی ترجیحات اپنی جگہ لیکن دشمن جو کسی بھی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا وہ اگر کسی غلطی یا کوتاہی سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو گیا تو پھر اس کے مابعد اثرات کسی بھی طرح قابل برداشت نہیں ہوں گے… اس تناظر میں اگر پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں نہ بھی ہو تو اس میں کوئی برائی نہیں… لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کی طرف سے پنجاب حکومت اور اس کے اداروں پر تنقید ہوئی ہے اور نہ ہی پی ایس ایل کے فائنل کو لاہور میں کروانے پر کوئی واضح مؤقف تادمِ تحریر سامنے آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نون لیگ اور پنجاب حکومت سے محبت کا اظہار دکھائی دیتا ہے لیکن کیا یہ واضح تضاد نہیں اور کیا اسے نون لیگ کی حکومت سے وابستگی اور تعلق قرار نہیں دیا جا سکتا؟؟

Views All Time
Views All Time
239
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   سیاپا فروشوں کا ایجنڈا - حیدر جاوید سید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: