Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تام تو فقط چہروں کی پہچان ہوتے ہیں – اکرم شیخ

by مارچ 7, 2017 کالم
تام تو فقط چہروں کی پہچان ہوتے ہیں – اکرم شیخ
Print Friendly, PDF & Email

تاریخ کا المیہ ہے کہ… بادشاہی اور ملوکیت کے زمانہ میں اس کے راوی اور مصنف سرکاری درباری تنخواہ دار اور غلام ہوا کرتے تھے۔ اور وہ بادشاہوں کی خواہش کے مطابق فتوحات قلمبند کرتے۔ بادشاہ کے حسن کردار میں عوام سے ہمدردی، رحم دلی اور فراخ دلی بھی شامل کرتے۔ بادشاہ اس کارکردی کا خود مطالعہ کرتا۔ ناپسندیدہ چیزوں کو نکالتا دوبارہ لکھنے کی ہدایت کرتا… غلط اور ناپسندیدہ لکھنے والوں کو سزائیں بھی ملتیں اور من پسند لکھنے والوں کو انعام و اکرام سے بھی نوازا جاتا… آج کے منظرنامہ میں بھی بہت سے اُڑنے والے پرندوں کا فضاؤں میں اچھلنا کودنا اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن

تاریخ کا سچ یہی ہے کہ… بادشاہ صرف بادشاہ ہوتا تھا اور اس کی پہلی اور آخری ترجیح صرف اقتدار اور اختیار پر اپنی گرفت کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنا حکومت کو استحکام کی بنیادیں فراہم کرنا ہی ہوتا تھا… اس کے لیے کوئی رشتہ، کوئی تعلق دیوار نہیں بنتا تھا۔ اگر کوئی رکاوٹ سامنے آتی تھی تو اسے پاؤں کی ٹھوکر سے اڑا دیا جاتا تھا۔ ہندوستان کی تاریخ میں اشوک اعظم سے لے کر مغلوں تک ایسی ہی کہانیوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے لیکن انہی تاریخ نویسوں کی حکایات کو نصاب اور تعلیم کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے کہ بادشاہ کے جنگ و جدل اور فتوحات کی گونج کے ساتھ رحم دلی اور فراخ دلی کی موتوں کے ساتھ نمازی، پرہیزگاری اور رزقِ حلال کی طلب میں ٹوپیاں سیتے اور قرآن پاک کی کتابت کرتے دکھا کر ان کی تدریس کی جاتی ہے… گویا اس زمانے میں ان سے بڑا متوکل اور متقی کوئی اور نہیں تھا۔

بہ ہر حال چھوڑیے ان باتوں کو حال آں کہ بادشاہ بادشاہ ہوتا تھا آج بھی اگر ہوتا تو ویسا ہی ہوتا۔ البتہ کل جو ’داستان گو‘ تھے ان کی ہیئت ترکیبی بدل گئی ہے ورنہ کچھ ایسی کمی بھی نہیں جدید ٹیکنالوجی نے قلم کی نوک کے بجائے انگلیوں اور بٹن کے درمیان جو تعلق پیدا کیا ہے اس نے داستان گوئی کی اہمیت کا رخ بھی تبدیل کر دیا ہے تو انعام و اکرام کے زاویے بھی بدلی ہوئی دنیا کے تقاضے بھی کچھ اور ہیں… پرانے زمانے میں جاگیریں عنایت ہوتی تھیں تو آج کل پلاٹ ملتے ہیں ترقی اور عربی گھوڑوں کی جگہ بہتر سے بہتر گاڑیاں آ گی ہیں۔ ایک زمانہ میں سر کے خطاب ملا کرتے تھے… سر کا خطاب کن لوگوں کو ملا کرتا تھا یہ سال کسی نصابی تاریخ کے ماہر ہندوستان سے پوچھا جانا چاہیے کہ اس میں کہیں کوئی وفاداری تو نہیں تھی… اور اس وفاداری میں غیر ملکی حکمران تو نہیں تھے… یا پھر یہ ’ملکہ‘ کا خوش ہونا تو لازم نہیں تھا؟؟ اس کے باوجود اگر قومی ہیرو ہیں، ان کا شمار مشاہیر میں ہوتا ہے، وہ مقدس اور محترم ہیں، ان کے کردار و عمل یا پھر فکر و نظریات پر بات کرنا تکفیر سے کم نہیں تو… پھر، آج اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے عدالتوں مین یہ معاملے لے جا کر بدنامی و رسوائی کا سامان کیا جات اہے۔ ہمارے لیے تو دونوں سر کے خطاب ایک جیسے ہیں ہم تو اس خطاب کے حامی ہیں جو عوام کی محبت سے کشید ہوتا ہے۔ خواہ وہ شہادت کے راستے پر چلنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ ’شہادت‘ بھی وہ ہوتی ہے جس کو عوام تسلیم کرتے ہیں اور یہ عوام ہی ہوتے ہیں جو بادشاہوں کی تاریخ کو تسلیم نہیں کرتے۔ اپنے ہیروز خود بناتے ہیں۔ حکومتیں اور حکمران انھیں خواہ ڈاکو، چور، لٹیرے اور غدار ہی کیوں نہ قرار دیں عوام انھیں اپنے دلوں اور ذہنوں میں لے کر جیتے ہیں… یہ الگ بات کہ ’تدریسی نصاب‘ بنانے والے عوام کو بے خبر رکھنے اور گمراہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ یہی حکومتوں اور حکمرانوں کی خواہشیں اور ترجیحات ہوتی ہیں اور اور اسی لیے تعلیمی نظام کو ریاست کی گرفت میں دیا جاتا ہے اور پھر اس میں یہ ذمہ داری بھی عائد کی جاتی ہے کہ وہ عوام کے لیے مفت تعلیم کا بندوبست کرے۔ مفت تعلیم تو پھر وہی ملے گی جو حکمران طبقوں کے لیے موافق و موزوں ہو گی۔ تو صاحبو… بات تو تاریخ نویسی سے شروع ہوئی تھی اور ہم کہنا بھی کچھ اور چاہتے تھے۔ حسب روایت آج ہم صبح بیدار ہوئے تو اس بیداری نے ہمیں لاہور سیکرٹریٹ میں موجود مقبرے اور انارکلی کی کہانی یاد دلائی اور پھر اس تناظر میں کچھ اور حقائق بھی ذہن میں سامنے آنا شروع ہو گئے۔

ہمارے مسلمان بادشاہوں کے خاندانی نام تو کچھ اور تھے لیکن جب وہ اقتدار و اختیار پر قابض ہوئے تو… وہ خالصتاً دین کی سربلندی کے امین ہو گئے۔ شہاب الدین غوری، قطب الدین ایبک، ظہیر الدین بابر، نصیر الدین ہمایوں، جلال الدین اکبر، نور الدین جہانگیر، شہاب الدین شاہجہان، محی الدین اورنگ زیب… گویا یہ سب لوگ افغانستان سے چل کر ہندوستان میں ’دین مبین‘ کی سربلندی، ترقی اور ترویہ کے لیے آئے تھے۔ اور انھوں نے ہندوستان پر چھے سو سال تک حکومت میں کوئی بھی ایسا کام نہیں کیا جو دین کے خلاف ہو۔ اگر کسی نے اقتدار کے لیے بھائیوں کو قتل کیا تھا یا پھر اپنے باپ کو ’زندان‘ میں ڈال دیا تھا تو یہ اس کا ’ذاتی فعل‘ تھا۔ ویسے بھی نام تو فقط چہروں کی پہچان کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ اصل شناخت عمل اور کردار ہوتا ہے وہی تاریخ میں زندہ رہتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
228
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سی پیک سے وابستہ پاکستان کا روشن مستقبل | عابد ایوب اعوان
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: